سیدہ ام کلثوم بنت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما
علی محمد الصلابیسیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مطالبہ کو پورا کرتے ہوئے ان کے فضائل و مناقب کو ثابت کرتے ہوئے سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن سے پیدا ہونے والی اپنی بچی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی ان سے کردی، نیز اس بات کا اظہار بھی مقصود تھا کہ ان کے مابین بڑے اچھے اور مبارک و مضبوط تعلقات ہیں جن سے حاسد دشمنان اسلام کے دل جل جاتے ہیں اور ان کی ناک خاک آلود ہوجاتی ہیں۔
(الشیعۃ وأہل البیت: صفحہ 105)
سیدہ ام کلثوم بنت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کے بطن سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ایک لڑکی جن کا نام ’’رقیہ‘‘ اور ایک لڑکا جن کا نام ’’زید‘‘ تھا پیدا ہوئے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک رات بنو عدی کے کچھ لوگوں کے مابین جھگڑا ہوا، زید بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس صلح کرانے کی غرض سے گئے، سیدنا زیدؓ کو ایسی چوٹ لگی کہ آپ کا سر پھٹ گیا اور فوراً وفات پاگئے، ان کے قتل پر ان کی ماں اس قدر غمگین ہوئیں کہ بے ہوش ہوگئیں اور فوراً انتقال کرگئیں۔ ایک ہی وقت میں ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹے کو سپرد خاک کیا گیا، عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے ان کی جنازہ کی نماز پڑھائی، سیدنا حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما نے انھیں آگے بڑھایا اور خود ان کے پیچھے نماز ادا کی
(أسد الغابۃ: جلد 7 صفحہ 425، ونساء أہل البیت: منصور عبدالحکیم: صفحہ 185)
ہم نے اپنی کتاب عمر بن خطابؓ میں ان کی سیرت کو قدرے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔