بعد از رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طریقہ ہدایت - ردِ…

بعد از رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طریقہ ہدایت

  مولانا حافظ مہر محمد میانوالی

صفحہ 1 از 3

سوال نمبر 37: کیا بعد از رسولﷺ ہادی و رہبر کی عقلا ضرورت ہوگی جو جھگڑے نمٹائے اور دین و شریعت کی تعلیم دے؟ 

جواب: عقل کا تقاضہ ہے کہ حضورﷺ کی ذات کے سوا مرکزی ہادی اور کوئی نہ ہو کیونکہ آپﷺ خاتم النبیین والمعصومین اور خاتم ہدایت الوحی ہیں، البتہ آپ کی نیابت میں قرآن و سنت مرکز ہدایت رہیں گے اور ان کو نافذ کرنے کے لیے خلفاء و حکام اور فقہاء دین ہوں گے جو منصوص نہ ہوں گے بلکہ لوگوں میں سے ہی سر بر آوردہ اور منتخب شدہ ہوں گے وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ اور لوگوں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ یہ کریں گے لیکن اگر لوگوں کا خود ان سے کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو یہ ممکن ہوگا پھر اختلاف نمٹانے کے لیے مرکزی سر چشمہ قرآن و سنت کی طرف فریقین رجوع کریں گے، اور یہی ایمان کا تقاضا ہے اور انجام کے لحاظ سے بہتر بات ہے، ملاحظہ ہو: وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ (سورۃ النساء: آیت 59)

سوال نمبر 38 :ایسا ہادی منصوص بہتر ہوگا یا غیر منصوص؟ 

جواب : غیر منصوص بہتر اور کامیاب ہوگا کیونکہ جب تا قیامت خطہ ارض کے لیے حضورﷺ کی نبوت رہے گی اور اربوں مسلمان شرق و غرب میں آباد رہیں گے تو ان کے لیے صرف ایک ایک ہادی ہر دور میں ناکافی رہے گا اور ایسے چار، چھ، بارہ منصوص بھی کردئیے جائیں تو وہ سب روئے زمین پر تو پھیل نہ سکیں گے تو تشنگی ہدایت برقرار رہے گی اور شیعہ تو اس کا تلخ و ناکام تجربہ اپنے عقیدہ کی روشنی میں کر ہی چکے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضرت حسن عسکریؒ تک (ان کے بقول منصوص ہادی) صرف مدینہ، کوفہ، بغداد وغیرہ چند خاص شہروں میں رہے معمولی اقلیت نے ان سے فیض پایا تو باقی شہروں اور ممالک منصوص کے لوگ منصوص کی ہدایت و تعلیم سے محروم ہی رہے پھر 255ھ کے بعد یہ سلسلہ ہدایت بالکل ہی بند ہوگیا اور بارہویں امام قرآن اور آثارِ نبوت لے کر باعتقاد شیعہ ایک غار میں ایسے روپوش ہوئے کہ 1200 سال تک عجل اللہ فرجہ (اللہ امام کو جلدی رہا فرمائے) کی ہزاروں دعاؤں کے بعد بھی ظہور نہ ہوا اور اربوں مسلمان اس عرصہ میں قرآن و تعلیم امام سے محروم رہے اور معلوم نہیں کب تک رہیں گے، اگر خیال ہو کہ امام ظاہر ہوتا تقیہ نہ کرتا تو اپنے تائبین کی بدولت ساری دنیا کا انتظام ہدایت کر لیتا تو ہم کہتے ہیں کہ”کاش ایسا ہوتا“ کی فرضی تمنا سوائے حسرت و یاس کے کوئی فائدہ نہیں دیتی اور ان کے نائب در نائب فیض ہدایت بالفرض عام کرسکتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہزاروں لاکھوں شاگرد در شاگرد یہ فریضہ کیوں سرانجام نہیں دے سکتے؟ آخر گنبدِ خضریٰ میں ایک خاص کیفیت کے ساتھ آپ زندہ ہیں، جو غار والے امام منصوص کی زندگی سے ہزار درجے بہتر ہے۔

الغرض سب دنیا کے لیے تبلیغ ہدایت اور اتمامِ حجت کی خدا نے یہی سنت قائم کی ہے کہ امت کے ہزاروں لاکھوں علماء، صلحاء، فقہاء مبلغین قرآن و سنت کی شمعیں لے کر دنیا کے کونے کونے اور قریہ قریہ پہنچ جائیں ان کو اسلام و شریعت کی تعلیم دیں اور وہ منصوص نہ ہوں تاکہ کسی کی عملی کوتاہی سے اگر کچھ شکایت ہو تو وہ دوسرے سے قرآن و سنت کا فیض پاسکے اسی لیے حضورﷺ فرما گئے:

علماء امتی کانبیآءِ بنی اسرائیل: میری امت کے علماء ( فیض عام اور کثرت میں) بنی اسرائیل کی طرح ہیں۔

اور قرآن نے فرمایا:

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰٮةَ فِيۡهَا هُدًى وَّنُوۡرٌ‌ يَحۡكُمُ بِهَا النَّبِيُّوۡنَ الَّذِيۡنَ اَسۡلَمُوۡا لِلَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَ الرَّبَّانِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ كِتٰبِ اللّٰهِ وَكَانُوۡا عَلَيۡهِ شُهَدَآءَ‌‌ (سورۃ المائدہ: آیت 44)

ترجمہ: بیشک ہم نے تورات نازل کی تھی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا۔ تمام نبی جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے، اسی کے مطابق یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے، اور تمام اللہ والے اور علماء بھی (اسی پر عمل کرتے رہے) کیونکہ ان کو اللہ کی کتاب کا محافظ بنایا گیا تھا، اور وہ اس کے گواہ تھے۔

تو جیسے یہ ربانیین اور علماء بکثرت تھے، غیر منصوص ہادی عوام اور محافظِ کتاب خدا تھے، اسی طرح امتِ محمدیہﷺ کے ہزاروں علماء، فقہاء، مجتہدین، غیر منصوص طور پر ہادی عوام اور محافظِ کتاب ہوئے، کیونکہ یہ سنت اللہ ہے اور سنت اللہ میں تبدیلی نہیں ہوتی۔

سوال نمبر 39:  کا جواب بھی اس تقریر سے ہو گیا کی ہر دور کے لوگ اپنے اختلافات اپنے حاکم یا فقیہ سے قرآن و سنت کی کسوٹی بنا کر نمٹائیں گے۔

سوال نمبر 40:حضرت سالم رضی اللہ عنہ کے پیچھے شیخین کریمینؓ نے نماز پڑھی کیا وہ ان سے افضل نہ ہوئے؟ 

جواب: بصیر نامی کتاب کا ہمیں علم نہیں ہمارے یہاں افضل مفضول کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے، تو استدلال باطل ہوگیا، ہاں جب مستقل امام بنایا ہو تو افضل بنایا جائے کیونکہ حدیث شریف میں ہے: یؤم القوم اقرھم لکتاب اللہ فان کانوا فی القراۃ سواء فاعلمھم بالسنۃ....الخ

ترجمہ: لوگوں کو امامت ان کا بڑا قاری کرائے، اگر قرأت میں برابر ہوں تو جو سنت کا بڑا عالم ہو وہ امامت کروائے۔ ( مشکوٰة صفحہ،100،وکذافی الفقیہ باب الامامتہ) 

صفحہ 1 از 3