Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خالائیں

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خالائیں زینب، رقیہ، ام کلثوم رضی اللہ عنہن ہیں۔

1۔ سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 

سیدنا حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کی سب سے بڑی خالہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہیں، مشرف بہ اسلام ہوئیں، ہجرت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بچیوں میں سے ان کی شادی سب سے پہلے ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، ابوالعاص بن ربیعؓ، مال تجارت اور امانت میں مکہ کے گنے چنے لوگوں میں سے تھے، وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے، ان کی والدہ سیدہ خدیجہ کی سگی بہن ہالہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہیں، سیدہ خدیجہؓ نے نزول وحی سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان کی شادی (زینب سے) کردیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات مانتے تھے چنانچہ آپﷺ نے ان کی شادی کردی، سیدہ خدیجہؓ ان کو اپنے بچے کی طرح مانتی تھیں، جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز کیا تو سیدہ خدیجہؓ اور ان کی بچیاں مشرف بہ اسلام ہوگئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سامنے اللہ کا حکم پیش کیا تو وہ سب ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے کہا: تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو غموں سے چھٹکارا دے رکھا ہے، ان کی بچیوں کو واپس کرکے انھیں ان کے سلسلے میں مشغول کردو۔ ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو، ہم تمھاری قریش کی جس عورت سے چاہو گے شادی کردیں گے، جواباً انھوں نے کہا: اللہ کی قسم میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دوں گا، مجھے ان کے بدلے قریش کی کوئی عورت پسند نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داماد کی تعریف کرتے تھے۔

(سیرۃ ابن ہشام: جلد 2 صفحہ 296)

ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ سر زمین شام کی جانب ان کے تجارتی سفر میں انھیں سیدہ زینب کی یاد آئی تو انھوں نے کہا: 

(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 32، مستدرک الحاکم: جلد 4 صفحہ 44)۔

ذکرت زینب لما ورکت إرما

فقلت، سقیا لشخص یسکن الحرما

’’جب میں منزل کا پتہ دینے والے پتھروں پر لیٹا تو مجھے زینب کی یاد آئی اور میں نے کہا: حرم میں رہنے والی۔‘‘

بنت الأمین جزاہا اللّٰه صالحۃ

و کل بعل سیثني بالذي علما

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 31)

’’امین وحی کی نیک بچی کو اللہ سیراب کرے، انھیں جزائے خیر دے، ہر شوہر وہی تعریف کرتا ہے جسے وہ جانتا ہے۔‘‘

ا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی اپنے شوہر سے وفاداری 

جس طرح ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ اپنی بیوی سیدہ زینب کے وفادار تھے، وہ بھی ایسے ہی تھیں، ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اسلام لانے سے انکار کردیا وہ اسلام لانے کے باوجود اپنے شوہر ہی کے ساتھ رہیں، جب معرکۂ بدر پیش آیا تو ابوالعاص رضی اللہ عنہ کفار قریش کے ساتھ لڑنے گئے، قیدیوں کے ساتھ قید کرلیے گئے۔ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیہ میں مال بھیجا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بھی ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے فدیہ میں مال بھیجا، جس میں ان کا وہ ہار تھا جسے سیدہ خدیجہ نے انھیں دے کر ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی کے موقع پر رخصت کیا تھا۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آبدیدہ ہوگئے اور مسلمانوں سے کہا:

إِنْ رَأَیْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوْا لَہَا أَسِیْرَہَا وَتَرُدُّوْا عَلَیْہَا مَا لَہَا فَافْعَلُوْا۔

’’اگر تمھاری رائے ہو کہ تم ان کے قیدی کو آزاد کردو اور ان کا مال واپس کردو تو ایسا کرو۔‘‘

تو لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے اے اللہ کے رسول! لوگوں نے انھیں آزاد کردیا اور ان کا مال واپس کردیا۔

(سیر اعلام النبلاء: 472)

ہمارے لیے مناسب ہے کہ ہم ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی اپنے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کے مفہوم پر غور کریں، اس کی بہترین عبارت اور معیاری ادب کو دیکھیں تاکہ ہم اسے اپنی زندگی میں اپنا سکیں۔

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا مکہ میں بے دست و پا عورتوں میں سے تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہر سے خفیہ عہد لے لیا تھا کہ وہ سیدہ زینب کو ان کے پاس جانے دیں گے، چنانچہ انھوں نے اس عہد کو پورا کرتے ہوئے زینب کو جانے دیا، وہ مدینہ کے راستے میں سخت آزمائش سے دوچار ہوئیں۔

(تاریخ الإسلام للذہبی: المغازی: صفحہ 69)

ب: سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کے شوہر کا اسلام اور ان کی امانت داری 

جب اسلام کے باعث دونوں میں جدائی ہوئی تو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ مکہ میں رہنے لگے، اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں رہنے لگیں، فتح مکہ سے کچھ پہلے ابوالعاص (جو امین تھے) اپنے اور قریش کے چند لوگوں کے اموال کو لے کر بغرض تجارت ملک شام گئے، واپسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک دستے سے مڈ بھیڑ ہوگئی۔ ان کے پاس جو کچھ تھا ان لوگوں نے لے لیا، اور وہ ان کی دسترس سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے، جب دستہ مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو ابوالعاص رضی اللہ عنہ رات میں آئے اور سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے، ان سے پناہ طلب کی، انھوں نے پناہ دے دی، وہ اپنے مال کی تلاش میں آئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھانے نکلے، لوگوں نے آپﷺ کے پیچھے تکبیر پکار کر نماز شروع کردی، ایسے میں سیدہ زینبؓ نے عورتوں کے چبوترے سے بآواز بلند کہا: اے لوگو! میں نے ابوالعاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور کہا: لوگو! جو کچھ میں نے سنا کیا تم لوگوں نے اسے سنا؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے جو کچھ تم نے سنا اس کو سننے سے پہلے مجھے اس سلسلے میں کچھ علم نہیں ہے، بلاشبہ مسلمانوں کا ادنیٰ آدمی بھی پناہ دے سکتا ہے۔ پھر آپ گھر لوٹے، اپنی بچی کے پاس گئے اور کہا: اے میری لاڈلی! انھیں عزت سے رکھو، خیال رہے کہ وہ تم سے ازدواجی تعلق نہ قائم کریں کہ تم ان کے لیے حلال نہیں ہو۔

مال چھیننے والے دستہ کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا بھیجا اور کہا: ہمارے نزدیک اس شخص کی حیثیت کا تمھیں علم ہے، تم نے ان کا مال چھین لیا ہے، اگر تم احسان کرو اور ان کو ان کا مال واپس دے دو تو میں اسے پسند کروں گا، اور اگر تم انکار کرتے ہو تو یہ تمھارے لیے اللہ کی جانب سے مال غنیمت ہے، تم اس کے زیادہ حقدار ہو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ہم انھیں واپس دے رہے ہیں، چنانچہ ان کو واپس دے دیا، ایک ڈول لا رہا ہے، دوسرا گھڑا اور لوٹا لا رہا ہے، تیسرا بہنگی (ایسی لکڑی جس کے دونوں سرے پر رسی لٹکتی ہے، ان پر بوجھ لاد کر لے جایا جاتا ہے۔) لا رہا ہے۔ وہ مال لیے ہوئے مکہ پہنچے، قریش کے ہر صاحب مال کو اس کا مال واپس کردیا، پھر کہا: اے قریش کے لوگو! کیا میرے پاس تم میں سے کسی کا مال باقی رہ گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ایسا ہرگز نہیں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے، ہم نے آپ کو وفادار اور اچھا پایا۔ اس کے بعد انھوں نے کہا: میں کلمۂ توحید ’’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ کا اعلان کر رہا ہوں۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسلام لانے سے یہ خوف مانع تھا کہ تم یہ گمان کرنے لگ جاتے کہ میں نے تمھارے اموال کو کھا جانے کا ارادہ کرلیا ہے، اب جب کہ اللہ نے ان اموال کو تم تک پہنچا دیا ہے اور میں ان سے بری الذمہ ہو چکا ہوں میں نے اسلام قبول کرلیا ہے، پھر نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے۔

(تاریخ الإسلام للذہبی: المغازی: صفحہ 70)

عامر شعبی وغیرہ سے روایت ہے کہ ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ جب مشرکین کے اموال لیے ملک شام سے آرہے تھے ان سے کہا گیا: کیا تمھاری چاہت ہے کہ تم اسلام لے آؤ اور مشرکین کا یہ سب مال لے لو۔ ابوالعاص نے کہا: امانت میں خیانت سے اسلام کی ابتداء بہت بری بات ہے۔

(دلائل النبوۃ للبیہقی: جلد 1 صفحہ 154)

ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے اقوال سے ہم امانت داری، غیر مسلموں تک سے حسن اخلاق سے پیش آنا جیسے اہم باتوں کو سیکھ سکتے ہیں، اس لیے مسلمان کو کسی بھی حالت میں امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہیے۔

جب ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپﷺ نے ان کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے پاس عقد قدیم کے ساتھ لوٹا دیا، عقد جدید نہیں کیا۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 41)

سیدہ زینبؓ اور ان کے شوہر کے مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے سے متعلق بہت ساری روایتیں وارد ہیں، لیکن تمام روایتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کی وفاداری اور مکہ سے نکلتے ہوئے سیدہ زینبؓ کے حق میں مشرکین کی ایذا رسانی پر متفق ہیں۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 41)

ج: سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کی وفات اور اولاد

عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ ایک شخص زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کر رہا تھا، اسی اثناء میں قریش کے دو آدمی اس کے پاس پہنچے، اس سے لڑنے لگے، اسے مغلوب کرکے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو دھکیل دیا، وہ ایک چٹان پر گر پڑیں، ان کا حمل ساقط ہوگیا، بہت سارا خون بہ گیا، لوگ ان کو ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے، بنوہاشم کی عورتیں آئیں تو ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے ان کو ان کے حوالے کردیا، اس کے بعد جب ہجرت کرکے آئیں تو ان کی تکلیف باقی تھی، اسی تکلیف میں ان کا انتقال ہوگیا، اس لیے لوگوں کے خیال میں سیدہ زینبؓ شہیدہ ہیں، ان کا انتقال 8ھ کی ابتداء میں ہوا۔

(مجمع الزوائد للہیثمی: جلد 9 صفحہ 216)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ ریکھ میں ان کی تجہیز و تکفین ہوئی۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرمایا کہ جب سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپﷺ نے ہم لوگوں سے فرمایا: تم انھیں طاق عدد یعنی تین یا پانچ مرتبہ نہلاؤ، پانچویں مرتبہ میں کافور کا استعمال کرو، جب غسل دے چکو تو مجھے بتلاؤ، کہتی ہیں کہ آپ نے ہم کو اپنا ازار دیا اور کہا کہ ان کو اس میں لپیٹ دو۔ 

(صحیح مسلم: کتاب الجنائز: جلد 2 صفحہ 648، طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 34)

اس طرح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصیبتوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں، یہاں تک کہ ان کا اثر آپﷺ کی بچیوں تک پہنچا، پھر بھی آپﷺ بہ نیت ثواب صبر کرتے ہوئے دعوت کا کام انجام دیتے رہے، یہیں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی سربلندی کا راستہ بڑا صبر آزما اور قربانیوں کا طالب ہے۔

سیدہ زینبؓ کے بطن سے ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کی دو اولاد امامہ اور علی رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کم عمری ہی میں انتقال کر گئے۔ دوسرے قول کے مطابق نبیﷺ کی زندگی ہی میں وفات پاگئے۔ بلوغت کے قریب پہنچ چکے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر جب مکہ میں داخل ہوئے تو وہ اونٹنی پر آپﷺ کے ردیف تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک امامہ کی بڑی قدر و منزلت تھی، آپﷺ نماز کی امامت کراتے ہوئے انھیں اپنے کندھے پر اٹھائے رہتے۔

ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھاتے ہوئے اس حال میں دیکھا کہ آپ اپنی نواسی امامہ بنت ابوالعاص کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب جھکتے اتار دیتے، اور جب کھڑے ہوتے اٹھا لیتے۔ 

(صحیح مسلم: رقم: 543)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نجاشی نے چند زیور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ دیے، اس میں حبشی نگینہ والی سونے کی انگوٹھی تھی، آپ نے اسے لے لیا، آپ کو اس کی چاہت نہیں تھی، اپنی نواسی امامہ بنت زینب کو دے دی اور کہا: اے لاڈلی! تم اس کو پہن لو۔ 

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 101، 261) اس کی سند ضعیف ہے۔ الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 43) 

دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل و عیال کے پاس پہنچے، آپ یمنی مونگوں والا ہار لیے ہوئے تھے۔ فرمایا: میں اسے اپنے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ محبوب کو دوں گا، انھوں نے کہا: آپﷺ اسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بچی (عائشہ) کو دیں گے، آپﷺ نے اپنی نواسی امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو بلایا، اور ان کو اپنے ہاتھ سے ہار پہنا دیا۔

(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 40۔ الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 4 صفحہ 245)۔ الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 43)۔

ان کی آنکھ میں کیچڑ تھا، آپﷺ نے اسے اپنے ہاتھ سے صاف کردیا۔

سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں، یہاں تک کہ ان کی خالہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے شادی کی۔ ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ نے اپنی بچی کے بارے میں زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو وصی بنا دیا تھا، چنانچہ انھوں نے ان کی شادی سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کردی۔ سیدنا علیؓ کی شہادت کے وقت وہ ان کے پاس تھیں، ان کے بعد مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے شادی کرلی، انھی کے پاس وفات پائیں۔ سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی، اور نہ ہی مغیرہ بن نوفل کی۔

دوسرے قول کے مطابق ان کے بطن سے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے ایک لڑکے پیدا ہوئے جن کا نام یحییٰ تھا، ان کی وفات ہوگئی، اس طرح سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی نسل آگے نہ بڑھ سکی۔