Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا محسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا محسن رضی اللہ عنہ کا تذکرہ صرف اس حدیث میں ملتا ہے جسے ہانی بن ہانی نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، فرمایا: جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: مجھے میرے لاڈلے کو دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے کہا: میں نے اس کا نام ’’حرب‘‘ رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ ’’حسن‘‘ ہے، جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے میرے لاڈلے کو دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے کہا: میں نے اس کا نام ’’حرب‘‘ رکھا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں وہ ’’حسین‘‘ ہیں۔ جب تیسرے بچے کی پیدائش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا: مجھے میرے لاڈلے کو دکھاؤ،تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے، میں نے کہا: میں نے ان کا نام ’’حرب‘‘ رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ مُحَسَّن ہیں۔ پھر فرمایا: میں نے ان لوگوں کا نام ہارون علیہ السلام کے بچوں کے نام ’’شمسندبَر‘‘ و ’’شُبَیر‘‘ و ’’مُشَبَّر‘‘ کے وزن پر رکھا ہے۔

(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 98 اس کی سند صحیح ہے۔)

بظاہر سیدنا محسن رضی اللہ عنہ بچپن میں وفات پاگئے۔

(التبیین فی أنساب القرشیین لابن قدامۃ المقدسی: صفحہ 133)

اس صحیح حدیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ محسن عہد نبوی ہی میں وفات پاچکے تھے، اس سے جھوٹی روایات بیان کرنے والوں کا یہ زعم باطل ہو جاتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مارا یہاں تک کہ سیدنا فاطمہؓ کا حمل ساقط ہوگیا۔