سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شادی، ان کی بیویاں، ان سے متعلق…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شادی، ان کی بیویاں، ان سے متعلق روایتیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

2۔ سحیم بن حفص انصاری عیسیٰ بن ابوہارون مزنی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے حفصہ بنت عبدالرحمٰن بن ابوبکر سے شادی کی جب کہ منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ انھیں چاہتے تھے، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر دے دی، نتیجتاً سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے انھیں طلاق دے دی، منذر رضی اللہ عنہ نے انھیں شادی کا پیغام دیا، انھوں نے شادی سے انکار کردیا اور کہا: تم مجھے بدنام کرتے رہو، عاصم بن عمر بن خطاب نے پیغام دیا، شادی ہوگئی۔ منذر نے ان تک بھی کچھ باتیں پہنچائیں انھوں نے بھی طلاق دے دی، پھر انھیں منذر نے پیغام نکاح دیا تو ان سے کہا گیا: تم ان سے شادی کرو تاکہ لوگ جان جائیں کہ وہ تم پر بہتان تراشی کرتے تھے، چنانچہ انھوں نے ان سے شادی کرلی اور لوگ جان گئے کہ وہ ان پر جھوٹی تہمت لگاتے تھے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عمر سے کہا: چلو، منذر سے اجازت لے کر ان سے ملاقات کریں، چنانچہ وہ ملے تو وہ عاصم بن عمر کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے زیادہ دیکھتی رہیں، اور ان سے زیادہ باتیں کرتی رہیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے منذر سے کہا: ان کا ہاتھ تھام لو، انھوں نے ہاتھ تھام لیا، سیدنا حسن اور عاصم اٹھے اور چلے گئے جب کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ انھیں چاہتے تھے، اور انھیں طلاق صرف منذ رکی باتوں پر دیا تھا۔ ایک دن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابوعتیق کے بیٹے عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن (حفصہ ان کی پھوپھی تھیں) سے کہا: کیا آپ کو وادیٔ عقیق کی رغبت ہے؟ فرمایا: ہاں، چنانچہ دونوں نکلے، حفصہ کے گھر سے گزر ہوا تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے، اور دونوں بہت دیر تک باتیں کرتے رہے پھر ان کے پاس سے نکلے، دوسری مرتبہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابوعتیق کے بیٹے سے کہا: کیا آپ کو وادیٔ عقیق کی رغبت ہے؟ تو انھوں نے کہا: میرے بھائی تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ تمھیں حفصہ کی رغبت ہے۔

(الطبقات الکبریٰ: الطبقۃ الخامسۃ من الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 307)

اس حدیث کی سند میں ایسے لوگ ہیں جن کی سوانح جرح و تعدیل کی کتابوں میں موجود نہیں، اس کے متن کی نکارت اس کے ضعیف ہونے کے لیے کافی ہے۔

(الطبقات الکبریٰ: الطبقۃ الخامسۃ من الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 305) 

3۔ حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بتایا جعفر بن محمد سے روایت کرتے ہوئے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حسن شادی کرتے رہتے ہیں اور طلاق دیتے رہتے ہیں یہاں تک کہ مجھے ڈر لگنے لگا کہ قبائل دشمنی نہ کرنے لگیں۔

(الطبقات الکبریٰ: الطبقۃ الخامسۃ من الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 301)

یہ اثر مرسل ضعیف ہے۔

(الطبقات الکبریٰ: الطبقۃ الخامسۃ من الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 301)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی شادیوں کی کثیر تعداد سے متعلق تاریخی روایتیں سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہیں، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، اور اس کثیر تعداد سے متعلق روایتوں کے من گھڑت ہونے کی تائید درج ذیل امور سے ہوتی ہے:

1۔ یہ روایتیں اگر صحیح ہوتیں تو انھی کے مطابق سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بہت سی اولاد ہوتی، جب کہ بچے اور بچیوں کو ملا کر ان کی بائیس اولاد تھی، اور یہ تعداد اس زمانے کے اعتبار سے فطری تھی، اور شادیوں کی کثرت سے متعارض ہے، اس کثرت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

2۔ ان روایتوں کے ضعیف اور موضوع ہونے پر یہ روایت بھی دلالت کرتی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھتے اور کہتے تھے: تم لوگ حسن سے اپنی بچیوں کی شادی نہ کیا کرو، وہ بہت زیادہ طلاق دینے والے ہیں، جیسا کہ صاحب قوت القلوب نے ذکر کیا ہے۔

(قوت القلوب: جلد 2 صفحہ 246)

امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا منبر پر لوگوں کو ان کی شادی کرنے سے روکنا یا تو اس بنیاد پر ہو گا کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو ایسا کرنے سے روکا ہوگا، اور انھوں نے بات نہ مانی ہو گی، اس لیے مجبوراً اس بات کا اظہار کیا ہو گا اور لوگوں کو ان سے شادی سے روکا، یا اس بنیاد پر ہو گا کہ انھوں نے شروع ہی سے اس سے روکا ہو۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اس سلسلے میں اپنے والد کی ناپسندیدگی کا علم نہ ہوگا، اور دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔

پہلی بات اس لیے درست نہیں ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنے باپ کے فرمانبردار تھے، ان کی نافرمانی اور مخالفت نہیں کرتے تھے اور دوسری بات اس لیے درست نہیں ہے کہ امیر المؤمنینؓ کے لیے اچھی بات یہ تھی کہ اپنے بیٹے کو اپنی ناپسندیدگی سے آگاہ کرتے اور عام لوگوں کے سامنے منبر پر اس کا اعلان نہ کرتے کہ باپ اور بیٹے کے رشتوں میں بگاڑ پیدا ہوجائے۔

معاً یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ یہ معاملہ شرعاً جائز ہے یا نہیں۔ اگر جائز ہے تو امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے روکنے کے کیا معنیٰ؟ اور اگر جائز نہیں ہے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کیسے اس کو انجام دیتے؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس حدیث کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے دشمنوں نے گھڑا ہے، تاکہ سیدنا حسنؓ کی بہترین سیرت کو بگاڑ کر رکھ دیں۔

(حیاۃ الإمام الحسن: جلد 2 صفحہ 451)

امت کی تاریخ اور مصلحین کی سیرت کو بگاڑنے سے متعلق یہ جھوٹے راویوں کی عادت رہی ہے۔ یہیں سے علم جرح و تعدیل، روایتوں پر حکم لگانے، اور اس عظیم کارنامے کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ جس کو علمائے حدیث نے اس طرح کی روایتوں کی خرابیوں کو بیان کرنے میں انجام دیا ہے۔

بنا بریں ہم ابتدائے اسلام کی تاریخ کی چھان بین کرنے والوں کو اس بات کی نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کی روایتوں کو جانچیں اور پرکھیں، تاکہ کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرسکیں اور امت کے لیے اپنی ایک عظیم خدمت کو پیش کرسکیں، اور ان لوگوں کی طرح گڑھے میں نہ گریں جو ضعیف اور موضوع روایات پر اعتماد کرنے کی وجہ سے گڑھے میں گرے۔

3۔ ان روایتوں کے موضوع اور من گھڑت ہونے کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی جب وفات ہوئی تو بہت ساری عورتیں ننگے پیر، کھلے سر سیدنا حسنؓ کے جنازے کے پیچھے نکل پڑیں، اور کہہ رہی تھیں: ہم سب حسن رضی اللہ عنہ کی بیویاں ہیں۔

صفحہ 2 از 3