حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود) - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 6 از 11

اس خبر کا کانوں میں پہنچنا تھا کہ گویا قیامت آ گئی سنتے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہوش اُڑ گئے تمام مدینہ میں تہلکہ پڑ گیا جو اس جان گداز واقعہ کو سنتا تھا ششدر اور حیران رہ جاتا تھا ذوالنورین حضرت عثمانِ غنیؓ ایک سکتہ کے عالم میں تھے دیوار سے پشت لگائے بیٹھے تھے شدتِ غم کی وجہ سے بات نہیں کر سکتے تھے حضرت علی المرتضیٰؓ کا یہ حال تھا کہ زار و قطار روتے تھے روتے روتے بے ہوش ہو گئے سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور ازواجِ مطہراتؓ پر جو صدمہ اور الم کا پہاڑ گرا اس کا پوچھنا ہی کیا۔ حضرت عباسؓ بھی پریشانی میں سخت بے حواس تھے حضرت عمر فاروقؓ کی پریشانی اور حیرانی سب سے بڑھی ہوئی تھی وہ تلوار کھینچ کر کھڑے ہو گئے اور بآواز بلند یہ کہنے لگے کہ منافقین کا گمان ہے کہ حضور پُر نورﷺ‏ انتقال کر گئے آپﷺ‏ ہرگز نہیں مرے بلکہ آپﷺ‏ تو اپنے پروردگار کے پاس گئے ہیں جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر خدا تعالیٰ کے پاس گئے اور پھر واپس آ گئے خدا کی قسم آپﷺ بھی اسی طرح ضرور واپس آئیں گے اور منافقوں کا قلع قمع کریں گے۔ 

(سیرت المصطفىٰ طبع جدید: جلد، 2 صفحہ، 293) 

اب اس صورتِ حال میں کیا کوئی عقل مند یہ گمان کر سکتا ہے کہ آپﷺ‏ کی وفات پر اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اپنی خلافت کی فکر پڑی رہی اور انہوں نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو غدیرِ خم کے اعلانِ خلافت من کنت مولا فعلی مولاہ کے خلاف حضور اکرمﷺ کی خلافت بلا فصل پر آنے نہ دیا نہ سلطنت کا انہیں قبضہ دیا۔

آپ اسے سمجھنے کی کوشش کرو اور آپﷺ‏ کو لکھنے کی تکلیف نہ دو جو لکھنے کا کام تھا وہ پہلے سے تکمیل پائے ہوئے ہے۔

ہم نے اپنی بساط کے مطابق حدیثِ قرطاس کے یہ چند مباحث ہدیہ قارئین کیے ہیں تاہم اس فن میں حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی رحمۃاللہ امام اہلِ سنت والجماعت ہیں نامناسب نہ ہو گا کہ اس عنوان پر ان کا قولِ فیصل بھی قارئین کے سامنے آ جائے کوزے میں سمندر کی مثال ان کے اس مضمون پر صادق آتی ہے اسے اس عنوان سے ملاحظہ فرمائیں: 

قصہ قرطاس اور اس کی حقیقت:

اس قصے کی اصلیت صرف اتنی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ‏ نے اپنی آخری بیماری میں وفات سے پانچ دن پہلے یعنی پنج شنبہ کے دن فرمایا کہ قرطاس یعنی کاغذ لاؤ تو میں ایک تحریر لکھ دوں اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے سیدنا عمر بن خطابؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ‏ کو اس وقت بیماری کی تکلیف زیادہ ہے اور یہ بھی کہ کتاب اللہ ہمارے لیے کافی ہے بعض لوگوں کی رائے ہوئی کہ لکھوا لینا چاہیے اس اثنا میں بعض لوگوں نے جن کا نام کسی روایت میں مذکور نہیں کہا کہ اھجر رسول اللہﷺ استفھموہ یعنی کیا رسول اللہﷺ کی جدائی کا وقت آ گیا؟ آپﷺ‏ سے پوچھو تو اس کے بعد نہ اس وقت رسول اللہﷺ نے اس تحریر کے لکھوانے کا قطعی حکم دیا نہ کسی اور وقت اس تحریر کے لکھوانے کو فرمایا جب کہ اس کے بعد پانچ دن آپﷺ اس عالم میں رونق افروز رہے۔

قصہ تو اسی قدر ہے جو اوپر بیان ہوا مگر شیعوں نے بڑی بے باکی کے ساتھ اس قصے میں 3 اعتراض امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظمؓ پر کیے ہیں:

اول: یہ کہ انہوں نے رسول اللہﷺ‏ کو کہا کہ یہ شخص ہذیان بکتا ہے لفظ ھجر کو شیعوں نے جدائی کے معنوں میں نہیں لیا بلکہ اس کے معنیٰ ہذیان بکنے کے مراد لیے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ گستاخی شانِ رسالتﷺ میں اور کیا ہو سکتی ہے۔ 

دوم: یہ ایک ایسی ضروری تحریر جس کے بعد گمراہی کا اندیشہ باقی نہیں رہتا انہوں نے لکھنے نہ دی رسول اللہﷺ‏ کی نافرمانی بھی ہوئی اور تمام مسلمانوں کا سخت نقصان بھی ہوا۔

سوم: یہ کہ انہوں نے یہ کہا کہ کتاب اللہ ہمارے لیے کافی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ سنتِ رسول کریمﷺ‏ کی ہم کو ضرورت نہیں سنتِ نبویﷺ کو غیر ضروری قرار دینا بھی کوئی معمولی توہین نہیں ہے۔

شیعوں کو اپنے ان تین اعتراضات پر بڑا ناز ہے اور صراحتاً و اشارتاً اس قصے کے بیان کرنے میں انہیں ایسی لذت ملتی ہے کہ ان کے شاعروں نے اپنی غزلیات وغیرہ میں اس کا ذکر کیا ہے ایک شاعر کا کہنا ہے: 

خط مجھے لکھتے ہیں وہ لکھنے نہیں دیتے رقیب 

ماجرا یہ بھی کم از قصہ قرطاس نہیں۔ 

شیعوں کے ان تین اعتراضوں کا جواب جو کچھ النجم میں دیا گیا اور اس کا جو جواب الجواب سہیل میں شائع ہوا پھر اس کا رد النجم میں کیا گیا اس کو دیکھ کر عبرت ہوتی ہے کہ واقعی جب کسی کے دل پر مہر لگ جاتی ہے تو کیسی ہی روشن دلیل ان کے سامنے پیش کی جائے اس کی سمجھ میں نہیں آتی اور اگر سمجھ میں آ جائے تو بھی وہ اس کو قبول نہیں کرتا بہرکیف اب ترتیب وار پھر ان تینوں اعتراضوں کا جواب پیش کیا جاتا ہے جو ان شاء اللہ صرف مسکت ہی نہیں بلکہ سعید طبائع کے لیے ایسا تسلی بخش ہے کہ پھر کوئی خلجان باقی نہیں رہتا۔

جواب سے پہلے ایک بات یہ بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہمارے جواب کی بناء پر اس قصہ قرطاس کو جیسا کہ روایت میں مذکور ہے مان لینے پر ہے ورنہ محققین کو قصہ کے صحیح ہونے میں درایتاً بھی کچھ کلام ہے۔

اہلِ سنت والجماعت کی کتابوں میں اس قصہ کا راوی سوا سیدنا ابنِ عباسؓ کے کوئی نہیں طبقہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ان کے سوا کوئی اس قصہ کو روایت نہیں کرتا یہ بھی کچھ کم عجیب بات نہیں ہے اب جواب ملاحظہ کریں:

اعتراض اول کا جواب:

اس اعتراض کے جواب میں تین باتیں النجم میں لکھی گئی تھیں:

اول: یہ کہ ہجر یا یھجر سیدنا عمر فاروقؓ کا مقولہ نہیں ہے ایک روایت بھی کتبِ اہلِ سنت سے پیش نہیں کی جا سکتی جس میں اس لفظ کو حضرت عمر فاروقؓ کا قول قرار دیا گیا ہو بلکہ روایات میں قالوا اھجر بصیغہ جمع ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ کسی شخص واحد کا قول نہ تھا قالوا جمع کا صیغہ ہے۔

دوم: یہ کہ لفظ ھجر یا یھجر، ھجر سے مشتق ہے جس کے معنیٰ صرف ہذیان کے نہیں بلکہ یہ لفظ جدائی کے معنیٰ میں بھی آتا ہے اور یہی معنیٰ زیادہ مشہور و متبادر ہیں یہ لفظ اردو شاعری میں بھی مستعمل ہے اور ہجر و وصال لفظ بکثرت شعراء استعمال کرتے ہیں اور حدیثِ قرطاس میں جدائی کے معنیٰ چسپاں بھی ہوتے ہیں ہذیان کے معنیٰ کسی طرح نہیں بنتے۔

صفحہ 6 از 11