بعد از رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طریقہ ہدایت - ردِ…

بعد از رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طریقہ ہدایت

  مولانا حافظ مہر محمد میانوالی

صفحہ 3 از 3

سوال نمبر 44:بھی اسی تقریر سے رفع ہو گیا کیونکہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ پر طعن چند لوگوں کا فعل تھا سب کا نہ تھا تو یہ پوچھنا کہ ”بعد از رسول اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کا خلاف منشاء رسول عمل کرنے کو آپ کس بنیاد پر نا ممکن سمجھتے ہیں“ ایک لایعنی بات ہے نص قرآنی وَیُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ (وه اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں) کے تحت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نامزدگی اور تقرری اگر ہوتی تو نشانہ طعن نہ بنا سکتے نہ ان کی اطاعت سے گریز کرتے کیونکہ گمراہی پران کا اجتماع محال ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نہج البلاغہ میں ارشاد ہے:

وما كان الله ليجمعهم علىٰ الضلال: اور اللہ نے ان کو گمراہی پر جمع نہ کیا تھا۔

رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا (حیات القلوب: صفحہ 138،جلد دوم)

اور خدا نے اس امت کو بہترین امت، پسندیدہ اُمت قرار دے کر یہ ضمانت بھی دی: 

وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (سورۃ البقرہ: آیت 143)

ترجمہ: اللہ تعالی تمہارے ایمان (و عمل) کو ضائع کرنے والا نہیں بے شک اللہ (مومن) لوگوں پر بڑا شفیق و مہربان ہے۔

اس لیے سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جو حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ پر اتفاق کیا اور شیعہ کو بھی اقرار ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے تین ساتھیوں سمیت سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی بالترتیب بیعتِ خلافت کی۔ (اصول کافی، رجال کشی، احتجاج طبرسی) تو معلوم ہوا کہ یہ تین خلافتیں برحق اور عادلہ ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نامزدگی اور نص خلافت بالکل نہ تھی ورنہ سب صحابہ کرامؓ، حضرت علی رضی اللہ عنہ پر متفق ہوتے کیونکہ اللہ نے ان کو گمراہی سے بچایا ہوا تھا اور حضرت علیؓ یہ نہ فرماتے مہاجرین اولین اپنی فضیلت پا گئے( نہج البلاغہ اردو صفحہ 70 مکتوب 17)

سوال نمبر 45 تا 50:شفاعت کبریٰ اور مقام محمود کے متعلق اعتراضات۔ 

 جواب:مذہب سنیہ میں شفاعت کبریٰ سے مراد یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کے دن تمام امتوں کی سفارش فرمائیں گے، باقی قوموں کا حساب کتاب آپ کی سفارش سے شروع ہو گا اور اس امت کے گناہ گاروں کی بخشش ہوگی۔ نبیﷺ کی بھی دُعا قبول ہوتی ہے اور عام امتی کی بھی۔ جیسے ہم درود شریف میں اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ       پڑھ کر ان کے لیے دعائے رحمت طلب کرتے ہیں اور نہیں کہا جاتا ”کہ ہم لوگ اپنے رسولﷺ اور آل رسولﷺ کو امت کی سفارش کا محتاج تصور کرتے ہیں“ اسی طرح اذان میں دعائے وسیلہ میں قرب الٰہی اور مقامِ محمود پر جلوہ افروزی کی دعا امت کو محتاجی پیغمبرﷺ پر چسپاں نہ کیا جائے گا یہ سائل کی زیغ قلبی اور دشمنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آئینہ دار ہے۔ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا (سورۃ بنی اسرائیل: آیت 79) 

ترجمہ: قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے۔

مستقبل پر دال ہے، جس کا وقوع ابھی نہیں ہوا تو ایسی چیز کے ملنے کا یقین ہونے کے باوجود اس کے لیے دعا و اشتیاق معقول بات ہے اور اپنے سوا دوسرے بھی یہ دعا کر سکتے ہیں، خصوصاً جب کے شفیع المذنبین نے ہم کو حکم دیا ہے جیسے درود پڑھنے کا ہم کو حکم دیا ہے اور ہمارا درود ہمارے رفع درجات کے علاوہ حضورﷺ کے مراتب عالیہ میں بھی اضافہ کرتا ہے، امتی کی دعا اس لیے بھی معقول ہے کہ بالآخر مقامِ محمود اور شفاعتِ کبریٰ سے فائدہ خود ان کے گناہ گاروں کو حاصل ہوگا جیسے ہم اللہ بے نیاز کی عبادت کر کے اخروی ثواب کا مفاد حاصل کرتے ہیں۔ شیعہ کی جلا العیون: صفحہ 71 پر ہے کہ مقامِ محمود میں، میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا

سوال نمبر 51:سب قومیں اپنے اپنے پیغمبروں کی سفارش سے مایوس ہو کر آخر میں حضور اکرمﷺ کے پاس سفارش کروانے کیوں آئیں گی؟ وہ پیغمبر علیہم السلام ایک دوسرے پر ٹالنے کے بجائے براہِ راست حضور اقدسﷺ کے پاس کیوں نہیں بھیجتے؟ 

جواب:ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف عروج و ترقی ایک فطری اور معقول عام بات ہے، آپ دکان پر سودا لینے جائیں تو وہ پہلے معمولی نمونے دکھائے گا پھر آخر میں سب سے اعلیٰ دکھائے گا۔ سب قوموں کا پہلے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس یا پھر حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جانا ایک معقول بات ہے کہ وہ سب کے جدِّ اعلیٰ اور پدرِ اول ہیں اولاد باپ سے رحم و سفارش کی درخواست کیا کرتی ہے وہ اپنے سے اعلیٰ شان والے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام، پھر حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کی طرف راہنمائی فرماتے ہیں تو ان پیغمبروں کی خصوصیت اور عزت و عظمت کا بھی اظہار ہو رہا ہے جس کے وہ شایان ہیں، اگر اولاً ہی لوگ حضور اقدسﷺ کی طرف بھیجے جائیں تو نہ ان کے مراتب کا اظہار ہو گا اور نہ تقابل سے رسول اکرمﷺ کی برتری ظاہر ہو گی پھر ہر ایک اپنی کسی لغزش کا ذکر فرما کر معذرت کر رہا ہے تو یہ اللہ مالکِ یوم الدین کی ہیبت و جلال کا اظہار ہے، لغزش سے ان کا گناہ گار ہونا لازم نہیں آتا، آخر میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان کی درخواست قبول کر کے شفاعت کے لیے سجدہ الہٰی میں گر جائیں گے جو آٹھ دن رات لمبا ہو گا اور آپﷺ اللہ کی وہ خوبیاں اور کمالات بیان فرمائیں گے جو ابھی تک کسی نے بیان نہیں کیے تو اس میں بھی ایک طرف تو جلیل القدر رسل پر آپﷺ کی عظمت ظاہر ہو گی اور دوسری طرف رب تعالیٰ الحکم الحاکمین کے رعب و جلال کا اقرار ہو گا۔ عقلِ سلیم رکھنے والا کوئی بھی فرد شفاعتِ کبریٰ اور مقامِ محمود کے ان مراحل پر اعتراض نہیں کر سکتا۔


صفحہ 3 از 3