نظریہ عقیدہ امامت دور جدید میں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

نظریہ عقیدہ امامت دور جدید میں

  سید تنظیم حسین

صفحہ 3 از 3

 ترجمہ: مسلمانوں کی وسیع اکثریت کے لئے جنہوں نے خلافتِ راشدہ کی تائید کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول اللہﷺ کے وارث کی حیثیت رکھتے ہیں نیز وہ ذریعہ بھی جس سے نبی کریمﷺ کا پیغام آنے والی نسلوں تک پہنچا مسلمانوں کے ابتدائی دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک پسندیدہ حیثیت کے مالک تھے اور ان میں بھی چاروں کے چاروں اولین خلفائے راشدینؓ کی حیثیت امتیازی تھی یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کا ذریعہ تھا جس سے رسول اللہﷺ کی احادیث و سنن مسلمانوں کی دوسری نسل تک پہنچیں۔

یہ اقتباس سید حسین نصر کے مقدمہ سے لیا گیا ہے جو انہوں نے علامہ سید محمد حسین طباطبائی کی فارسی کتاب شیعہ کے انگریزی ترجمہ پر لکھا ہے یہ کتاب ایران میں حال ہی میں شائع ہوئی ہے اور تازہ ترین اثناء عشری فکر کی آئینہ دار ہے اس سے قبل ہمارے اپنے ملک میں مشہور و معروف شیعی مؤرخ جسٹس سید امیر علی نے اپنی کتاب عربوں کی تاریخ میں خلافتِ راشدہ سے متعلق باب کا عنوان ہی ری پبلک (Republic) رکھا یعنی خلفائے راشدینؓ کے طرز حکومت کوری پبلک قرار دیا انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر بڑے احترام سے کیا ہے ان کے امتِ مسلمہ کے دینی و دنیوی سربراہ کی حیثیت سے تقرر کو الیکشن کہا ہے اور تقریر کے بعد پہلی تقریر کو قرار واقع اہمیت کے ساتھ بیان کیا ہے بلکہ صاف صاف لکھا ہے کہ:

ان حضرت ابوبکرؓ کی دانشمندی اور معتدل مزاجی مسلمہ تھی اور ان کے انتخاب کو حضرت علیؓ اور اہلِ بیتؓ کے معزز افراد نے اسلام سے حسبِ معمول عقیدت مندی کے تحت قبول کیا۔ 

(A Short History of Saracens: صفحہ، 21)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے متعلق سید امیر علی لکھتے ہیں:

1: سیدنا عمرؓ کا خلیفہ ہونا اسلام کے لئے بے پناہ اہمیت کا حامل تھا۔

2: حضرت عمرؓ کا انتقال اسلام کے لئے حقیقی مصیبت تھی۔

اسی طرح انہوں نے اپنی دوسری کتاب روحِ اسلام میں خلیفہ اول، دوم، سوم و چہارم کے اسماءِ گرامی Rashidin Caliphs خلفاء راشدینؓ کے عنوان کے تحت دیئے ہیں ان سب پر مستزاد ایران میں چند سال قبل قائم ہونے والی حکومت کا نام ISLAMIC REPUBLIC OF IRAN رکھا گیا اور اس نام و مملکت کے آئین کی ولی فقیہ و امام کی توثیق سےقبل LEBICITE REFERENDUM استصواب رائے کے ذریعہ عوام سے منظوری لی گئی اور عوام کا حق حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے اس کو عطیہ خداوندی کہا گیا اور ہر سطح پر نمائندگی کے لئے ذریعہ انتخاب قرار پایا۔

الحمد للہ تاخیر سے سہی اجماع و انتخاب کی اہمیت و ضرورت واضح ہو گئی اور تسلیم بھی کر لی گئی۔ ثم الحمد اللہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قرآن و سنت کی فہم، نیک نیتی، بالغ نظری اور بے لوثی بھی واضح ہو گئی اب صرف شخصیتوں کا اختلاف رہ گیا ہے جس کو اگر اسی جمہوری اصول

(A Short History of Sanacens صفحہ 27، 33)

دیکھئے مقالات حکومت الہٰیہ و جمہوریت و ایران میں اسلامی مجلس مشاورت رسالہ التوحيد تہران بات ماهِ محرم 1404ھ کثرتِ رائے کی بنیاد پر فیصلہ)

کے تحت دیکھا جائے الیکشن جس کا حصہ ہے تو وہ اختلاف بے معنیٰ ہو کر رہ گیا ہے۔

اس موقع پر یہ عرض کرنا اشد ضرور ہے کہ صدیوں پرانے اختلافات آنا فانا دور نہیں ہوتے اس کے لئے بہت صبر و تحمل درکار ہے اس وقت سب سے بڑی ضرورت تقیہ کتمان سے پیدا شدہ عدم اعتمادی کو دور کرتا ہے جو صرف فکر و نظر میں تبدیلی کو عملی شکل دینے سے ہی ہو سکتا ہے اللہ پاک اثناء عشری اربابِ فکر میں جذبہ حقیقت شناسی کو قائم رکھے ان شاء اللہ یہ عدمِ اعتمادی بھی دور ہو جائے گی۔

مسلم استی سینہ را از آرزو آباد دار

ہر زماں پیشِ نظر لا متخلف المیعاد دار

(اقبالؒ)

نوٹ: اضافہ 1991ء:

آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد ان کی جانشینی کیلئے آیت اللہ منتظری کے انتخاب کو کالعدم قرار دے کر علی خامنہ ای کا انتخاب امام کی غیبت میں اجماع و انتخاب کے اصول کو مکمل طور پر تسلیم کرنا ہے جو امامت کی تھیوری پر شدید ضرب ہے۔ اس کو امامت کی تھیوری کا پیوند بھی نہیں کیا جا سکتا۔


صفحہ 3 از 3