نظریہ عقیدہ امامت دور جدید میں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

نظریہ عقیدہ امامت دور جدید میں

  سید تنظیم حسین

صفحہ 2 از 3

مقالہ نگار آر اسٹراتھمین کے مندرجہ بالا بیان کے بعد یہ وضاحت ضروری ہے کہ تاریخی اعتبار سے ان دونوں برگزیدہ ہستیوں کو خلیفہ منتخب کیا گیا تھا اور ان حضرات کے بعد گو ائمہ کا سلسلہ چلتا رہا مگر کوئی صاحبِ اقتدار نہ ہو سکا یہاں تک کہ 260ھ 873ء میں غیبتِ صغریٰ کا زمانہ شروع ہو گیا جس سے سفرأ کے ذریعہ امام سے رابطہ قائم رہا 329ھ 941ء کے بعد غیبتِ کبریٰ کا زمانہ شروع ہوا اور امام سے سفرأ کے ذریعہ بھی رابطہ قائم نہ رہ سکا اب گیارہ سو سال بعد امام کی غیبت کے دوران خلاء کو پر کرنے کے لئے ولایت الفقیہہ کا فلسفہ پیش کیا گیا ہے جس کے تحت نائب قائم مقام امام کو وہی حقوق حاصل ہو جاتے ہیں جو نبی یا امام معصوم کو ہوتے ہیں۔

 (ایرانی انقلاب: صفحہ، 31، 32)

معلوم نہیں یہ فلسفہ جدید اجتہاد پر مبنی ہے یا پہلے سے موجود تھا۔

(اگر تھا تو متفق علیہ نہ تھا ایضاً صفحہ، 31، 32)

کیوں کہ صفویوں کی مشہور و معروف شیعی اثناء عشری حکومت میں شیخ الاسلام کا ذکر تو ملتا ہے نائب امام کا نہیں۔

 (مقالہ شیعہShorter Encyclopaedia of Islam)

بہر حال اس جدت سے اثناء عشری اس سطح پر آگئے جس پر اسماعیلیہ 9 سو سال قبل تھے یعنی جب امام طیب کی غیبت کے بعد ان کے داعیوں نے نائبین کی حیثیت سے 524ھ، 567ھ، 1130ء، 1171ء تک حکومت کی تھی امام کی غیبت میں خلاء کو پر کرنے کے ساتھ ساتھ ایران میں حکومت کے اعلیٰ عہدوں کے لئے انتخاب کا سلسلہ عرصہ سے چل رہا ہے انتخاب کے اصول کو تسلیم کرنا چاہیئے وہ نائب امام کا لطف و کرم ہو یا اجتہاد، عوام کے حق حکومت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے جو عقیدہ امامت سے صریح انحراف ہے واضح رہے کہ عقیدہ امامت کے اعتبار سے حکومت کا حق صرف امام کا ہے اور امام کی جانب سے نامزدگی خواہ کسی عہدہ کی بھی ہو اور چیز ہے اور عوام کا منتخب کرنا اور چیز ہے یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ اثناء عشری عقیدہ امامت جو اب تک ایک بہتر سے بہتر ملکی نظم و نسق کی شرائط پوری کرنے میں شدید رکاوٹ تھا اس کو اجتہاد کے ذریعہ جدید سیاسی نظریات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن تصویر کے دوسرے رخ کو نظر انداز کرنا بھی مشکل ہے وہ یہ کہ عقیدہ امامت کے تحت نظم مملکت کے لئے ہر دور کے تقاضے پورے کرنا ممکن ہی نہ تھا اور اس لئے وہ چودہ سو سال سے۔

تشکیل ہی کے مراحل طے کرتا ہوا نظر آتا ہے:

جیسا کہ امام کے مقالہ نگار ایوانو جو امامیہ سے متعلق معروف ترین محققین میں سے ہیں لکھتے ہیں

ابتدائی نرم یا قدیم نظریہ امامت میں برابر بنیادی تبدیلیاں ہوتی رہیں اور اس میں تاریخی اور ائمہ کے خاندانی واقعات کے اثرات اور ائمہ کے متبعین میں اختلاف اعتقادات نے نمایاں کردار ادا کیا۔

 (Shorter Encyclopaedia of Islam صفحہ 166)

مندرجہ بالا اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو کچھ ایوانو نے لکھا ہے وہ حرف بہ حرف درست ہے بلکہ تبدیلیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

اثناء عشریہ میں امید افزاء حقیقت شناسی یا قدیم عقیده امامت سے انحراف:

اس باب کی تکمیل ہو چکی تھی کہ اخبار جنگِ مؤرخہ 24 نومبر 1985ء میں حسبِ ذیل خبر نظر سے گذری:

منتظری کو آیات اللہ خمینی کا جانشیں منتخب کر لیا گیا:

لندن ریڈیو رپورٹ آیت اللہ منتظری کو آیت اللہ خمینی کا جانشین منتخب کیا گیا ہے جو اسلامی انقلاب کی رہنمائی کریں گے ایرانی خبر ایجنسی نے اس کی اطلاع دیتے ہوئے اس سلسلہ میں تفصیل نہیں بتائی تاہم مجلس خبرگان کا ایک اجلاس چند روز پہلے ہوا تھا یہی ادارہ ایران کے رہنما کا انتخاب کرنے کا مجاز ہے۔

ایران میں جو اس وقت امامیہ اثناء عشری فکر و نظر کا مرکز ہے عقیدہ امامت کے تحت خود نائب امام کے جانشین کے لئے انتخاب بہت اہمیت رکھتا ہے اگرچہ یہ معاملہ اثناء عشریہ کا ہے لیکن ہم بھی اس آئین نو کو خوش آمدید کہتے ہیں کیوں کہ اس طرح اثناء عشریہ اہلِ سنت و الجماعت اور زیدیہ (نظام حکومت اسلامیہ۔ مولانا ابو الکلام آزاد) کے مؤقف سے قریب آگئے ہیں یعنی امت کے دینی و دنیوی سربراہ کے تقرر کے لئے قرآن و سنت کے اعتبار سے اجماع و انتخاب کے اصول کو جس کے تحت حضورِ اکرمﷺ کے وصال کے فوراً بعد خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کو امتِ مسلمہ کا دینی و دنیوی سر براہ مقرر کیا گیا تھا انہوں اثناء عشریہ نے بھی تسلیم کر لیا واضح رہے کہ امام کی جانب سے نامزدگی دوسری چیز ہے اور عوام کو حق دے کر الیکشن دوسری چیز ہو سکتا ہے اسے بین الاقوامی اثرات کا دباؤ کہا جائے عرصہ سے روشن خیالی اور حقیقت شناسی کے آثار پائے جاتے ہیں انہوں نے کئی اور معاملات میں صدیوں پرانا مؤقف تبدیل کر لیا ہے ان میں سے ایک تحریفِ قرآنِ پاک بھی ہے کچھ عرصہ سے ایسی تقاریر سننے میں آرہی ہیں جن میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اثناء عشریہ اور اہلِ سنت و الجماعت کے قرآنِ پاک میں کوئی فرق نہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق بھی اثناء عشریہ نے اپنا رویہ بدلنا شروع کیا ہے اور ان کی خدماتِ جلیلہ کا اعتراف دبے الفاظ میں کر رہے ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل اقتباس (شیعہ مطبوعہ ایران: صفحہ، 12 مقدمہ)

نوٹ: بیروت سے قرآنِ پاک کا ایک انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے جو سنی اور شیعوں کا متفقہ ہے) سے ظاہر ہے:

For the vast majority of the Islamic community which supported the original caliphate the com panions (Sahaba) of the prophet represent the prophets heritage and the channel through which his message was transmitted to latter generations Within the early community the companions occu pied a favoured position and among them the first four caliphs stood out as a distinct group It is

through the companions that the sayings (Hadith) and manner of living (Sunnah) of the prophet were transmitted to the second generation of Muslims.

صفحہ 2 از 3