پلمبری اور شیعوں کا ہیرو مختار ثقفی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ…

پلمبری اور شیعوں کا ہیرو مختار ثقفی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور مرتد ہو کر مرا

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

ترجمہ: امام محمد بن علی الباقر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ابن الحسین زین العابدین رحمۃ اللہ (ایک دن) کعبہ کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر مختار بن ابی عبید پر لعنت کر رہے تھے تو آپ سے ایک مرد نے کہا: اے ابوالحسن (سیدنا زین العابدین رحمۃ اللہ کی کنیت) آپ کیوں اس پر سب کرتے ہیں جب کہ وہ آپ لوگوں کے لیے ہی تو ذبح (قتل) ہوا ہے؟ تو اس پر آپ نے فرمایا: بے شک وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہت زیادہ جھوٹ بولتا تھا۔ (أخبار مكة فی قديم الدهر وحديثه: جلد، 1 صفحہ، 232 رقم الحدیث 426) (اس روایت کی سند حسن صحیح ہے۔چشتی)

اس روایت کی سند کی تحقیق مندرجہ ذیل ہے: اس روایت کی سند کا پہلا راوی امام عبداللہ بن محمد بن عباس المکی الفاکہی ہے جن کے بارے میں امام ذہبیؒ لکھتے ہیں: الإِمَامُ، أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بنُ مُحَمَّدِ بنِ العَبَّاسِ المكِّی، الفَاكِهِی

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 16 صفحہ، 44 رقم، 29)

امام ذہبیؒ کے نزدیک لفظ امام اعلیٰ درجہ کی توثیق میں سے ہے۔ ملاحظہ ہو۔ (الموقظۃ للذہبی: صفحہ، 76)

اس سند میں دوسرا راوی یحییٰ بن ابی طالب جعفر بن الزبرقان ہے جن کی توثیق مندرجہ ذیل ہے:

وقال ابن أبی حاتِم: كتبتُ عَنْهُ مَعَ أبی، وسألتُ أبی عَنْهُ، فقال: محله الصدق

(تاریخ بغداد: جلد، 16 صفحہ، 323 رقم، 7464)

وَقَالَ البَرْقَانِی: أَمرنِی الدَّارَقُطْنِی أَنْ أُخَرِّجَ لِيَحْيَى بنِ أَبِی طَالِبٍ فِی الصَّحِيْحِ

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 620 رقم، 242)

وثقه الدارقطنی

(لسان المیزان: جلد، 8 صفحہ، 452 رقم، 8475)

قال الدارقطنی: لم يطعن فيه أحد بحجة، وَلا بأس به عندی

(تاریخ بغداد: جلد، 16 صفحہ، 323 رقم، 7464)

وقال مسلمة بن قاسم: ليس به بأس تكلم الناس فيه

(لسان المیزان: جلد، 8 صفحہ، 452 رقم، 8475)

اس راوی پر ایک جرح ہے جس کی نوعیت بھی امام ذہبی رحمۃ اللہ نے بتا دی ہے امام ذہبیؒ فرماتے ہیں:

وقال موسىٰ بن هارون: أشهد أنه يكذب عنی فی كلامه ولم يعن فی الحديث فالله أعلم والدار قطنی فمن أخبر الناس به

ترجمہ: اور موسیٰ بن ہارون نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ جھوٹ بولتا ہے۔ (اس کے بعد امام ذہبیؒ کلام کرتے ہیں) اس سے مراد یہ ہے کہ اپنی گفتگو میں جھوٹ بولتا ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ حدیث بیان کرتے وقت جھوٹ بولتا ہے۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ اور امام دارقطنیؒ تو اس کے بارے میں سب سے زیادہ واقف تھے۔

(میزان الاعتدال: جلد، 4 صفحہ، 387 رقم، 9547)

امام دارقطنی علیہ الرحمہ نے توثیق کر دی ہے لہٰذا اب توثیق ہی راجح ہے۔ واللہ اعلم، اس کے علاوہ الکنیٰ والاسماء للدولابی (جلد، 2 صفحہ، 464 رقم الحدیث 835) میں اسی روایت میں اس راوی کی متابعت ثقہ راوی ابوالحسن علی بن معبد بن نوح البغدادی نے کر رکھی ہے اور حافظ دولابی حنفی بھی صدوق اور حسن الحدیث ہے ان پر جو جرحیں ہیں وہ ساری مبہم اور تعصب پر مبنی ہیں۔ (واللہ اعلم)

اس روایت کے تیسرے راوی ابوالمنذر اسماعیل بن عمر الواسطی ہیں جو صحیح مسلم کے راوی بھی ہیں جن کے بارے میں خطیب بغدادی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:

وكان ثقة

(تاریخ بغداد: جلد، 6 صفحہ، 241 رقم، 3279)

امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں:

من تجار أهل واسط، ليس به بأس، وهو إسماعيل بن عمر

(تاریخ بغداد: جلد، 6 صفحہ، 241 رقم، 3279)

اس روایت کی سند میں چوتھے راوی عیسیٰ بن دینار الخزاعی ہے جس کی توثیق مندرجہ ذیل ہے۔

امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں:

ليس به بأس

(سوالات ابن الجنید: صفحہ، 427 رقم، 640)

عيسىٰ بن دينار ثقة

(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم جلد، 6 صفحہ، 275 رقم، 1527)

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

عِيسَى بْن دِينَار لَيْسَ بِهِ بَأْس

(الملل و معرفۃ الرجال: جلد، 2 صفحہ، 339 رقم، 2508)

امام ابوحاتم الرازی فرماتے ہیں:

عيسىٰ بن دينار فقال صدوق عزيز الحديث

(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: جلد، 6 صفحہ، 275 رقم، 1527)

اس روایت میں پانچویں راوی محمد بن علی بن الحسین الباقر ہیں ویسے یہ بزرگ ہستی توثیق کی محتاج نہیں پھر بھی امام ذہبی رحمۃ اللہ سے آپ کی ادنیٰ سی توثیق پیش کر دیتا ہوں۔

امام ذہبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

هُوَ السَّيِّدُ، الإِمَامُ، أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بنُ عَلِی بنِ الحُسَيْنِ بنِ عَلِی العَلَوِی، الفَاطِمِی، المَدَنِی، وَلَدُ زَيْنِ العَابِدِيْنَ.

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 4 صفحہ، 401 رقم، 158)

امام دارقطنیؒ فرماتے ہیں:

وَأَبُو جَعْفَرٍ وَإِنْ كَانَ مِنَ الثِّقَاتِ

(سنن الدارقطنی: جلد، 5 صفحہ، 243 رقم الحدیث 4260)

اس روایت کی سند میں سب سے آخری راوی اور بزرگ ہستی سیدنا علی بن الحسین بن علی زین العابدین رحمۃ اللہ کی ہے ویسے یہ بزرگ ہستی بھی توثیق کی محتاج نہیں پھر بھی ادنیٰ سی توثیق پیش کر دیتا ہوں۔

امام ذہبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

وَكَانَ عَلِی بنُ الحُسَيْنِ ثِقَةً، مَأْمُوْناً، كَثِيْرَ الحَدِيْثِ، عَالِياً، رَفِيْعاً، وَرِعاً

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 4 صفحہ، 387 رقم، 157)

رواۃ کی تحقیق سے واضح ہو گیا کہ اس روایت کی سند حسن صحیح ہے۔

محترم قارئین: یہ شخص یعنی مختار بن عبید ثقفی شیعوں کے ملحد فرقے کیسانیہ کا بانی تھا جن کا ماننا تھا کہ امام معصوم اور گناہوں سے پاک ہوتا ہے۔ یہ فرقے کے لوگ برخلاف اثناء عشریہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا محمد بن علی الحنفیہؒ کو امام معصوم مانتے تھے اور ان کے متعلق رجعت کا عقیدہ رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ اس فرقے کے بنیادی عقائد میں بداء کا عقیدہ بھی شامل ہے یعنی اللہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے اور نئے حالات کے پیشِ نظر قضائے الہٰی بدلتی رہتی ہے۔ علامہ شہرستانی لکھتے ہیں کہ مختار ثقفی نے بداء کا عقیدہ اس لیے اختیار کیا تھا کہ وہ خود پر نازل ہونے والی وحی کے زیرِ اثر یا امام کے پیغام کی وجہ سے اپنے متبعین کے سامنے ہونے والے واقعات کا دعویٰ کرتا ہے اور اگر وہ واقعات اسی طور سے ظہور پذیر ہو جاتے ہیں تو وہ انہیں اپنے دعویٰ کی دلیل قرار دیتا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو کہتا تھا کہ اللہ نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ (الملل و النحل)

صفحہ 2 از 3