سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شادی، ان کی بیویاں، ان سے متعلق…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شادی، ان کی بیویاں، ان سے متعلق روایتیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

اس روایت کا موضوع اور من گھڑت ہونا واضح ہے۔ عورتوں کے اس مجمع کے ننگے پاؤں، کھلے سر، لوگوں کے سامنے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیویاں ہونے کا اعلان کرتے ہوئے نکلنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر ان کے نکلنے کی وجہ رنج و غم کا اظہار تھا تو اس اعلان اور مردوں کے شانہ بہ شانہ بھیڑ میں چلنے کی وجہ کیا تھی؟ جب کہ عورتوں کو حجاب اور گھر سے بے پردہ نہ نکلنے کا حکم دیا گیا ہے، یہ اور اس جیسے دوسرے آثار سند کے اعتبار سے صحیح اور ثابت نہیں ہیں۔

گزشتہ روایتوں کے مشابہ یہ روایت بھی ہے جس کو محمد بن سیرین نے روایت کیا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے شادی کی، تو ان کے پاس بطور مہر سو لونڈیوں کو بھیجا، اور ہر لونڈی کے ساتھ ایک ہزار درہم بھی تھا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 197)

یہ بات بعید از قیاس ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنی ایک بیوی کو بطور مہر اتنا زیادہ مال دے دیں، یہ اسراف و فضول خرچی ہے جس سے اسلام میں منع کیا گیا ہے، اور مسنون مہر پر اکتفا کرنے کا حکم دیا گیاہے، اس کا مقصد شادی کو آسان بنانا ہے، اور یہ کہ لوگوں کو اس سے متعلق پریشانی اور تنگی نہ لاحق ہو۔

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت کے خلاف نہیں کرسکتے، اور نہ آپﷺ کی شریعت کے منافی کوئی راہ اپنا سکتے ہیں، یہ اور اس طرح کی روایتیں موضوع و من گھڑت ہیں اور بیویوں کی کثرت کے موضوع اور من گھڑت ہونے کی تائید کرتی ہیں۔

بہرحال مذکورہ روایتوں کے علاوہ کوئی ایسی صحیح دلیل نہیں ملتی جو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیویوں کی از حد کثرت کو ثابت کرے، مذکورہ روایتیں تنقید سے خالی نہیں ہیں اس لیے وہ اثبات کی دلیل نہیں ہوسکتیں۔

(حیاۃ الامام الحسن بن علی: جلد 2 صفحہ 452)

اس چیز کو جاننے کے لیے کہ دشمنان اسلام ضعیف و باطل روایات سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شادی سے متعلق مستشرق ’’لامنس‘‘ کا قول نقل کرتا ہوں، چنانچہ اس نے سیدنا حسنؓ پر بہتان تراشی کرتے ہوئے اور آپ کے حامیوں پر تنقید کرتے ہوئے آپ کی بیویوں کے بارے میں درج ذیل باتیں کہیں:

’’اور جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جوانی ڈھل گئی، جوانی کے ایام کو شادی و طلاق میں ختم کردیا، تو ان کی بیویوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی، انھی آزادانہ اخلاق کے باعث انھیں مِطْلاق (زیادہ طلاق دینے والے) کا لقب دیا گیا، اور انھی اخلاق کے باعث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بہت ساری مخالفتوں سے دوچار ہونا پڑا، اسی طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے فضول خرچ ہونے کا ثبوت دیا، چنانچہ انھوں نے اپنی ہر بیوی کے لیے گھر اور نوکر چاکر متعین کیا، اس طرح ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فقر زدہ خلافت میں کس طرح مال کا ضیاع کرتے تھے۔‘‘

(دائرۃ المعارف: جلد 7 صفحہ 400)

انگریز مستشرق ’’لامنس‘‘ نے اپنے اس قول کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بہت زیادہ شادیاں کرنے والے اور طلاق دینے والے تھے، میں موضوع اور من گھڑت روایات پر اعتماد کیا ہے، نیز ایسی جھوٹی بہتان تراشیاں کیں جس کا کوئی قائل نہیں چنانچہ اس نے کہا:

1۔ اپنے کثیر زواج و طلاق کے باعث انھوں نے اپنے والد کو سخت مخالفتوں سے دوچار کردیا، جب کہ سیدنا علی و حسن رضی اللہ عنہما کی سوانح لکھنے والے کسی شخص نے مستشرق ’’لامنس‘‘ کی من گھڑت سخت مخالفتوں کی جانب اشارہ نہیں کیا ہے۔

2۔ اس نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی ہر بیوی کے لیے گھر اور نوکر چاکر متعین کیا تھا، جب کہ کسی مؤرخ نے ایسی بات نقل نہیں کی ہے، یہ کھلا جھوٹ اور محض افترا پردازی ہے۔

بلاشبہ عیسائی مشنریاں(جو اسلام کی باغی ہیں اور لگاتار اس پر حملے کر رہی ہیں) ایسے کرایہ کے اصحاب قلم کو آگے بڑھاتی ہیں تاکہ اسلام کو بدنام کیا جائے، اس کی صحیح تصویر کو مسخ کیا جائے اور اس کے اساطین جنھوں نے انسانیت کو صحیح راہ دکھائی اور دنیا میں تہذیب و تمدن کے میناروں کو بلند کیا ان کی قدروں کو گھٹا دیا جائے۔

(حیاۃ الامام الحسن بن علی: جلد 2 صفحہ 455) 




صفحہ 3 از 3