سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے کے چچا اور پھوپھیاں
علی محمد الصلابیطالب بن ابوطالب
غزوۂ بدر کے بعد بحالت شرک ان کی وفات ہوئی، ایک قول کے مطابق وہ گھر سے نکلے، پھر واپس نہ لوٹے، کہاں گئے، ان کی کیا خبر رہی کچھ نہیں معلوم ہوسکا۔ وہ گمشدہ لوگوں میں سے ایک ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے تھے، چنانچہ ان کے آپﷺ کی شان میں چند مدحیہ قصائد ہیں۔ مجبوراً غزوۂ بدر کے لیے نکلے تھے، غزوہ بدر کے لیے نکلتے وقت ان کے اور قریش کے مابین گفتگو ہوئی۔ ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم اے بنو ہاشم! تم اگرچہ ہمارے ساتھ چل رہے ہو لیکن تمھارا جھکاؤ محمد کی جانب ہے، چنانچہ طالب بن ابوطالب مکہ لوٹنے والوں کے ساتھ لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں قصیدہ کہا، جس میں بدر کے کنویں میں مدفون لوگوں کا رونا رویا ہے۔
(الجوہرۃ فی نسب النبی و اصحابہ من المرتضی للندوی: صفحہ 23)