بعد از رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طریقہ ہدایت
مولانا حافظ مہر محمد میانوالیسوال نمبر 37: کیا بعد از رسولﷺ ہادی و رہبر کی عقلا ضرورت ہوگی جو جھگڑے نمٹائے اور دین و شریعت کی تعلیم دے؟
جواب: عقل کا تقاضہ ہے کہ حضورﷺ کی ذات کے سوا مرکزی ہادی اور کوئی نہ ہو کیونکہ آپﷺ خاتم النبیین والمعصومین اور خاتم ہدایت الوحی ہیں، البتہ آپ کی نیابت میں قرآن و سنت مرکز ہدایت رہیں گے اور ان کو نافذ کرنے کے لیے خلفاء و حکام اور فقہاء دین ہوں گے جو منصوص نہ ہوں گے بلکہ لوگوں میں سے ہی سر بر آوردہ اور منتخب شدہ ہوں گے وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ اور لوگوں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ یہ کریں گے لیکن اگر لوگوں کا خود ان سے کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو یہ ممکن ہوگا پھر اختلاف نمٹانے کے لیے مرکزی سر چشمہ قرآن و سنت کی طرف فریقین رجوع کریں گے، اور یہی ایمان کا تقاضا ہے اور انجام کے لحاظ سے بہتر بات ہے، ملاحظہ ہو: وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ (سورۃ النساء: آیت 59)
سوال نمبر 38 :ایسا ہادی منصوص بہتر ہوگا یا غیر منصوص؟
جواب : غیر منصوص بہتر اور کامیاب ہوگا کیونکہ جب تا قیامت خطہ ارض کے لیے حضورﷺ کی نبوت رہے گی اور اربوں مسلمان شرق و غرب میں آباد رہیں گے تو ان کے لیے صرف ایک ایک ہادی ہر دور میں ناکافی رہے گا اور ایسے چار، چھ، بارہ منصوص بھی کردئیے جائیں تو وہ سب روئے زمین پر تو پھیل نہ سکیں گے تو تشنگی ہدایت برقرار رہے گی اور شیعہ تو اس کا تلخ و ناکام تجربہ اپنے عقیدہ کی روشنی میں کر ہی چکے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضرت حسن عسکریؒ تک (ان کے بقول منصوص ہادی) صرف مدینہ، کوفہ، بغداد وغیرہ چند خاص شہروں میں رہے معمولی اقلیت نے ان سے فیض پایا تو باقی شہروں اور ممالک منصوص کے لوگ منصوص کی ہدایت و تعلیم سے محروم ہی رہے پھر 255ھ کے بعد یہ سلسلہ ہدایت بالکل ہی بند ہوگیا اور بارہویں امام قرآن اور آثارِ نبوت لے کر باعتقاد شیعہ ایک غار میں ایسے روپوش ہوئے کہ 1200 سال تک عجل اللہ فرجہ (اللہ امام کو جلدی رہا فرمائے) کی ہزاروں دعاؤں کے بعد بھی ظہور نہ ہوا اور اربوں مسلمان اس عرصہ میں قرآن و تعلیم امام سے محروم رہے اور معلوم نہیں کب تک رہیں گے، اگر خیال ہو کہ امام ظاہر ہوتا تقیہ نہ کرتا تو اپنے تائبین کی بدولت ساری دنیا کا انتظام ہدایت کر لیتا تو ہم کہتے ہیں کہ”کاش ایسا ہوتا“ کی فرضی تمنا سوائے حسرت و یاس کے کوئی فائدہ نہیں دیتی اور ان کے نائب در نائب فیض ہدایت بالفرض عام کرسکتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہزاروں لاکھوں شاگرد در شاگرد یہ فریضہ کیوں سرانجام نہیں دے سکتے؟ آخر گنبدِ خضریٰ میں ایک خاص کیفیت کے ساتھ آپ زندہ ہیں، جو غار والے امام منصوص کی زندگی سے ہزار درجے بہتر ہے۔
الغرض سب دنیا کے لیے تبلیغ ہدایت اور اتمامِ حجت کی خدا نے یہی سنت قائم کی ہے کہ امت کے ہزاروں لاکھوں علماء، صلحاء، فقہاء مبلغین قرآن و سنت کی شمعیں لے کر دنیا کے کونے کونے اور قریہ قریہ پہنچ جائیں ان کو اسلام و شریعت کی تعلیم دیں اور وہ منصوص نہ ہوں تاکہ کسی کی عملی کوتاہی سے اگر کچھ شکایت ہو تو وہ دوسرے سے قرآن و سنت کا فیض پاسکے اسی لیے حضورﷺ فرما گئے:
علماء امتی کانبیآءِ بنی اسرائیل: میری امت کے علماء ( فیض عام اور کثرت میں) بنی اسرائیل کی طرح ہیں۔
اور قرآن نے فرمایا:
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰٮةَ فِيۡهَا هُدًى وَّنُوۡرٌ يَحۡكُمُ بِهَا النَّبِيُّوۡنَ الَّذِيۡنَ اَسۡلَمُوۡا لِلَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَ الرَّبَّانِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ كِتٰبِ اللّٰهِ وَكَانُوۡا عَلَيۡهِ شُهَدَآءَ (سورۃ المائدہ: آیت 44)
ترجمہ: بیشک ہم نے تورات نازل کی تھی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا۔ تمام نبی جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے، اسی کے مطابق یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے، اور تمام اللہ والے اور علماء بھی (اسی پر عمل کرتے رہے) کیونکہ ان کو اللہ کی کتاب کا محافظ بنایا گیا تھا، اور وہ اس کے گواہ تھے۔
تو جیسے یہ ربانیین اور علماء بکثرت تھے، غیر منصوص ہادی عوام اور محافظِ کتاب خدا تھے، اسی طرح امتِ محمدیہﷺ کے ہزاروں علماء، فقہاء، مجتہدین، غیر منصوص طور پر ہادی عوام اور محافظِ کتاب ہوئے، کیونکہ یہ سنت اللہ ہے اور سنت اللہ میں تبدیلی نہیں ہوتی۔
سوال نمبر 39: کا جواب بھی اس تقریر سے ہو گیا کی ہر دور کے لوگ اپنے اختلافات اپنے حاکم یا فقیہ سے قرآن و سنت کی کسوٹی بنا کر نمٹائیں گے۔
سوال نمبر 40:حضرت سالم رضی اللہ عنہ کے پیچھے شیخین کریمینؓ نے نماز پڑھی کیا وہ ان سے افضل نہ ہوئے؟
جواب: بصیر نامی کتاب کا ہمیں علم نہیں ہمارے یہاں افضل مفضول کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے، تو استدلال باطل ہوگیا، ہاں جب مستقل امام بنایا ہو تو افضل بنایا جائے کیونکہ حدیث شریف میں ہے: یؤم القوم اقرھم لکتاب اللہ فان کانوا فی القراۃ سواء فاعلمھم بالسنۃ....الخ
ترجمہ: لوگوں کو امامت ان کا بڑا قاری کرائے، اگر قرأت میں برابر ہوں تو جو سنت کا بڑا عالم ہو وہ امامت کروائے۔ ( مشکوٰة صفحہ،100،وکذافی الفقیہ باب الامامتہ)
اسی بناء پر آپﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امام نماز بنایا اور حضرت علی المرتضیٰؓ سمیت تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کی اقتداء میں پڑھی، پھر صدیقِ اکبرؓ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت و امامت تفویض فرمائی کسی نے اختلاف نہ کیا سب نے نمازیں بھی پڑھیں اور جہاد بھی کیے، پھر مجلس شوریٰ نے مستقل طور پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو امام و خلیفہ منتخب فرمایا اور سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کی اقتداء کی، اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ مہاجرین و انصار کے انتخاب و بیعت سے امام و خلیفہ قرار پائے، تو یہ مستقل امانتیں افضل کی مفضول کے لیے تھیں اور سنت پیغمبرﷺ، تعلیم قرآن، اتفاق صحابہؓ کے مبینہ اصول کے تحت تھیں، ان کو حضرت سالم رضی ﷲ عنہ یا حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی وقتی و اتفاقی امامتِ نماز پر قیاس نہ کیا جائے گا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلفاء ثلاثہؓ سے افضل نہ مانا جائے گا، کیونکہ مستقل باضابطہ امامت میں امام افضل اور مقتدی مفضول ہوتے ہیں، نیز خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافتیں قرآنی موعودہ تھیں ان کی فضیلت اسی ترتیب سے ہے۔
سوال نمبر 41:حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو اپنا وارث قرار دیا( غلامان اسلام) وراثتِ پیغمبرﷺ ثابت ہوگئی۔
جواب:”غلامانِ اسلام“ ایک اردو کتاب ہے اصل روایت کا علم نہیں کہ کہاں سے لی گئی ہے تاکہ اس کی سنداً اور معناً تحقیق کی جاتی، مؤلف اسکی صحت ثابت کرے ورنہ یہ مجاز ہے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اپنے والدین کو جواب دے دیا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں آسکتا، میں تو حضورﷺ کو اپنا باپ اور بزرگ جانتا ہوں، حضورﷺ نے اس محبت اور وفاداری کے جواب میں ان کو متبنیٰ قرار دیا اور عرفِ عام کے مطابق ایسی بات فرمائی جو ان کی صاحبزادگی پر مہر تصدیق ثبت کردے بعد میں جب قرآن نے اس نسبت کو ہی منسوخ کردیا اور وراثت رشتہ داروں کےساتھ خاص ہو گئی، وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِىۡ كِتٰبِ اللّٰهِ (سورۃ الاحزاب:آیت 6) تو اس بات کو قرآن نے منسوخ کردیا۔ علاوہ ازیں حضرت زید رضی اللہ عنہ غزوہ موتہ میں آپﷺ کی وفات سے تین سال پہلے شہید ہوئے اور کسی روایت سے کچھ ثابت نہیں کہ آپﷺ نے ان کا ترکہ وراثت پایا ہو، تو معلوم ہوا کہ پہلی بات منسوخ ہے اور یہ حدیث مشہور برحق ہے: ہم گروہ انبیاء نہ کسی کے وارث ہوتے ہیں نہ ہمارا کوئی وارث ہوتا ہے، ہمارا سب ترکہ صدقہ ہوتا ہے۔ (بخاری) نیز یہ کیوں ممکن نہیں کہ وراثت علمی مراد ہو اگلا سوال اس کا قرینہ ہے۔
سوال نمبر 42: قول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہے: اگر حضرت زید رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کو خلیفہ نہ بناتے۔ (بصیر)
جواب:یہ مقولہ فرضیہ اور شرطیہ ہے۔ جب شرط نہ پائی گئی تو موہوم جزا سے استدلال غلط ہوا ورنہ ایسا ہے جیسے قادیانی اس حدیث سے اجراء نبوت پر استدلال کرتے ہیں: اگر ابراہیم رضی اللہ عنہ (بن محمدﷺ) زندہ ہوتے تو نبی ہوتے۔ یا قرآن میں ہے: قُلۡ اِنۡ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِيۡنَ (سورۃ الزخرف: آیت 81)
ترجمہ: (اے پیغمبر) کہہ دو کہ: اگر خدائے رحمٰن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلا عبادت کرنے والا میں ہوتا۔
اس مقولہ سے زیادہ سے زیادہ حضرت زید رضی اللہ عنہ پر اعتمادِ نبویﷺ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ امت کو ان کی تلقین کر جاتے، اب شیخین رضی اللہ عنہما کے متعلق فرما گئے ”میرے بعد ابوبکرؓ و عمرؓ کی پیروی کرنا“ (ترمذی) یہی امت کو بیعتِ خلافت کی سپردگی ہے۔
سوال نمبر 43:حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی سرداری پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طعن ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی اہل نہ سمجھا۔
جواب:کچھ لوگوں کا خیال تھا جب حضورﷺ نے اس کی تردید کر دی تو سب حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ پر متفق ہو گئے مگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے لیے آپﷺ نے ایسی نہ نص فرمائی تھی نہ تقرری کی تھی اس لیے تاریخ کی کوئی روایت یہ نہیں بتاتی کہ کسی صحابی نے یہ کہا ہو ”چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نو عمر ہیں ہم ان کی سرداری نہیں مانتے“ یہ سائل کا فرضی خیال ہے بالفرض اگر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایسا کہا ہوتا تو سنت کے خلاف تب ہوتا کہ حضورﷺ نے حضرت علیؓ کا تقرر کر دیا ہوتا، مگر جب حضورﷺ نے علانیہ تقرری نہ فرمائی تھی اور اَمْرَهُمْ شُورٰی بَیْنَھُم (اور ان کی حکومت وغیرہ کے کام باہمی مشورے سے ہوں گے) کے تحت حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی مجاز و مختار تھے کہ جس کو موزوں ترین سمجھیں چنیں اور انہوں نے اسلام میں سبقت، اسلام اور خدمت نبویﷺ میں بے نظیر مالی و جانی قربانیوں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خاص رفاقت و تعلق، عمر کی پختگی و تجربہ کاری اور عوام میں ہر دلعزیزی کو دیکھ کر بالاتفاق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرما لیا، جو فی نفسہ درست نکلا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق ضائع نہ ہوا کہ ان کو اپنے وقت پر خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی خلافتوں کی بنیاد پر ہی یہ حق مل گیا۔ اگر انصار میں سے کوئی خلیفہ بن جاتا تو مہاجر کو یہ حق کبھی نہ ملتا اور اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ پہلے خلیفہ بنتے تو خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم اپنی اپنی اجل پر وفات پا کر اس خدمت جلیلہ سے محروم رہ جاتے۔ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ یہ خلافت کی تاریخی ترتیب مؤید من اللہ، مصدقہ عوام اور مفید اسلام تھی، نہ یہ خلافِ سنت ہے نہ اس پر کسی قسم کا طعن درست ہے۔
سوال نمبر 44:بھی اسی تقریر سے رفع ہو گیا کیونکہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ پر طعن چند لوگوں کا فعل تھا سب کا نہ تھا تو یہ پوچھنا کہ ”بعد از رسول اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کا خلاف منشاء رسول عمل کرنے کو آپ کس بنیاد پر نا ممکن سمجھتے ہیں“ ایک لایعنی بات ہے نص قرآنی وَیُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ (وه اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں) کے تحت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نامزدگی اور تقرری اگر ہوتی تو نشانہ طعن نہ بنا سکتے نہ ان کی اطاعت سے گریز کرتے کیونکہ گمراہی پران کا اجتماع محال ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نہج البلاغہ میں ارشاد ہے:
وما كان الله ليجمعهم علىٰ الضلال: اور اللہ نے ان کو گمراہی پر جمع نہ کیا تھا۔
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا (حیات القلوب: صفحہ 138،جلد دوم)
اور خدا نے اس امت کو بہترین امت، پسندیدہ اُمت قرار دے کر یہ ضمانت بھی دی:
وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (سورۃ البقرہ: آیت 143)
ترجمہ: اللہ تعالی تمہارے ایمان (و عمل) کو ضائع کرنے والا نہیں بے شک اللہ (مومن) لوگوں پر بڑا شفیق و مہربان ہے۔
اس لیے سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جو حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ پر اتفاق کیا اور شیعہ کو بھی اقرار ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے تین ساتھیوں سمیت سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی بالترتیب بیعتِ خلافت کی۔ (اصول کافی، رجال کشی، احتجاج طبرسی) تو معلوم ہوا کہ یہ تین خلافتیں برحق اور عادلہ ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نامزدگی اور نص خلافت بالکل نہ تھی ورنہ سب صحابہ کرامؓ، حضرت علی رضی اللہ عنہ پر متفق ہوتے کیونکہ اللہ نے ان کو گمراہی سے بچایا ہوا تھا اور حضرت علیؓ یہ نہ فرماتے مہاجرین اولین اپنی فضیلت پا گئے( نہج البلاغہ اردو صفحہ 70 مکتوب 17)
سوال نمبر 45 تا 50:شفاعت کبریٰ اور مقام محمود کے متعلق اعتراضات۔
جواب:مذہب سنیہ میں شفاعت کبریٰ سے مراد یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کے دن تمام امتوں کی سفارش فرمائیں گے، باقی قوموں کا حساب کتاب آپ کی سفارش سے شروع ہو گا اور اس امت کے گناہ گاروں کی بخشش ہوگی۔ نبیﷺ کی بھی دُعا قبول ہوتی ہے اور عام امتی کی بھی۔ جیسے ہم درود شریف میں اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ پڑھ کر ان کے لیے دعائے رحمت طلب کرتے ہیں اور نہیں کہا جاتا ”کہ ہم لوگ اپنے رسولﷺ اور آل رسولﷺ کو امت کی سفارش کا محتاج تصور کرتے ہیں“ اسی طرح اذان میں دعائے وسیلہ میں قرب الٰہی اور مقامِ محمود پر جلوہ افروزی کی دعا امت کو محتاجی پیغمبرﷺ پر چسپاں نہ کیا جائے گا یہ سائل کی زیغ قلبی اور دشمنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آئینہ دار ہے۔ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا (سورۃ بنی اسرائیل: آیت 79)
ترجمہ: قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے۔
مستقبل پر دال ہے، جس کا وقوع ابھی نہیں ہوا تو ایسی چیز کے ملنے کا یقین ہونے کے باوجود اس کے لیے دعا و اشتیاق معقول بات ہے اور اپنے سوا دوسرے بھی یہ دعا کر سکتے ہیں، خصوصاً جب کے شفیع المذنبین نے ہم کو حکم دیا ہے جیسے درود پڑھنے کا ہم کو حکم دیا ہے اور ہمارا درود ہمارے رفع درجات کے علاوہ حضورﷺ کے مراتب عالیہ میں بھی اضافہ کرتا ہے، امتی کی دعا اس لیے بھی معقول ہے کہ بالآخر مقامِ محمود اور شفاعتِ کبریٰ سے فائدہ خود ان کے گناہ گاروں کو حاصل ہوگا جیسے ہم اللہ بے نیاز کی عبادت کر کے اخروی ثواب کا مفاد حاصل کرتے ہیں۔ شیعہ کی جلا العیون: صفحہ 71 پر ہے کہ مقامِ محمود میں، میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا
سوال نمبر 51:سب قومیں اپنے اپنے پیغمبروں کی سفارش سے مایوس ہو کر آخر میں حضور اکرمﷺ کے پاس سفارش کروانے کیوں آئیں گی؟ وہ پیغمبر علیہم السلام ایک دوسرے پر ٹالنے کے بجائے براہِ راست حضور اقدسﷺ کے پاس کیوں نہیں بھیجتے؟
جواب:ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف عروج و ترقی ایک فطری اور معقول عام بات ہے، آپ دکان پر سودا لینے جائیں تو وہ پہلے معمولی نمونے دکھائے گا پھر آخر میں سب سے اعلیٰ دکھائے گا۔ سب قوموں کا پہلے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس یا پھر حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جانا ایک معقول بات ہے کہ وہ سب کے جدِّ اعلیٰ اور پدرِ اول ہیں اولاد باپ سے رحم و سفارش کی درخواست کیا کرتی ہے وہ اپنے سے اعلیٰ شان والے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام، پھر حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کی طرف راہنمائی فرماتے ہیں تو ان پیغمبروں کی خصوصیت اور عزت و عظمت کا بھی اظہار ہو رہا ہے جس کے وہ شایان ہیں، اگر اولاً ہی لوگ حضور اقدسﷺ کی طرف بھیجے جائیں تو نہ ان کے مراتب کا اظہار ہو گا اور نہ تقابل سے رسول اکرمﷺ کی برتری ظاہر ہو گی پھر ہر ایک اپنی کسی لغزش کا ذکر فرما کر معذرت کر رہا ہے تو یہ اللہ مالکِ یوم الدین کی ہیبت و جلال کا اظہار ہے، لغزش سے ان کا گناہ گار ہونا لازم نہیں آتا، آخر میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان کی درخواست قبول کر کے شفاعت کے لیے سجدہ الہٰی میں گر جائیں گے جو آٹھ دن رات لمبا ہو گا اور آپﷺ اللہ کی وہ خوبیاں اور کمالات بیان فرمائیں گے جو ابھی تک کسی نے بیان نہیں کیے تو اس میں بھی ایک طرف تو جلیل القدر رسل پر آپﷺ کی عظمت ظاہر ہو گی اور دوسری طرف رب تعالیٰ الحکم الحاکمین کے رعب و جلال کا اقرار ہو گا۔ عقلِ سلیم رکھنے والا کوئی بھی فرد شفاعتِ کبریٰ اور مقامِ محمود کے ان مراحل پر اعتراض نہیں کر سکتا۔