حدیث اصحابی کالنجوم (میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں) کی…

حدیث اصحابی کالنجوم (میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں) کی تحقیق

  شیخ الحدیث مبارکپوری

صفحہ 3 از 3
(ونقل خلاصته ابن الملقن فی الخلاصة: جلد، 2 صفحہ، 175 و أخره، و به ختم كلامه علی الحديث، فقال: و قال ابن حزم: خبر مكذوب موضوع باطل لم يصح قط)
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ روایت بھی سنداً موضوع ہے اور مذکورہ حدیث کے معنیٰ بھی موضوع اور باطل اور مکذوب ہونے پر ابنِ حزم رحمۃ اللہ نے احکام الاحکام: (جلد، 5 صفحہ، 64) اور (جلد، 6 صفحہ، 83، 86) میں بڑی اچھی بحث کی ہے، اسے ضرور ملاحظہ کیا جائے۔
5: و روى ابونعيم الأصبهانی (جلد، 2 صفحہ، 158) قال حدثنا ابو الحسن أحمد بن القاسم بن الريان المصری المعروف مالكی بالبصرة فى نهر دبيس قرأة عليه، فأقره به، قال لنا احمد بن ابراهيم بن نببط بن شريط ابو جعفر الأشجعى بمصر، قال حدثنی ابى اسحق بن ابراهيم بن ببيط قال ابى ابراهيم بن ببيط عن جده نبيط بن شريط مرفوعا بلفظ: أهل بيتی كالنجوم بأيهم اقتديتم انتهی والحديث فی نسخته احمد بن نبيط الكذاب، وقد قال الذهبى فی هذا النسخة: فيها أحمد بن القاسم مالكى ضعيف، والحديث أورده ابن عراق فی تنزيه الشريعة (جلد، 2 صفحہ، 419) تبعا لأصله، ذيل الاحاديث الموضوعة، للسيوطی (صفحہ، 201)، وكذا الشوكانی فی الفوائد المجموعة فى الأحاديث الموضوعة (صفحہ، 144) نقلا عن المختصر لكن وقع فيه نسخة نبيط الكذاب فكأنه سقط من النسخة لفظة ابن وهو احمد بن اسحاق نسب الى جده، و إلا فإن نبيطا صحابى (سلسلة الاحاديث الضعيفة: جلد، 1 صفحہ، 82، 83، 84 ،85 ايضاً جلد، 1 صفحہ، 438، 439)
6: و روى القضاعى (جلد، 2 صفحہ، 109) عن جعفر بن عبدالواحد قال لنا وهب بن جرير بن حازم عن ابيه عن الأعمش عن ابى صالح عن ابى هريرة مرفوعا بلفظ: مثل أصحابى مثل النجوم من اقتدى بشئ منها اهتدی
یہ حدیث بھی موضوع ہے اور اس کی آفت جعفر بن عبدالواحد ہیں۔ دارقطنیؒ ان کے بارے میں کہتے ہیں:
یضع الحدیث 
اور ابوزرعہ کہتے ہیں:
روی احادیث لا اصل لہا
اور حافظ ذہبیؒ نے ان کے ترجمہ میں کئی حدیثیں ذکر کی ہیں جن کے وضع کرنے کے ساتھ ان کو متہم کیا ہے انہیں میں یہ زیر بحث حدیث بھی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
انه من بلایاہ
مذکورہ تفصیلی کلام سے معلوم ہوا کہ یہ حدیث بجمیع طرقہ و الفاظ ساقظ اور موضوع ہیں اور معنی، مضمون کے لحاظ سے بھی باطل اور غلط ہے جیسا کہ علامہ ابنِ حزم رحمۃ اللہ نے الاحکام فی اصول لاحکام 
میں تفصیل کے ساتھ اسے بیان کیا ہے۔ فقط 
املاہ: عبیداللہ مبارکپور: 1، 5، 1398ھ محدث بنارس، شیخ الحدیث مبارکپوری نمبر جنوری فروری 1997ء)
ھذا ما عندی والله أعلم بالصواب
فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری
جلد نمبر، 1
صفحہ نمبر، 111

صفحہ 3 از 3