حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)
علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہالحمدلله وسلام على عباده الذين اصطفیٰ اما بعد!
اہلِ سنت اور اثناء عشریوں کے اختلافی مسائل میں ایک واقعہ حضور اکرمﷺ کا اپنے ایامِ علالت میں طلبِ قرطاس (کاغذ مانگنے) کا بھی ہے اس کے لیے یہ الفاظ عام سنے جاتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
ایتونى بقرطاس اكتب لكم كتابا لن تضلوا بعده يا هلم اكتب لكم كتابا لن تضلوا بعده۔
پہلی روایت میں لفظ قرطاس ہے جس سے اختلاف کا یہ عنوان سامنے آتا ہے حدیثِ قرطاس اس واقعہ کو سمجھنے کے لیے پہلے اس بات پر بھی غور کر لیا جائے۔
اس وقت قلم کاغذ مانگنے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟
یہ سوال کن لوگوں سے کیا گیا تھا کہ میرے پاس کاغذ قلم لاؤ میں کچھ لکھ دوں کہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو سکو؟ ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جو پہلے 9 ذوالحجہ میدانِ عرفات میں تکمیلِ دین کی یہ بشارت سن چکے تھے کہ آج دین مکمل ہوا اور اللہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اپنی نعمت پوری کر دی اور ان کے لیے ایک دین چن لیا اور وہ دین اسلام ہے۔
اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا (سورۃ المائدہ: آیت 3)
اور اللہ کی کتاب قرآنِ پاک بھی اپنی ابدی حفاظت کا مژدہ پا چکی تھی:
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ (سورۃ الحجر: آیت 9)
ظاہر ہے کہ اس وقت کسی نصیحت کا لکھنا کسی بنیادی بات یا اعتقادی مسئلے کے لیے نہیں ہو سکتا ہے کوئی انتظامی امور کی نصیحتیں ہوں گی کہ یہ حوزہِ اسلام یا سلطنتِ اسلامی پوری طرح قائم رہے اور باہر کے دشمن کسی طرح اس وحدتِ اسلامی کو پارہ پارہ نہ کر سکیں۔
مثلاً یہ نصیحت کہ پورے جزیرہ عرب میں یہود کہیں نہ بستے رہیں بیرونی سیاسی وفود کو اسی طرح اپنے ہاں آنے دیا جائے جس طرح میں انہیں مواقع گفتگو دیتا رہا یا یہ کہ میری قبر کو عبادت گاہ نہ بنا لینا یہ سب انتظامی امور کی باتیں ہیں امت کی اعتقادی حدود اس وقت پوری طرح مستحکم تھی جن میں اب کسی کمی بیشی کو راہ نہ مل سکتی تھی۔
لیکن افسوس کہ شیعہ ذاکرین اس حدیثِ قرطاس کو اس پسِ منظر سے نہیں سوچتے اور نہ ہی دیکھتے ہیں، وہ لوگوں کو یہی مغالطہ دیتے ہیں کہ آپﷺ یہ وصیت خلافت کے بارے میں لکھنا چاہتے تھے، کوئی ان نادانوں سے پوچھے کہ خلافت کا فیصلہ تو آپ لوگوں کے بیان کی رو سے خطبہ حجۃ الوداع کے بعد 18 ذوالحجہ کو غدیرِ خم میں ہو چکا تھا اور آپﷺ نے فرمایا تھا من کنت مولاہ فعلی مولاہ اس کے جواب میں گوجرہ کا اسمٰعیل یہ کہتا رہا کہ وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اعلان زبانی تھا اور اب آپﷺ اسے تحریر میں لانا چاہتے تھے کوئی سمجھدار آدمی اس جواب کو لائق قبول نہ سمجھے گا کہ جو فیصلہ ایک کھلے اجتماع میں ہو وہ ایک تحریر سے کہیں زیادہ وزنی ہوتا ہے اور تحریر کے گواہ تو دو چار سے زیادہ نہیں ہوتے۔
پھر یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ حضورِ اکرمﷺ تو لکھنا نہیں جانتے تھے آپﷺ یہ کیسے کہہ سکتے تھے کہ میں تمہیں کچھ لکھ دوں
قرآنِ کریم میں ہے:
وَمَا كُنۡتَ تَتۡلُوۡا مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنۡ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيۡنِكَ اِذًا لَّارۡتَابَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ۞
(سورۃ العنکبوت: آیت 48)
ترجمہ: اور تم اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے، اور نہ کوئی کتاب اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو باطل والے مین میخ نکال سکتے تھے۔
حضرت شیخ الاسلام رحمۃاللہ اس آیت پر لکھے ہیں:
نزولِ قران سے پہلے 40 سال آپﷺ کی عمر کے ان ہی مکہ والوں میں گزرے سب جانتے ہیں کہ اس مدت میں نہ آپﷺ کسی استاد کے پاس بیٹھے نہ کوئی کتاب پڑھی نہ کبھی ہاتھ میں قلم پکڑا ایسا ہوتا تو ان باطل پرستوں کو شبہ نکالنے کی جگہ رہتی۔
اب اس آیت کی روشنی میں کیا حضور اکرمﷺ اپنے ایامِ علالت میں اپنے آخری وقت میں کسی کو کہہ سکتے تھے کہ قلم دوات کاغذ لاؤ میں تمہیں کچھ لکھ دوں جس سے تم آئندہ کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے۔
پھر اس لکھنے کو اگر اس پر محمول کیا جائے کہ آپﷺ اسے اپنے کسی سیکرٹری سے لکھنے کے لیے کہہ دیں گے تو پھر دریافت طلب بات یہ ہے کہ رسول کریمﷺ کا وہ سیکرٹری کون تھا جو آپﷺ کی طرف سے یہ لکھنے کا کام کرتا تھا۔ صلح نامہ حدیبیہ حضور اکرمﷺ کی طرف سے کس نے لکھا تھا؟ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے تو اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ آپﷺ قلم دوات اور کاغذ لانے کا یہ حکم بھی انہی کو دیا ہو گا اور حقیقت یہی ہے آپﷺ نے یہ حکم انہی کو دیا تھا۔
امام احمد رحمۃاللہ سیدنا علی المرتضیٰؓ سے روایت کرتے ہیں آپؓ نے فرمایا:
امرنی النبیﷺ ان اتيه بطبق يكتب فيه مالا تضل امته من بعدہ قال خشیت ان تفوتنی نفسه۔
(مسند امام احمد مبوب: جلد، 2 صفحہ، 84 مصر)
ترجمہ: مجھے نبی پاکﷺ نے حکم دیا کہ میں آپﷺ کے پاس کوئی کاغذ لے آؤں آپﷺ اس میں لکھ دیں جس سے آپﷺ کی امت رسول اکرمﷺ کے بعد گمراہی میں نہ پڑے مگر میں اس کے لیے کاغذ لینے نہ گیا مجھے ڈر تھا کہ حضورﷺ میری غیر حاضری میں نہ چل بسیں۔
اب اگر یہ بات مان لی جائے کہ آپﷺ یہ وصیت خلافت کے بارے میں ہی کرنا چاہتے تھے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آپﷺ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اپنا خلیفہ بلا فصل نہ بتانا چاہتے تھے یہ کسی طرح مناسب نظر نہیں آتا کہ حضرت علیؓ خود ہی اپنی خلافت کا حکم لکھیں تو یہ خلافت کسی دوسرے کی ہی زیرِ نظر تھی کہ خلافت تو اس کی ہو اور قلم سیدنا علی المرتضیٰؓ کا ہو اور حکم ذاتِ رسالتﷺ کا ہو۔
وہ کون سے بزرگ ہیں جن کی خلافت آپﷺ لکھوانا چاہتے تھے؟ ہم اسے صحیح مسلم سے بدیہ قارئین کرتے ہیں صالح بن کیسان ربیع شیخ ابنِ شہاب زہری سے وہ عروہ سے اور وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے حضور اکرمﷺ نے فرمایا:
قالت قال لی رسول اللہﷺ فی مرضه ادعی لی اباك و اخاك حتىٰ اكتب كتابا فانی اخاف ان یتمنی متمن ویقول انا اولی ویابی اللہ والمؤمنون الا ابابکرؓ۔
(صحیح مسلم: جلد، 4 صفحہ، 273)
ترجمہ: تو میرے لیے اپنے والد اور اپنے بھائی کو بلا اس لیے کہ میں کوئی تحریر کر دوں مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی امید کرے اپنے لیے اور کہے میں اس کے زیادہ لائق ہوں پھر آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور عام امت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے سوا اور کسی کو اس خلافت پر نہ آنے دیں گے۔
یہ ارادہ وصیت برائے خلافتِ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لیے تھا اس سے شیعہ لوگوں کا دعویٰ کہ حضور اکرمﷺ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو خلیفہ نامزد کرنا چاہتے تھے بالکل باطل ہو جاتا ہے۔ امام نوویؒ (272ھ) اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں:
وما تدعیه الشیعه من النص علی ولی والوصیۃ الیه فباطل لا اصل له
ترجمہ: اور شیعہ جو اس بات کے مدعی ہیں کہ اس طلبِ قرطاس میں حضرت علیؓ کی خلافت اور انہیں اپنا وصی بنانا مقصود تھا یہ سوچ ہی غلط ہے اور اس کی (اللہ کے دین میں) کوئی اصل نہیں ہے۔
حضور اکرمﷺ نے جب یہ ارادہ فرمایا تھا اور حضرت علی المرتضیٰؓ اپنی ایک مصلحت سے قلم و قرطاس نہ لا سکے اس کے بعد بھی حضورﷺ پانچ دن اور اپنے بسترِ علالت میں رہے اور پھر سفرِ آخرت اختیار فرمایا تو یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ حضورﷺ نے پھر اتنے دن دوبارہ قلم و قرطاس لانے کا حکم کیوں نہ دیا؟ معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ اب اللہ تعالیٰ کے اس تکوینی فیصلے پر مطلع ہو گئے تھے کہ مؤمنین کرام اب حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سوا کسی کو نہ چنیں گے مزید برآں اس حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ مسلمانوں کا نظام حکومتِ شوریٰ سے قائم ہو گا وہ اللہ کی طرف سے منصوس نہیں ہو گا دیکھنے سے محسوس ہو گا اور اس میں مؤمنین آپس میں کبھی اختلاف بھی کر سکیں گے اور اسلام کے اس فطری نظام میں انسانوں کی اپنی سوچ و بچار کی راہیں کبھی مستقل طور پر بند نہ ہو سکیں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی پر مزاجِ عالم قائم کیا ہے کہ اختلاف کی یہ راہیں کبھی تکوینی طور پر بند نہ ہو پائیں قرآنِ کریم میں ہے:
وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَا يَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِيۡنَ ۞ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمۡ (سورۃ هود: آیت 118، 119)
ترجمہ: اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی طریقے کا پیرو بنا دیتا، (مگر کسی کو زبردستی کسی دین پر مجبور کرنا حکمت کا تقاضا نہیں ہے، اس لیے انہیں اپنے اختیار سے مختلف طریقے اپنانے کا موقع دیا گیا ہے) اور وہ اب ہمیشہ مختلف راستوں پر ہی رہیں گے۔ البتہ جن پر تمہارا پروردگار رحم فرمائے گا، ان کی بات اور ہے (کہ اللہ انہیں حق پر قائم رکھے گا) اور اسی (امتحان) کے لیے اس نے ان کو پیدا کیا ہے۔
دیوبند کے عمدۃ المفسرین اور زبدۃ المحدثین نے اس پر جو تشریحی نوٹ لکھے ہیں ان کے پڑھنے سے سب مخلصین کا بھلا ہو گا۔
حضرت شیخ الاسلام رحمۃاللہ لکھتے ہیں:
دنیا کی آفرینش سے غرض یہ ہی ہے کہ حق تعالیٰ کی ہر قسم کی صفاتِ جمالیہ اور قہریہ (جلالیہ) کا ظہور ہو اس لیے مظاہر کا مختلف ہونا ضروری ہے تاکہ ایک جماعت اپنے مالک کی وفاداری و اطاعت دکھا کر رحمت و کرم اور رضوان و غفران کا مظہر بنے جو
اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّكَ کی مصداق ہے اور دوسری جماعت اپنی بغاوت و غداری سے اس کی صفتِ عدل و انتقام کا مظہر بن کر حبسِ دوام کی سزا بھگتے جس پر خدا کی یہ بات پوری ہو لَاَمۡلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ (سورۃ هود: آیت 119)
ترجمہ: میں جہنم کو جنات اور انسانوں دونوں سے بھر دوں گا۔ اور تکوینی غرض یہ ہے کہ تشریعی مقصد کو اپنے قصد و اختیار سے پورا کرنے والے اور نہ کرنے والے دو گروہ ایسے موجود ہوں جو حق تعالیٰ کی صفاتِ جلالیہ و جمالیہ یا بالفاظِ دیگر لفظ و قہر کے مورد و مظہر بن سکیں۔
درکار خانۂ عشق از کفر ناگزیر است
دوزخ کرا بسوزد گر بو لہب نہ باشد
پھر لطف و کرم کے مظاہر بھی اپنے مدارجِ استعداد و عمل کے اعتبار سے مختلف ہوں گے۔
گلہائے رنگا رنگ سے ہے رونق چمن
اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے۔
(تفسیرِ عثمانی: صفحہ، 311 سعودی عرب)
قرآنِ کریم میں ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے کفر کی پانچ جماعتوں اور ایمان کی ایک جماعت کا ذکر کر کے ارشاد فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ (سورۃ الحج: آیت 17)
ترجمہ: اللہ قیامت کے دن ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ یقیناً اللہ ہر چیز کا گواہ ہے۔
یعنی تمام مذاہب و فرق کے نزاعات کا عملی اور دو ٹوک فیصلہ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں قیامت کے دن ہو گا سب جدا کر کے اپنے اپنے ٹھکانے پہنچا دیے جائیں گے اللہ ہی جانتا ہے کون کس مقام یا کس سزا کا مستحق ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب آخری فیصلہ قیامت کے دن ہونا ہے تو نظریہ وحدتِ ادیان (کہ سب دین اپنی اپنی جگہ حق ہیں) کسی طرح درست نہیں سمجھا جا سکتا اگر سب ادیان اپنی اپنی جگہ حق تھے تو پھر آخری فیصلہ قیامت کے دن کیا ہو پائے گا۔
اور پھر آگے ایک جگہ فرمایا:
وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيۡهَا اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا (سورۃ الحج: آیت 40)
ترجمہ: اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ (کے شر) کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور کلیسا اور عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، سب مسمار کر دی جاتیں۔
اگر کسی وقت اور کسی حالت میں بھی ایک جماعت کو دوسری جماعت سے لڑنے بھڑنے کی اجازت نہ ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ فطرت کی سخت خلاف ورزی ہو گی اس لیے دنیا کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ ہر چیز یا ہر شخص یا ہر جماعت دوسری چیز یا شخص یا جماعت کے مقابلہ میں اپنی ہستی کو برقرار رکھنے کے لیے جنگ کرتی رہے اگر ایسا نہ ہوتا اور نیکی کو اللہ تعالیٰ اپنی حمایت میں لے کر بدی کے مقابلہ میں کھڑا نہ کرتا تو نیکی کا نشان زمین پر باقی نہ رہتا بددین اور شریر لوگ جن کی ہر زمانہ میں کثرت رہی ہے تمام مقدس مقامات اور یادگاریں ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹا دیتے کیونکہ عبادت گاہ، تکیہ، خانقاہ مسجد اور مدرسہ محفوظ نہ رہ سکتا۔
(تفسیر عثمانی: صفحہ، 448)
دارالعلوم دیوبند کے زبدۃ المحدثین حضرت مولانا بدر عالم مدنی رحمۃاللہ نے یہاں حدیثِ قرطاس کے موضوع پر نہایت لطیف استدلال کیا ہے حضورﷺ نے جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر وصیت لکھوانے کا ارادہ کیا تھا تو یہ آپﷺ کی ایک سیاسی تدبیر تھی لیکن خدا کا تکوینی فیصلہ یہ تھا کہ یہ لکھنا عمل میں نہ آئے لہٰذا آپﷺ کے قلم و دوات مانگنے پر ایک ہنگامہ سا ہو گیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی مصلحت کسی کو معلوم نہ تھی کہ وہ قلم و قرطاس لینے کیوں نہیں جاتے پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلے سے حضور اکرمﷺ کو اس پر مطلع کر دیا تو آپﷺ نے اتنے دن اور زندہ رہنے کے باوجود دوبارہ قلم و قرطاس طلب نہ کیا اور اسلامی نظامِ حکومت مسلمانوں کے اپنے فیصلہ پر چھوڑ دیا ہے جسے شورائی نظام کہتے ہیں۔
شورائی نظام کا اہم ترین فائدہ:
اسلامی عقیدہ میں چونکہ زمین پر انبیاء علیہم السلام کے سوا کوئی معصوم نہیں اس لیے ضروری تھا کہ حضورﷺ کسی کو اپنی بلا فصل خلافت کے لیے نامزد نہ کریں کیونکہ اس صورت میں اس غیر معصوم امیر کو کسی غلطی پر روکنے ٹوکنے کی کوئی راہ نہ ہو گی وہ کہے گا کہ تم کون ہو مجھے روکنے والے مجھے تو حضور اکرمﷺ نے اس پر معمور کیا ہے سو حکمتِ خداوندی یہی تھی کہ حضورﷺ کا پہلا بلا فصل خلیفہ حضورﷺ کا مقرر کیا ہوا نہ ہو عام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا چنا ہوا ہو اور وہ اسے روک ٹوک سکیں ہاں دوسرا خلیفہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا نامزد کردہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے پر نکیر کرنے والوں کو کبھی نہ کہہ سکے گا کہ تم مجھے روکنے ٹوکنے والے کون ہو اور اس سلسلہ خلافت میں ایک نہیں زیادہ بھی نامزد کیے جا سکتے ہیں کہ ان میں سے کسی کو بھی باہمی فیصلے سے آگے لایا جا سکے گا۔
حالات ہنگامی ہوں اور باقاعدہ شوریٰ قائم کرنے کا موقع نہ ہو تو اس صورت میں ہنگامی طور پر بھی کسی کو آگے کیا جا سکتا ہے جیسا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ہاتھ کو اس وقت خلافت کے لیے کھینچا گیا جب وہ اپنا ہاتھ بیعت لینے سے روک رہے تھے۔
اس وقت موضوع خلافت نہیں یہ ایک ضمنی بات تھی جو سامنے آ گئی حضرت مولانا بدر عالم مدنی رحمۃاللہ حدیثِ قرطاس میں یہ فرما رہے ہیں کہ جب اللہ رب العزت کو ہی بلا فصل خلافت کے لیے کسی کی نامزدگی منظور نہ تھی تو حضور اقدسﷺ نے جب قلم و کاغذ طلب فرمایا عام لوگوں کی مختلف آراء اٹھیں اور ایک ہنگامہ سا ہو گیا یہاں تک کہ پھر اللہ تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ کو اس پر مطلع فرمایا کہ مسلمانوں کا نظامِ حکومت ان کے اپنے انتخاب سے قائم ہو گا، تدبیر کو صرف اس وقت تک چلنا چاہیے جب تک تقدیر کا نقش سامنے نہ آئے۔ دیوبند کے زبدۃ المحدثین حضرت مولانا بدر عالم مدنیؒ لکھتے ہیں:
اگر کہیں یہ کتاب قیدِ کتابت میں آ جاتی تو ممکن تھا کہ امت کی امت وَّلَا يَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِيۡنَ سے نکل کر اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّكَ کے نیچے داخل ہو جاتی مگر آخر کار تقدیر غالب آئی اور ایسے حالات رونما ہو گئے کہ یہ تحریر وجود میں نہ آ سکی۔
آگے مولانا بدر عالم رحمۃاللہ یہ سرخی باندھ کر لکھتے ہیں:
تقدیر انبیاء کرام علیہم السلام کی تمناؤں کا ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی۔
ایک مرتبہ رسول کریمﷺ نے ارادہ کر لیا تھا کہ شبِ قدر کا صاف صاف علم بتا دیا جائے مگر مسجدِ نبوی میں کچھ شور برپا ہو گیا آخر وہ علم بھی اسی طرح مستور رہ گیا یہاں بھی (قرطاس طلب کرنے میں) کچھ قصد مبارک تھا کہ لاؤ (قلم و قرطاس) کوئی ایسی بات بتلا دی جائے کہ آئندہ تفرقہ کا اندیشہ ہی نہ رہے مگر یہاں بھی کچھ شور ہو گیا آخر کار وہ نوشتہ جوں کا توں رہ گیا عالمِ تقدیر و تکوین کا یہ تماشہ بھی قابلِ دید ہے اگر عالمِ تدبیر نے کبھی وحدت و اجتماع کے لیے زور لگایا بھی تو اس وقت پر وہ غیب کے کسی اندرونی ہاتھ نے اس کا سارا کھیل بکھیڑا کر دیا یہاں پہنچ کر قلم بھی خاموش ہو جاتا ہے۔
قلم اینجا رسید و سر بشکست
ترجمہ: قلم اس جگہ پہنچا اور اس نے سر پٹخ دیا۔ (ترجمان السنۃ: جلد، اول صفحہ، 90)
تقدیر اسباب کے پردہ میں نمایاں ہوتی ہے؟
خیر و شر دو متضاد قوتیں ہیں جب ایک ابھرے گی تو دوسری مغلوب ہو جائے گی قدرت خود انہیں زیر و زبر کیا کرتی ہے بندہ اسباب یہاں شکست و فتح کی دھن میں لگا رہتا ہے وہاں یہ منظور ہی نہیں کہ میدان کسی فریق کے بھی یکطرفہ ہاتھ آ جائے اس لیے شکست و فتح کا ڈول باری باری کھنچتا ہی رہتا ہے اور یہ بازی اس وقت تک برابر کھیلی جائے گی جب تک کہ عالمِ اختلاف کو آباد رکھنا ہے۔
وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ الآیۃ
(سورۃ البقرہ: آیت 251)
گویا نظامِ قدرت کی طرح یہ بھی اس کا ایک نظام ہے کہ وہ صوامع و بیع و مساجد کے اختلاف کو بساطِ عالم پر سجائے رکھے اور اگر کوئی طاقت اس کے برخلاف ابھرے تو اس کے مقابلہ کے لیے خود سامنے آ کر ان کو ایسے حدود پر روک دے جس کے بعد کسی کے مٹ جانے کا خطرہ پیدا ہونے لگے اس اختلاف کی آبادی کے لیے دنیا مشغولِ جنگ رہتی ہے دنیا کہتی ہے کہ جنگ اسبابِ موت میں سے ہے قدرت کہتی ہے اسبابِ بقاء یہی ہے ہاں اگر قدرت کا ہاتھ نہ ہوتا تو اب تک ایک پارٹی نے غلبہ پا کر دوسری کو فناء کر دیا ہوتا اور چونکہ عالمِ اختلاف کی فطرت کے خلاف اس کو جینے کا حق نہیں ہے اس لیے اس سے بھی فنا ہونا پڑتا۔
یہ واضح رہنا چاہیے کہ عالمِ تشریع و تقدیر کے مابین ہمیشہ مطابقت ضروری نہیں ہے حضرت یعقوب علیہ السلام برادرانِ یوسف علیہ السلام کو چشمِ زخم نہ لگنے کی تدابیر کیے جائیں گے مگر تقدیر نے جس کے مقدر میں جیل خانہ لکھ دیا ہے وہ جیل جا کر رہے گا (ترجمان السنۃ: جلد، 1 صفحہ، 86)
حدیث میں پوری وضاحت ہو چکی ہے کہ حضور اکرمﷺ خلافت سیدنا ابوبکرؓ کے نام لکھوانا چاہتے تھے پھر جب حضور اقدسﷺ اللہ تعالیٰ کے تکوینی فیصلے پر مطلع ہوئے تو آپ نے وصیت تحریر کرنے کا خیال چھوڑ دیا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی یہی چاہتے تھے کہ حضور اقدسﷺ کو وصیت لکھوانے کی تکلیف نہ دو آپﷺ انتظامی اُمور کی جو وصیتیں کرنا چاہتے ہیں آپﷺ ارشاد فرما دیں حضور اکرمﷺ نے ان تین باتوں کی وصیت کی جو حدیث اور تاریخ کی تقریباً ہر کتاب میں مذکور ہیں آپﷺ نے ان میں پہلی دو تو بڑی وضاحت سے بیان کر دیں اور تیسری کے بارے میں بس ایک ہی بات کہی کہ میری قبر کو عبادت گاہ نہ بنا لینا عبادت کے لائق صرف ایک ذات ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
حدیث کی صاف صاف تشریح کے بعد اختلاف عالم تکوین کے ماتحت ہے:
اس پر ہم حدیثِ قرطاس کی بحث ختم کرتے ہیں اور چند وہ اُمور ذکر کرتے ہیں جو حضرت مولانا بدر عالم مدنیؒ نے بیان فرمائے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو بصمیمِ قلب قبول کرنے کی ایک ایمانی تعلیم ہے اس میں واقعہ قرطاس کا کوئی ذکر نہیں ہے:
الحاصل اگر ما أنا علیہ و أصحابی یہ صاف صاف بات ہونے کا آپ یہ مطلب سمجھتے تھے کہ اس فیصلہ کے بعد اختلاف کا تخم ہی دنیا سے مٹ جائے گا تو آپ نے غلط سمجھا تھا اور اگر شریعت کے سر یہ الزام رکھنا چاہتے ہیں کہ اس نے فرقہ ناجیہ کی کوئی صحیح تفسیر نہیں کی تو یہ اس سے زیادہ غلط سمجھتے ہیں عالمِ تشریع بصائر یعنی کھلی کھلی باتیں آپ کے سامنے بیان کرتا رہے گا مگر عالمِ تکوین شبہات کے گرد اور اڑ کر اس کو تاریک و مکدر بناتا رہے گا آپ سلسلہ اسباب میں راہِ حق تلاش کرنے کی تگ و دو جاری رکھیے اگر آپ کا نام اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّكَ میں درج ہو چکا ہے تو جو راہ سب سے زیادہ صاف آپ کو نظر آئے گی وہ یہی ما انا علیہ و اصحابی کی راہ ہو گی اور اگر خدانخواستہ اس فہرست میں آپ کا نام نہیں ہے تو ایک تنکہ بھی آپ کو پہاڑ معلوم ہو گا۔
فَمَنۡ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنۡ يَّهۡدِيَهٗ يَشۡرَحۡ صَدۡرَهٗ لِلۡاِسۡلَامِ وَمَنۡ يُّرِدۡ اَنۡ يُّضِلَّهٗ يَجۡعَلۡ صَدۡرَهٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى السَّمَآءِ (سورۃ الانعام: آیت 125)
ترجمہ: غرض جس شخص کو اللہ ہدایت تک پہنچانے کا ارادہ کر لے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے، اور جس کو (اس کی ضد کی وجہ سے) گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے، اس کے سینے کو تنگ اور اتنا زیادہ تنگ کر دیتا ہے کہ (اسے ایمان لانا ایسا مشکل معلوم ہوتا ہے) جیسے اسے زبردستی آسمان پر چڑھنا پڑ رہا ہو۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم تدبیر کو چھوڑ کر آپ کو تقدیر کے حوالے کرنا چاہتے ہیں بلکہ اختلاف کا مفہوم اس کے اسباب فرقہائے منحرفہ کی شناخت پر تا مقدور بحث کر کے آخر میں یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ یہاں اختلاف کے ان اسبابِ ظاہر کے ساتھ خاص طور پر اس کا ایک تقوینی سبب بھی ہے جس کی طرف قرآنِ کریم نے وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمۡ سے اشارہ فرمایا ہے اور اسی لیے اس افتراق کو دیکھ کر یہ سمجھنا غلط ہے کہ یہ حدیث کے قصورِ بیان کا ثمرہ ہے بیان تو اتنا واضح ہے جتنا کہ ہو سکتا ہے چونکہ خطابِ تکلیف علیحدہ ہے اور خطابِ تقدیر علیحدہ اس لیے کبھی کبھی ایک صاف بات بھی چیستان بن کر رہ جاتی ہے۔ اگر آج بھی کوئی شخص ما أنا علیہ و اصحابی کی راہ معلوم کرنا چاہے تو اس کے لیے دروازے کھلے ہوئے ہیں پس اشکال یہ نہیں ہے کہ فرقہ ناجیہ مبہم ہے بلکہ یہ ہے کہ اس کے دریافت کے جو اسباب ہیں خواہشِ نفس اس طرف آنے ہی نہیں دیتی بقول اکبر مرحوم:
اللہ کی راہیں سب ہیں کھلی آثار و نشاں سب قائم ہیں
اللہ کے بندوں نے لیکن اس راہ پہ چلنا چھوڑ دیا۔ (ترجمان السنۃ: جلد، 1 صفحہ، 91)
آنحضرتﷺ طلبِ قرطاس کے بعد کئی دن دنیا میں تشریف فرما رہے لیکن آپﷺ نے پھر قلم دوات طلب نہ کی کیونکہ عالمِ تقدیر حضور اکرمﷺ پر کھل چکا تھا کہ مؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کی قیادت کا دم نہ بھریں گے۔ (واللہ اعلم علمہ انم وامکم)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک وقتی غلط گمان:
آنحضرتﷺ کے ایامِ علالت سے جہاں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ آپﷺ اپنے سفرِ آخرت پر روانہ ہونے والے ہیں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے خلاف یہ گمان کیے بیٹھے تھے کہ حضورﷺ صحت یاب ہو کر پھر ہمیں سنبھالیں گے ہماری وفات آپﷺ سے پہلے ہو گی اور آپﷺ کا سفرِ آخرت اس کے بعد ہو گا آپؓ نے یا اور کسی نے اگر کہا أھجر رسول اللہﷺ تو یہ حضور اکرمﷺ کے اس دنیا سے ہجرت کرنے سے استفہام انکاری تھا کہ حضور اکرمﷺ دنیا سے نہیں جا رہے آپ حضور اکرمﷺ سے سمجھنے کی کوشش کرو کہ آپﷺ کیا حکم دے رہے ہیں اسے کوئی شخص آپﷺ کی بیماری یا بڑھاپے کی بات نہ سمجھے۔
شیخ الحدیث والتفسیر مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃاللہ حضور اکرمﷺ کی وفات پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اضطراب اس طرح بیان کرتے ہیں:
ذوالنورین سیدنا عثمانِ غنیؓ ایک سکتہ کے عالم میں تھے دیوار سے پشت لگائے بیٹھے تھے شدتِ غم کی وجہ سے بات نہیں کر سکتے تھے حضرت علی المرتضیٰؓ کا یہ حال تھا کہ زار و قطار روتے تھے روتے روتے بے ہوش ہو گئے سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر جو صدمہ اور علم کا پہاڑ گرا اس کا پوچھنا ہی کیا حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی پریشانی میں سخت بے حواس تھے حضرت عمر فاروقؓ کی پریشانی اور حیرانی سب سے بڑھی ہوئی تھی وہ تلوار لیے کھڑے ہو گئے اور با آواز بلند یہ کہنے لگے کہ منافقین کا گمان ہے کہ حضور پُر نورﷺ انتقال کر گئے آپﷺ ہرگز فوت نہیں ہوئے بلکہ آپﷺ تو اپنے پروردگار کے پاس گئے ہیں جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر خدا تعالیٰ کے پاس گئے اور پھر واپس آ گئے خدا کی قسم آپﷺ بھی اس طرح ضرور واپس آئیں گے اور منافقوں کا قلع قمع کریں گے سیدنا عمر فاروقؓ جوش میں تھے تلوار نیام سے نکالے ہوئے تھے۔
(سیرت المصطفیٰﷺ: جلد، 3 صفحہ، 173)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی روحانیت ان سب سے زیادہ تیز تھی آپؓ کو اس وقت بنو حنیفہ میں مسیلمہ کذاب کے اٹھتے ہوئے دھوئیں اور منکرینِ زکوٰۃ کی بغاوت کی اٹھتی لہریں نظر آ رہی تھیں اور وہ اس یقین پر تھے کہ حضور اکرمﷺ ان منافقین کا قلع و قمع کیے بغیر ہمیں نہ چھوڑیں گے یہ وہ شدید احساسِ لطیف تھا جس کی وجہ سے انہیں حضور اقدسﷺ کی وفات کا یقین نہ ہو رہا تھا وہ سمجھتے تھے کہ فتنوں کے گھنے سیاہ دعویٰ سے نپٹنا اس امت سے نہ ہو سکے گا اس کے لیے نبوت کی ہمت چاہیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو ان تمام فتنوں کا سامنا کیا اور پھر ان کے مقابل کامیابی پائی تو حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا قام فی الردۃ مقام الانبیآء کے آپؓ نے وہ کام کر دکھایا جسے بجا طور پر کارِ نبوت کہا جا سکتا ہے۔
کچھ بھی ہو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اس وقت بے چینی اور وارفتگی بلاوجہ نہ تھی سو اگر انہوں نے طلبِ قرطاس کے وقت کہا کہ حضورِ اکرمﷺ ہمیں چھوڑ کر نہیں جا رہے نہ آپﷺ کے اس احساس کو تم بیماری کا یا بڑھاپے کا اثر سمجھو۔
یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ حضور اکرمﷺ کے طلبِ قرطاس کے وقت الفاظ کیا تھے آپﷺ نے فرمایا تھا:
أکتب لکم کتاباً لن تضلو بعدہ میں وہ لکھ دوں کہ اس کے بعد تم گمراہی میں نہ پڑو بلکہ اس پیرائے میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء کے آخر میں فرمایا:
يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اَنۡ تَضِلُّوۡا وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ (سورۃ النساء: آیت 176)
ترجمہ: اللہ تمہارے سامنے وضاحت کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو، اور اللہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔
اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ قرآنِ کریم نے آئندہ گمراہی سے بچنے کا سامان فرما دیا ہے آئندہ جو حالات بھی پیش آئیں وہ ان سے پوری طرح واقف ہے اس میں یقین دلایا گیا کہ قرآنِ کریم میں آئندہ گمراہی سے بچنے کا سامان کر دیا گیا ہے اب آخری وقت میں آپﷺ انہی الفاظ سے طلبِ قرطاس فرما رہے ہیں اس پر سیدنا عمرؓ کا یہ کہنا حسبنا کتاب اللہ قرآنِ کریم پر اپنے پورے یقین کے اظہار کے لیے تھا سو یہ بات کہ آپﷺ سے زبانی سمجھ لو کہ آپﷺ کیا ہدایت دے رہے ہیں یہ بات حضرت عمر فاروقؓ کی نہیں ہو سکتی یہ بات تو آپؓ پورے یقین سے کہہ رہے تھے کہ حضورﷺ اپنے آخری وقت میں نہیں ہے لیکن یہ بات کہ حضورﷺ سے تم اس بات کو سمجھ لو استفھموہ حضرت عمر فاروقؓ کی طرف سے نہیں ہو سکتی یہ حسبنا کتاب اللہ سے لگا نہیں کھاتی۔
جن لوگوں نے اسے حضرت عمرؓ کا مقولہ سمجھ لیا ہے شاید اس وقت ان کی نظر سورۃ النساء کی مذکورہ آیت پر نہ گئی ہو اور وہ حسبنا کتاب اللہ کو قرآن کریم کی روشنی میں کہی بات نہ سمجھ پائے ہوں۔
تاہم جس نے بھی یہ کہا استفھموہ اس نے اس کے ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بیان کر دی قد غلب علیه الوجع تو قلم کاغذ پیش نہ کرنے کی وجہ سامنے آ گئی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ یقین کیسے تھا کے آپﷺ کا آخری وقت نہیں ہے:
حضور اکرمﷺ پر پہلے بھی نزولِ وحی کے وقت کبھی ایسی صورت پیش آ جاتی تھی کہ دینوی پہلو سے آپﷺ کے حواس میں تعطل واقع ہوا ہے یہ موت نہیں ہے۔
دوسرا آپؓ کا اجتہاد یہ تھا کہ جن نئے فتنوں کا دھواں اٹھ رہا ہے ان کے قلع قمع کیے بغیر حضور اکرمﷺ کی وفات نہیں ہو گی اس نازک وقت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس یقین پر تھے کہ آپﷺ کی وفات واقع ہو گئی اور حضرت عمر فاروقؓ اس یقین پر تھے کہ پیش آمدہ صورت آپﷺ کی موت نہیں ہے سو اس وقت ان دونوں حضرات میں یہ اختلافِ رائے اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کے بیان میں آپس میں کوئی ملی بھگت کا تعلق نہ تھا دونوں بزرگ اپنی اپنی ذہانت میں پورے امین، ایمان دار اور اصحابِ نظر و فکر میں سے تھے ان کا آپس میں تعلق کسی سازش کے طور پر ہوتا جیسا کہ شیعہ سمجھتے ہیں تو اس نازک وقت میں یہ صورتِ حال واقع نہ ہوتی۔
حضور اکرمﷺ کی وفات کی خبر پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اپنے اپنے احساسات:
دیوبند کے شیخ التفسیر اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ نے اپنی کتاب سیرۃ المصطفیٰ میں اس صورتِ حال کا جو نقشہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اضطراب کے عنوان سے پیش کیا ہے ہم اسے پہلے بیان کر آئے ہیں:
اس خبر کا کانوں میں پہنچنا تھا کہ گویا قیامت آ گئی سنتے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہوش اُڑ گئے تمام مدینہ میں تہلکہ پڑ گیا جو اس جان گداز واقعہ کو سنتا تھا ششدر اور حیران رہ جاتا تھا ذوالنورین حضرت عثمانِ غنیؓ ایک سکتہ کے عالم میں تھے دیوار سے پشت لگائے بیٹھے تھے شدتِ غم کی وجہ سے بات نہیں کر سکتے تھے حضرت علی المرتضیٰؓ کا یہ حال تھا کہ زار و قطار روتے تھے روتے روتے بے ہوش ہو گئے سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور ازواجِ مطہراتؓ پر جو صدمہ اور الم کا پہاڑ گرا اس کا پوچھنا ہی کیا۔ حضرت عباسؓ بھی پریشانی میں سخت بے حواس تھے حضرت عمر فاروقؓ کی پریشانی اور حیرانی سب سے بڑھی ہوئی تھی وہ تلوار کھینچ کر کھڑے ہو گئے اور بآواز بلند یہ کہنے لگے کہ منافقین کا گمان ہے کہ حضور پُر نورﷺ انتقال کر گئے آپﷺ ہرگز نہیں مرے بلکہ آپﷺ تو اپنے پروردگار کے پاس گئے ہیں جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر خدا تعالیٰ کے پاس گئے اور پھر واپس آ گئے خدا کی قسم آپﷺ بھی اسی طرح ضرور واپس آئیں گے اور منافقوں کا قلع قمع کریں گے۔
(سیرت المصطفىٰ طبع جدید: جلد، 2 صفحہ، 293)
اب اس صورتِ حال میں کیا کوئی عقل مند یہ گمان کر سکتا ہے کہ آپﷺ کی وفات پر اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اپنی خلافت کی فکر پڑی رہی اور انہوں نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو غدیرِ خم کے اعلانِ خلافت من کنت مولا فعلی مولاہ کے خلاف حضور اکرمﷺ کی خلافت بلا فصل پر آنے نہ دیا نہ سلطنت کا انہیں قبضہ دیا۔
آپ اسے سمجھنے کی کوشش کرو اور آپﷺ کو لکھنے کی تکلیف نہ دو جو لکھنے کا کام تھا وہ پہلے سے تکمیل پائے ہوئے ہے۔
ہم نے اپنی بساط کے مطابق حدیثِ قرطاس کے یہ چند مباحث ہدیہ قارئین کیے ہیں تاہم اس فن میں حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی رحمۃاللہ امام اہلِ سنت والجماعت ہیں نامناسب نہ ہو گا کہ اس عنوان پر ان کا قولِ فیصل بھی قارئین کے سامنے آ جائے کوزے میں سمندر کی مثال ان کے اس مضمون پر صادق آتی ہے اسے اس عنوان سے ملاحظہ فرمائیں:
قصہ قرطاس اور اس کی حقیقت:
اس قصے کی اصلیت صرف اتنی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی آخری بیماری میں وفات سے پانچ دن پہلے یعنی پنج شنبہ کے دن فرمایا کہ قرطاس یعنی کاغذ لاؤ تو میں ایک تحریر لکھ دوں اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے سیدنا عمر بن خطابؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ کو اس وقت بیماری کی تکلیف زیادہ ہے اور یہ بھی کہ کتاب اللہ ہمارے لیے کافی ہے بعض لوگوں کی رائے ہوئی کہ لکھوا لینا چاہیے اس اثنا میں بعض لوگوں نے جن کا نام کسی روایت میں مذکور نہیں کہا کہ اھجر رسول اللہﷺ استفھموہ یعنی کیا رسول اللہﷺ کی جدائی کا وقت آ گیا؟ آپﷺ سے پوچھو تو اس کے بعد نہ اس وقت رسول اللہﷺ نے اس تحریر کے لکھوانے کا قطعی حکم دیا نہ کسی اور وقت اس تحریر کے لکھوانے کو فرمایا جب کہ اس کے بعد پانچ دن آپﷺ اس عالم میں رونق افروز رہے۔
قصہ تو اسی قدر ہے جو اوپر بیان ہوا مگر شیعوں نے بڑی بے باکی کے ساتھ اس قصے میں 3 اعتراض امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظمؓ پر کیے ہیں:
اول: یہ کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو کہا کہ یہ شخص ہذیان بکتا ہے لفظ ھجر کو شیعوں نے جدائی کے معنوں میں نہیں لیا بلکہ اس کے معنیٰ ہذیان بکنے کے مراد لیے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ گستاخی شانِ رسالتﷺ میں اور کیا ہو سکتی ہے۔
دوم: یہ ایک ایسی ضروری تحریر جس کے بعد گمراہی کا اندیشہ باقی نہیں رہتا انہوں نے لکھنے نہ دی رسول اللہﷺ کی نافرمانی بھی ہوئی اور تمام مسلمانوں کا سخت نقصان بھی ہوا۔
سوم: یہ کہ انہوں نے یہ کہا کہ کتاب اللہ ہمارے لیے کافی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ سنتِ رسول کریمﷺ کی ہم کو ضرورت نہیں سنتِ نبویﷺ کو غیر ضروری قرار دینا بھی کوئی معمولی توہین نہیں ہے۔
شیعوں کو اپنے ان تین اعتراضات پر بڑا ناز ہے اور صراحتاً و اشارتاً اس قصے کے بیان کرنے میں انہیں ایسی لذت ملتی ہے کہ ان کے شاعروں نے اپنی غزلیات وغیرہ میں اس کا ذکر کیا ہے ایک شاعر کا کہنا ہے:
خط مجھے لکھتے ہیں وہ لکھنے نہیں دیتے رقیب
ماجرا یہ بھی کم از قصہ قرطاس نہیں۔
شیعوں کے ان تین اعتراضوں کا جواب جو کچھ النجم میں دیا گیا اور اس کا جو جواب الجواب سہیل میں شائع ہوا پھر اس کا رد النجم میں کیا گیا اس کو دیکھ کر عبرت ہوتی ہے کہ واقعی جب کسی کے دل پر مہر لگ جاتی ہے تو کیسی ہی روشن دلیل ان کے سامنے پیش کی جائے اس کی سمجھ میں نہیں آتی اور اگر سمجھ میں آ جائے تو بھی وہ اس کو قبول نہیں کرتا بہرکیف اب ترتیب وار پھر ان تینوں اعتراضوں کا جواب پیش کیا جاتا ہے جو ان شاء اللہ صرف مسکت ہی نہیں بلکہ سعید طبائع کے لیے ایسا تسلی بخش ہے کہ پھر کوئی خلجان باقی نہیں رہتا۔
جواب سے پہلے ایک بات یہ بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہمارے جواب کی بناء پر اس قصہ قرطاس کو جیسا کہ روایت میں مذکور ہے مان لینے پر ہے ورنہ محققین کو قصہ کے صحیح ہونے میں درایتاً بھی کچھ کلام ہے۔
اہلِ سنت والجماعت کی کتابوں میں اس قصہ کا راوی سوا سیدنا ابنِ عباسؓ کے کوئی نہیں طبقہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ان کے سوا کوئی اس قصہ کو روایت نہیں کرتا یہ بھی کچھ کم عجیب بات نہیں ہے اب جواب ملاحظہ کریں:
اعتراض اول کا جواب:
اس اعتراض کے جواب میں تین باتیں النجم میں لکھی گئی تھیں:
اول: یہ کہ ہجر یا یھجر سیدنا عمر فاروقؓ کا مقولہ نہیں ہے ایک روایت بھی کتبِ اہلِ سنت سے پیش نہیں کی جا سکتی جس میں اس لفظ کو حضرت عمر فاروقؓ کا قول قرار دیا گیا ہو بلکہ روایات میں قالوا اھجر بصیغہ جمع ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ کسی شخص واحد کا قول نہ تھا قالوا جمع کا صیغہ ہے۔
دوم: یہ کہ لفظ ھجر یا یھجر، ھجر سے مشتق ہے جس کے معنیٰ صرف ہذیان کے نہیں بلکہ یہ لفظ جدائی کے معنیٰ میں بھی آتا ہے اور یہی معنیٰ زیادہ مشہور و متبادر ہیں یہ لفظ اردو شاعری میں بھی مستعمل ہے اور ہجر و وصال لفظ بکثرت شعراء استعمال کرتے ہیں اور حدیثِ قرطاس میں جدائی کے معنیٰ چسپاں بھی ہوتے ہیں ہذیان کے معنیٰ کسی طرح نہیں بنتے۔
اولاً: اس وجہ سے کہ ہذیان کا شبہ اس بات پر ہوتا ہے جو خلافِ عقل ہو مگر یہاں کوئی بات خلافِ عقل نہیں ہے ایک پیغمبر اپنے آخری وقت میں فرماتا ہے کہ کاغذ لاؤ میں ہدایت نامہ لکھوا دوں اس پر کیا چیز خلافِ عقل ہے جس پر ہذیان کا شبہ کیا جا سکے کچھ نہیں۔
ثانیاً: اس قسم کی روایات میں ھجر کے بعد استفھموہ کا لفظ بھی ہے جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ آپ سے پوچھو! اگر ھجر کے معنیٰ ہذیان کے لیے جائیں تو استفھموہ بالکل بے ربط ہو جاتا ہے جس کو ہذیان ہو گیا ہے اس سے پوچھنا بالکل حماقت ہے۔
اب دیکھو جدائی کے معنیٰ کس خوبی کے ساتھ بن جاتے ہیں جب رسول اللہﷺ نے شدتِ مرض کی حالت میں یہ ہدایت نامہ لکھوانے کو فرمایا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قلوب پر ایک بجلی سی گر گئی کہ شاید وہ قیامت کی گھڑی آ گئی:
حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد
روئے گل سیر ندیدیم بہار آخر شد۔
کیونکہ ایسی تحریر آخری وقت ہی لکھوائی جاتی ہے لہٰذا اب انہوں نے کہا اھجر استفھموہ یعنی کیا حضرت کیا جدا ہو رہے ہیں؟ آپ سے پوچھو تو محبت کی باتیں وہ لوگ کیا سمجھ سکتے ہیں جن کے دل بغض و عداوت کے سوا کسی چیز سے آشنا ہی نہیں۔
چو دل بہ مہر نگارے نہ بستہ اے ماہ
ترا ز سوز درون و نیاز ماچہ خبر۔
ھجر کے معنیٰ جدائی کے شراح حدیث نے اس حدیث کی شرح میں اور علمائے لغت نے لغت کی کتابوں میں بیان بھی کیے ہیں چنانچہ حافظ الحدیث شیخ الاسلام ابنِ حجر عسقلانی رحمۃاللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں:
ویحتمل ان یکون قوله اھجر فعلا ماضیا من الھجر بفتح الھاء وسکون الجیم والمفعول محذوف ای الحیاۃ و ذکرہ بلفظ الماضی مبالغتہ لما رای من علامات الموت۔
(فتح الباری: جلد، 8 صفحہ، 133)
اور علامہ محمد طاہر گجراتیؒ مجمع بحار الانوار میں جو خاص حدیث کی لغت ہے لکھتے ہیں:
ویحتمل ان معناہ ھجرکم رسول اللہﷺ من الھجر ضد الوصل۔
(مجمع بحار الانوار: جلد، 5 صفحہ، 137)
(قصہ قرطاس کا کفر شکن فیصلہ: صفحہ، 25 از امام اہلِ سنت مولانا عبدالشکور فاروقیؒ)
ہم حضرت امام اہلِ سنت والجماعت سے اتنی عبارت نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں آگے یہ کتاب صفحہ، 54 تک چلی گئی ہے مزید تحقیق کے طالب اسے اصل کتاب سے مطالعہ فرمائیں۔ جزی اللہ المؤلف أحسن الجزاء وھو المستعان و علیہ التکلان۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے اپنے درس صحیح بخاری میں کتاب العلم میں ضمناً واقعہ قرطاس پر ایک بڑا ایمان افروز بیان دیا ہے دوازدہ حدیث میں امام اہلِ سنت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ کے محققانہ مضمون کے بعد اس پر مزید معرکہ آرائی کی ضرورت نہیں رہتی تاہم کتاب العلم میں محدثانہ نقطہ نظر سے علم لکھا جانے کی اہمیت پر فیض الباری اردو شرح صحیح بخاری کا یہ مضمون اپنی شوکتِ علمی میں اپنی مثال آپ ہے نامناسب نہ ہوگا کہ قارئین دوازدہ حدیث میں اس کی چاشنی سے بھی لطف اندوز ہوں کیونکہ یہ مضمون شیعوں کے خلاف نہیں لکھا گیا وہ قوم خواہ مخواہ اس میں پس جائیں تو اسے بھی قارئین کرام مشیتِ ایزدی سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے وہ ہو کر رہتا ہے حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ پر جب اشتدادِ مرض ہوا تو ارشاد فرمایا کہ میرے پاس سامانِ کتابت لاؤ میں تمہارے لیے ایک کتاب لکھ دوں کہ جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے یہ بیماری کی شدت یومِ خمیس (جمعرات) کو ہوئی اور وصال کئی دن بعد پیر کو ہوا صحیح مسلم کی روایت میں شانہ کی ہڈی اور دوات کی تصریح ہے اس زمانہ میں شانہ کی ہڈی پر کتابت کرتے تھے حضور اکرمﷺ کے اس ارشاد کے بعد سیدنا عمر بن خطابؓ نے آپﷺ کی بیماری کی شدت دیکھ کر کہا کہ ایسے وقت مناسب نہیں کہ حضور اکرمﷺ کو مزید تکلیف دی جائے بیماری کے زور اور دباؤ کی وجہ سے اگر تحریر نہ بھی لکھی گئی تو ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے جو ہمیں کافی ہے۔
فخرج ابنِ عباس سیدنا ابنِ عباسؓ نے جب یہ حدیث روایت کی تو یوں کہتے ہوئے نکلے ہائے مصیبت وائے مصیبت! جس نے آنحضرتﷺ کو یہ کتاب نہ لکھوانے دی اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب واقعہ ہوا تھا اس وقت حضرت ابنِ عباسؓ یہ کہتے ہوئے حضور اکرمﷺ کے دولت خانہ سے برآمد ہوئے اس وقت تو سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما بہت کم سن تھے، صحیح مطلب اس کا یہ ہے کہ مدتوں بعد ایک دن حضرت ابنِ عباسؓ اس واقعہ کو بیان کر کے حسرت کے ساتھ یہ کہتے ہوئے اپنے مقام سے باہر نکلے۔
واقعہ قرطاس کی اصل حقیقت
اس واقعے کی حقیقت سمجھنے کے لیے اولاً ایک مثال سمجھ لو مثلاً کوئی استاذ بیمار ہے مگر طلبہ پر غایت عنایت و شفقت کی وجہ سے باوجود شدید تکلیف اور بیماری کے طلبہ کو کہتا ہے کہ کتاب لاؤ سبق پڑھاؤں تاکہ تمہارا حرج نہ ہو کچھ طلبہ اس میں قولاً و رأیا مزاحم ہوتے ہیں کہ نہیں! حضرت کی طبیعت خراب ہے سبق پڑھانے کی ضرورت نہیں اللہ آپ کو تندرست کر دے ورنہ جو کچھ چار حرف ہم نے آپ سے پڑھ لیے ہیں اور آپ کی کفش برادری سے جہاں تک سمجھ لیا ہے وہی ان شاءاللہ ہمارے لیے کافی ہے، کچھ طلبہ یہ خیال کرتے ہیں کہ امتشال امر کیا جائے مباداً حضرت انکار سے ناخوش ہو جائیں اس بحث میں آوازیں بلند ہو جاتی ہیں، یہ بحث و تکرار کرتے جاتے ہیں اور استاد کے حکم کی تعمیل میں کتاب کوئی نہیں لاتا، تو کیا ان میں سے کسی جماعت کو گستاخ، متمرد اور نافرمان کہا جائے گا یا کتاب لانے سے ان کا یہ گریز غایتِ محبت کی علامت سمجھی جائے گی؟
نظیر اس کی دیکھ لو واقعہ حدیبیہ میں صلح حدیبیہ جب مِن محمد رسول اللہﷺ لکھا گیا تو قریش لفظ رسول اللہﷺ پر مزاحم ہوئے حضورﷺ نے حضرت علی المرتضیؓ کو امر فرمایا: اُمحه (اس کو مٹا دو) یہ صریح امر تھا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مشافتہ اس کو سن رہے تھے، جو ان کے حق میں بالکل قطعی مثل کتاب اللہ کے تھا مگر سیدنا علیؓ نے اس پر عمل نہیں کیا بلکہ کہا: لا واللہ لا أمحہ بخدا میں اس کو ہرگز نہیں مٹاؤں گا، اس قسم کے تاکیدی الفاظ سے انکار کر دیا پھر حضور اقدسﷺ نے خود اس کو اپنے دستِ مبارک سے مٹا دیا، کیا معاذ اللہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو گستاخ کہو گے کہ حضور اکرمﷺ کا حکم نہیں مانا پھر حضرت محمدﷺ ان پر ناراض کیوں نہیں ہوئے اور حضرت علی المرتضیٰؓ کو تنبیہ کیوں نہیں فرمائی، یہ تو بظاہر بہت ہی سخت چیز تھی کہا جائے گا کہ یہ نہ ماننا ہی غایتِ محبت کی علامت تھی جس کا منشا وفورِ تعظیم اور افراطِ ادب کے سوا کچھ نہ تھا دوسری بات یہ سمجھو کہ اس حکم کے مخاطب فقط سیدنا عمرؓ ہی تو نہ تھے بلکہ سب اہلِ بیتؓ تھے اور یہاں حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ بھی موجود تھے تو سب شور و غل کرتے رہے مگر کوئی کاغذ کیوں نہ لایا، کیا حضرت عمرؓ ان سب کا راستہ روکے کھڑے تھے، ان میں کوئی ایک بھی ایسا نہ نکلا جو قلم دوات لے آتا، اگر کہو کہ کاغذ سیدنا عمرؓ کے ڈر سے نہیں لائے تو تم تو سیدنا علیؓ کو شیرِ خدا مانتے ہو اور اس قدر شجاعانہ ان کے کارنامے بیان کرتے ہو، اتنے بہادر واقع میں بھی وہ ایسے ہی تھے تنہا سیدنا عمرؓ سے اس طرح کیوں ڈر گئے؟
مسندِ احمد کی روایت میں خاص کر حضرت علیؓ ہی کا ذکر ہے کہ ان کو حکم فرمایا تھا کاغذ قلم لانے کا اور عموماً ایسی خدمات کے اول مخاطب گھر والے ہی ہوتے تھے تو وہ کیوں نہ لائے اگر یہ جرم ہے تو صرف حضرت عمرؓ ہی مجرم نہیں کم و بیش سب ہی اس جرم میں شریک ہوئے خصوصاً حضرت علی رضی اللہ عنہ تو ضرور ہوں گے۔
تیسری بات یہ ہے کہ اچھا حضورﷺ نے کیوں سکوت فرمایا؟ کیا آپﷺ فقط سیدنا عمر فاروقؓ کے روکنے کی بناء پر ایسے اہم تبلیغی فرائض سے رک سکتے ہیں حالانکہ آپﷺ کا تو وہ حال تھا جو سیرت ابنِ ہشام میں مذکور ہے کہ ایک دفعہ سردارانِ قریش نے ابو طالب کے پاس آ کر کہا کہ تم اپنے بھتیجے سے پوچھو کہ اگر وہ مال کی خواہش رکھتا ہے تو چندہ کر کے جتنا مال چاہے ہم اس کو جمع کر دیں، اور اگر سرداری حکومت کی خواہش ہے تو ہم سب اس کی سرداری تسلیم کر لیتے ہیں اور اگر کوئی خوبصورت عورت چاہیے تو وہ بھی ہم پیش کر دیں گے مگر وہ اپنی ان باتوں سے باز آ جائے، ابو طالب نے جب یہ بات حضور اقدسﷺ سے ذکر کی تو آپﷺ نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی جس نے محمدﷺ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اگر سورج کو لا کر میری ایک مٹھی میں اور چاند کو دوسری مٹھی میں دے دیں تب بھی محمدﷺ اس چیز سے ہٹنے والا نہیں جس کے لیے اللہ نے اس کو بھیجا ہے تآں کہ وہ اپنا کام پورا کر دوں یا اس کے راستے سے گزر جاؤں۔
یا جاں رسد بجاتاں
یا جان زتن برآید
آپﷺ نے ابو طالب سے فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ بھی میری حمایت سے اکتا گئے ہیں آپ کی تو یہ حالت تھی کہ آپ سے یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ ایسے تبلیغی فرائض سے رک جاتے پھر سوچنے کا موقعہ ہے کہ ایک نہیں دو نہیں چار روز کے بعد آپﷺ کا وصال ہوا اگر کوئی ضروری بات ہوتی تو بعد میں کیوں نہ بیان فرماتے کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی ایسی ضروری بات ہو جس کے ترک سے امت گمراہ ہو جائے اور حضور اکرمﷺ اس کو محض سیدنا عمر بن خطابؓ کی وجہ سے چھوڑ دیں یہ سب نامعقول اور واہیات باتیں ہیں، اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ رائے کی کوئی چیز تھی وحی نے اس کو ضروری قرار نہ دیا تھا آپﷺ کے خیال مبارک میں اس وقت کوئی بات آئی، لوگوں کے اختلافِ رائے اور تنازع کی وجہ سے اس پر عمل پیرا نہ ہوئے شاید پھر خود ہی تسامح ہوا ہو کہ اس کی چنداں ضرورت نہیں اس لیے دوبارہ اس کی تحریک نہ فرمائی اصل چیز اتنی ہی ہے۔
اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ مسلم کی روایت میں آیا ہے کہ آپﷺ نے اسی مرض میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو حکم فرمایا کہ بلا لے اپنے بھائی اور باپ کو تاکہ خلافت کے متعلق کچھ لکھ دوں بعد میں رسول اللہﷺ خود ہی اس سے رک گئے اور فرمایا:
یأبی اللہ ویأبی المسلمون الا ابا بکرؓ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ اور تمام مسلمان حضرت صدیقِ اکبرؓ کے سوا ہر ایک کی خلافت کا انکار کر دیں گے۔
تو ممکن ہے واقعہ قرطاس میں بھی بعد میں آپﷺ کی رائے سیدنا عمر بن خطابؓ کی رائے کے مطابق ہو گئی ہو کہ اس تحریر کی چنداں ضرورت نہیں جس کے لیے اس شدتِ مرض میں مؤمنین کے اختلافِ رائے اور تنازع کے باوجود اس قدر تکلیف گوارا کی جائے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ کی اس طویل حدیث میں حضورﷺ نے فرمایا:
يذهب بنعلى ھاتین فمن لقيت من وراء هذا الحائط يشهد ان لا اله الا الله مستيقنا بها قلبه فبشره بالجنۃ۔ (صحیح مسلم: جلد، 1 صفحہ، 45)
ترجمہ: میرے دونوں جوتے (نشانی کے طور) پر لے جاؤ اور جو شخص تمہیں اس باغ کے باہر ملے اور دل کے یقین کے ساتھ اس امر کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم اسے جنت کی بشارت دے دو۔
چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ اس فرمان مبارک کے مطابق چلے اور راستہ میں سب سے پہلے حضرت عمر فاروقؓ سے ہی ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا:
ما ھاتان النعلان يا أبا هريرہؓ؟ سیدنا ابوہریرہؓ یہ جوتیاں کیسی ہیں؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ حضور اکرمﷺ کے نعلین ہیں رسول اللہﷺ نے یہ دے کر مجھے بھیجا ہے کہ میں لوگوں کو یہ بشارت سنا دوں، سیدنا عمر فاروقؓ نے ان کو ایسے زور سے روکا اور ہاتھ سینے پر مارا کہ سرین کے بل گر پڑے حضرت ابوہریرہؓ واپس لوٹے وہ آبدیدہ ہو کر دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے حضورﷺ نے حال پوچھا تو سب واقعہ بیان کیا کہ سیدنا عمرؓ نے میرے ساتھ یہ کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ساتھ ساتھ وہاں حاضر ہوئے حضورﷺ نے حضرت عمر فاروقؓ سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا حضرت عمرؓ نے حضور اکرمﷺ سے پوچھا: آپﷺ نے اس قسم کی بشارت دے کر حضرت ابوہریرہؓ کو بھیجا تھا؟ حضورﷺ نے فرمایا ہاں، سیدنا عمرؓ نے عرض کیا:
فلا تفعل فانی اُخشی ان يتكل الناس فخلهم يعملون قال فقال رسول اللهﷺ فخلهم۔
(مسلم، باب الدلیل علی من مات علی التوحید)
ترجمہ: میرے باپ آپﷺ پر قربان ایسا نہ کیجیئے مجھے ڈر ہے کہ لوگ اس پر تکیہ کر بیٹھیں گے ان کو چھوڑ دیجیئے عمل کریں، حضورﷺ نے فرمایا اچھا تو چھوڑ دو عمل کرنے دو۔
تو دیکھو حضور اکرمﷺ کے فرمان کے مطابق سیدنا ابوہریرہؓ جا رہے تھے مگر سیدنا عمر فاروقؓ نے روکا اور اس شدت سے روکا پھر نتیجہ کیا ہوا بجائے اس کے کہ حضورﷺ حضرت عمر فاروقؓ پر خفا ہوتے ان کی رائے کی موافقت فرمائی۔
ایک نقطہ اور یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس اخری علالت میں لدود کا واقعہ بھی پیش آیا تھا، لوگوں کو خیال ہوا کہ آپﷺ کو ذات الجنب ہوا ہے اور اس میں لدود کیا جاتا ہے منہ کے ایک کنارے سے دوا استعمال کرنے کو لدود کہتے ہیں اس لیے آپﷺ نے منع فرما دیا کہ مجھے لدود مت کرو اور متنبہ فرما دیا کہ مجھے ذات الجنب نہیں ہے مگر گھر والے اپنے ارادے سے نہ رکے اور کہنے لگے آپﷺ کا اس سے منع کرنا کراھیة المریض للدواء کے قبیل سے ہے یہ طے کر کے لدود کیا یہ چیز آپﷺ کو ناگوار ہوئی اور سب کو سزا دی کہ جتنے آدمی اس وقت گھر میں تھے سب کو لدود کرایا کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کہ اوامر و نواہی کی پرواہ نہ کرنا اور اس سے بے اعتنائی اور تساہل برت کے محض فرضی خیالات و تخمینات مثلاً کراھیة المریض للدواء کی بناء پر لدود کرنا مناسب نہ تھا لہٰذا تادیباً اور تنبیہاً عقوبت اور سزا دی گئی حالانکہ لدود کا واقعہ قرطاس کے واقعے سے بظاہر بہت کم اہم ہے، لدود کا واقعہ تو بظاہر صرف آپﷺ کی ذات سے متعلق تھا اور واقعہ قرطاس ساری امت کی ہدایت و ضلالت سے تعلق رکھتا تھا مگر اس پر نہ سزا دی اور نہ کوئی تادیبی کاروائی فرمائی صرف وہاں سے سب کو اٹھا دیا کیونکہ مریض کے پاس شور و غل ہونے سے طبعاً گھبراہٹ ہوتی ہے پھر رائے خواہ کسی کی صحیح ہو یا غلط نبی کریمﷺ کے پاس بیٹھ کر اس کے امر کے متعلق آپس میں جھگڑنا نازیبا ہے معلوم ہوا آپﷺ فریقین میں سے کسی کی رائے سے ناراض نہیں تھے ورنہ سزا دیتے یا تنبیہ بلیغ فرماتے یا کم از کم دوبارہ تاکیدی حکم فرماتے اور سیدنا عمر فاروقؓ کو ڈانٹ دیتے معاذ اللہ آپﷺ تو حضرت عمرؓ سے ڈرتے نہیں تھے البتہ اس وقت شور اور تنازع کی وجہ سے وقتی طور پر کچھ متاثر ہوئے اور اس پر ایک درجے میں ناگواری فرمائی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
ضلال کے معانی:
آنحضرتﷺ نے سامانِ کتابت طلب فرمانے کے ساتھ جو ارشاد فرمایا لا تضلوا بعدہ بظاہر یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ حضور اکرمﷺ کوئی ایسی تحریر کرانا چاہتے تھے جو مستقبل میں دینی ضلالت و بے راہی سے محفوظ مصؤون رکھتی معلوم ہوتا ہے کہ ایسی چیز لکھوانا چاہتے تھے جو مہماتِ دین میں سے تھی لغتِ عرب میں لفظ ضلال کا استعمال دینی گمراہی کے معنیٰ تک محدود نہیں ہے، لغتِ عرب کے علاوہ قرآنِ حکیم میں بھی اس کے استعمال میں وسعت ہے کہیں دینی بے تدبیری کے معنیٰ میں مستعمل ہے اور کہیں اس کے معنیٰ دنیوی مسائل میں بے تدبیری کے ہیں، مثلاً حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کی نسبت اپنے نورِ فراست یا الہامِ ربانی سے سمجھ چکے تھے کہ ان کا مستقبل نہایت درخشاں ہے اور نبوت کا خاندانی سلسلہ ان کی ذات سے وابستہ ہونے والا ہے حضرت یوسف علیہ السلام کے کمالاتِ ظاہری و باطنی پدرِ بزرگوار کی خصوصی محبت کو اپنی طرف جذب کرتے تھے دوسرے بھائیوں کو یہ چیز ناگوار تھی وہ کہتے تھے کہ وقت پر کام آنے والے تو ہم ہیں ہمارا طاقتور جتھا ہے جو باپ کی ضعیفی میں کام آ سکتا ہے قرآنِ حکیم میں والد پدرِ بزرگوار کے متعلق ان کے خیالات کا ذکر اس طرح ہے:
اِنَّ اَبَانَا لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنِ (سورۃ یوسف: آیت 8)
ترجمہ: ہمیں یقین ہے کہ ہمارے والد کسی کھلی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔
یعنی دنیوی نقطہ نظر سے اپنے نفع اور نقصان کا صحیح موازنہ نہیں کرتے اور بے تدبیری کی وجہ سے سخت غلطی میں مبتلا ہیں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی کافر نہ تھے ایک پیغمبر کے متعلق دینی گمراہی کا فتویٰ تو کجا اس کا تصور بھی نہ کر سکتے تھے اس طرح جب حضور اقدسﷺ جوان ہوئے تو ہدایت خلق اللہ کی اس اکمل ترین استعداد کا چشمہ جو تمام عالم سے بڑھ کر نفسِ قدسی میں ودیعت کیا گیا تھا اندر ہی اندر جوش مارتا تھا لیکن کوئی خاص کھلا ہوا راستہ اور مفصل دستور العمل بظاہر دکھائی نہ دیتا تھا چنانچہ قرآنِ کریم نازل فرما کر اصلاحِ خلق کی تفصیلی راہیں کھول دی گئیں اس لیے فرمایا:
وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى (سورۃ الضحی: آیت 7)
ترجمہ: اور تمہیں راستے سے ناواقف پایا تو راستہ دکھایا۔
یہاں ضلال کا لفظ معاذ اللہ دینی گمراہی کے معنیٰ میں نہیں بلکہ ناواقفیت کے معنیٰ میں ہے، یعنی آپﷺ کو ہدایتِ خلق کے لیے مفصل راستہ اور مفصل دستور العمل سے ناواقف پایا اور واقف کار بنا دیا اب واضح ہو گیا کہ لا یضل بعدہ میں ضلال کو دینی گمراہی و بے تدبیری کے معنیٰ میں لے کر یہ استدلال کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ ہی کی خلافت تمام گمراہیوں اور ضلالتوں کا حتمی سدِ باب تھی درست نہیں۔
لفظ ضلال کفر، گمراہی، دینی اور دنیوی بے تدبیری کے علاوہ قرآنِ حکیم میں مختلف مواقع پر استعمال ہوا ہے مثلاً:
وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِىۡ ضَلٰلٍ (سورۃ غافر: آیت 25)
یہاں غلط کر دینے کا مفہوم لیا جائے گا کہ منکروں کی تدبیریں غلط ثابت ہوں گی، ایک دوسرے مقام پر یہی لفظ آیا ہے:
وَمَا دُعَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِىۡ ضَلٰلٍ (سورۃ الرعد: آیت 14)
ترجمہ: اور (بتوں سے) کافروں کے دعا کرنے کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ بھٹکتی ہی پھرتی رہے۔
قرآنِ حکیم کی اس آیت میں لفظ ضلال لا حاصل کے معنیٰ میں ہو گا ایک اور جگہ ہے:
ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ (سورۃ ابراہیم: آیت 18)
ترجمہ: یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے۔
یہاں ضلال کا لفظ بے حقیقت کے معنیٰ میں ہے یعنی جن اعمال سے انہیں نفع کی توقع تھی معرفت نہ ہونے کی وجہ سے بے حقیقت ثابت ہوں گے ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
قُلْ رَّبِّىۡۤ اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰى وَمَنۡ هُوَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ (سورۃ القصص: آیت 85)
ترجمہ: کہہ دو: میرا رب اس سے بھی خوب واقف ہے جو ہدایت لے کر آیا ہے، اور اس سے بھی جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
یہاں لفظ ضلال سے منکرین و معاندین کی گمراہی مراد ہو گی۔
باب کتابۃ العلم کے سلسلے میں شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کا ارشاد ہے کہ کتابتِ علم، حفاظتِ علم کا ایک ذریعہ قوی، تبلیغ کے لیے نافع اور اشاعتِ علم کا سہل اور آسان طریقہ ہے اس لیے امام بخاریؒ نے چاہا کہ کتابتِ علم کو احادیث کی روشنی میں مستحسن ثابت کر دیں علمائے امت نے علومِ نبوت سے متعلق علوم کی تبلیغ و اشاعت کے لیے کتابۃ العلم ہی کے طریق کو اختیار کیا جس کے نتیجے میں آج دنیا میں علمی سرمایہ باعثِ فیضان بنا ہوا ہے۔
(فضل الباری شرح صحیح بخاری: جلد دوم، صفحہ، 149، 153)
اس پر ہم حدیثِ قرطاس کا مضمون ختم کرتے ہیں۔
دو ازدہ احادیث میں اگلا موضوع فضلِ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ و ظہورِ مسرتِ راضیہ ہے اب ہم اسے قارئین کرام اور طلبہ حدیث کے سامنے پیش کرتے ہیں یہ جو کہا جاتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے حق میں بیان کی گئی سب حدیث ضعیف ہیں صحیح نہیں۔ آئیے اب صحیح بخاری کے حوالے سے اسے مطالعہ فرمائیں۔
قصہ قرطاس کا مختتم فیصلہ
حَامِدًا وَّ مُصلِيًّا
(حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ)
واقعہ قرطاس یوں منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی آخری بیماری میں وفات سے پانچ دن پہلے فرمایا کہ کاغذ، قلم، دوات لاؤ ایک تحریر لکھوا دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے حضرت عمرؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ کو اس وقت بیماری کی تکلیف زیادہ ہے اور ہمارے لیے کتابُ اللہ کافی ہے لوگوں نے کہا هجر استفہموہ یعنی کیا جدائی کا وقت قریب آ گیا آپﷺ سے دریافت تو کر لو۔
شیعہ کہتے ہیں کہ لفظ "ھجر" کے معنی یہاں "ہذیان" کے ہیں اور یہ لفظ حضرت عمرؓ ہی نے رسولﷺ کی شان میں استعمال کیا ہے۔
اس قصہ قرطاس میں تین الزام حضرت عمرؓ پر قائم کیے جاتے ہیں۔
اول یہ کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو ہذیان بکنے والا کہا اور سخت توہینِ رسولﷺ کی ہے۔
دوم یہ کہ انہوں نے ایسی ضروری تحریر نہ لکھنے دی جو امت کو گمراہی سے بچاتی۔
سوم یہ کہ کتاب اللہ کو کافی کہہ کہ انہوں نے حدیثِ رسولﷺ کا لغو اور بے کار ہونا ظاہر کیا ہے۔
جواب پہلے الزام کا یہ ہے کہ اول تو لفظ "ھجر" حضرت عمرؓ کا مقولہ نہیں صحیح بخاری میں سات جگہ یہ روایت ہے مگر کہیں بھی یہ لفظ حضرت عمرؓ سے منقول نہیں بلکہ "قالوا" بصیغہ جمع ہے یعنی لوگوں نے کہا۔
اب یہ کہنے والے کون لوگ تھے؟ ان کا نام معلوم نہیں شارحین نے اپنے قیاس سے کام لیا ہے، کسی نے کہا ہے یہ قول اس جماعت کا ہے جو لکھوانے کی مؤید تھی اور کسی نے کہا کہ کچھ لوگ نو مسلم تھے یہ ان کا مقولہ ہے۔ غرض یہ کہ حضرت عمرؓ کی طرف اس قول کو منسوب کرنا بالکل بے اصل اور بے بنیاد ہے، حدیث کی کسی کتاب میں کوئی صحیح معتبر روایت اس مضمون کی نہیں ہے کہ یہ لفظ حضرت عمرؓ نے کہا
سہیل والوں نے بڑا زور لگایا اور ان کے بیان سے معلوم ہوا کہ تقریبا ایک سو برس سے مجتہدین شیعہ اس تلاش میں سرگرداں ہیں کہ کوئی روایت مل جائے جس میں یہ لفظ حضرت عمرؓ کا مقولہ ہو مگر نہیں ملی، سہیل والوں نے اس مطالبہ سے سراسیمہ ہو کر جیسی جیسی لطیف باتیں ارشاد کی ہیں وہ عجائب روزگار سے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ لفظ "ہجر" کے معنیٰ یہاں "ہذیان" نہیں ہیں بلکہ بمعنیٰ "جدائی" کے ہیں، رسول اللہﷺ نے جب بیماری کی حالت میں ایسی تحریر کے لکھوانے کا ارادہ ظاہر کیا جو آخری وقت میں ہوتی ہے تو صحابہ کرامؓ کے قلوب پر ایک بجلی سی گری اور ان میں سے کسی نے کہا "اھجر استفہموہ"
کیا جدائی کا وقت آگیا پوچھو تو؟
یہ پوچھنے کا مضمون صاف قرینہ اس امر کا ہے کہ "ھجر" معنیٰ "ہذیان" نہیں جس کو ہذیان ہوگیا ہو اب اس سے پوچھنا کیا؟ یہ لفظ بمعنیٰ جدائی قرآن مجید میں بھی مستعمل ہے۔ قولہ تعالیٰ وَاهۡجُرۡهُمۡ هَجۡرًا جَمِيۡلًا
(سورۃ المزمل آیت: 10)
تیسری بات یہ ہے کہ لفظ ہمزہ استفہام کے ساتھ مروی ہے چنانچہ بخاری کی چھ روایتوں میں ہمزہ کے ساتھ ہے صرف ایک میں بے ہمزہ ہے لہٰذا حسبِ قاعدہ اصولِ حدیث جو روایت بے ہمزہ کے ہے اس میں بھی ہمزہ مانا جائے گا پس یہ لفظ اگر بمعنیٰ ہذیان ہو تو بھی استفہام انکاری ہے۔
المختصر رسولﷺ کو ہذیان گو کہنے کا الزام حضرت عمرؓ تو کیا کسی پر بھی قائم نہیں ہوتا۔
جواب دوسرے الزام کا یہ ہے کہ تحریر نہ لکھوانے کا الزام حضرت عمرؓ پر ہرگز نہیں آسکتا، اگر وہ تحریر ایسی ہی ضروری تھی تو اس واقعہ کے بعد پانچ دن حضورﷺ اس دنیا میں رہے اس مدت میں جب حضرت عمرؓ نہ ہوتے حضورﷺ کو چاہیے تھا کہ لکھوا دیتے یا حضرت علیؓ پر لازم تھا کہ وہ لکھوا لیتے اور حضرت عمرؓ اگر اس تحریر کو روک بھی رہے تھے تو ان کا روکنا چیز ہی کیا تھا۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ حضرت عمرؓ سے جناب رسالت مآبﷺ ڈرتے تھے اور مارے ڈر کے ان کے خلاف نہ کر سکتے تھے تو نبوت ایک کھیل ہو جائے گی اور سارا دین ناقابلِ اعتبار ہو جائے گا، یہ بات کس کی عقل میں آسکتی ہے کہ وہ رسولﷺ جس نے مکہ میں کفارِ مکہ سے کچھ خوف نہ کھایا توحید کا اعلان کیا شرک کا ابطال کیا وہ حضرت عمرؓ سے اس قدر ڈر جائے کہ اپنی امت کے لیے ایک ایسی ضروری تحریر نہ لکھوائے اِنَّ هٰذَا لَشَىۡءٌ عَجِيۡبٌ
اس مقام پر ایک اور بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس واقعہ قرطاس سے بہت پہلے ہی یہ آیتِ قرآن نازل ہو چکی تهى:
اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ
یعنی آج میں نے تمہارا دین تمہارے لیے کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اگر واقعی کوئی ایسی ضروری تحریر باقی تھی تو بغیر اس کے دین ہرگز کامل نہیں ہو سکتا لہٰذا آیتِ قرانی غلط ہوئی جاتی ہے۔
اس بات پر غور کرنے سے اور اس کے ساتھ جب اس پر نظر پڑتی ہے کہ طبقہ صحابہؓ میں سوا ابنِ عباسؓ کے اور کوئی متنفس اس واقعہ کو روایت نہیں کرتا عقلِ سلیم اس نتیجہ پر پہنتی ہے کہ یا تو یہ واقعہ سرے سے غلط ہے آیت اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ کی تکذیب کے لیے کسی دشمنِ قرآن نے گھڑا ہے یا خود حضرت ابنِ عباسؓ کو کچھ دھوکا ہو گیا ہے یا رسول اللہﷺ نے محض امتحان کے طور پر تحریر لکھوانے کو فرمایا کہ دیکھیں صحابہ کرامؓ کا قرآنِ کریم پر یقین کیسا ہے، اگر کہیں اکابر صحابہؓ تحریر کو لکھوانے پر مستعد ہو جاتے تو فوراً آپﷺ فرماتے کہ آیت اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ کے بعد بھی تم ایسی تحریر کی احتیاج سمجھتے ہو؟
اس قسم کے امتحانات اپنے صحابہ کرامؓ کے آپﷺ اکثر لیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ اس کے باوجود یہ کہ پانچ دن تک آپﷺ رہے اور کوئی تحریر نہ لکھوائی۔
جواب تیسرے الزام کا یہ ہے کہ "حسبنا کتاب اللہ" کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ حدیثِ رسولﷺ کی ضرورت نہیں ورنہ آیتِ قرآنی حَسۡبُنَا اللّٰهُ کا یہ مطلب ہونا چاہیے کہ رسول کی ضرورت نہیں۔
ضمیمہ
صحابہؓ کو لوگوں نے کہا کہ مکہ والے پوری طاقت جمع کر کے تمہارے مقابلے میں آگئے انہوں نے کہا:
"حَسۡبُنَا اللّٰهُ وَنِعۡمَ الۡوَكِيۡلُ"
اللہ کافی ہے اور وہ خوب کارساز ہے۔
اَلَّذِيۡنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَـكُمۡ فَاخۡشَوۡهُمۡ فَزَادَهُمۡ اِيۡمَانًا وَّقَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰهُ وَنِعۡمَ الۡوَكِيۡلُ
(سورۃ آل عمران آیت: 173)
کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ حَسۡبُنَا اللّٰهُ سے آپ کی مراد یہ تھی کہ ہمیں رسولﷺ کی ضرورت نہیں پھر"حسبنا کتاب اللہ" کا یہ مطلب لینا کہ ہمیں حدیث کی ضرورت نہیں کسی شقی القلب کی سوچ ہو سکتا ہے کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ اس میں قرآنِ کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہو۔
يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اَنۡ تَضِلُّوۡا وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ
(سورۃ النساء آیت: 176)
ترجمہ: بیان کرتا ہے اللہ تمہارے واسطے کہ کہیں تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔
قرآن اپنے عالی مضامین اور عمدہ احکام اس لیے بیان کرتا ہے کہ تم کہیں گمراہ نہ ہو جاؤ یہی لفظ "اَنۡ تَضِلُّوۡا" روایت زیرِ بحث میں "لن تضلوا بعدہ" کی صورت میں موجود ہیں تو "حسبنا کتاب اللہ" میں کیا قرآن کی اس یقین دہانی کی طرف اشارہ نہیں؟
حضرت عمرؓ اس امتحان میں کامیاب ہوئے اور کتاب اللہ کے دلائے ہوئے یقین کو فوراً دہرایا "حسبنا کتاب اللہ" کہا اور حضورﷺ نے اس کی تردید نہ فرمائی
اور اگر یہ خلافت کا فیصلہ کرنا تھا تو حضورﷺ نے رضائے الٰہی پر اطلاع پانے کے بعد کہ (اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکرؓ کے سوا کسی کو آگے نہ کریں گے) اس کے لکھنے کا پھر حکم نہ فرمایا
"حسبنا کتاب اللہ" میں حضرت عمرؓ نے صرف اپنی طرف سے جواب نہ دیا تھا سب مسلمانوں کی طرف سے یہ گذارش کی تھی اس میں آپ سب کے نمایندے تھے۔ ان حاضرین میں حضرت علیؓ بھی موجود تھے۔
خالد محمود عفا اللہ عنہ