حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود) - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 10 از 11

قُلْ رَّبِّىۡۤ اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰى وَمَنۡ هُوَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ (سورۃ القصص: آیت 85)

ترجمہ: کہہ دو: میرا رب اس سے بھی خوب واقف ہے جو ہدایت لے کر آیا ہے، اور اس سے بھی جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔ 

یہاں لفظ ضلال سے منکرین و معاندین کی گمراہی مراد ہو گی۔

باب کتابۃ العلم کے سلسلے میں شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کا ارشاد ہے کہ کتابتِ علم، حفاظتِ علم کا ایک ذریعہ قوی، تبلیغ کے لیے نافع اور اشاعتِ علم کا سہل اور آسان طریقہ ہے اس لیے امام بخاریؒ نے چاہا کہ کتابتِ علم کو احادیث کی روشنی میں مستحسن ثابت کر دیں علمائے امت نے علومِ نبوت سے متعلق علوم کی تبلیغ و اشاعت کے لیے کتابۃ العلم ہی کے طریق کو اختیار کیا جس کے نتیجے میں آج دنیا میں علمی سرمایہ باعثِ فیضان بنا ہوا ہے۔

(فضل الباری شرح صحیح بخاری: جلد دوم، صفحہ، 149، 153)

 اس پر ہم حدیثِ قرطاس کا مضمون ختم کرتے ہیں۔

دو ازدہ احادیث میں اگلا موضوع فضلِ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ و ظہورِ مسرتِ راضیہ ہے اب ہم اسے قارئین کرام اور طلبہ حدیث کے سامنے پیش کرتے ہیں یہ جو کہا جاتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے حق میں بیان کی گئی سب حدیث ضعیف ہیں صحیح نہیں۔ آئیے اب صحیح بخاری کے حوالے سے اسے مطالعہ فرمائیں۔

قصہ قرطاس کا مختتم فیصلہ

حَامِدًا وَّ مُصلِيًّا

(حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ) 

واقعہ قرطاس یوں منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی آخری بیماری میں وفات سے پانچ دن پہلے فرمایا کہ کاغذ، قلم، دوات لاؤ ایک تحریر لکھوا دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے حضرت عمرؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ کو اس وقت بیماری کی تکلیف زیادہ ہے اور ہمارے لیے کتابُ اللہ کافی ہے لوگوں نے کہا هجر استفہموہ یعنی کیا جدائی کا وقت قریب آ گیا آپﷺ سے دریافت تو کر لو۔

شیعہ کہتے ہیں کہ لفظ "ھجر" کے معنی یہاں "ہذیان" کے ہیں اور یہ لفظ حضرت عمرؓ ہی نے رسولﷺ کی شان میں استعمال کیا ہے۔

اس قصہ قرطاس میں تین الزام حضرت عمرؓ پر قائم کیے جاتے ہیں۔ 

اول یہ کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو ہذیان بکنے والا کہا اور سخت توہینِ رسولﷺ کی ہے۔ 

دوم یہ کہ انہوں نے ایسی ضروری تحریر نہ لکھنے دی جو امت کو گمراہی سے بچاتی۔

سوم یہ کہ کتاب اللہ کو کافی کہہ کہ انہوں نے حدیثِ رسولﷺ کا لغو اور بے کار ہونا ظاہر کیا ہے۔

جواب پہلے الزام کا یہ ہے کہ اول تو لفظ "ھجر" حضرت عمرؓ کا مقولہ نہیں صحیح بخاری میں سات جگہ یہ روایت ہے مگر کہیں بھی یہ لفظ حضرت عمرؓ سے منقول نہیں بلکہ "قالوا" بصیغہ جمع ہے یعنی لوگوں نے کہا۔

اب یہ کہنے والے کون لوگ تھے؟ ان کا نام معلوم نہیں شارحین نے اپنے قیاس سے کام لیا ہے، کسی نے کہا ہے یہ قول اس جماعت کا ہے جو لکھوانے کی مؤید تھی اور کسی نے کہا کہ کچھ لوگ نو مسلم تھے یہ ان کا مقولہ ہے۔ غرض یہ کہ حضرت عمرؓ کی طرف اس قول کو منسوب کرنا بالکل بے اصل اور بے بنیاد ہے، حدیث کی کسی کتاب میں کوئی صحیح معتبر روایت اس مضمون کی نہیں ہے کہ یہ لفظ حضرت عمرؓ نے کہا

سہیل والوں نے بڑا زور لگایا اور ان کے بیان سے معلوم ہوا کہ تقریبا ایک سو برس سے مجتہدین شیعہ اس تلاش میں سرگرداں ہیں کہ کوئی روایت مل جائے جس میں یہ لفظ حضرت عمرؓ کا مقولہ ہو مگر نہیں ملی، سہیل والوں نے اس مطالبہ سے سراسیمہ ہو کر جیسی جیسی لطیف باتیں ارشاد کی ہیں وہ عجائب روزگار سے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ لفظ "ہجر" کے معنیٰ یہاں "ہذیان" نہیں ہیں بلکہ بمعنیٰ "جدائی" کے ہیں، رسول اللہﷺ نے جب بیماری کی حالت میں ایسی تحریر کے لکھوانے کا ارادہ ظاہر کیا جو آخری وقت میں ہوتی ہے تو صحابہ کرامؓ کے قلوب پر ایک بجلی سی گری اور ان میں سے کسی نے کہا "اھجر استفہموہ"

کیا جدائی کا وقت آگیا پوچھو تو؟

یہ پوچھنے کا مضمون صاف قرینہ اس امر کا ہے کہ "ھجر" معنیٰ "ہذیان" نہیں جس کو ہذیان ہوگیا ہو اب اس سے پوچھنا کیا؟ یہ لفظ بمعنیٰ جدائی قرآن مجید میں بھی مستعمل ہے۔ قولہ تعالیٰ وَاهۡجُرۡهُمۡ هَجۡرًا جَمِيۡلًا 

(سورۃ المزمل آیت: 10)

تیسری بات یہ ہے کہ لفظ ہمزہ استفہام کے ساتھ مروی ہے چنانچہ بخاری کی چھ روایتوں میں ہمزہ کے ساتھ ہے صرف ایک میں بے ہمزہ ہے لہٰذا حسبِ قاعدہ اصولِ حدیث جو روایت بے ہمزہ کے ہے اس میں بھی ہمزہ مانا جائے گا پس یہ لفظ اگر بمعنیٰ ہذیان ہو تو بھی استفہام انکاری ہے۔

المختصر رسولﷺ کو ہذیان گو کہنے کا الزام حضرت عمرؓ تو کیا کسی پر بھی قائم نہیں ہوتا۔

جواب دوسرے الزام کا یہ ہے کہ تحریر نہ لکھوانے کا الزام حضرت عمرؓ پر ہرگز نہیں آسکتا، اگر وہ تحریر ایسی ہی ضروری تھی تو اس واقعہ کے بعد پانچ دن حضورﷺ اس دنیا میں رہے اس مدت میں جب حضرت عمرؓ نہ ہوتے حضورﷺ کو چاہیے تھا کہ لکھوا دیتے یا حضرت علیؓ پر لازم تھا کہ وہ لکھوا لیتے اور حضرت عمرؓ اگر اس تحریر کو روک بھی رہے تھے تو ان کا روکنا چیز ہی کیا تھا۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ حضرت عمرؓ سے جناب رسالت مآبﷺ ڈرتے تھے اور مارے ڈر کے ان کے خلاف نہ کر سکتے تھے تو نبوت ایک کھیل ہو جائے گی اور سارا دین ناقابلِ اعتبار ہو جائے گا، یہ بات کس کی عقل میں آسکتی ہے کہ وہ رسولﷺ جس نے مکہ میں کفارِ مکہ سے کچھ خوف نہ کھایا توحید کا اعلان کیا شرک کا ابطال کیا وہ حضرت عمرؓ سے اس قدر ڈر جائے کہ اپنی امت کے لیے ایک ایسی ضروری تحریر نہ لکھوائے اِنَّ هٰذَا لَشَىۡءٌ عَجِيۡبٌ 

اس مقام پر ایک اور بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس واقعہ قرطاس سے بہت پہلے ہی یہ آیتِ قرآن نازل ہو چکی تهى:

اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ 

یعنی آج میں نے تمہارا دین تمہارے لیے کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اگر واقعی کوئی ایسی ضروری تحریر باقی تھی تو بغیر اس کے دین ہرگز کامل نہیں ہو سکتا لہٰذا آیتِ قرانی غلط ہوئی جاتی ہے۔

صفحہ 10 از 11