فضائل اہل بیت (رضی اللہ عنہم) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل اہل بیت (رضی اللہ عنہم)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 3

اسی کے ہم معنیٰ اس صفحہ پر ایک حدیث یہ ہے: کہ ہم انصار منافقین کو حضرت علی المرتضیٰؓ سے دشمنی رکھنے کی وجہ سے پہچان لیتے تھے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ کہتے ہیں حدیث غریب ہے اور امام شعبہ رحمۃ اللہ نے ابو ہارون عبدی پر جرح کی ہے تقریب التہذیب میں ہے کہ ہارون عبدی کا نام عمارہ بن جوین ہے یہ متروک ہے بعض نے اسے کذاب کہا ہے، یہ شیعہ ہے۔ طبقہ رابعہ کا ہے، 134ھ میں مرا ہے۔

شیعہ کا جب یہ قلعہ پاش پاش ہو گیا تو اس کے برعکس تمام انصار کے حق میں بلفظہٖ یہ حدیث ہے:

قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الانصار ولا یحبھم الا مومن ولا یبغضھم الا منافق من احبھم فاحبه الله و من ابغضھم ابغضه الله ھذا حدیث صحیح۔ 

(ترمذی: جلد، 2 صفحہ، 252 صحیح مسلم: جلد، 1 صفحہ، 59، 60)

ترجمہ: نبی کریمﷺ‏ نے انصار رضی اللہ عنہم کے متعلق فرمایا ہے ان سے وہی محبت کرے گا جو مؤمن ہو گا اور ان سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہو گا۔ جو ان سے محبت رکھے گا اللہ اس سے محبت رکھے گا جو ان سے دشمنی رکھے گا اللہ اس سے دشمنی رکھے گا یہ حدیث صحیح ہے۔

مسلم شریف باب حب الانصار و علی رضی اللہ عنہم میں 5 حدیثیں حضراتِ انصار کی محبت میں اور ایک حضرت علیؓ کی محبت کے متعلق ہے۔ اور یہ یقینی بات ہے کہ مہاجرین کا درجہ انصار سے بڑا ہے تو بدرجہ اولیٰ ان کا محب مؤمن اور مبغض منافق ہو گا۔ بلکہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کو حضور اکرمﷺ‏ نے اپنی محبت اور ان سے دشمنی کو اپنے سے دشمنی قرار دیا ہے جس سے بڑھ کر مؤمن و منافق کی پہچان کا معیار نہیں ہے۔ 

میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں لوگو اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے بعد ان کو نشانہ نہ بناؤ جس نے ان سے محبت کی تو مجھ سے محبت کی جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دشمنی رکھی تو اس نے (دراصل) مجھ سے دشمنی کی وجہ سے ان سے دشمنی رکھی اور جس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ کو ستایا اور جس نے اللہ کو ستایا، عنقریب اللہ اسے پکڑ لے گا۔

 (ترمذی: جلد، 2 صفحہ، 249)

سوال نمبر 65: اے سیدنا علی المرتضیٰؓ تو میرا دنیا اور آخرت میں بھائی ہے؟ کیا یہ غیر کے لیے بھی ہے؟

جواب: حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت زید بن حارثہؓ کو بھی حضورﷺ نے اپنا بھائی، مولا و محبوب اور صاحب و رفیق فرمایا، تفصیلاً احادیث صحیح بخاری جلد، 1 صفحہ، 516 اور جلد، 1 صفحہ، 528 میں ملاحظہ فرمائیں۔

سوال نمبر 66 تا 69: حضور اکرمﷺ نے حضراتِ حسنین رضی اللہ عنہما کے متعلق فرمایا اے اللہ میں ان سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت رکھ جو ان سے محبت کریں کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوئی؟ 

 جواب: دعا قبول ہے مگر محب صرف اہلِ سنت والجماعت ہیں کیونکہ شریعت میں محبت اتباع اور موافقِ شرع مقبول ہے اور یہ صرف اہلِ سنت والجماعت میں پائی جاتی ہے کہ وہ بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرح تقیہ نہیں کرتے، نماز کے پابند ہیں، داڑھی رکھتے ہیں، قرآن مجید کے حافظ ہیں، ماتم سے ممانعت کی وصیّتِ حسینی کو حرزِ جان بنائے ہوئے ہیں، شیعہ نہ محبِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ہیں، نہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں کیونکہ وہ عقیدۃً اور عملاً قرآن اور تعلیم حضرت حسینؓ کے برخلاف ہیں تو سیدنا حسینؓ کے برخلاف لوگوں کا خدا دشمن ہے لہٰذا شیعہ کے مخالفین اہلِ سنت والجماعت ہی متبعینِ حضرت حسینؓ اور رب تعالیٰ کے دوست ہوئے، سیدنا حسینؓ نے خطبہ کربلا میں فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے مجھے اور میرے بھائی کو فرمایا تم جنتی نوجوانوں کے سردار ہو اور اہلِ سنت والجماعت کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو۔ 

(تاریخ کامل ابنِ اثیر: جلد، 4 صفحہ، 62)

جو لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو باغی و مفسد کہتے ہیں اور آپ سے دشمنی رکھتے ہیں، وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور رب تعالیٰ کے محب نہیں ہیں۔

سوال نمبر 70 تا 73: مذمتِ یزید اور ردِّ ناصبیت سے متعلق ہیں، ہمیں جواب کی ضرورت نہیں ہے مع ہٰذا ما ثبت بالسنة کی روایت قابلِ تحقیق ہے جب تک ثابت نہ ہو تو مطاعن کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہ کتاب ہمیں مل نہ سکی۔


صفحہ 3 از 3