حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود) - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 11

یہ واضح رہنا چاہیے کہ عالمِ تشریع و تقدیر کے مابین ہمیشہ مطابقت ضروری نہیں ہے حضرت یعقوب علیہ السلام برادرانِ یوسف علیہ السلام کو چشمِ زخم نہ لگنے کی تدابیر کیے جائیں گے مگر تقدیر نے جس کے مقدر میں جیل خانہ لکھ دیا ہے وہ جیل جا کر رہے گا (ترجمان السنۃ: جلد، 1 صفحہ، 86)

حدیث میں پوری وضاحت ہو چکی ہے کہ حضور اکرمﷺ خلافت سیدنا ابوبکرؓ کے نام لکھوانا چاہتے تھے پھر جب حضور اقدسﷺ اللہ تعالیٰ کے تکوینی فیصلے پر مطلع ہوئے تو آپ نے وصیت تحریر کرنے کا خیال چھوڑ دیا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی یہی چاہتے تھے کہ حضور اقدسﷺ کو وصیت لکھوانے کی تکلیف نہ دو آپﷺ انتظامی اُمور کی جو وصیتیں کرنا چاہتے ہیں آپﷺ ارشاد فرما دیں حضور اکرمﷺ نے ان تین باتوں کی وصیت کی جو حدیث اور تاریخ کی تقریباً ہر کتاب میں مذکور ہیں آپﷺ نے ان میں پہلی دو تو بڑی وضاحت سے بیان کر دیں اور تیسری کے بارے میں بس ایک ہی بات کہی کہ میری قبر کو عبادت گاہ نہ بنا لینا عبادت کے لائق صرف ایک ذات ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

حدیث کی صاف صاف تشریح کے بعد اختلاف عالم تکوین کے ماتحت ہے:

اس پر ہم حدیثِ قرطاس کی بحث ختم کرتے ہیں اور چند وہ اُمور ذکر کرتے ہیں جو حضرت مولانا بدر عالم مدنیؒ نے بیان فرمائے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو بصمیمِ قلب قبول کرنے کی ایک ایمانی تعلیم ہے اس میں واقعہ قرطاس کا کوئی ذکر نہیں ہے: 

الحاصل اگر ما أنا علیہ و أصحابی یہ صاف صاف بات ہونے کا آپ یہ مطلب سمجھتے تھے کہ اس فیصلہ کے بعد اختلاف کا تخم ہی دنیا سے مٹ جائے گا تو آپ نے غلط سمجھا تھا اور اگر شریعت کے سر یہ الزام رکھنا چاہتے ہیں کہ اس نے فرقہ ناجیہ کی کوئی صحیح تفسیر نہیں کی تو یہ اس سے زیادہ غلط سمجھتے ہیں عالمِ تشریع بصائر یعنی کھلی کھلی باتیں آپ کے سامنے بیان کرتا رہے گا مگر عالمِ تکوین شبہات کے گرد اور اڑ کر اس کو تاریک و مکدر بناتا رہے گا آپ سلسلہ اسباب میں راہِ حق تلاش کرنے کی تگ و دو جاری رکھیے اگر آپ کا نام اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّكَ‌ میں درج ہو چکا ہے تو جو راہ سب سے زیادہ صاف آپ کو نظر آئے گی وہ یہی ما انا علیہ و اصحابی کی راہ ہو گی اور اگر خدانخواستہ اس فہرست میں آپ کا نام نہیں ہے تو ایک تنکہ بھی آپ کو پہاڑ معلوم ہو گا۔

فَمَنۡ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنۡ يَّهۡدِيَهٗ يَشۡرَحۡ صَدۡرَهٗ لِلۡاِسۡلَامِ‌ وَمَنۡ يُّرِدۡ اَنۡ يُّضِلَّهٗ يَجۡعَلۡ صَدۡرَهٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى السَّمَآءِ‌ (سورۃ الانعام: آیت 125)

ترجمہ: غرض جس شخص کو اللہ ہدایت تک پہنچانے کا ارادہ کر لے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے، اور جس کو (اس کی ضد کی وجہ سے) گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے، اس کے سینے کو تنگ اور اتنا زیادہ تنگ کر دیتا ہے کہ (اسے ایمان لانا ایسا مشکل معلوم ہوتا ہے) جیسے اسے زبردستی آسمان پر چڑھنا پڑ رہا ہو۔ 

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم تدبیر کو چھوڑ کر آپ کو تقدیر کے حوالے کرنا چاہتے ہیں بلکہ اختلاف کا مفہوم اس کے اسباب فرقہائے منحرفہ کی شناخت پر تا مقدور بحث کر کے آخر میں یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ یہاں اختلاف کے ان اسبابِ ظاہر کے ساتھ خاص طور پر اس کا ایک تقوینی سبب بھی ہے جس کی طرف قرآنِ کریم نے وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمۡ‌ سے اشارہ فرمایا ہے اور اسی لیے اس افتراق کو دیکھ کر یہ سمجھنا غلط ہے کہ یہ حدیث کے قصورِ بیان کا ثمرہ ہے بیان تو اتنا واضح ہے جتنا کہ ہو سکتا ہے چونکہ خطابِ تکلیف علیحدہ ہے اور خطابِ تقدیر علیحدہ اس لیے کبھی کبھی ایک صاف بات بھی چیستان بن کر رہ جاتی ہے۔ اگر آج بھی کوئی شخص ما أنا علیہ و اصحابی کی راہ معلوم کرنا چاہے تو اس کے لیے دروازے کھلے ہوئے ہیں پس اشکال یہ نہیں ہے کہ فرقہ ناجیہ مبہم ہے بلکہ یہ ہے کہ اس کے دریافت کے جو اسباب ہیں خواہشِ نفس اس طرف آنے ہی نہیں دیتی بقول اکبر مرحوم:

اللہ کی راہیں سب ہیں کھلی آثار و نشاں سب قائم ہیں

اللہ کے بندوں نے لیکن اس راہ پہ چلنا چھوڑ دیا۔ (ترجمان السنۃ: جلد، 1 صفحہ، 91)

آنحضرتﷺ طلبِ قرطاس کے بعد کئی دن دنیا میں تشریف فرما رہے لیکن آپﷺ‏ نے پھر قلم دوات طلب نہ کی کیونکہ عالمِ تقدیر حضور اکرمﷺ پر کھل چکا تھا کہ مؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کی قیادت کا دم نہ بھریں گے۔ (واللہ اعلم علمہ انم وامکم)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک وقتی غلط گمان:

آنحضرتﷺ کے ایامِ علالت سے جہاں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ آپﷺ اپنے سفرِ آخرت پر روانہ ہونے والے ہیں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے خلاف یہ گمان کیے بیٹھے تھے کہ حضورﷺ صحت یاب ہو کر پھر ہمیں سنبھالیں گے ہماری وفات آپﷺ سے پہلے ہو گی اور آپﷺ کا سفرِ آخرت اس کے بعد ہو گا آپؓ نے یا اور کسی نے اگر کہا أھجر رسول اللہﷺ تو یہ حضور اکرمﷺ کے اس دنیا سے ہجرت کرنے سے استفہام انکاری تھا کہ حضور اکرمﷺ دنیا سے نہیں جا رہے آپ حضور اکرمﷺ سے سمجھنے کی کوشش کرو کہ آپﷺ‏ کیا حکم دے رہے ہیں اسے کوئی شخص آپﷺ‏ کی بیماری یا بڑھاپے کی بات نہ سمجھے۔

شیخ الحدیث والتفسیر مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃاللہ حضور اکرمﷺ کی وفات پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اضطراب اس طرح بیان کرتے ہیں: 

صفحہ 4 از 11