Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مولود کی تحنیک

  علی محمد الصلابی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا تھا تو آپﷺ ان کے لیے برکت کی دعا کرتے اور ان کی تحنیک کرتے۔

(صحیح مسلم: جلد 1 صفحہ 237، رقم: 286)

اس لیے بدرجہ اولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے برکت کی دعا کی ہوگی اور ان کی تحنیک کی ہوگی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول فَیُبَرِّکُ عَلَیْہِمْ کی شرح کرتے ہوئے امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 

’’یعنی ان پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعا کرتے، اور اصل برکت بھلائی کا وجود اور اس کی کثرت ہے۔‘‘

اور ان کے قول فَیُحَنِّکُہُمْ کی شرح میں فرماتے ہیں:

’’اہل لغت کے قول کے مطابق تحنیک یہ ہے کہ کھجور یا اس جیسی کسی چیز کو چبایا جائے پھر اس کو بچے کے تلوے پر چٹایا جائے۔ ‘‘

( شرح النووی علی: صحیح مسلم )

اور تحنیک اگر ممکن ہو تو اذان کے فوراً بعد ہونی چاہیے۔ اور افضل یہ ہے کہ تحنیک کا کام کسی نیک آدمی کے ہاتھوں انجام پائے۔ اس سلسلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اسوۂ موجود ہے۔ وہ لوگ تحنیک کے لیے اپنے بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی بھیجنے کے حریص تھے۔ تحنیکمیں کھجور استعمال کی جائے، اگر نہ ملے تو کوئی میٹھی چیز، اس کے اسباب درج ذیل ہیں:

1۔ اس لیے کہ کھجور میں ماں کے دودھ کی طرح ہر وہ وٹامن موجود ہوتا ہے جس کی بچے کو ضرورت ہوتی ہے۔

2۔ پیدا ہونے والے چھوٹے بچے میں چکھنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، جب کھجور استعمال کی جائے گی تو یہ صلاحیت بیدار ہوجائے گی اور بچہ اپنی زبان اور منہ کو حرکت دے گا، اس طرح اسے دودھ پینے کے لیے ماں کی چھاتی کو اپنے منہ میں لینے کی قدرت زیادہ ہوگی۔

3۔ معدہ میٹھی چیزوں کو بڑی جلدی سے جذب کرلیتا ہے۔ اس لیے تحنیک معدے سے متعلق کسی پریشانی کا باعث نہیں ہوتی۔ 

(موسوعۃ تربیۃ الأجیال المسلمۃ: صفحہ 68)

قطر سے شائع ہونے والے مجلہ ’’الأمۃ‘‘ کے عدد 50 میں ڈاکٹر فاروق مساہل کا ایک مقالہ بعنوان ’’اہتمام الاسلام بتغذیۃ الطفل‘‘ شائع ہوا ہے، اس میں وہ حدیث تحنیک پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’تحنیک تمام اعتبار سے نبی کا ایک طبی معجزہ ہے، لوگ چودہ سو برس کے بعد اس کی حکمت و مصلحت کو جان سکے، طبی طور سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ چھوٹے بچے بالخصوص دودھ پینے والے اور ایسے بچے جو ابھی جلد پیدا ہوئے ہوں انھیں درج ذیل دو صورتوں میں موت کا زیادہ خطرہ رہتا ہے:

1۔ اگر بھوک سے خون میں شکر کی مقدار کم ہوجائے۔

2۔ جب ان کے جسم کا درجہ حرارت کم ہو اور وہ ٹھنڈے موسم سے دوچار ہوں۔‘

(منہج التربیۃ النبویۃ: صفحہ 64)