حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود) - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 5 از 11

ذوالنورین سیدنا عثمانِ غنیؓ ایک سکتہ کے عالم میں تھے دیوار سے پشت لگائے بیٹھے تھے شدتِ غم کی وجہ سے بات نہیں کر سکتے تھے حضرت علی المرتضیٰؓ کا یہ حال تھا کہ زار و قطار روتے تھے روتے روتے بے ہوش ہو گئے سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر جو صدمہ اور علم کا پہاڑ گرا اس کا پوچھنا ہی کیا حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی پریشانی میں سخت بے حواس تھے حضرت عمر فاروقؓ کی پریشانی اور حیرانی سب سے بڑھی ہوئی تھی وہ تلوار لیے کھڑے ہو گئے اور با آواز بلند یہ کہنے لگے کہ منافقین کا گمان ہے کہ حضور پُر نورﷺ انتقال کر گئے آپﷺ‏ ہرگز فوت نہیں ہوئے بلکہ آپﷺ تو اپنے پروردگار کے پاس گئے ہیں جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر خدا تعالیٰ کے پاس گئے اور پھر واپس آ گئے خدا کی قسم آپﷺ بھی اس طرح ضرور واپس آئیں گے اور منافقوں کا قلع قمع کریں گے سیدنا عمر فاروقؓ جوش میں تھے تلوار نیام سے نکالے ہوئے تھے۔ 

(سیرت المصطفیٰﷺ: جلد، 3 صفحہ، 173)

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی روحانیت ان سب سے زیادہ تیز تھی آپؓ کو اس وقت بنو حنیفہ میں مسیلمہ کذاب کے اٹھتے ہوئے دھوئیں اور منکرینِ زکوٰۃ کی بغاوت کی اٹھتی لہریں نظر آ رہی تھیں اور وہ اس یقین پر تھے کہ حضور اکرمﷺ ان منافقین کا قلع و قمع کیے بغیر ہمیں نہ چھوڑیں گے یہ وہ شدید احساسِ لطیف تھا جس کی وجہ سے انہیں حضور اقدسﷺ کی وفات کا یقین نہ ہو رہا تھا وہ سمجھتے تھے کہ فتنوں کے گھنے سیاہ دعویٰ سے نپٹنا اس امت سے نہ ہو سکے گا اس کے لیے نبوت کی ہمت چاہیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو ان تمام فتنوں کا سامنا کیا اور پھر ان کے مقابل کامیابی پائی تو حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا قام فی الردۃ مقام الانبیآء کے آپؓ نے وہ کام کر دکھایا جسے بجا طور پر کارِ نبوت کہا جا سکتا ہے۔

کچھ بھی ہو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اس وقت بے چینی اور وارفتگی بلاوجہ نہ تھی سو اگر انہوں نے طلبِ قرطاس کے وقت کہا کہ حضورِ اکرمﷺ ہمیں چھوڑ کر نہیں جا رہے نہ آپﷺ‏ کے اس احساس کو تم بیماری کا یا بڑھاپے کا اثر سمجھو۔

 یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ حضور اکرمﷺ کے طلبِ قرطاس کے وقت الفاظ کیا تھے آپﷺ نے فرمایا تھا:

أکتب لکم کتاباً لن تضلو بعدہ میں وہ لکھ دوں کہ اس کے بعد تم گمراہی میں نہ پڑو بلکہ اس پیرائے میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء کے آخر میں فرمایا:

يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اَنۡ تَضِلُّوۡا‌ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ (سورۃ النساء: آیت 176)

ترجمہ: اللہ تمہارے سامنے وضاحت کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو، اور اللہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔  

اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ قرآنِ کریم نے آئندہ گمراہی سے بچنے کا سامان فرما دیا ہے آئندہ جو حالات بھی پیش آئیں وہ ان سے پوری طرح واقف ہے اس میں یقین دلایا گیا کہ قرآنِ کریم میں آئندہ گمراہی سے بچنے کا سامان کر دیا گیا ہے اب آخری وقت میں آپﷺ انہی الفاظ سے طلبِ قرطاس فرما رہے ہیں اس پر سیدنا عمرؓ کا یہ کہنا حسبنا کتاب اللہ قرآنِ کریم پر اپنے پورے یقین کے اظہار کے لیے تھا سو یہ بات کہ آپﷺ سے زبانی سمجھ لو کہ آپﷺ کیا ہدایت دے رہے ہیں یہ بات حضرت عمر فاروقؓ کی نہیں ہو سکتی یہ بات تو آپؓ پورے یقین سے کہہ رہے تھے کہ حضورﷺ اپنے آخری وقت میں نہیں ہے لیکن یہ بات کہ حضورﷺ سے تم اس بات کو سمجھ لو استفھموہ حضرت عمر فاروقؓ کی طرف سے نہیں ہو سکتی یہ حسبنا کتاب اللہ سے لگا نہیں کھاتی۔

جن لوگوں نے اسے حضرت عمرؓ کا مقولہ سمجھ لیا ہے شاید اس وقت ان کی نظر سورۃ النساء کی مذکورہ آیت پر نہ گئی ہو اور وہ حسبنا کتاب اللہ کو قرآن کریم کی روشنی میں کہی بات نہ سمجھ پائے ہوں۔

تاہم جس نے بھی یہ کہا استفھموہ اس نے اس کے ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بیان کر دی قد غلب علیه الوجع تو قلم کاغذ پیش نہ کرنے کی وجہ سامنے آ گئی۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ یقین کیسے تھا کے آپﷺ‏ کا آخری وقت نہیں ہے:

حضور اکرمﷺ پر پہلے بھی نزولِ وحی کے وقت کبھی ایسی صورت پیش آ جاتی تھی کہ دینوی پہلو سے آپﷺ‏ کے حواس میں تعطل واقع ہوا ہے یہ موت نہیں ہے۔ 

دوسرا آپؓ کا اجتہاد یہ تھا کہ جن نئے فتنوں کا دھواں اٹھ رہا ہے ان کے قلع قمع کیے بغیر حضور اکرمﷺ کی وفات نہیں ہو گی اس نازک وقت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس یقین پر تھے کہ آپﷺ کی وفات واقع ہو گئی اور حضرت عمر فاروقؓ اس یقین پر تھے کہ پیش آمدہ صورت آپﷺ‏ کی موت نہیں ہے سو اس وقت ان دونوں حضرات میں یہ اختلافِ رائے اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کے بیان میں آپس میں کوئی ملی بھگت کا تعلق نہ تھا دونوں بزرگ اپنی اپنی ذہانت میں پورے امین، ایمان دار اور اصحابِ نظر و فکر میں سے تھے ان کا آپس میں تعلق کسی سازش کے طور پر ہوتا جیسا کہ شیعہ سمجھتے ہیں تو اس نازک وقت میں یہ صورتِ حال واقع نہ ہوتی۔

حضور اکرمﷺ‏ کی وفات کی خبر پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اپنے اپنے احساسات:

دیوبند کے شیخ التفسیر اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ نے اپنی کتاب سیرۃ المصطفیٰ میں اس صورتِ حال کا جو نقشہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اضطراب کے عنوان سے پیش کیا ہے ہم اسے پہلے بیان کر آئے ہیں: 

صفحہ 5 از 11