فاطمیوں کی سعی لاحاصل
سید تنظیم حسیناسماعیلیہ دعوت کے بارہ سو سال:
1: فاطمی دعوت کی ابتداء دوسری صدی ہجری کے آخر میں ہوئی قریباً ڈیڑھ سو سال کی خفیہ جدوجہد کے بعد ان کو شمالی افریقہ میں سے 297ھ، 909ء میں اقتدار ملا پھر مغرب ادنیٰ پر ان کا قبضہ ہوا اور 385ھ، 969ء میں مصر بھی ان کی قلمرو میں آگیا اور اس کے بعد د محدود مدت کیلئے بلادِ شام و عرب و یمن پر بھی ان کی حکومت رہی لیکن یہ اقتدار بہت ہی جلد زوال پذیر ہوا ان کے مقبوضات آزاد ہوتے گئے حتیٰ کہ 567ھ، 1172ء میں اسماعیلیہ کو مصر اس طرح چھوڑنا پڑا کہ وہاں ایک اسماعیلی بھی نہ رہا۔ (تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 98)
جب کہ 442ھ، 1050ء میں شمالی افریقہ کے باشندوں نے شیعی مذہب کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیا۔
(تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 63)
اور 473ھ میں بلاد عرب میں فاطمی حکومت کا نشان تک نہ رہا یہ وہ علاقے تھے جس میں فاطمی دعوت کی کامیابی کے لئے ان کے چھٹے امام سیدنا جعفر الصادقؓ نے بشارت دی تھی۔
2: مصر میں زوال سے قبل ہی اسماعیلیہ طیّبی نے اپنا مرکز یمن منتقل کر لیا تھا مگر یمن میں محدود علاقوں پر ان کا قبضہ رہا اور وہ بھی بہت مختصر مدت کے لئے یمن کو اسماعیلیہ مبارک بقعہ کہتے تھے کیوں کہ یمن میں ہی ان کی دعوت کو ابتدائی کامیابی ہوئی تھی لیکن یہ مبارک (تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 68) بقعہ بھی ان کو راس نہ آیا اور قریباً پانچ صدیاں خاموشی کے ساتھ گزارنے کے بعد اسماعیلیہ طیّبی کو ہندوستان منتقل ہونا پڑا۔ (تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 83، 84) یمن کا اب یہ حال ہے کہ وہاں اسماعیلیہ طیّبی یعنی سلیمانی ہوہرے چند ہزار (تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 83، 84) کی تعداد میں ہیں ہندوستان میں بھی اسماعیلیہ طیّبی کو جو بوہرے کے نام سے معروف ہیں کوئی کامیابی نہ ہو سکی اب کچھ عرصہ سے ان کی دعوت کا سلسلہ بھی بند ہے۔ (آبِ کوثر' صفحہ، 355)۔ قبل از پاکستان ان کی کل تعداد کا اندازہ پونے ایک لاکھ تھا
(تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 83، 84)
3: اسماعیلیہ کی ایک شاخ نزاریہ کو چھٹی ساتویں ہجری میں شمالی ایران، عراق کوہستانی علاقے اور شام کے سواحل پر اقتدار ملا یہ اقتدار کوئی ڈیڑھ سو سال رہا اس کا خاتمہ تاتاریوں نے 656ھ، 1258ء میں کیا ان کا مرکز الموت تھا اس کے بعد نزاری ایران میں کئی جگہ منتقل ہوئے آخر کار ان کو بھی ہندوستان میں ہی پناہ ملی اور نزاریوں کے امام حسن علی شاہ آغا خان اول 1258ھ 1842ء میں سندھ آگئے یہ لوگ آغا خانی کہلاتے ہیں حکومتِ برطانیہ کی سرپرستی کے باوجود ہندستان میں ان کی دعوت کو فروغ نہ ہو سکا مختصراً اسماعیلیہ کو حکومت بھی ملی دولت بھی ملی دہشت گردی بھی اختیار کی لیکن موجودہ صورتِ حال سعی لاء حاصل کی مکمل نمونہ پیش کرتی ہے:
موجودہ صورت حال:
ڈاکٹر زاہد علی کے اندازے کے مطابق قبل از پاکستان دنیا کے تمام ممالک میں اسماعیلیوں نزاریہ مستعلویہ دروز اور ان کے تمام فرقوں کی تعداد پانچ لاکھ تھی جو اب بڑھ کر زیادہ سے زیادہ آٹھ لاکھ ہو گئی ہوگی یہ صحیح ہے کہ اسماعیلیوں میں بڑی تعداد تعلیم یافتہ افراد کی ہے یہ لوگ تجارت کرتے ہیں سیاست میں بالواسطہ حصہ لیتے ہیں unity in adversity مصیبت میں اتفاق و اتحاد کے اصول کے تحت متحد و منظم ہیں اور یہودیوں کی طرح تعداد تناسب سے زیادہ معروف ہیں لیکن ان کی آبادی منتشر ہے نیز نزاریہ آغا خانیوں اور طیبی مستعلویہ بوہروں میں شدید اختلاف ہے غالباً یہ ظاہر کوئی مستقبل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس جدوجہد میں مصروف ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں میں با عزت زندگی گزار سکیں لہٰذا اپنے پھیلاؤ سے زیادہ عوامی رفاہی امور میں دلچسپی لیتے نظر آتے ہیں تاکہ عامتہ الناس ان کے متعلق نیک خیال قائم کریں مگر حقیقت میں ہے کہ وہ دنیا میں مسلمانوں کی کل تعداد کے اعتبار سے ایک ہزار میں ایک ہیں یعنی 001ء اس تعداد کو بارہ سو سالہ جدوجہد کے بعد اگر اسماعیلیہ اپنے نظریہ امامت یا فاطمی دعوت کی کامیابی تصور کرتے ہیں تو یہی کہا جائے گا۔
(تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 291)
ترسم نہ رہی بہ کعبہ اے اعرابی
کا میں راه که تو میروی به ترکستان است
یہ صورتِ حال ان کو دعوتِ فکر دے رہی ہے کہ کیا کھویا اور کیا پایا؟