سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے کانوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اذان دینا
علی محمد الصلابیجب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسنؓ کے کانوں میں اذان دی، جیسا کہ ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
(سنن ابی داود: (5105) سند ضعیف ہے، اس میں عاصم بن عبید اللہ ہیں، ابن معین نے ان کی تضعیف کی ہے، امام بخاریؒ نے منکر الحدیث قرار دیا ہے۔ الکاشف (2530)
اس کے فلسفہ اور حکمت کو بیان کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:
1۔ اذان شعائر اسلام میں سے ہے۔
2۔ دین اسلام کا اعلان ہے۔
3۔ پھر ضروری ہے کہ یہ اذان خاص کرکے مولود کے کانوں میں کہی جائے۔
4۔ اذان کی خاصیت ہے کہ شیطان اس سے بھاگتا ہے، اور شیطان بچے کو شروع ہی میں تکلیف پہنچاتا ہے، فرمان نبوی ہے:
مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ یُّوْلَدُ إِلَّا وَالشَّیْطَانُ یَمُسُّہُ فَیَسْتَہِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّیْطَانِ اِلَّا مَرْیَمَ وَابْنَہَا۔
(صحیح البخاری: جلد 5 صفحہ 196، رقم: 4548 حجۃ اللہ البالغۃ: جلد 2 صفحہ 385)
’’ہر مولود کو شیطان کچوکا لگاتا ہے ، شیطان کے اس کچوکے سے وہ زور سے چیخ پڑتا ہے، سوائے مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے کے۔‘‘
نیز فرمان نبوی ہے:
إِذَا نُودِیَ لِلصَّلَاۃِ أَدْبَرَ الشَّیْطَانُ وَلَہُ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَا یَسْمَعَ التَّاذِیْنَ۔
(صحیح البخاری: جلد 1 صفحہ 170، رقم: 608)
’’جب نمازکے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگتا ہے، تاکہ اذان نہ سنے۔‘‘
نیز ابن قیم رحمہ اللہ اذان کی مزید حکمتوں کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
1۔ یہ کہ انسان کے کانوں سے پہلی مرتبہ ایسے کلمات ٹکرائیں جو رب کی عظمت و کبریائی اور اس شہادت پر مشتمل ہوں جس کے ذریعے انسان دائرۂ اسلام میں داخل ہوتا ہے، گویا دنیا میں آتے ہی اسے اسلامی شعائر کی تلقین کی جا رہی ہے، جیسے دنیا سے جاتے ہوئے کلمہ توحید کی تلقین کی جاتی ہے۔
2۔ اس کے دل و دماغ پر اذان کی تاثیر کا انکار نہیں کیا جاسکتا اگرچہ وہ اس وقت دوسرے فوائد سے نابلد ہوتا ہے اور وہ فوائد درج ذیل ہیں:
1: اذان کے کلمات سن کر شیطان کا بھاگنا، جب کہ شیطان مولود کی پیدائش تک گھات میں لگا رہتا ہے، اور من جانب اللہ مقدر آزمائش کے لیے اس سے قریب ہوتا ہے، لیکن وہ اس وقت ایسے کلمات سنتا ہے جو اسے کمزور کردیتے اور اس کے ناراض ہو کر بھاگنے کا سبب بنتے ہیں۔
2: اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ مولود کی اللہ، اس کے دین اسلام اور اس کی عبادت کی جانب دعوت، شیطان کی گمراہی کی جانب دعوت پر مقدم ہو، جیسے کہ انسانوں کی الہیٰ فطرت مقدم ہے، شیطان بعد میں اس کو بگاڑنے اور اس اصلی فطرت سے منحرف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح کی اور بہت سی حکمتیں ہیں۔
(منہج التربیۃ النبویۃ للطفل محمد سوید، انھوں نے تحفۃ المودود لابن القیم: صفحہ 54 سے نقل کیا ہے۔)
اس طرح ہمیں طریقۂ نبویﷺ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مولود کے داہنے کان میں اذان، پھر بائیں کان میں تکبیر کہنا مستحب ہے، اس طرح توحید کے بعد سب سے اہم رکن نماز کی جانب دعوت اس کے کانوں سے پہلی مرتبہ ٹکراتی ہے۔
(موسوعۃ تربیۃ الأجیال المسلمۃ، نصر العنقری: صفحہ 66)