Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دودھ پلانے والی خاتون ام الفضل رضی اللہ عنہا

  علی محمد الصلابی

ام الفضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میں نے خواب دیکھا ہے کہ گویا آپ کا کوئی عضو میرے گھر میں ہے، یا کہا: میرے کمرے میں ہے، تو آپﷺ نے فرمایا: ان شاء اللہ فاطمہ کے یہاں ایک بچے کی پیدائش ہوگی تم اس کی دیکھ بھال کرو گی، کہتی ہیں کہ میں ایک دن ان کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر پیشاب کردیا، میں نے انھیں پیٹھ پر مارا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہر جاؤ (اللہ تم پر رحم کرے) تم نے میرے بچے کو تکلیف پہنچائی ہے تو میں نے کہا: آپﷺ مجھے اپنی لنگی دے دیں تاکہ میں اسے دھو دوں، آپ نے فرمایا: نہیں، اس پر پانی چھڑک دو، بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔

(المستدرک: جلد 1 صفحہ 166 حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے اور ذہبیؒ نے ان کی موافقت کی ہے، اور بعض لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔)

ام الفضل رضی اللہ عنہا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں، ان کا نام لبابہ بنت حارث ہلالیہ ہے، وہی لبابہ کبری ہیں، ہجرت سے پہلے مشرف بہ اسلام ہوئیں۔

(الطبقات لابن سعد: جلد 8 صفحہ 277)

ابن سعدؒ کا قول ہے: 

ام الفضل سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہما کے بعد سب سے پہلے ایمان لانے والی عورت ہیں۔‘‘

(الطبقات لابن سعد: جلد 8 صفحہ 277)

انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثوں کی روایت کی ہے، اور ان سے ان کے دونوں بیٹے عبداللہ اور تمام، ان کے مولیٰ عمیر بن حارث، ان کے لڑکے کے مولیٰ کریب، عبداللہ بن عباس، عبد اللہ بن حارث بن نوفل رضی اللہ عنہم اور دوسرے لوگوں نے روایت کیا ہے۔

زبیر بن بکار وغیرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کو ذکر کیا ہے:

’’چار بہنیں مومن ہیں، ام الفضل، اور میمونہ، (یہ ام الفضل کی سگی بہن ہیں) اور اسماء و سلمیٰ (یہ دونوں ان کی علاتی بہنیں ہیں) اور عمیس خثعمیہ کی بیٹیاں ہیں۔‘‘

(موسوعۃ عظماء حول الرسول: لخالد العک: جلد 3 صفحہ 2162)

ام الفضلؓ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی خالہ ہیں۔

(سیرۃ آل بیت النبی الأطہار لمجدی فتحی: صفحہ  31) 

حضرت خالدؓ کی والدہ لبابہ صغریٰ بنت حارث ہلالیہ ہیں۔

(الاستیعاب رقم الترجمۃ: 610) 

ام الفضل رضی اللہ عنہا کی والدہ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ بڑے اچھے دامادوں والی تھیں، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں،  سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان کی سگی بہن ام الفضل لبابہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے ان کی بہن سلمیٰ رضی اللہ عنہا سے شادی کی، اور حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ان کی سگی بہن اسماء رضی اللہ عنہا سے شادی کی، ان کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے شادی کی اور ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے شادی کی۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: جلد 8 صفحہ 450)

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ وہ کثیر الاولاد تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے جایا کرتے تھے۔

(الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب: جلد 4 صفحہ 1908)

صحیح حدیث میں وارد ہے کہ عرفہ کے دن لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں شک تھا۔ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے آپ کے پاس ایک پیالہ دودھ بھیجا، ام الفضلؓ نے عرفہ ہی میں اسے پیا تو لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ آپﷺ روزے سے نہیں ہیں۔ 

(صحیح البخاری: کتاب الحج: رقم: 1661)

ام الفضل رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی آخری چیز کو بیان کر رہی ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مغرب میں سورہ مرسلات تلاوت کی تو انھوں نے کہا: اے میرے لاڈلے تم نے اس سورت کی تلاوت کرکے اس بات کی یاد دہانی کرا دی کہ آخری چیز جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی وہ یہ تھی کہ آپﷺ مغرب میں اس سورت کی تلاوت کر رہے تھے۔ 

(صحیح البخاری: رقم 767)

ام الفضل رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں باحیات تھیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اپنے شوہر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے پہلے وفات پائیں۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: جلد 8 صفحہ 451)

ان کے بطن سے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے درج ذیل چھ لڑکے پیدا ہوئے:

1۔ فضل (انھی کے نام پران کی کنیت ام الفضل اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کی کنیت ابوالفضل تھی)

2،3۔ اصحاب فقہ عبداللہ و عبید اللہ

4۔ معبد

5۔ قثم

6۔ عبد الرحمٰن اور ام حبیبہ نامی ایک لڑکی پیدا ہوئی۔

عبداللہ بن یزید ہلالی ام الفضل رضی اللہ عنہا کے بارے میں لکھتے ہیں:

ما ولدت نجیبۃ من فحل بِجَبل نعلمہ و سَہل

’’کسی علاقے میں کسی صاحب حسب و نسب عورت نے خاتم الرسل صاحب فضل‘‘

کستۃ من بطن ام الفضل أُکرِمْ بہا من کہلۃ و کَہْلِ

’’نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس و ام الفضل کے بطن سے پیدا ہونے والے چھ ’’بچوں کے مانند، بچوں کو نہیں جنا۔‘‘

عم النبی المصطفی ذی الفضل و خاتم الرسل و خیر الرسل 

(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب: جلد 4 صفحہ 1908)