سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شادی، ان کی بیویاں، ان سے متعلق روایتیں
علی محمد الصلابیمؤرخین نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی درج ذیل بیویوں کا ذکر کیا ہے:
1۔ خولہ فزاریہ 2۔ جعدہ بنت اشعث
3۔ عائشہ خثعمیہ 4۔ ام اسحاق بنت طلحہ بن عبید اللہ تیمی
5۔ ام بشر بنت ابو مسعود انصاری 6۔ ہند بنت عبد الرحمن بن ابوبکر
7۔ ام عبد اللہ بنت شلیل بن عبداللہ (یہ حضرت جریر بجلی رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں)
8۔ بنو ثقیف کی ایک عورت 9۔ بنو عمرو بن اہیم مفقری کی ایک عورت
10۔ بنو شیبان کی ایک عورت، ممکن ہے کہ تعداد اس سے کچھ زیادہ ہو۔ اس تعداد کا من گھڑت کثرت سے دور کا بھی واسطہ نہیں، سیدنا حسنؓ کی بیویوں کے ستر، نوے، ڈھائی سو، تین سو یا اس سے زیادہ ہونے سے متعلق روایتیں شاذ ہیں اور یہ من گھڑت، موضوع اور جھوٹی ہیں۔
تعداد سے متعلق روایتیں
1۔ پہلی روایت کو ابن ابی الحدید وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔
(حیاۃ الإمام الحسن بن علی: جلد 2 صفحہ 445، 460)
یہ روایت علی بن عبداللہ بصری مدائنی متوفی 225ھ سے ماخوذ ہے۔ اور وہ ایسے ضعفاء میں سے ہیں جن کی روایتوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں ان کی روایت کو درج نہیں کیا ہے۔
(میزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ 138)
ابن عدیؒ نے الکامل میں انھیں ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا ہے: وہ قوی الحدیث نہیں ہیں، ان کی بہت کم روایتیں مستند ہیں۔
(لسان المیزان: جلد 4 صفحہ 252)
2۔ دوسری روایت مرسل ہے، اور مرسل ضعیف کی قسموں میں سے ہے۔
3،4۔ تیسری اور چوتھی روایت کو ابوطالب مکی صاحب ’’قوت القلوب‘‘ نے ذکر کیا ہے، ان کی کتاب پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے، بہرحال امیر المؤمنین سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیویوں کی کثرت ان سے مروی اور ماخوذ ہے، وہ زہد و وعظ اور قوت القلوب میں بہت ساری غلط چیزوں کو ذکر کرنے میں مشہور ہیں۔
(لسان المیزان: جلد 5 صفحہ 339)
اپنی کتاب میں بہت ساری بے بنیاد حدیثوں کو ذکر کیا ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 341)
ان کی کتاب ’’قوت القلوب‘‘ میں مذکور ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ڈھائی سو، دوسرے قول کے مطابق تین سو عورتوں سے شادی کی اور چوں کہ انھوں نے ان عورتوں کو طلاق دے دی تھی اس لیے ان کے گھر والوں سے شرمندگی محسوس کرتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس چیز کو ناپسند کرتے تھے اور کہا کرتے تھے، بلاشبہ حسن طلاق دے دیتے ہیں اس لیے ان سے اپنی بچیوں کی شادی نہ کرو، قبیلۂ ہمدان کے ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! اے امیر المؤمنین وہ جتنا چاہیں ہم ان سے اپنی بچیوں کی شادیاں کرتے رہیں گے، وہ جس کو چاہیں گے اسے رشتۂ زوجیت میں باقی رکھیں گے اور جسے چاہیں گے جدا کردیں گے۔ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور کہا:
لو کنت بواجا علی باب جنۃ لقلت لہمدان ادخلوا بسلام
’’اگر میں جنت کا دربان ہوتا تو قبیلہ ہمدان کے لوگوں سے کہتا کہ سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔‘‘
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بسااوقات چار سے شادی کرتے اور چار کو طلاق دے دیتے۔
(قوت القلوب: جلد 1 صفحہ 246)
اس طرح کی روایتیں صحیح اور ثابت نہیں ہیں، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شادی سے متعلق بہت سارے قصے مروی ہیں جن کی سندوں میں بے حد ضعف پایا جاتا ہے، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:
1۔ ہذلی، ابن سیرینؒ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ہند بنت سہیل بن عمرو (ہند بنت سہیل بن عمرو بن شمس، ان کے والد فتح مکہ کے سال اسلام لائے، وہ حفص بن عبد زمعہ کے پاس تھیں، ان کے بطن سے ان کے کچھ بچے پیدا ہوئے۔ پھر ان سے عبد الرحمٰن بن عتاب، پھر عبداللہ بن عامر، پھر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہم نے شادی کی، ایسا ہی ’’نسب قریش‘‘ صفحہ 420 میں ہے)
عبد الرحمٰن بن عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس تھیں، وہ ان کے پہلے شوہر تھے، انھوں نے ان کو طلاق دی، ان کے بعد عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ نے شادی کی پھر طلاق دے دی، اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ جاکر ان کو یزید بن معاویہ سے شادی کا پیغام دے دو۔ اسی اثناء میں ان سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوئی تو پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ فرمایا: میں ہند بنت سہیل بن عمرو کو یزید بن معاویہ سے شادی کا پیغام دینے جارہا ہوں۔ فرمایا: ان سے میرا تذکرہ کرنا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس آکر پورا معاملہ بیان کیا، تو فرمایا: میرے سلسلے میں تمھاری کیا پسند ہے؟ کہا میں تمھارے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو پسند کرتا ہوں، چنانچہ انھی سے شادی ہوگئی۔ عبد اللہ بن عامر رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: میری ایک امانت ان کے پاس ہے، چنانچہ وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے پاس گئے۔ وہ ان کے سامنے بیٹھ گئیں، تو ابن عامر دل گرفتہ ہوگئے، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمھارے حق میں ان سے دستبردار نہ ہو جاؤں۔ میری رائے میں تم دونوں کے لیے دوبارہ شادی کو حلال کرنے والا مجھ سے بہتر تم نہ پاؤ گے۔
(محلل: ایسا شخص جو کسی ایسی عورت سے شادی کرے جو اپنے پہلے شوہر کے لیے بائنہ ہو چکی ہو، اور شادی کا مقصد یہ ہو کہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے، جیسا کہ حدیث ہے: ’’لعن اللہ المحلل والمحلل لہ‘‘ دیکھئے ارواء الغلیل: نمبر 1897)
انھوں نے کہا: میری امانت کہاں ہے؟ چنانچہ انھوں نے دو صندوقچیاں نکالیں جن میں قیمتی جواہر تھے، چنانچہ انھوں نے ان کو کھولا، اور ایک میں سے ایک مٹھی لے لی، اور باقی ان کے پاس چھوڑ دیا، اس لیے وہ کہا کرتی تھیں: ان سب کے سردار سیدنا حسنؓ، ان میں سے سب سے سخی ابن عامر، اور ان میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عبدالرحمٰن بن عتاب تھے۔
(الطبقات الکبری: الطبقۃ الخامسۃ من الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 303)
اس قصے کی سند میں ہذلی ہیں، وہ اخباری اور متروک الحدیث ہیں۔ ذہبیؒ کا قول ہے: ان کے ضعف پر اجماع ہے۔
(دیوان المتروکین والضعفاء: صفحہ 352)
2۔ سحیم بن حفص انصاری عیسیٰ بن ابوہارون مزنی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے حفصہ بنت عبدالرحمٰن بن ابوبکر سے شادی کی جب کہ منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ انھیں چاہتے تھے، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر دے دی، نتیجتاً سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے انھیں طلاق دے دی، منذر رضی اللہ عنہ نے انھیں شادی کا پیغام دیا، انھوں نے شادی سے انکار کردیا اور کہا: تم مجھے بدنام کرتے رہو، عاصم بن عمر بن خطاب نے پیغام دیا، شادی ہوگئی۔ منذر نے ان تک بھی کچھ باتیں پہنچائیں انھوں نے بھی طلاق دے دی، پھر انھیں منذر نے پیغام نکاح دیا تو ان سے کہا گیا: تم ان سے شادی کرو تاکہ لوگ جان جائیں کہ وہ تم پر بہتان تراشی کرتے تھے، چنانچہ انھوں نے ان سے شادی کرلی اور لوگ جان گئے کہ وہ ان پر جھوٹی تہمت لگاتے تھے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عمر سے کہا: چلو، منذر سے اجازت لے کر ان سے ملاقات کریں، چنانچہ وہ ملے تو وہ عاصم بن عمر کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے زیادہ دیکھتی رہیں، اور ان سے زیادہ باتیں کرتی رہیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے منذر سے کہا: ان کا ہاتھ تھام لو، انھوں نے ہاتھ تھام لیا، سیدنا حسن اور عاصم اٹھے اور چلے گئے جب کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ انھیں چاہتے تھے، اور انھیں طلاق صرف منذ رکی باتوں پر دیا تھا۔ ایک دن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابوعتیق کے بیٹے عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن (حفصہ ان کی پھوپھی تھیں) سے کہا: کیا آپ کو وادیٔ عقیق کی رغبت ہے؟ فرمایا: ہاں، چنانچہ دونوں نکلے، حفصہ کے گھر سے گزر ہوا تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے، اور دونوں بہت دیر تک باتیں کرتے رہے پھر ان کے پاس سے نکلے، دوسری مرتبہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابوعتیق کے بیٹے سے کہا: کیا آپ کو وادیٔ عقیق کی رغبت ہے؟ تو انھوں نے کہا: میرے بھائی تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ تمھیں حفصہ کی رغبت ہے۔
(الطبقات الکبریٰ: الطبقۃ الخامسۃ من الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 307)
اس حدیث کی سند میں ایسے لوگ ہیں جن کی سوانح جرح و تعدیل کی کتابوں میں موجود نہیں، اس کے متن کی نکارت اس کے ضعیف ہونے کے لیے کافی ہے۔
(الطبقات الکبریٰ: الطبقۃ الخامسۃ من الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 305)
3۔ حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بتایا جعفر بن محمد سے روایت کرتے ہوئے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حسن شادی کرتے رہتے ہیں اور طلاق دیتے رہتے ہیں یہاں تک کہ مجھے ڈر لگنے لگا کہ قبائل دشمنی نہ کرنے لگیں۔
(الطبقات الکبریٰ: الطبقۃ الخامسۃ من الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 301)
یہ اثر مرسل ضعیف ہے۔
(الطبقات الکبریٰ: الطبقۃ الخامسۃ من الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 301)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی شادیوں کی کثیر تعداد سے متعلق تاریخی روایتیں سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہیں، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، اور اس کثیر تعداد سے متعلق روایتوں کے من گھڑت ہونے کی تائید درج ذیل امور سے ہوتی ہے:
1۔ یہ روایتیں اگر صحیح ہوتیں تو انھی کے مطابق سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بہت سی اولاد ہوتی، جب کہ بچے اور بچیوں کو ملا کر ان کی بائیس اولاد تھی، اور یہ تعداد اس زمانے کے اعتبار سے فطری تھی، اور شادیوں کی کثرت سے متعارض ہے، اس کثرت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
2۔ ان روایتوں کے ضعیف اور موضوع ہونے پر یہ روایت بھی دلالت کرتی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھتے اور کہتے تھے: تم لوگ حسن سے اپنی بچیوں کی شادی نہ کیا کرو، وہ بہت زیادہ طلاق دینے والے ہیں، جیسا کہ صاحب قوت القلوب نے ذکر کیا ہے۔
(قوت القلوب: جلد 2 صفحہ 246)
امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا منبر پر لوگوں کو ان کی شادی کرنے سے روکنا یا تو اس بنیاد پر ہو گا کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو ایسا کرنے سے روکا ہوگا، اور انھوں نے بات نہ مانی ہو گی، اس لیے مجبوراً اس بات کا اظہار کیا ہو گا اور لوگوں کو ان سے شادی سے روکا، یا اس بنیاد پر ہو گا کہ انھوں نے شروع ہی سے اس سے روکا ہو۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اس سلسلے میں اپنے والد کی ناپسندیدگی کا علم نہ ہوگا، اور دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔
پہلی بات اس لیے درست نہیں ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنے باپ کے فرمانبردار تھے، ان کی نافرمانی اور مخالفت نہیں کرتے تھے اور دوسری بات اس لیے درست نہیں ہے کہ امیر المؤمنینؓ کے لیے اچھی بات یہ تھی کہ اپنے بیٹے کو اپنی ناپسندیدگی سے آگاہ کرتے اور عام لوگوں کے سامنے منبر پر اس کا اعلان نہ کرتے کہ باپ اور بیٹے کے رشتوں میں بگاڑ پیدا ہوجائے۔
معاً یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ یہ معاملہ شرعاً جائز ہے یا نہیں۔ اگر جائز ہے تو امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے روکنے کے کیا معنیٰ؟ اور اگر جائز نہیں ہے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کیسے اس کو انجام دیتے؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس حدیث کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے دشمنوں نے گھڑا ہے، تاکہ سیدنا حسنؓ کی بہترین سیرت کو بگاڑ کر رکھ دیں۔
(حیاۃ الإمام الحسن: جلد 2 صفحہ 451)
امت کی تاریخ اور مصلحین کی سیرت کو بگاڑنے سے متعلق یہ جھوٹے راویوں کی عادت رہی ہے۔ یہیں سے علم جرح و تعدیل، روایتوں پر حکم لگانے، اور اس عظیم کارنامے کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ جس کو علمائے حدیث نے اس طرح کی روایتوں کی خرابیوں کو بیان کرنے میں انجام دیا ہے۔
بنا بریں ہم ابتدائے اسلام کی تاریخ کی چھان بین کرنے والوں کو اس بات کی نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کی روایتوں کو جانچیں اور پرکھیں، تاکہ کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرسکیں اور امت کے لیے اپنی ایک عظیم خدمت کو پیش کرسکیں، اور ان لوگوں کی طرح گڑھے میں نہ گریں جو ضعیف اور موضوع روایات پر اعتماد کرنے کی وجہ سے گڑھے میں گرے۔
3۔ ان روایتوں کے موضوع اور من گھڑت ہونے کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی جب وفات ہوئی تو بہت ساری عورتیں ننگے پیر، کھلے سر سیدنا حسنؓ کے جنازے کے پیچھے نکل پڑیں، اور کہہ رہی تھیں: ہم سب حسن رضی اللہ عنہ کی بیویاں ہیں۔
اس روایت کا موضوع اور من گھڑت ہونا واضح ہے۔ عورتوں کے اس مجمع کے ننگے پاؤں، کھلے سر، لوگوں کے سامنے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیویاں ہونے کا اعلان کرتے ہوئے نکلنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر ان کے نکلنے کی وجہ رنج و غم کا اظہار تھا تو اس اعلان اور مردوں کے شانہ بہ شانہ بھیڑ میں چلنے کی وجہ کیا تھی؟ جب کہ عورتوں کو حجاب اور گھر سے بے پردہ نہ نکلنے کا حکم دیا گیا ہے، یہ اور اس جیسے دوسرے آثار سند کے اعتبار سے صحیح اور ثابت نہیں ہیں۔
گزشتہ روایتوں کے مشابہ یہ روایت بھی ہے جس کو محمد بن سیرین نے روایت کیا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے شادی کی، تو ان کے پاس بطور مہر سو لونڈیوں کو بھیجا، اور ہر لونڈی کے ساتھ ایک ہزار درہم بھی تھا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 197)
یہ بات بعید از قیاس ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنی ایک بیوی کو بطور مہر اتنا زیادہ مال دے دیں، یہ اسراف و فضول خرچی ہے جس سے اسلام میں منع کیا گیا ہے، اور مسنون مہر پر اکتفا کرنے کا حکم دیا گیاہے، اس کا مقصد شادی کو آسان بنانا ہے، اور یہ کہ لوگوں کو اس سے متعلق پریشانی اور تنگی نہ لاحق ہو۔
اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت کے خلاف نہیں کرسکتے، اور نہ آپﷺ کی شریعت کے منافی کوئی راہ اپنا سکتے ہیں، یہ اور اس طرح کی روایتیں موضوع و من گھڑت ہیں اور بیویوں کی کثرت کے موضوع اور من گھڑت ہونے کی تائید کرتی ہیں۔
بہرحال مذکورہ روایتوں کے علاوہ کوئی ایسی صحیح دلیل نہیں ملتی جو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیویوں کی از حد کثرت کو ثابت کرے، مذکورہ روایتیں تنقید سے خالی نہیں ہیں اس لیے وہ اثبات کی دلیل نہیں ہوسکتیں۔
(حیاۃ الامام الحسن بن علی: جلد 2 صفحہ 452)
اس چیز کو جاننے کے لیے کہ دشمنان اسلام ضعیف و باطل روایات سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شادی سے متعلق مستشرق ’’لامنس‘‘ کا قول نقل کرتا ہوں، چنانچہ اس نے سیدنا حسنؓ پر بہتان تراشی کرتے ہوئے اور آپ کے حامیوں پر تنقید کرتے ہوئے آپ کی بیویوں کے بارے میں درج ذیل باتیں کہیں:
’’اور جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جوانی ڈھل گئی، جوانی کے ایام کو شادی و طلاق میں ختم کردیا، تو ان کی بیویوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی، انھی آزادانہ اخلاق کے باعث انھیں مِطْلاق (زیادہ طلاق دینے والے) کا لقب دیا گیا، اور انھی اخلاق کے باعث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بہت ساری مخالفتوں سے دوچار ہونا پڑا، اسی طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے فضول خرچ ہونے کا ثبوت دیا، چنانچہ انھوں نے اپنی ہر بیوی کے لیے گھر اور نوکر چاکر متعین کیا، اس طرح ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فقر زدہ خلافت میں کس طرح مال کا ضیاع کرتے تھے۔‘‘
(دائرۃ المعارف: جلد 7 صفحہ 400)
انگریز مستشرق ’’لامنس‘‘ نے اپنے اس قول کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بہت زیادہ شادیاں کرنے والے اور طلاق دینے والے تھے، میں موضوع اور من گھڑت روایات پر اعتماد کیا ہے، نیز ایسی جھوٹی بہتان تراشیاں کیں جس کا کوئی قائل نہیں چنانچہ اس نے کہا:
1۔ اپنے کثیر زواج و طلاق کے باعث انھوں نے اپنے والد کو سخت مخالفتوں سے دوچار کردیا، جب کہ سیدنا علی و حسن رضی اللہ عنہما کی سوانح لکھنے والے کسی شخص نے مستشرق ’’لامنس‘‘ کی من گھڑت سخت مخالفتوں کی جانب اشارہ نہیں کیا ہے۔
2۔ اس نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی ہر بیوی کے لیے گھر اور نوکر چاکر متعین کیا تھا، جب کہ کسی مؤرخ نے ایسی بات نقل نہیں کی ہے، یہ کھلا جھوٹ اور محض افترا پردازی ہے۔
بلاشبہ عیسائی مشنریاں(جو اسلام کی باغی ہیں اور لگاتار اس پر حملے کر رہی ہیں) ایسے کرایہ کے اصحاب قلم کو آگے بڑھاتی ہیں تاکہ اسلام کو بدنام کیا جائے، اس کی صحیح تصویر کو مسخ کیا جائے اور اس کے اساطین جنھوں نے انسانیت کو صحیح راہ دکھائی اور دنیا میں تہذیب و تمدن کے میناروں کو بلند کیا ان کی قدروں کو گھٹا دیا جائے۔
(حیاۃ الامام الحسن بن علی: جلد 2 صفحہ 455)