Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہما

  علی محمد الصلابی

سیدنا محمد بن حنفیہ کی والدہ بنو حنیفہ کی لونڈی تھیں، ان کا نام خولہ بنت جعفر تھا، آپ بڑے ہی عالم، فاضل، متدین اور عبادت گزار تھے۔ معرکۂ جمل میں اپنے والد کا جھنڈا اٹھانے والے تھے، بڑے طاقتور اور صاحب حکمت تھے، آپ کے حکیمانہ کلام میں سے ہے۔

لَیْسَ بِحَکِیْمٍ مَنْ لَمْ یُعَاشِرْ بِالْمَعْرُوْفِ مَنْ لَا یَجِدُ مِنْ مُعَاشَرَتِہِ بُدًّا حَتّٰی یَجْعَلَ اللّٰہَ لَہُ فَرَجًا وَ مََخْرَجًا۔

’’وہ شخص عقل مند نہیں جو ایسے شخص کے ساتھ بھلائی کے ساتھ پیش نہ آئے جس کے ساتھ بھلائی کے ساتھ پیش آنا ضروری ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے چھٹکارے کی کوئی سبیل پیدا کر دے۔‘‘

إِنَّ اللّٰہَ جَعَلَ الْجَنَّۃَ ثَمَنًا لِأَنْفُسِکُمْ فَـلَا تَبِیْعُوہَا بِغَیْرِہَا۔

’’اللہ تعالیٰ نے جنت کو تمھاری جانوں کی قیمت قرار دیا ہے، اس لیے تم انھیں کسی اور چیز کے عوض نہ بیچو۔‘‘

مَنْ کَرُمَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ لَمْ یَکُنْ لِلدُّنْیَا عِنْدَہُ قَدَرٌ۔

’’جو کریم النفس ہوگا اس کے نزدیک دنیا کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی۔ ‘‘

کُلُّ مَا لَا یُبْتَغَی بِہِ وَجْہُ اللّٰہِ یَضمَحِلٌ۔

’’ہر وہ چیز جس سے اللہ کی رضا مقصود نہ ہو ختم ہوجاتی ہے۔‘‘

آپ کی وفات 93ھ میں ہوئی۔ 

(التبیین فی أنساب القرشیین: صفحہ 136)