حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود) - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 8 از 11

نظیر اس کی دیکھ لو واقعہ حدیبیہ میں صلح حدیبیہ جب مِن محمد رسول اللہﷺ‏ لکھا گیا تو قریش لفظ رسول اللہﷺ‏ پر مزاحم ہوئے حضورﷺ نے حضرت علی المرتضیؓ کو امر فرمایا: اُمحه (اس کو مٹا دو) یہ صریح امر تھا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مشافتہ اس کو سن رہے تھے، جو ان کے حق میں بالکل قطعی مثل کتاب اللہ کے تھا مگر سیدنا علیؓ نے اس پر عمل نہیں کیا بلکہ کہا: لا واللہ لا أمحہ بخدا میں اس کو ہرگز نہیں مٹاؤں گا، اس قسم کے تاکیدی الفاظ سے انکار کر دیا پھر حضور اقدسﷺ نے خود اس کو اپنے دستِ مبارک سے مٹا دیا، کیا معاذ اللہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو گستاخ کہو گے کہ حضور اکرمﷺ کا حکم نہیں مانا پھر حضرت محمدﷺ ان پر ناراض کیوں نہیں ہوئے اور حضرت علی المرتضیٰؓ کو تنبیہ کیوں نہیں فرمائی، یہ تو بظاہر بہت ہی سخت چیز تھی کہا جائے گا کہ یہ نہ ماننا ہی غایتِ محبت کی علامت تھی جس کا منشا وفورِ تعظیم اور افراطِ ادب کے سوا کچھ نہ تھا دوسری بات یہ سمجھو کہ اس حکم کے مخاطب فقط سیدنا عمرؓ ہی تو نہ تھے بلکہ سب اہلِ بیتؓ تھے اور یہاں حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ بھی موجود تھے تو سب شور و غل کرتے رہے مگر کوئی کاغذ کیوں نہ لایا، کیا حضرت عمرؓ ان سب کا راستہ روکے کھڑے تھے، ان میں کوئی ایک بھی ایسا نہ نکلا جو قلم دوات لے آتا، اگر کہو کہ کاغذ سیدنا عمرؓ کے ڈر سے نہیں لائے تو تم تو سیدنا علیؓ کو شیرِ خدا مانتے ہو اور اس قدر شجاعانہ ان کے کارنامے بیان کرتے ہو، اتنے بہادر واقع میں بھی وہ ایسے ہی تھے تنہا سیدنا عمرؓ سے اس طرح کیوں ڈر گئے؟

مسندِ احمد کی روایت میں خاص کر حضرت علیؓ ہی کا ذکر ہے کہ ان کو حکم فرمایا تھا کاغذ قلم لانے کا اور عموماً ایسی خدمات کے اول مخاطب گھر والے ہی ہوتے تھے تو وہ کیوں نہ لائے اگر یہ جرم ہے تو صرف حضرت عمرؓ ہی مجرم نہیں کم و بیش سب ہی اس جرم میں شریک ہوئے خصوصاً حضرت علی رضی اللہ عنہ تو ضرور ہوں گے۔ 

تیسری بات یہ ہے کہ اچھا حضورﷺ نے کیوں سکوت فرمایا؟ کیا آپﷺ فقط سیدنا عمر فاروقؓ کے روکنے کی بناء پر ایسے اہم تبلیغی فرائض سے رک سکتے ہیں حالانکہ آپﷺ کا تو وہ حال تھا جو سیرت ابنِ ہشام میں مذکور ہے کہ ایک دفعہ سردارانِ قریش نے ابو طالب کے پاس آ کر کہا کہ تم اپنے بھتیجے سے پوچھو کہ اگر وہ مال کی خواہش رکھتا ہے تو چندہ کر کے جتنا مال چاہے ہم اس کو جمع کر دیں، اور اگر سرداری حکومت کی خواہش ہے تو ہم سب اس کی سرداری تسلیم کر لیتے ہیں اور اگر کوئی خوبصورت عورت چاہیے تو وہ بھی ہم پیش کر دیں گے مگر وہ اپنی ان باتوں سے باز آ جائے، ابو طالب نے جب یہ بات حضور اقدسﷺ سے ذکر کی تو آپﷺ نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی جس نے محمدﷺ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اگر سورج کو لا کر میری ایک مٹھی میں اور چاند کو دوسری مٹھی میں دے دیں تب بھی محمدﷺ اس چیز سے ہٹنے والا نہیں جس کے لیے اللہ نے اس کو بھیجا ہے تآں کہ وہ اپنا کام پورا کر دوں یا اس کے راستے سے گزر جاؤں۔

یا جاں رسد بجاتاں 

یا جان زتن برآید 

آپﷺ نے ابو طالب سے فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ بھی میری حمایت سے اکتا گئے ہیں آپ کی تو یہ حالت تھی کہ آپ سے یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ ایسے تبلیغی فرائض سے رک جاتے پھر سوچنے کا موقعہ ہے کہ ایک نہیں دو نہیں چار روز کے بعد آپﷺ کا وصال ہوا اگر کوئی ضروری بات ہوتی تو بعد میں کیوں نہ بیان فرماتے کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی ایسی ضروری بات ہو جس کے ترک سے امت گمراہ ہو جائے اور حضور اکرمﷺ اس کو محض سیدنا عمر بن خطابؓ کی وجہ سے چھوڑ دیں یہ سب نامعقول اور واہیات باتیں ہیں، اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ رائے کی کوئی چیز تھی وحی نے اس کو ضروری قرار نہ دیا تھا آپﷺ کے خیال مبارک میں اس وقت کوئی بات آئی، لوگوں کے اختلافِ رائے اور تنازع کی وجہ سے اس پر عمل پیرا نہ ہوئے شاید پھر خود ہی تسامح ہوا ہو کہ اس کی چنداں ضرورت نہیں اس لیے دوبارہ اس کی تحریک نہ فرمائی اصل چیز اتنی ہی ہے۔

اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ مسلم کی روایت میں آیا ہے کہ آپﷺ نے اسی مرض میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو حکم فرمایا کہ بلا لے اپنے بھائی اور باپ کو تاکہ خلافت کے متعلق کچھ لکھ دوں بعد میں رسول اللہﷺ خود ہی اس سے رک گئے اور فرمایا:

یأبی اللہ ویأبی المسلمون الا ابا بکرؓ۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ اور تمام مسلمان حضرت صدیقِ اکبرؓ کے سوا ہر ایک کی خلافت کا انکار کر دیں گے۔

تو ممکن ہے واقعہ قرطاس میں بھی بعد میں آپﷺ کی رائے سیدنا عمر بن خطابؓ کی رائے کے مطابق ہو گئی ہو کہ اس تحریر کی چنداں ضرورت نہیں جس کے لیے اس شدتِ مرض میں مؤمنین کے اختلافِ رائے اور تنازع کے باوجود اس قدر تکلیف گوارا کی جائے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ کی اس طویل حدیث میں حضورﷺ نے فرمایا:

يذهب بنعلى ھاتین فمن لقيت من وراء هذا الحائط يشهد ان لا اله الا الله مستيقنا بها قلبه فبشره بالجنۃ۔ (صحیح مسلم: جلد، 1 صفحہ، 45)

ترجمہ: میرے دونوں جوتے (نشانی کے طور) پر لے جاؤ اور جو شخص تمہیں اس باغ کے باہر ملے اور دل کے یقین کے ساتھ اس امر کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم اسے جنت کی بشارت دے دو۔

چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ اس فرمان مبارک کے مطابق چلے اور راستہ میں سب سے پہلے حضرت عمر فاروقؓ سے ہی ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا:

ما ھاتان النعلان يا أبا هريرہؓ؟ سیدنا ابوہریرہؓ یہ جوتیاں کیسی ہیں؟

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ حضور اکرمﷺ کے نعلین ہیں رسول اللہﷺ‏ نے یہ دے کر مجھے بھیجا ہے کہ میں لوگوں کو یہ بشارت سنا دوں، سیدنا عمر فاروقؓ نے ان کو ایسے زور سے روکا اور ہاتھ سینے پر مارا کہ سرین کے بل گر پڑے حضرت ابوہریرہؓ واپس لوٹے وہ آبدیدہ ہو کر دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے حضورﷺ نے حال پوچھا تو سب واقعہ بیان کیا کہ سیدنا عمرؓ نے میرے ساتھ یہ کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ساتھ ساتھ وہاں حاضر ہوئے حضورﷺ نے حضرت عمر فاروقؓ سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا حضرت عمرؓ نے حضور اکرمﷺ سے پوچھا: آپﷺ‏ نے اس قسم کی بشارت دے کر حضرت ابوہریرہؓ کو بھیجا تھا؟ حضورﷺ نے فرمایا ہاں، سیدنا عمرؓ نے عرض کیا:

صفحہ 8 از 11