فضائل اہل بیت (رضی اللہ عنہم) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل اہل بیت (رضی اللہ عنہم)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 3

سوال نمبر 58: خانہ بتول (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو نذرِ آتش کرنے کا الزام بھی جھوٹ ہے۔ تاریخ طبری: جلد، 3 صفحہ، 198 خوب دیکھ لی۔ دیگر متوقع مقامات میں بھی یہ الزام تلاش کیا کہیں نہیں ملا۔ الملل والنحل شہرستانی کو بھی دیکھا کہیں سراغ نہ ملا۔ دراصل یہ واہی تباہی بہتان ہے۔ عیار اور دروغ گو شیعہ اسی طوفان و ہذیان سے سادہ لوح مسلمانوں کے جذبات بھڑکاتے اور اسلام کی صداقت اور اہلِ بیتؓ کی مقبولیت پر حملہ کرتے ہیں۔ بالفرض والمحال اگر کچھ ہو بھی تو ان چند جوانوں کو ڈرایا دھمکایا ہو گا جو خلافت اور مسلمانوں کے اتفاق رائے کے برخلاف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں آ کر سازشیں کرتے تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دھمکا دیا۔ سیدہ فاطمہؓ نے منع کر دیا تب انہوں نے بیعت کر لی اور اختلاف کا بیج ہی ختم ہو گیا۔ بتلائیے اب حضرت عمر فاروقؓ پر کیا اعتراض ہے۔ آپؓ تو خراجِ تحسین کے حق دار ہیں۔ کیا ایک ذمہ دار حاکم و افسر فتنہ بازوں کو ڈرا دھمکا بھی نہیں سکتا؟ حالانکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو مع مکان جلا دینے کی دھمکی دی جو باجماعت نماز آ کر نہیں پڑھتے تھے اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ بھی حضور اکرمﷺ‏ کے مقرر کردہ امام اور جانشین تھے۔ نیز رسول اللہﷺ نے ابنِ اخطل شاعر کو خانہ کعبہ میں مار ڈالنے کا حکم دیا تھا۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ان ستر آدمیوں کو زندہ در آگ پھونک ڈالا جو حضرت علیؓ کی خدائی اور کار سازی و مشکل کشائی کے نعرے مار رہے تھے جو آج مشرک شیعوں کا دل پسند مذہب بن چکا ہے۔ خلافت و اجتماعیت کے وقار کو قائم رکھنے کے لیے حضرت علی المرتضیٰؓ نے اس سے کئی گنا اہم خطرناک اقدام کیے جنگِ جمل میں حضرت طلحہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت، اُم المؤمنینؓ سے لڑائی صفین میں ہزاروں مسلمانوں کا قتلِ عام اگر درست ہے تو یہاں محض زبان سے دھمکی کوئی جرم نہیں۔ 

(خلاصہ تحفہ اثناء عشریہ: طعن: صفحہ، 2 صفحہ، 606)

سوال نمبر 59: باغِ فدک کے مسئلہ کا تحفہ امامیہ صفحہ، 152 تا صفحہ، 213 مفصّل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

سوال نمبر 60: سیدنا علیؓ سے لڑائی کا طعن ابھی مردود کر دیا گیا ہے۔

سوال نمبر 61: حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو زہر کھلانے کا الزام بھی غلط ہے۔ آپؓ کی اہلیہ جعدہ بنتِ اشعث چونکہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی بھانجی تھیں تو اُن کو بدنام کرنے کے لیے یہ قصہ گھڑا گیا۔ اس کو معرض تحریر میں لانے والا سب سے پہلا مؤرخ مسعودی شیعہ ہے جس نے رُوی سے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس سے پہلے نہ طبری جیسی ضخیم اور موضوعات سے بھی لبریز، کتاب تاریخ الامم والملوک میں اس کا اشارہ ہے۔ نہ ابنِ قتیبہ دینوری اور الاخبار الطوال میں اس کا ذکر ہے۔ سیدنا حسنؓ کی وفات کے متعلق تاریخ الخمیس للاعثم کوفی، جو شیعہ کے ہاں بڑی معتبر ہے۔ میں ہے کہ چالیس دن بسترِ مرض پر رہے (جلد، 2 صفحہ، 326) دمیری نے مدتِ علالت دو ماہ بیان کی ہے۔ ذیابطیس کا عارضہ تھا اور شہد کا شربت پینے سے بڑھ گیا۔ 

عقلی طور پر بھی یہ قصہ لغو ہے کیونکہ حضرت امیرِ معاویہؓ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے تعلقات بہت اچھے رہے ہر سال دونوں بھائی دمشق جاتے اور لاکھوں روپے کے وظائف اور مال سے لدے اونٹ لاتے۔ سیدنا حسنؓ سے آپؓ کو کوئی خدشہ نہ تھا۔ نہ سیدنا حسنؓ وعدہ خلافی کرنے والے تھے۔ اہلِ کوفہ تو سیدنا حسینؓ کو اکساتے تھے مگر آں محترم (حضرت حسینؓ) بھائی کی صُلح و بیعت کا حوالہ دے کر ان کو ٹال دیتے تھے۔ (جلاء العیون) بالفرض اگر یہ حرکت کسی نے کی تو وہ شیعانِ کوفہ ہی تھے جنہوں نے صُلح کے انتقام میں آپؓ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا اور حضرت حسنؓ شہزادہ امن و صُلح کو اپنی مفسدانہ کارروائیوں کے سامنے روڑا سمجھتے تھے۔

سوال نمبر 62: جو لوگ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو گھر بلا کر غداری سے لڑے، واقعی وہ رسول اللہﷺ کے بھی محارب ہیں۔ شیعہ اگر مان لیں تو صاف بات اتنی سی ہے کہ حضرت عثمانِ غنیؓ کے خلاف بلوہ کرنے والے اور شہید کرنے کے مجرم، جنگِ جمل و صفین میں غلط فہمیاں پھیلا کر مسلمانوں کو باہم لڑانے والے، خارجی بن کر سیدنا علیؓ کے خلاف چڑھائی کرنے والے اور آپؓ کے قاتل، حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے غداری کر کے پھر قاتلانہ حملے کرنے والے اور السلام علیک یا مذل المؤمنین پڑھنے والے پھر حضرت حسینؓ کو دارالامن مکہ سے بلا کر غدر کر کے شہید کرنے والے سب ایک ہی گروہ ہیں جو اہلِ تشیع اور حُبِّ دارِ اہلِ بیتؓ کہلا کر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے۔ تعجب ہے کہ قاتلانِ سیدنا عثمانؓ کو شیعہ اپنا ہیرو مانتے ہیں جب یہی سیدنا علی المرتضیٰ و سیدنا حسین رضی اللہ عنہما پر ظلم کرتے ہیں تو ان کو خارجی بنا دیا جاتا ہے۔ شیعہ کہلا کر جب سیدنا حسینؓ کو بلاتے ہیں تو مؤمن ہیں۔ جب قتل کر دیتے ہیں تو بُرے پھر جب توابین بن کر اور مختار ثقفی کے ساتھ ہو کر کوفہ میں قتل و غارت کا بازار گرم کرتے ہیں تو ناصرانِ سیدنا حسینؓ بن جاتے ہیں؟ فیا للعجب!

 ان کے سب کرتوت ہم تحفہ امامیہ میں باحوالہ لکھ چکے ہیں۔

سوال نمبر 63: یہ جس کیمپ میں بھی ہوں ہم ان کو دشمنانِ اہلِ بیتؓ، موذیانِ رسولﷺ یہود و مجوس کی سازش سے اہلِ تشیع و تفریق کا علمبردار اور مستحقِ نار سمجھتے ہیں۔ اگر آپ کو لعنت کا شغل پسند ہے تو ان سب پر ضرور کیجیے اور اپنی کمائی خود بھی کھائیے۔

سوال نمبر 64: سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی صحابی بتائیں جس کے متعلق حضور اقدسﷺ‏ نے فرمایا ہو۔ لَا یحبه الا مؤمن ولا یبغضه الا منافق۔ 

جواب: یہ حدیث ترمذی صفحہ، 235 کی ہے مگر ضعیف ہے قابلِ حجت نہیں۔ کیونکہ پہلا راوی واصل بن عبدالاعلیٰ تو ثقہ ہے، دوسرا محمد بن فضیل بن غزوان صدوق ہے مگر تشیع سے متہم ہے، شیعہ صدوق کی روایت جب بدعت کی مؤید ہو تو قبول نہیں ہے، تیسرا ابو نصر کوفی ثقہ ہے مگر چوتھا مساور الحمیری مجہول ہے، پانچواں ام المساور الحمیر یہ بھی مجہول ہے جس کا حال کہیں نہیں ملتا۔ (دیکھیے تقریب التہذیب) البتہ مسلم شریف کی یہ حدیث مستند ہے۔

صفحہ 2 از 3