معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے احکامات رسالت کی خلاف ورزی کی۔(مومن کے ماہ وسال)
مولانا ابوالحسن ہزارویمعاویہ (رضی اللہ عنہ) نے احکامات رسالت کی خلاف ورزی کی۔(مومن کے ماہ وسال)
الجواب اہلسنّت
الزام کی بنیاد جس پتھر پر قائم کی گئی ہے ذرا اسے بھی ملاحظہ فرما لیا جائے لکھا ہے۔ اسی سال یعنی 43 ھ میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد بن امیہ کو اپنا نائب بنایا اور یہی وہ پہلا عمل ہے جس کے ذریعہ احکامات رسالت مآبﷺ کی خلاف ورزی کی گئی. (عکسی صفحہ)
زیاد کو نائب بنانے کی صورت میں رسالت مآبﷺ کے وہ کون سے احکامات ہیں جن کی خلاف ورزی ہوگئی؟ اس کی نشاندہی کہیں نہیں کی گئی۔ کیا رسولﷺ نے زیادہ کو نائب بنانے سے روکا تھا؟ حالانکہ زیاد صحابی نہیں جب آپﷺ کا زمانہ ہی نہیں پایا تو آپﷺ نے اس کی نیابت سے کہاں منع کیا ہوگا؟ بالفرض یوں کہا جائے کہ آپ ﷺ نے پہلے سے ہی خبر کر دیا ہو کہ ایک شخص جس کا یہ نام ہوگا خبردار اسے نائب یا والی و معاملات حکومت کا کارندہ مت بنانا تو حضورﷺ کے فرامین و احادیث ذخیرہ روایات میں محفوظ موجود ہیں کیا کسی کونہ میں ایسی روایت کا وجود بھی ہے؟ کم از کم اتنی بات تو ارباب علم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کوئی روایت ایسی موجود نہیں کہ آپﷺ نے زیاد کا نام لے کر اسے والی بنانے یا حاکم و نگران یا نائب بنانے سے منع فرمایا ہو؟ ممکن ہے کسی کو کانوں کان خبر دے دی ہو جیسے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے کان میں آپﷺ نے ایک بات کہی تو وہ رونے لگیں پھر دوسرے کان میں ایک بات کی تو وہ ہنسنے لگیں اگرچہ کان میں کہی ہوئی اس بات کا بھی امت کو علم ہوگیا مگر ممکن ہے اس بات کی خبر کسی کو نہ ہوئی ہو تو کم از کم حضرت علی رضی اللہ عنہ یا حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو گھر کے افراد تھے ان کو تو علم ہو گا اگر زیاد ایسا شخص تھا جو قابل اعتبار نہیں لہٰذا نائب یا والی وغیرہ نہ بنانا چاہیے تو پھر سوال یہ ہے کہ اسی زیاد کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنا والی کیوں بنایا؟ جبکہ یہ نا قابل انکار واقعہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے زیاد کی صلاحیتوں کے پیش نظر اسے والی بنانے کا مشورہ دیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے زیادہ کو کرمان اور فارس کا والی بنا دیا۔
(تہذیب الاسماء للنووی صفحہ 198،199 جلد 1 تحت زیادہ بن سمیہ)
شیعہ مورخین نے بھی زیاد بن سمیہ کی صلاحیتوں اس کی کارکردگی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ان کو والی بنانا اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ بہر حال اتنی بات واضح ہے کہ زیادہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتے ہوئے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا۔
اس وضاحت سے یہ بات صاف ہوگئی کہ یہ بے دلیل بات محض حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے دُشمنی کا اظہار ہے جو کسی اہلسنّت و الجماعت کے خیرخواہ کا کام نہیں ہے۔