سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شادی، ان کی بیویاں، ان سے متعلق…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شادی، ان کی بیویاں، ان سے متعلق روایتیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

مؤرخین نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی درج ذیل بیویوں کا ذکر کیا ہے:

1۔ خولہ فزاریہ 2۔ جعدہ بنت اشعث

3۔ عائشہ خثعمیہ 4۔ ام اسحاق بنت طلحہ بن عبید اللہ تیمی

5۔ ام بشر بنت ابو مسعود انصاری 6۔ ہند بنت عبد الرحمن بن ابوبکر

7۔ ام عبد اللہ بنت شلیل بن عبداللہ (یہ حضرت جریر بجلی رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں)

8۔ بنو ثقیف کی ایک عورت 9۔ بنو عمرو بن اہیم مفقری کی ایک عورت

10۔ بنو شیبان کی ایک عورت، ممکن ہے کہ تعداد اس سے کچھ زیادہ ہو۔ اس تعداد کا من گھڑت کثرت سے دور کا بھی واسطہ نہیں، سیدنا حسنؓ کی بیویوں کے ستر، نوے، ڈھائی سو، تین سو یا اس سے زیادہ ہونے سے متعلق روایتیں شاذ ہیں اور یہ من گھڑت، موضوع اور جھوٹی ہیں۔

تعداد سے متعلق روایتیں

1۔ پہلی روایت کو ابن ابی الحدید وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔

(حیاۃ الإمام الحسن بن علی: جلد 2 صفحہ 445، 460)

یہ روایت علی بن عبداللہ بصری مدائنی متوفی 225ھ سے ماخوذ ہے۔ اور وہ ایسے ضعفاء میں سے ہیں جن کی روایتوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں ان کی روایت کو درج نہیں کیا ہے۔

(میزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ 138)

ابن عدیؒ نے الکامل میں انھیں ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا ہے: وہ قوی الحدیث نہیں ہیں، ان کی بہت کم روایتیں مستند ہیں۔

(لسان المیزان: جلد 4 صفحہ 252)

2۔ دوسری روایت مرسل ہے، اور مرسل ضعیف کی قسموں میں سے ہے۔

3،4۔ تیسری اور چوتھی روایت کو ابوطالب مکی صاحب ’’قوت القلوب‘‘ نے ذکر کیا ہے، ان کی کتاب پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے، بہرحال امیر المؤمنین سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیویوں کی کثرت ان سے مروی اور ماخوذ ہے، وہ زہد و وعظ اور قوت القلوب میں بہت ساری غلط چیزوں کو ذکر کرنے میں مشہور ہیں۔

(لسان المیزان: جلد 5 صفحہ 339)

اپنی کتاب میں بہت ساری بے بنیاد حدیثوں کو ذکر کیا ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 341)

ان کی کتاب ’’قوت القلوب‘‘ میں مذکور ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ڈھائی سو، دوسرے قول کے مطابق تین سو عورتوں سے شادی کی اور چوں کہ انھوں نے ان عورتوں کو طلاق دے دی تھی اس لیے ان کے گھر والوں سے شرمندگی محسوس کرتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس چیز کو ناپسند کرتے تھے اور کہا کرتے تھے، بلاشبہ حسن طلاق دے دیتے ہیں اس لیے ان سے اپنی بچیوں کی شادی نہ کرو، قبیلۂ ہمدان کے ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! اے امیر المؤمنین وہ جتنا چاہیں ہم ان سے اپنی بچیوں کی شادیاں کرتے رہیں گے، وہ جس کو چاہیں گے اسے رشتۂ زوجیت میں باقی رکھیں گے اور جسے چاہیں گے جدا کردیں گے۔ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور کہا:

لو کنت بواجا علی باب جنۃ لقلت لہمدان ادخلوا بسلام

’’اگر میں جنت کا دربان ہوتا تو قبیلہ ہمدان کے لوگوں سے کہتا کہ سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بسااوقات چار سے شادی کرتے اور چار کو طلاق دے دیتے۔

(قوت القلوب: جلد 1 صفحہ 246)

اس طرح کی روایتیں صحیح اور ثابت نہیں ہیں، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شادی سے متعلق بہت سارے قصے مروی ہیں جن کی سندوں میں بے حد ضعف پایا جاتا ہے، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

1۔ ہذلی، ابن سیرینؒ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ہند بنت سہیل بن عمرو (ہند بنت سہیل بن عمرو بن شمس، ان کے والد فتح مکہ کے سال اسلام لائے، وہ حفص بن عبد زمعہ کے پاس تھیں، ان کے بطن سے ان کے کچھ بچے پیدا ہوئے۔ پھر ان سے عبد الرحمٰن بن عتاب، پھر عبداللہ بن عامر، پھر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہم نے شادی کی، ایسا ہی ’’نسب قریش‘‘ صفحہ 420 میں ہے)

عبد الرحمٰن بن عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس تھیں، وہ ان کے پہلے شوہر تھے، انھوں نے ان کو طلاق دی، ان کے بعد عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ نے شادی کی پھر طلاق دے دی، اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ جاکر ان کو یزید بن معاویہ سے شادی کا پیغام دے دو۔ اسی اثناء میں ان سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوئی تو پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ فرمایا: میں ہند بنت سہیل بن عمرو کو یزید بن معاویہ سے شادی کا پیغام دینے جارہا ہوں۔ فرمایا: ان سے میرا تذکرہ کرنا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس آکر پورا معاملہ بیان کیا، تو فرمایا: میرے سلسلے میں تمھاری کیا پسند ہے؟ کہا میں تمھارے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو پسند کرتا ہوں، چنانچہ انھی سے شادی ہوگئی۔ عبد اللہ بن عامر رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: میری ایک امانت ان کے پاس ہے، چنانچہ وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے پاس گئے۔ وہ ان کے سامنے بیٹھ گئیں، تو ابن عامر دل گرفتہ ہوگئے، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمھارے حق میں ان سے دستبردار نہ ہو جاؤں۔ میری رائے میں تم دونوں کے لیے دوبارہ شادی کو حلال کرنے والا مجھ سے بہتر تم نہ پاؤ گے۔

(محلل: ایسا شخص جو کسی ایسی عورت سے شادی کرے جو اپنے پہلے شوہر کے لیے بائنہ ہو چکی ہو، اور شادی کا مقصد یہ ہو کہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے، جیسا کہ حدیث ہے: ’’لعن اللہ المحلل والمحلل لہ‘‘ دیکھئے ارواء الغلیل: نمبر 1897) 

انھوں نے کہا: میری امانت کہاں ہے؟ چنانچہ انھوں نے دو صندوقچیاں نکالیں جن میں قیمتی جواہر تھے، چنانچہ انھوں نے ان کو کھولا، اور ایک میں سے ایک مٹھی لے لی، اور باقی ان کے پاس چھوڑ دیا، اس لیے وہ کہا کرتی تھیں: ان سب کے سردار سیدنا حسنؓ، ان میں سے سب سے سخی ابن عامر، اور ان میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عبدالرحمٰن بن عتاب تھے۔

(الطبقات الکبری: الطبقۃ الخامسۃ من الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 303)

اس قصے کی سند میں ہذلی ہیں، وہ اخباری اور متروک الحدیث ہیں۔ ذہبیؒ کا قول ہے: ان کے ضعف پر اجماع ہے۔

(دیوان المتروکین والضعفاء: صفحہ 352)

صفحہ 1 از 3