حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود) - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 7 از 11

اولاً: اس وجہ سے کہ ہذیان کا شبہ اس بات پر ہوتا ہے جو خلافِ عقل ہو مگر یہاں کوئی بات خلافِ عقل نہیں ہے ایک پیغمبر اپنے آخری وقت میں فرماتا ہے کہ کاغذ لاؤ میں ہدایت نامہ لکھوا دوں اس پر کیا چیز خلافِ عقل ہے جس پر ہذیان کا شبہ کیا جا سکے کچھ نہیں۔

ثانیاً: اس قسم کی روایات میں ھجر کے بعد استفھموہ کا لفظ بھی ہے جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ آپ سے پوچھو! اگر ھجر کے معنیٰ ہذیان کے لیے جائیں تو استفھموہ بالکل بے ربط ہو جاتا ہے جس کو ہذیان ہو گیا ہے اس سے پوچھنا بالکل حماقت ہے۔

اب دیکھو جدائی کے معنیٰ کس خوبی کے ساتھ بن جاتے ہیں جب رسول اللہﷺ‏ نے شدتِ مرض کی حالت میں یہ ہدایت نامہ لکھوانے کو فرمایا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قلوب پر ایک بجلی سی گر گئی کہ شاید وہ قیامت کی گھڑی آ گئی:

حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد 

روئے گل سیر ندیدیم بہار آخر شد۔ 

کیونکہ ایسی تحریر آخری وقت ہی لکھوائی جاتی ہے لہٰذا اب انہوں نے کہا اھجر استفھموہ یعنی کیا حضرت کیا جدا ہو رہے ہیں؟ آپ سے پوچھو تو محبت کی باتیں وہ لوگ کیا سمجھ سکتے ہیں جن کے دل بغض و عداوت کے سوا کسی چیز سے آشنا ہی نہیں۔

چو دل بہ مہر نگارے نہ بستہ اے ماہ

ترا ز سوز درون و نیاز ماچہ خبر۔

ھجر کے معنیٰ جدائی کے شراح حدیث نے اس حدیث کی شرح میں اور علمائے لغت نے لغت کی کتابوں میں بیان بھی کیے ہیں چنانچہ حافظ الحدیث شیخ الاسلام ابنِ حجر عسقلانی رحمۃاللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں:

ویحتمل ان یکون قوله اھجر فعلا ماضیا من الھجر بفتح الھاء وسکون الجیم والمفعول محذوف ای الحیاۃ و ذکرہ بلفظ الماضی مبالغتہ لما رای من علامات الموت۔ 

(فتح الباری: جلد، 8 صفحہ، 133)

اور علامہ محمد طاہر گجراتیؒ مجمع بحار الانوار میں جو خاص حدیث کی لغت ہے لکھتے ہیں:

ویحتمل ان معناہ ھجرکم رسول اللہﷺ من الھجر ضد الوصل۔ 

(مجمع بحار الانوار: جلد، 5 صفحہ، 137)

(قصہ قرطاس کا کفر شکن فیصلہ: صفحہ، 25 از امام اہلِ سنت مولانا عبدالشکور فاروقیؒ)

ہم حضرت امام اہلِ سنت والجماعت سے اتنی عبارت نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں آگے یہ کتاب صفحہ، 54 تک چلی گئی ہے مزید تحقیق کے طالب اسے اصل کتاب سے مطالعہ فرمائیں۔ جزی اللہ المؤلف أحسن الجزاء وھو المستعان و علیہ التکلان۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے اپنے درس صحیح بخاری میں کتاب العلم میں ضمناً واقعہ قرطاس پر ایک بڑا ایمان افروز بیان دیا ہے دوازدہ حدیث میں امام اہلِ سنت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ کے محققانہ مضمون کے بعد اس پر مزید معرکہ آرائی کی ضرورت نہیں رہتی تاہم کتاب العلم میں محدثانہ نقطہ نظر سے علم لکھا جانے کی اہمیت پر فیض الباری اردو شرح صحیح بخاری کا یہ مضمون اپنی شوکتِ علمی میں اپنی مثال آپ ہے نامناسب نہ ہوگا کہ قارئین دوازدہ حدیث میں اس کی چاشنی سے بھی لطف اندوز ہوں کیونکہ یہ مضمون شیعوں کے خلاف نہیں لکھا گیا وہ قوم خواہ مخواہ اس میں پس جائیں تو اسے بھی قارئین کرام مشیتِ ایزدی سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے وہ ہو کر رہتا ہے حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ پر جب اشتدادِ مرض ہوا تو ارشاد فرمایا کہ میرے پاس سامانِ کتابت لاؤ میں تمہارے لیے ایک کتاب لکھ دوں کہ جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے یہ بیماری کی شدت یومِ خمیس (جمعرات) کو ہوئی اور وصال کئی دن بعد پیر کو ہوا صحیح مسلم کی روایت میں شانہ کی ہڈی اور دوات کی تصریح ہے اس زمانہ میں شانہ کی ہڈی پر کتابت کرتے تھے حضور اکرمﷺ کے اس ارشاد کے بعد سیدنا عمر بن خطابؓ نے آپﷺ کی بیماری کی شدت دیکھ کر کہا کہ ایسے وقت مناسب نہیں کہ حضور اکرمﷺ کو مزید تکلیف دی جائے بیماری کے زور اور دباؤ کی وجہ سے اگر تحریر نہ بھی لکھی گئی تو ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے جو ہمیں کافی ہے۔

فخرج ابنِ عباس سیدنا ابنِ عباسؓ نے جب یہ حدیث روایت کی تو یوں کہتے ہوئے نکلے ہائے مصیبت وائے مصیبت! جس نے آنحضرتﷺ کو یہ کتاب نہ لکھوانے دی اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب واقعہ ہوا تھا اس وقت حضرت ابنِ عباسؓ یہ کہتے ہوئے حضور اکرمﷺ‏ کے دولت خانہ سے برآمد ہوئے اس وقت تو سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما بہت کم سن تھے، صحیح مطلب اس کا یہ ہے کہ مدتوں بعد ایک دن حضرت ابنِ عباسؓ اس واقعہ کو بیان کر کے حسرت کے ساتھ یہ کہتے ہوئے اپنے مقام سے باہر نکلے۔

واقعہ قرطاس کی اصل حقیقت

اس واقعے کی حقیقت سمجھنے کے لیے اولاً ایک مثال سمجھ لو مثلاً کوئی استاذ بیمار ہے مگر طلبہ پر غایت عنایت و شفقت کی وجہ سے باوجود شدید تکلیف اور بیماری کے طلبہ کو کہتا ہے کہ کتاب لاؤ سبق پڑھاؤں تاکہ تمہارا حرج نہ ہو کچھ طلبہ اس میں قولاً و رأیا مزاحم ہوتے ہیں کہ نہیں! حضرت کی طبیعت خراب ہے سبق پڑھانے کی ضرورت نہیں اللہ آپ کو تندرست کر دے ورنہ جو کچھ چار حرف ہم نے آپ سے پڑھ لیے ہیں اور آپ کی کفش برادری سے جہاں تک سمجھ لیا ہے وہی ان شاءاللہ ہمارے لیے کافی ہے، کچھ طلبہ یہ خیال کرتے ہیں کہ امتشال امر کیا جائے مباداً حضرت انکار سے ناخوش ہو جائیں اس بحث میں آوازیں بلند ہو جاتی ہیں، یہ بحث و تکرار کرتے جاتے ہیں اور استاد کے حکم کی تعمیل میں کتاب کوئی نہیں لاتا، تو کیا ان میں سے کسی جماعت کو گستاخ، متمرد اور نافرمان کہا جائے گا یا کتاب لانے سے ان کا یہ گریز غایتِ محبت کی علامت سمجھی جائے گی؟

صفحہ 7 از 11