نظریہ عقیدہ امامت دور جدید میں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

نظریہ عقیدہ امامت دور جدید میں

  سید تنظیم حسین

صفحہ 1 از 3

موجودہ زمانہ کو ایک عرصہ سے سلطانی جمہور کا زمانہ کہا جا رہا ہے بادشاہت کے خدائی حق کا تصور قصہ پارینہ ہو چکا ملکی نظم و نسق سے متعلق سینکڑوں نظریات قائم ہو چکے ہیں ان میں کچھ پر جزوی، کچھ پر کلی طور پر عمل بھی ہو رہا ہے ریاست کا تصور حکومت کی ذمہ داریاں عوام کے بنیادی حقوق، ایک شہری کی ذمہ داریاں، بنیادی حقوق کا عالمی منشور یہ سب روزانہ تحریر و تقریر کا موضوع ہیں مغربی دنیا نے ان امور سے متعلق بحث و تمحیص میں نمایاں حصہ لیا ہے جس سے سیاسی لٹریچر جو زیادہ تر انگریزی زبان میں ہے بھرا پڑا ہے نئے نئے تجربات ہو رہے ہیں ایک وسیع ملک بلکہ آدھی دنیا میں تو ایسا نظام قائم ہے جس میں خدا کا تصور بھی نہیں ہے بلکہ عوام کو خدا کا مقام دیا گیا ہے دیگر ممالک میں کہیں صدارتی طرز کی حکومت ہے کہیں پارلیمانی ہے کہیں راجدہانی ہے مگر باقی نہ راجہ ہے نہ راج مختصراً سینکڑوں نظریات کے نچوڑ کے طور پر ایک بہتر سے بہتر حکومت کی جو شرائط قرار دی جاسکتی ہیں۔

 (نظامِ حکومتِ اسلامیہ مولانا ابو الکلام آزاد)

وہ حسب ذیل ہیں:

جمہوری حکومت کے لوازم:

1: حکومتِ جمہور کا حق ہو ذاتی یا خاندانی نہ ہو۔

2: ملک کے تمام شہری قانون کے اعتبار سے مساوی درجہ رکھتے ہوں اور حقوق میں خواہ وہ کسی بھی قسم کے ہوں سب برابر ہوں۔

3: ملک کے سربراہ کا تقرر عوام کے اختیار میں ہو جس کا ذریعہ انتخاب ہو۔

4: تمام امور ملکی و انتظامی و قانونی ملک کے اہل الرائے اشخاص کے مشورے سے ملے ہوں۔

5: ملک کا خزانہ عوام کی ملکیت ہو اور ملک کے سربراہ کو بغیر مشورے کے اس پر تصرف کا کوئی حق نہ ہو۔

عقیدہ امامت کے تحت کسی طرز کا بھی نظم و نسق ہو وہ مندرجہ بالا شرائط میں سے ایک بھی پوری نہیں کر سکتا مثلاً عقیدہ امامت کے اعتبار سے حکومت امام کا حق ہے۔ (دیکھیئے باب، دوم)

 ذاتی بھی خاندانی بھی اسی طرح امام کیوں کہ معصوم ہوتا ہے لہٰذا وہ ہر قسم کے قانون سے بالاتر ہے مامور من اللہ ہونے کی وجہ سے اس کا تقرر بھی عوام کے اختیار میں نہیں وہ کسی بھی معاملہ میں کسی کے مشورے کا پابند نہیں ہو سکتا نیز ہر زمانہ میں مامور من اللہ موجود ہوتا ہے خواہ ظاہر ہو خواہ غائب ہو خواہ مستور لہٰذا کوئی ایسا وقت نہیں آسکتا جب جمہور امام کے تصرف سے خالی ہوں ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ملکی نظم و نسق میں جمہور کا کوئی حصہ ہو ہی نہیں سکتا بالخصوص اس زمانہ میں جب امام غیبت میں ہو یا ستر میں ہو ایک خلاء ہو جاتا ہے جس کے پر کرنے کے لئے کوئی واضح طریقہ نہیں مندرجہ بالا صورت تو عقیدہ امامت کی عمومی طور پر ہے اب ذرا عقیدہ امامت کے متبعین میں سے اسماعیلیہ کی صورتِ حال دیکھیں کیوں کہ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر کیا گیا ہے اسماعیلیہ کو اولاً افریقہ میں پھر مصر اور بلادِ عرب میں حکومت کا موقع ملا جس کو فاطمی دورِ خلافت کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر زاہد علی کے مطابق (تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 99)

فاطمی دورِ خلافت کی خصوصیات حسبِ ذیل تھیں:

1: فاطمی خلافت خدا کی قائم مقام تھی۔

2: فاطمی خلافت میں باپ کے بعد بیٹا جانشین ہوتا رہا۔

3: امام خلیفہ کی حیثیت معصوم یعنی خارج عن الخطاء کی تھی۔

4: حکومت امام کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔

5: امام اپنے پیرؤں کے جان و مال کا مالک تھا۔

فاطمی خلافت کی 227 سالہ مدت میں ایک بھی نظیر ایسی نہیں ملتی جس سے یہ ظاہر ہو کہ خون شبہ رنگین تراز معمار نیست ایسی بھی کوئی مثال نہیں کہ امام خلیفہ قاضی کے سامنے جوابدہی کے لئے حاضر ہوا ہو اسماعیلیہ کے نزاری فرقہ نے شمالی ایران اور عراق کے کوہستانی علاقہ پر ڈیڑھ سو سال حکومت کی ہے اس حکومت کا مرکز الموت تھا جس کا ذکر پچھلے ابواب میں آچکا ہے سب جانتے ہیں کہ حسن بن صباح اور اس کے جانشینوں کا دورِ دہشت گردی کا دور تھا اس میں جمہور کے حقوق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مندرجہ بالا سطور سے واضح ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی اسماعیلیہ برسرِ اقتدار رہے جمہوری نظام کی ایک شرط بھی پوری نہ کر سکے۔ دراصل عقیدہ امامت کے تحت ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا اور اسماعیلی عقیدہ امامت تو ایک دیو مالائی فکر کی سی حیثیت رکھتا ہے اس کے عقیدت مندوں نے اپنے امام خلیفہ کو الوہیت کے درجہ پر پہنچا دیا ایسی صورت میں جمہوری حقوق کا کیا سوال موجودہ حالات یہ ہیں کہ اسماعیلیہ کے مستعلویہ فرقہ کے یہاں تو امام طیب کے مستور ہو جانے کے بعد سے دورِ ستر چل رہا ہے قائم القیامہ کا انتظار ہو رہا ہے ان کو اقتدار کی توقع ہی نہیں اسی لئے غالباً انہوں نے دعوت کو محدود کر دیا ہے ویسے ان کے یہاں امام کی غیبت میں داعی امام کا قائم مقام ہوتا ہے اسماعیلیہ کے دوسرے فرقے نزاریہ آغا خانی کے یہاں حاضر امام موجود ہے ایک نہیں دو، دو ہیں ایک کریم الحسینی دوسرے امین الحسینی لیکن جیسا کہ ان حضرات کی روش سے پتہ چلتا ہے یہ مسلمانوں میں باعزت زندگی گزارنے کی جدو جہد میں مصروف ہیں یہ ظاہر اقتدار کا حصول ان کا مقصد نظر نہیں آتا گو اس کے امکانات بھی نہیں ہیں اور وہ خود اس سے واقف بھی ہیں اسی لئے وہ جہاں بھی ہیں وہ ملکی سیاست میں براہ راست حصہ نہیں لیتے۔

اسماعیلیہ کے بعد اثناء عشریہ فرقہ کی صورت یہ ہے کہ ان کے یہاں عقیدہ امامت اب تک عقیدہ کی حد تک رہا ہے ان کو ایک دن کیلئے دنیاوی اقتدار نہیں ملا جیسا کہ Shorter Encyclopaedia of Islam میں شیعہ کے مقالہ نگار نے لکھا ہے۔ (صفحہ، 534)

یہ تمنا کہ علویوں میں امامت بہ حیثیت اہلِ بیتؓ کے محدود رہے کبھی پوری نہ ہو سکی حضرت علیؓ کی مختصر حکومت متنازعہ رہی اور حضرت حسنؓ کی خلافت کی مدت اس قدر قلیل تھی کہ اس کو مشکل سے ہی حکومت کہا جا سکتا ہے۔

صفحہ 1 از 3