حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود) - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 9 از 11

فلا تفعل فانی اُخشی ان يتكل الناس فخلهم يعملون قال فقال رسول اللهﷺ فخلهم۔

(مسلم، باب الدلیل علی من مات علی التوحید)

ترجمہ: میرے باپ آپﷺ پر قربان ایسا نہ کیجیئے مجھے ڈر ہے کہ لوگ اس پر تکیہ کر بیٹھیں گے ان کو چھوڑ دیجیئے عمل کریں، حضورﷺ نے فرمایا اچھا تو چھوڑ دو عمل کرنے دو۔

تو دیکھو حضور اکرمﷺ کے فرمان کے مطابق سیدنا ابوہریرہؓ جا رہے تھے مگر سیدنا عمر فاروقؓ نے روکا اور اس شدت سے روکا پھر نتیجہ کیا ہوا بجائے اس کے کہ حضورﷺ حضرت عمر فاروقؓ پر خفا ہوتے ان کی رائے کی موافقت فرمائی۔

ایک نقطہ اور یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس اخری علالت میں لدود کا واقعہ بھی پیش آیا تھا، لوگوں کو خیال ہوا کہ آپﷺ‏ کو ذات الجنب ہوا ہے اور اس میں لدود کیا جاتا ہے منہ کے ایک کنارے سے دوا استعمال کرنے کو لدود کہتے ہیں اس لیے آپﷺ نے منع فرما دیا کہ مجھے لدود مت کرو اور متنبہ فرما دیا کہ مجھے ذات الجنب نہیں ہے مگر گھر والے اپنے ارادے سے نہ رکے اور کہنے لگے آپﷺ کا اس سے منع کرنا کراھیة المریض للدواء کے قبیل سے ہے یہ طے کر کے لدود کیا یہ چیز آپﷺ‏ کو ناگوار ہوئی اور سب کو سزا دی کہ جتنے آدمی اس وقت گھر میں تھے سب کو لدود کرایا کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کہ اوامر و نواہی کی پرواہ نہ کرنا اور اس سے بے اعتنائی اور تساہل برت کے محض فرضی خیالات و تخمینات مثلاً کراھیة المریض للدواء کی بناء پر لدود کرنا مناسب نہ تھا لہٰذا تادیباً اور تنبیہاً عقوبت اور سزا دی گئی حالانکہ لدود کا واقعہ قرطاس کے واقعے سے بظاہر بہت کم اہم ہے، لدود کا واقعہ تو بظاہر صرف آپﷺ‏ کی ذات سے متعلق تھا اور واقعہ قرطاس ساری امت کی ہدایت و ضلالت سے تعلق رکھتا تھا مگر اس پر نہ سزا دی اور نہ کوئی تادیبی کاروائی فرمائی صرف وہاں سے سب کو اٹھا دیا کیونکہ مریض کے پاس شور و غل ہونے سے طبعاً گھبراہٹ ہوتی ہے پھر رائے خواہ کسی کی صحیح ہو یا غلط نبی کریمﷺ‏ کے پاس بیٹھ کر اس کے امر کے متعلق آپس میں جھگڑنا نازیبا ہے معلوم ہوا آپﷺ فریقین میں سے کسی کی رائے سے ناراض نہیں تھے ورنہ سزا دیتے یا تنبیہ بلیغ فرماتے یا کم از کم دوبارہ تاکیدی حکم فرماتے اور سیدنا عمر فاروقؓ کو ڈانٹ دیتے معاذ اللہ آپﷺ تو حضرت عمرؓ سے ڈرتے نہیں تھے البتہ اس وقت شور اور تنازع کی وجہ سے وقتی طور پر کچھ متاثر ہوئے اور اس پر ایک درجے میں ناگواری فرمائی۔

واللہ تعالیٰ اعلم 

ضلال کے معانی:

آنحضرتﷺ نے سامانِ کتابت طلب فرمانے کے ساتھ جو ارشاد فرمایا لا تضلوا بعدہ بظاہر یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ حضور اکرمﷺ کوئی ایسی تحریر کرانا چاہتے تھے جو مستقبل میں دینی ضلالت و بے راہی سے محفوظ مصؤون رکھتی معلوم ہوتا ہے کہ ایسی چیز لکھوانا چاہتے تھے جو مہماتِ دین میں سے تھی لغتِ عرب میں لفظ ضلال کا استعمال دینی گمراہی کے معنیٰ تک محدود نہیں ہے، لغتِ عرب کے علاوہ قرآنِ حکیم میں بھی اس کے استعمال میں وسعت ہے کہیں دینی بے تدبیری کے معنیٰ میں مستعمل ہے اور کہیں اس کے معنیٰ دنیوی مسائل میں بے تدبیری کے ہیں، مثلاً حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کی نسبت اپنے نورِ فراست یا الہامِ ربانی سے سمجھ چکے تھے کہ ان کا مستقبل نہایت درخشاں ہے اور نبوت کا خاندانی سلسلہ ان کی ذات سے وابستہ ہونے والا ہے حضرت یوسف علیہ السلام کے کمالاتِ ظاہری و باطنی پدرِ بزرگوار کی خصوصی محبت کو اپنی طرف جذب کرتے تھے دوسرے بھائیوں کو یہ چیز ناگوار تھی وہ کہتے تھے کہ وقت پر کام آنے والے تو ہم ہیں ہمارا طاقتور جتھا ہے جو باپ کی ضعیفی میں کام آ سکتا ہے قرآنِ حکیم میں والد پدرِ بزرگوار کے متعلق ان کے خیالات کا ذکر اس طرح ہے: 

اِنَّ اَبَانَا لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنِ (سورۃ یوسف: آیت 8)

ترجمہ: ہمیں یقین ہے کہ ہمارے والد کسی کھلی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔

یعنی دنیوی نقطہ نظر سے اپنے نفع اور نقصان کا صحیح موازنہ نہیں کرتے اور بے تدبیری کی وجہ سے سخت غلطی میں مبتلا ہیں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی کافر نہ تھے ایک پیغمبر کے متعلق دینی گمراہی کا فتویٰ تو کجا اس کا تصور بھی نہ کر سکتے تھے اس طرح جب حضور اقدسﷺ جوان ہوئے تو ہدایت خلق اللہ کی اس اکمل ترین استعداد کا چشمہ جو تمام عالم سے بڑھ کر نفسِ قدسی میں ودیعت کیا گیا تھا اندر ہی اندر جوش مارتا تھا لیکن کوئی خاص کھلا ہوا راستہ اور مفصل دستور العمل بظاہر دکھائی نہ دیتا تھا چنانچہ قرآنِ کریم نازل فرما کر اصلاحِ خلق کی تفصیلی راہیں کھول دی گئیں اس لیے فرمایا:

وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى (سورۃ الضحی: آیت 7)

ترجمہ: اور تمہیں راستے سے ناواقف پایا تو راستہ دکھایا۔ 

یہاں ضلال کا لفظ معاذ اللہ دینی گمراہی کے معنیٰ میں نہیں بلکہ ناواقفیت کے معنیٰ میں ہے، یعنی آپﷺ کو ہدایتِ خلق کے لیے مفصل راستہ اور مفصل دستور العمل سے ناواقف پایا اور واقف کار بنا دیا اب واضح ہو گیا کہ لا یضل بعدہ میں ضلال کو دینی گمراہی و بے تدبیری کے معنیٰ میں لے کر یہ استدلال کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ ہی کی خلافت تمام گمراہیوں اور ضلالتوں کا حتمی سدِ باب تھی درست نہیں۔

 لفظ ضلال کفر، گمراہی، دینی اور دنیوی بے تدبیری کے علاوہ قرآنِ حکیم میں مختلف مواقع پر استعمال ہوا ہے مثلاً:

وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِىۡ ضَلٰلٍ (سورۃ غافر: آیت 25)

یہاں غلط کر دینے کا مفہوم لیا جائے گا کہ منکروں کی تدبیریں غلط ثابت ہوں گی، ایک دوسرے مقام پر یہی لفظ آیا ہے:

وَمَا دُعَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِىۡ ضَلٰلٍ‏ (سورۃ الرعد: آیت 14)

ترجمہ: اور (بتوں سے) کافروں کے دعا کرنے کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ بھٹکتی ہی پھرتی رہے۔

قرآنِ حکیم کی اس آیت میں لفظ ضلال لا حاصل کے معنیٰ میں ہو گا ایک اور جگہ ہے:

ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ (سورۃ ابراہیم: آیت 18)

ترجمہ: یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے۔

یہاں ضلال کا لفظ بے حقیقت کے معنیٰ میں ہے یعنی جن اعمال سے انہیں نفع کی توقع تھی معرفت نہ ہونے کی وجہ سے بے حقیقت ثابت ہوں گے ایک اور مقام پر ارشاد ہے:

صفحہ 9 از 11