Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نظریہ عقیدہ امامت دور جدید میں

  سید تنظیم حسین

موجودہ زمانہ کو ایک عرصہ سے سلطانی جمہور کا زمانہ کہا جا رہا ہے بادشاہت کے خدائی حق کا تصور قصہ پارینہ ہو چکا ملکی نظم و نسق سے متعلق سینکڑوں نظریات قائم ہو چکے ہیں ان میں کچھ پر جزوی، کچھ پر کلی طور پر عمل بھی ہو رہا ہے ریاست کا تصور حکومت کی ذمہ داریاں عوام کے بنیادی حقوق، ایک شہری کی ذمہ داریاں، بنیادی حقوق کا عالمی منشور یہ سب روزانہ تحریر و تقریر کا موضوع ہیں مغربی دنیا نے ان امور سے متعلق بحث و تمحیص میں نمایاں حصہ لیا ہے جس سے سیاسی لٹریچر جو زیادہ تر انگریزی زبان میں ہے بھرا پڑا ہے نئے نئے تجربات ہو رہے ہیں ایک وسیع ملک بلکہ آدھی دنیا میں تو ایسا نظام قائم ہے جس میں خدا کا تصور بھی نہیں ہے بلکہ عوام کو خدا کا مقام دیا گیا ہے دیگر ممالک میں کہیں صدارتی طرز کی حکومت ہے کہیں پارلیمانی ہے کہیں راجدہانی ہے مگر باقی نہ راجہ ہے نہ راج مختصراً سینکڑوں نظریات کے نچوڑ کے طور پر ایک بہتر سے بہتر حکومت کی جو شرائط قرار دی جاسکتی ہیں۔

 (نظامِ حکومتِ اسلامیہ مولانا ابو الکلام آزاد)

وہ حسب ذیل ہیں:

جمہوری حکومت کے لوازم:

1: حکومتِ جمہور کا حق ہو ذاتی یا خاندانی نہ ہو۔

2: ملک کے تمام شہری قانون کے اعتبار سے مساوی درجہ رکھتے ہوں اور حقوق میں خواہ وہ کسی بھی قسم کے ہوں سب برابر ہوں۔

3: ملک کے سربراہ کا تقرر عوام کے اختیار میں ہو جس کا ذریعہ انتخاب ہو۔

4: تمام امور ملکی و انتظامی و قانونی ملک کے اہل الرائے اشخاص کے مشورے سے ملے ہوں۔

5: ملک کا خزانہ عوام کی ملکیت ہو اور ملک کے سربراہ کو بغیر مشورے کے اس پر تصرف کا کوئی حق نہ ہو۔

عقیدہ امامت کے تحت کسی طرز کا بھی نظم و نسق ہو وہ مندرجہ بالا شرائط میں سے ایک بھی پوری نہیں کر سکتا مثلاً عقیدہ امامت کے اعتبار سے حکومت امام کا حق ہے۔ (دیکھیئے باب، دوم)

 ذاتی بھی خاندانی بھی اسی طرح امام کیوں کہ معصوم ہوتا ہے لہٰذا وہ ہر قسم کے قانون سے بالاتر ہے مامور من اللہ ہونے کی وجہ سے اس کا تقرر بھی عوام کے اختیار میں نہیں وہ کسی بھی معاملہ میں کسی کے مشورے کا پابند نہیں ہو سکتا نیز ہر زمانہ میں مامور من اللہ موجود ہوتا ہے خواہ ظاہر ہو خواہ غائب ہو خواہ مستور لہٰذا کوئی ایسا وقت نہیں آسکتا جب جمہور امام کے تصرف سے خالی ہوں ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ملکی نظم و نسق میں جمہور کا کوئی حصہ ہو ہی نہیں سکتا بالخصوص اس زمانہ میں جب امام غیبت میں ہو یا ستر میں ہو ایک خلاء ہو جاتا ہے جس کے پر کرنے کے لئے کوئی واضح طریقہ نہیں مندرجہ بالا صورت تو عقیدہ امامت کی عمومی طور پر ہے اب ذرا عقیدہ امامت کے متبعین میں سے اسماعیلیہ کی صورتِ حال دیکھیں کیوں کہ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر کیا گیا ہے اسماعیلیہ کو اولاً افریقہ میں پھر مصر اور بلادِ عرب میں حکومت کا موقع ملا جس کو فاطمی دورِ خلافت کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر زاہد علی کے مطابق (تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 99)

فاطمی دورِ خلافت کی خصوصیات حسبِ ذیل تھیں:

1: فاطمی خلافت خدا کی قائم مقام تھی۔

2: فاطمی خلافت میں باپ کے بعد بیٹا جانشین ہوتا رہا۔

3: امام خلیفہ کی حیثیت معصوم یعنی خارج عن الخطاء کی تھی۔

4: حکومت امام کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔

5: امام اپنے پیرؤں کے جان و مال کا مالک تھا۔

فاطمی خلافت کی 227 سالہ مدت میں ایک بھی نظیر ایسی نہیں ملتی جس سے یہ ظاہر ہو کہ خون شبہ رنگین تراز معمار نیست ایسی بھی کوئی مثال نہیں کہ امام خلیفہ قاضی کے سامنے جوابدہی کے لئے حاضر ہوا ہو اسماعیلیہ کے نزاری فرقہ نے شمالی ایران اور عراق کے کوہستانی علاقہ پر ڈیڑھ سو سال حکومت کی ہے اس حکومت کا مرکز الموت تھا جس کا ذکر پچھلے ابواب میں آچکا ہے سب جانتے ہیں کہ حسن بن صباح اور اس کے جانشینوں کا دورِ دہشت گردی کا دور تھا اس میں جمہور کے حقوق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مندرجہ بالا سطور سے واضح ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی اسماعیلیہ برسرِ اقتدار رہے جمہوری نظام کی ایک شرط بھی پوری نہ کر سکے۔ دراصل عقیدہ امامت کے تحت ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا اور اسماعیلی عقیدہ امامت تو ایک دیو مالائی فکر کی سی حیثیت رکھتا ہے اس کے عقیدت مندوں نے اپنے امام خلیفہ کو الوہیت کے درجہ پر پہنچا دیا ایسی صورت میں جمہوری حقوق کا کیا سوال موجودہ حالات یہ ہیں کہ اسماعیلیہ کے مستعلویہ فرقہ کے یہاں تو امام طیب کے مستور ہو جانے کے بعد سے دورِ ستر چل رہا ہے قائم القیامہ کا انتظار ہو رہا ہے ان کو اقتدار کی توقع ہی نہیں اسی لئے غالباً انہوں نے دعوت کو محدود کر دیا ہے ویسے ان کے یہاں امام کی غیبت میں داعی امام کا قائم مقام ہوتا ہے اسماعیلیہ کے دوسرے فرقے نزاریہ آغا خانی کے یہاں حاضر امام موجود ہے ایک نہیں دو، دو ہیں ایک کریم الحسینی دوسرے امین الحسینی لیکن جیسا کہ ان حضرات کی روش سے پتہ چلتا ہے یہ مسلمانوں میں باعزت زندگی گزارنے کی جدو جہد میں مصروف ہیں یہ ظاہر اقتدار کا حصول ان کا مقصد نظر نہیں آتا گو اس کے امکانات بھی نہیں ہیں اور وہ خود اس سے واقف بھی ہیں اسی لئے وہ جہاں بھی ہیں وہ ملکی سیاست میں براہ راست حصہ نہیں لیتے۔

اسماعیلیہ کے بعد اثناء عشریہ فرقہ کی صورت یہ ہے کہ ان کے یہاں عقیدہ امامت اب تک عقیدہ کی حد تک رہا ہے ان کو ایک دن کیلئے دنیاوی اقتدار نہیں ملا جیسا کہ Shorter Encyclopaedia of Islam میں شیعہ کے مقالہ نگار نے لکھا ہے۔ (صفحہ، 534)

یہ تمنا کہ علویوں میں امامت بہ حیثیت اہلِ بیتؓ کے محدود رہے کبھی پوری نہ ہو سکی حضرت علیؓ کی مختصر حکومت متنازعہ رہی اور حضرت حسنؓ کی خلافت کی مدت اس قدر قلیل تھی کہ اس کو مشکل سے ہی حکومت کہا جا سکتا ہے۔

مقالہ نگار آر اسٹراتھمین کے مندرجہ بالا بیان کے بعد یہ وضاحت ضروری ہے کہ تاریخی اعتبار سے ان دونوں برگزیدہ ہستیوں کو خلیفہ منتخب کیا گیا تھا اور ان حضرات کے بعد گو ائمہ کا سلسلہ چلتا رہا مگر کوئی صاحبِ اقتدار نہ ہو سکا یہاں تک کہ 260ھ 873ء میں غیبتِ صغریٰ کا زمانہ شروع ہو گیا جس سے سفرأ کے ذریعہ امام سے رابطہ قائم رہا 329ھ 941ء کے بعد غیبتِ کبریٰ کا زمانہ شروع ہوا اور امام سے سفرأ کے ذریعہ بھی رابطہ قائم نہ رہ سکا اب گیارہ سو سال بعد امام کی غیبت کے دوران خلاء کو پر کرنے کے لئے ولایت الفقیہہ کا فلسفہ پیش کیا گیا ہے جس کے تحت نائب قائم مقام امام کو وہی حقوق حاصل ہو جاتے ہیں جو نبی یا امام معصوم کو ہوتے ہیں۔

 (ایرانی انقلاب: صفحہ، 31، 32)

معلوم نہیں یہ فلسفہ جدید اجتہاد پر مبنی ہے یا پہلے سے موجود تھا۔

(اگر تھا تو متفق علیہ نہ تھا ایضاً صفحہ، 31، 32)

کیوں کہ صفویوں کی مشہور و معروف شیعی اثناء عشری حکومت میں شیخ الاسلام کا ذکر تو ملتا ہے نائب امام کا نہیں۔

 (مقالہ شیعہShorter Encyclopaedia of Islam)

بہر حال اس جدت سے اثناء عشری اس سطح پر آگئے جس پر اسماعیلیہ 9 سو سال قبل تھے یعنی جب امام طیب کی غیبت کے بعد ان کے داعیوں نے نائبین کی حیثیت سے 524ھ، 567ھ، 1130ء، 1171ء تک حکومت کی تھی امام کی غیبت میں خلاء کو پر کرنے کے ساتھ ساتھ ایران میں حکومت کے اعلیٰ عہدوں کے لئے انتخاب کا سلسلہ عرصہ سے چل رہا ہے انتخاب کے اصول کو تسلیم کرنا چاہیئے وہ نائب امام کا لطف و کرم ہو یا اجتہاد، عوام کے حق حکومت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے جو عقیدہ امامت سے صریح انحراف ہے واضح رہے کہ عقیدہ امامت کے اعتبار سے حکومت کا حق صرف امام کا ہے اور امام کی جانب سے نامزدگی خواہ کسی عہدہ کی بھی ہو اور چیز ہے اور عوام کا منتخب کرنا اور چیز ہے یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ اثناء عشری عقیدہ امامت جو اب تک ایک بہتر سے بہتر ملکی نظم و نسق کی شرائط پوری کرنے میں شدید رکاوٹ تھا اس کو اجتہاد کے ذریعہ جدید سیاسی نظریات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن تصویر کے دوسرے رخ کو نظر انداز کرنا بھی مشکل ہے وہ یہ کہ عقیدہ امامت کے تحت نظم مملکت کے لئے ہر دور کے تقاضے پورے کرنا ممکن ہی نہ تھا اور اس لئے وہ چودہ سو سال سے۔

تشکیل ہی کے مراحل طے کرتا ہوا نظر آتا ہے:

جیسا کہ امام کے مقالہ نگار ایوانو جو امامیہ سے متعلق معروف ترین محققین میں سے ہیں لکھتے ہیں

ابتدائی نرم یا قدیم نظریہ امامت میں برابر بنیادی تبدیلیاں ہوتی رہیں اور اس میں تاریخی اور ائمہ کے خاندانی واقعات کے اثرات اور ائمہ کے متبعین میں اختلاف اعتقادات نے نمایاں کردار ادا کیا۔

 (Shorter Encyclopaedia of Islam صفحہ 166)

مندرجہ بالا اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو کچھ ایوانو نے لکھا ہے وہ حرف بہ حرف درست ہے بلکہ تبدیلیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

اثناء عشریہ میں امید افزاء حقیقت شناسی یا قدیم عقیده امامت سے انحراف:

اس باب کی تکمیل ہو چکی تھی کہ اخبار جنگِ مؤرخہ 24 نومبر 1985ء میں حسبِ ذیل خبر نظر سے گذری:

منتظری کو آیات اللہ خمینی کا جانشیں منتخب کر لیا گیا:

لندن ریڈیو رپورٹ آیت اللہ منتظری کو آیت اللہ خمینی کا جانشین منتخب کیا گیا ہے جو اسلامی انقلاب کی رہنمائی کریں گے ایرانی خبر ایجنسی نے اس کی اطلاع دیتے ہوئے اس سلسلہ میں تفصیل نہیں بتائی تاہم مجلس خبرگان کا ایک اجلاس چند روز پہلے ہوا تھا یہی ادارہ ایران کے رہنما کا انتخاب کرنے کا مجاز ہے۔

ایران میں جو اس وقت امامیہ اثناء عشری فکر و نظر کا مرکز ہے عقیدہ امامت کے تحت خود نائب امام کے جانشین کے لئے انتخاب بہت اہمیت رکھتا ہے اگرچہ یہ معاملہ اثناء عشریہ کا ہے لیکن ہم بھی اس آئین نو کو خوش آمدید کہتے ہیں کیوں کہ اس طرح اثناء عشریہ اہلِ سنت و الجماعت اور زیدیہ (نظام حکومت اسلامیہ۔ مولانا ابو الکلام آزاد) کے مؤقف سے قریب آگئے ہیں یعنی امت کے دینی و دنیوی سربراہ کے تقرر کے لئے قرآن و سنت کے اعتبار سے اجماع و انتخاب کے اصول کو جس کے تحت حضورِ اکرمﷺ کے وصال کے فوراً بعد خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کو امتِ مسلمہ کا دینی و دنیوی سر براہ مقرر کیا گیا تھا انہوں اثناء عشریہ نے بھی تسلیم کر لیا واضح رہے کہ امام کی جانب سے نامزدگی دوسری چیز ہے اور عوام کو حق دے کر الیکشن دوسری چیز ہو سکتا ہے اسے بین الاقوامی اثرات کا دباؤ کہا جائے عرصہ سے روشن خیالی اور حقیقت شناسی کے آثار پائے جاتے ہیں انہوں نے کئی اور معاملات میں صدیوں پرانا مؤقف تبدیل کر لیا ہے ان میں سے ایک تحریفِ قرآنِ پاک بھی ہے کچھ عرصہ سے ایسی تقاریر سننے میں آرہی ہیں جن میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اثناء عشریہ اور اہلِ سنت و الجماعت کے قرآنِ پاک میں کوئی فرق نہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق بھی اثناء عشریہ نے اپنا رویہ بدلنا شروع کیا ہے اور ان کی خدماتِ جلیلہ کا اعتراف دبے الفاظ میں کر رہے ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل اقتباس (شیعہ مطبوعہ ایران: صفحہ، 12 مقدمہ)

نوٹ: بیروت سے قرآنِ پاک کا ایک انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے جو سنی اور شیعوں کا متفقہ ہے) سے ظاہر ہے:

For the vast majority of the Islamic community which supported the original caliphate the com panions (Sahaba) of the prophet represent the prophets heritage and the channel through which his message was transmitted to latter generations Within the early community the companions occu pied a favoured position and among them the first four caliphs stood out as a distinct group It is

through the companions that the sayings (Hadith) and manner of living (Sunnah) of the prophet were transmitted to the second generation of Muslims.

 ترجمہ: مسلمانوں کی وسیع اکثریت کے لئے جنہوں نے خلافتِ راشدہ کی تائید کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول اللہﷺ کے وارث کی حیثیت رکھتے ہیں نیز وہ ذریعہ بھی جس سے نبی کریمﷺ کا پیغام آنے والی نسلوں تک پہنچا مسلمانوں کے ابتدائی دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک پسندیدہ حیثیت کے مالک تھے اور ان میں بھی چاروں کے چاروں اولین خلفائے راشدینؓ کی حیثیت امتیازی تھی یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کا ذریعہ تھا جس سے رسول اللہﷺ کی احادیث و سنن مسلمانوں کی دوسری نسل تک پہنچیں۔

یہ اقتباس سید حسین نصر کے مقدمہ سے لیا گیا ہے جو انہوں نے علامہ سید محمد حسین طباطبائی کی فارسی کتاب شیعہ کے انگریزی ترجمہ پر لکھا ہے یہ کتاب ایران میں حال ہی میں شائع ہوئی ہے اور تازہ ترین اثناء عشری فکر کی آئینہ دار ہے اس سے قبل ہمارے اپنے ملک میں مشہور و معروف شیعی مؤرخ جسٹس سید امیر علی نے اپنی کتاب عربوں کی تاریخ میں خلافتِ راشدہ سے متعلق باب کا عنوان ہی ری پبلک (Republic) رکھا یعنی خلفائے راشدینؓ کے طرز حکومت کوری پبلک قرار دیا انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر بڑے احترام سے کیا ہے ان کے امتِ مسلمہ کے دینی و دنیوی سربراہ کی حیثیت سے تقرر کو الیکشن کہا ہے اور تقریر کے بعد پہلی تقریر کو قرار واقع اہمیت کے ساتھ بیان کیا ہے بلکہ صاف صاف لکھا ہے کہ:

ان حضرت ابوبکرؓ کی دانشمندی اور معتدل مزاجی مسلمہ تھی اور ان کے انتخاب کو حضرت علیؓ اور اہلِ بیتؓ کے معزز افراد نے اسلام سے حسبِ معمول عقیدت مندی کے تحت قبول کیا۔ 

(A Short History of Saracens: صفحہ، 21)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے متعلق سید امیر علی لکھتے ہیں:

1: سیدنا عمرؓ کا خلیفہ ہونا اسلام کے لئے بے پناہ اہمیت کا حامل تھا۔

2: حضرت عمرؓ کا انتقال اسلام کے لئے حقیقی مصیبت تھی۔

اسی طرح انہوں نے اپنی دوسری کتاب روحِ اسلام میں خلیفہ اول، دوم، سوم و چہارم کے اسماءِ گرامی Rashidin Caliphs خلفاء راشدینؓ کے عنوان کے تحت دیئے ہیں ان سب پر مستزاد ایران میں چند سال قبل قائم ہونے والی حکومت کا نام ISLAMIC REPUBLIC OF IRAN رکھا گیا اور اس نام و مملکت کے آئین کی ولی فقیہ و امام کی توثیق سےقبل LEBICITE REFERENDUM استصواب رائے کے ذریعہ عوام سے منظوری لی گئی اور عوام کا حق حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے اس کو عطیہ خداوندی کہا گیا اور ہر سطح پر نمائندگی کے لئے ذریعہ انتخاب قرار پایا۔

الحمد للہ تاخیر سے سہی اجماع و انتخاب کی اہمیت و ضرورت واضح ہو گئی اور تسلیم بھی کر لی گئی۔ ثم الحمد اللہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قرآن و سنت کی فہم، نیک نیتی، بالغ نظری اور بے لوثی بھی واضح ہو گئی اب صرف شخصیتوں کا اختلاف رہ گیا ہے جس کو اگر اسی جمہوری اصول

(A Short History of Sanacens صفحہ 27، 33)

دیکھئے مقالات حکومت الہٰیہ و جمہوریت و ایران میں اسلامی مجلس مشاورت رسالہ التوحيد تہران بات ماهِ محرم 1404ھ کثرتِ رائے کی بنیاد پر فیصلہ)

کے تحت دیکھا جائے الیکشن جس کا حصہ ہے تو وہ اختلاف بے معنیٰ ہو کر رہ گیا ہے۔

اس موقع پر یہ عرض کرنا اشد ضرور ہے کہ صدیوں پرانے اختلافات آنا فانا دور نہیں ہوتے اس کے لئے بہت صبر و تحمل درکار ہے اس وقت سب سے بڑی ضرورت تقیہ کتمان سے پیدا شدہ عدم اعتمادی کو دور کرتا ہے جو صرف فکر و نظر میں تبدیلی کو عملی شکل دینے سے ہی ہو سکتا ہے اللہ پاک اثناء عشری اربابِ فکر میں جذبہ حقیقت شناسی کو قائم رکھے ان شاء اللہ یہ عدمِ اعتمادی بھی دور ہو جائے گی۔

مسلم استی سینہ را از آرزو آباد دار

ہر زماں پیشِ نظر لا متخلف المیعاد دار

(اقبالؒ)

نوٹ: اضافہ 1991ء:

آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد ان کی جانشینی کیلئے آیت اللہ منتظری کے انتخاب کو کالعدم قرار دے کر علی خامنہ ای کا انتخاب امام کی غیبت میں اجماع و انتخاب کے اصول کو مکمل طور پر تسلیم کرنا ہے جو امامت کی تھیوری پر شدید ضرب ہے۔ اس کو امامت کی تھیوری کا پیوند بھی نہیں کیا جا سکتا۔