اسماعیلی عقائد و فاطمی دعوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسماعیلی عقائد و فاطمی دعوت

  سید تنظیم حسین

صفحہ 2 از 2

تقیہ اور اخفاء کی کار فرمائیاں: ہم نے اسماعیلیوں سے متعلق بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا ان میں سے وہ بھی ہیں جو ہمارے ملک میں لکھی گئی ہیں اور وہ بھی جو مغربی مستشرقین نے لکھی ہیں ہم نے حتیٰ المقدور کوشش کی ہے کہ ان کتابوں کو خالی الذہن ہو کر پڑھیں لیکن ایک چیز جو ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسماعیلیہ کے یہاں سب سے اہم امور قطعی غیر یقینی کیفیت میں ہیں اور ان پر ایک ہزار سال گزرنے کے بعد بھی بحث جاری ہے جن میں چند یہ ہیں: 

1: سیدنا جعفر الصادقؒ نے کن حالات میں اپنی نص بدلی؟

2: سیدنا اسماعیل بن جعفر الصادقؒ کی 133ھ میں موت واقع ہوئی یا نہیں؟

3: اخوان الصفاء کہ رسائل کا مرتب کون تھا؟

4: عبید اللہ المہدی (عبداللہ) کا نسب کیا تھا؟

5: امام حاکم کا انتقال ہوا یا قتل کیا گیا یا غائب ہوا یا آسمان پر اٹھا لیا گیا؟

6: امام طیب کا انتقال ہوا یا غائب ہوئے؟ 

 مندرجہ بالا امور سے متعلق روایات کا اختلاف ہم نے بابِ ہفتم میں بتلایا ہے (اس نوعیت کا اختلاف صرف امامیہ اثناء عشری کے یہاں ملتا ہے اور کہیں نہیں دیکھیئے مقالہ اثنا عشری Shorter Encyclopedia of Islam ) یہ دراصل بیچارے مؤرخوں کا قصور نہیں یہ کار فرمائی ہے تقیہ کی جس کے منہ میں جو آیا کہہ دیا نہ ڈر دنیا کا نہ آخرت کا نتیجہ اسماعیلی مذہب:

ایک معمہ بن گیا نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا:

معمہ کو تو کبھی نہ کبھی کوئی حل کر ہی لیتا ہے مگر ہم نے اسماعیلی مذہب کو جو ایک ایسا معمہ کہا ہے کہ جو نہ سمجھنے کا ہے اور نہ سمجھانے کا اس کی وجہ یہ ہے کہ تقیہ سے ایسی صورت پیدا ہو چکی ہے کہ اسماعیلیہ سے متعلق بہت سے معموں کے حل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی محققین مستشرقین شکست تسلیم کرچکے ہیں اور اس میں وہ حق بہ جانب ہیں اس کی وضاحت کے لیے ایک مثال پیش کی جاتی ہے:

عبیداللہ المہدی پہلے فاطمی خلیفہ کے نسب کے سلسلہ میں عباسی خلیفہ القادر باللہ نے 402ھ، 5406ھ، 1011ء، 1015ء میں ایک محضر (تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، اول صفحہ، 82، 83) تیار کرایا جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ عبید اللہ المہدی بانی خلافت فاطمی نصبی اعتبار سے فاطمی نہ تھا اس محضر کا جو حشر فاطمی خلیفہ الحاکم بامر اللہ 386ھ، 411ھ نے کیا وہ دوسری بات ہے لیکن اس محضر پر دستخط کرنے والوں میں امامیہ اثناء عشری کے دو صف اول کے اکابر بھی تھے یہ دونوں بھائی الشریف رضی مرتضیٰ تھے لیکن اول الذکر کے کچھ اشعار ایسے بھی ہیں جن سے عبیداللہ المہدی کا صحیح النسب فاطمی ہونا ظاہر ہوتا ہے مگر یہ اشعار ان کے دیوان میں شامل نہ تھے (یہ اشعار آج کل مروجہ دیوان میں موجود ہیں ایضاً) اس سلسلہ میں اگر یہ پوچھا جاتا ہے کہ ان اشعار کی موجودگی میں اس محضر پر دستخط کس طرح کیے گئے اور الشریف رضی کے دیوان میں وہ اشعار کیوں نہیں تو جواب ملتا ہے کہ عباسی خلیفہ کے دباؤ کے تحت ایسا کیا گیا تھا اب خیال فرمائیے کہ حقیقت کا تلاش کرنے والا جب تحقیق کے اس مرحلہ پر پہنچتا ہے تو سر پیٹ لیتا ہے وہ غریب کس کی تحریر کو حجت بنائے کس کے قول کو صحیح سمجھے نہ کسی کی تحریر کا اعتبار نہ کسی کی تقریر کا اعتبار اس صورت میں ہر دلیل بیکار ہر حجت لا حاصل بلکہ ذرا گہرائی سے عقیدہ امامت کو ذہن میں رکھ کر سوچیئے تو امامیہ اسماعیلیہ و اثناء عشریہ کے لیے تقیہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ تقیہ ہی ہے جو ان کے لیے حکومت وقت سے وفاداری کے لیے عہد و پیمان کا دروازہ کھولتا ہے۔


صفحہ 2 از 2