عترت و اہل بیت رضی اللہ عنہم کا مفہوم
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 74، 75: عترتی اہلِ بیتی کا ترجمہ کریں، کیا بیوی بھی عترت ہو سکتی ہے؟
جواب: کتبِ لغت میں عترت کے معانی یہ لکھے ہیں، اولاد عزیز و اقرباء، خویش و اقارب، اپنے یگانے
(فیروز اللغات: جلد، 2 صفحہ، 134)
2: کنبہ، اولاد، مشکِ خالص کا ٹکڑا وغیرہ۔ (مصباح اللغات: صفحہ، 530)
ان معانی کے روشنی میں ترجمہ حدیث یہ ہو گا۔ کتاب اللہ، اللہ رب العزت کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، اور میری اولاد و رشتہ دار، عزیز و اقارب میرے گھر کے لوگ ہیں، جو میرے پاس تا حوض پہنچنے تک جدا نہ ہوں گے تو عترت جیسے اولاد پر بولا گیا ہے جن میں چار بیٹیاں بھی ہیں، خویش و اقارب پر بھی صادق ہے جن میں چچا اور چچا کی اولاد بیویاں اور داماد بھی آ جاتے ہیں اسی لیے اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اجمعین کا اطلاق احادیث میں ان پر بکثرت ہوا ہے زوجہ کو جب خویش اور اپنا کہا جا سکتا ہے تو اہلِ بیت رضی اللہ عنہم میں داخل ہوئی اور آیتِ تطہیر میں قرآن نے يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ (سورۃ الأحزاب: آیت 30) (اے نبیﷺ کی بیویو!) بار بار کہہ کر جمع مؤنث کے صیغے استعمال کر کے ان کو اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اجمعین (نبی کریمﷺ کے گھر والوں) سے خطاب کیا ہے شیعہ پر برسنا اس لیے ہے وہ قران کا انکار کرتے ہیں۔
سوال نمبر 76: جب یزیدی بھی قرآن پڑھتے تھے تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور یزیدیوں کے قرآن میں کیا فرق تھا؟
جواب: دونوں کا قرآن تو ایک تھا مگر جب شیعانِ کوفہ (حامیانِ ابنِ زیاد و یزید) نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے غداری کی تو قرآن نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا، یہی وجہ ہے کہ شیعہ قرآن سے آج تک محروم ہیں، اس پر ہر قسم کے ناپاک حملے کرتے ہیں۔ 99 حملے صرف مشتاق دشمنِ قرآن نے اس کتاب میں کیے ہیں ان میں کبھی حافظ نہیں ہو سکتا بلکہ یہ سیدنا حسینؓ کے ہم شکل و ہم سیرت حافظوں اور قاریوں کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، شیعہ کی یہ قرآن دشمنی اور قرآن کی ان سے جدائی ان کے قاتلِ حضرت حسینؓ ہونے کی وہ زبردست دلیل ہے جو ان کے اقرار سے ثابت ہے۔
سوال نمبر 77: وَلَا يَزِيۡدُ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا خَسَارًا بتلائیے ظالمین کے ساتھ یزید کا ذکر کیوں ہے؟
جواب: یہ سوال جہالت یا خیانت پر مبنی ہے یہاں یزید فعل مضارع کا صیغہ ہے، اسم نہیں ہے،
ترجمہ: کہ قرآن ظالموں کو خسارے میں ڈالتا ہے
یعنی جب شیعوں نے ظلم کر کے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تو قرآن ان کے دل اور ایمان سے خارج ہو گیا اور یہ نقصان میں پڑ گئے۔
اگر لفظ یزید سے استدلال ہے تو (بطورِ لطیفہ نہ بطورِ تفسیر و استدلال) ہم کہتے ہیں کہ خدا کا فرمان ہے:
وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ (سورۃ النساء: آیت 173)
ترجمہ: اللہ مومنوں کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے
تو یزید تو خدا کا فضل ثابت ہوا۔ اور ایک جگہ ہے
وَيَزِيۡدُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا هُدًى (سورۃ مريم: آیت 76)
ترجمہ: اور جن لوگوں نے سیدھا راستہ اختیار کر لیا ہے، اللہ ان کو ہدایت میں اور ترقی دیتا ہے۔
تو شیعہ استدلال کے طرز پر معلوم ہوا کہ یزید کو خدا نے ہدایت میں بڑھا چڑھا دیا تھا تو شیعہ اس سے دشمنی کیوں رکھتے ہیں؟
نوٹ: یہ سوال جواب بطورِ لطیفہ ہیں تفسیر قرآن نہیں ہے، آیات میں یزید مراد نہیں ہے۔ فعل مضارع ہے کہا اللہ ان کو بڑھاتا ہے خسارہ نقصان کو کہتے ہیں کہ ظالم آخرت میں نقصان میں رہیں گے، اور اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِىۡ خُسۡرٍ سے بھی یہی مراد ہے کہ اہلِ ایمان، اعمالِ صالحہ بجا لانے والے حق اور صبر کی تاکید کرنے والوں کے سوا سب انسان گھاٹے میں ہیں، بحمداللہ ان چاروں صفات کے حامل اہلِ سنت والجماعت ہیں کہ وہ قران، توحید، رسالت، قیامت، اہلِ بیت و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب پر ایمان رکھتے ہیں، اعمالِ صالحہ ان کی پہچان ہے، حق گوئی ان کا شعار ہے، صبر ان کی ڈھال ہے، جبکہ شیعہ کا ایمان ناقص ہے، توحید و قرآن کو مانتے ہی نہیں، رسول اللہﷺ کو کامیاب ہادی اور اعمالِ صالحہ کو ضروری نہیں مانتے، سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تبرا کرتے ہیں، تقیہ کر کے حق پوشی کرتے ہیں ماتم کر کے صبر کو ختم کر دیتے ہیں، تو آیتِ عصر بھی ظالموں کے ساتھ ان کا حشر و انجام ذکر فرما رہی ہے۔
سوال نمبر 78 تا 80: کیا معرکہ کربلا حق و باطل کا معیار ہے کہ نہیں؟
*جواب:* اس معیار پر پُوری وہ جنگیں اترتی ہیں جو مسلمانوں کی کافروں سے ہوں، جیسے عہدِ نبوی اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے زمانے کے غزوات و جہاد اور جو مسلمانوں کی آپس میں سیاسی حقوق اور اختلافات کہ بناء پر واقع ہوں وہ اس کامل معیار پر نہیں ہیں اور شیعوں کو اقرار ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مقابل یزیدی بھی قرآن پڑھنے والے (یعنی مسلمان) تھے، حدیث شریف میں ہے کہ اللہ کے لیے وہ جنگ ہو گی جو اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے لڑی جائے، ہم اہلِ سنت تو ایک درجے میں کہہ سکتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے اجتہاد میں یزیدی حکومت کو غیر عادل سمجھ کر اس کے خلاف خروج کیا اور مرتبہ شہادت پا کر نہ صرف جنت کے حق دار ہوئے بلکہ حق و باطل کا یہ فیصلہ بھی کر دیا کہ سابق چار خلافتیں (حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی) برحق تھیں، تبھی تو حضرت علی و حضرت حسن و حضرت حسین رضی اللہ عنہم نے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج نہ کیا بلکہ تعاون کر کے ان سے مالی وظائف بھی حاصل کرتے رہے،
مگر شیعہ اصول پر یہ ذاتی اور محض سیاسی جنگ تھی، اعلاء کلمتہ اللہ نہ تھا، کیونکہ وہ صاف کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت سے بنو ہاشم و بنو امیہ میں سخت دشمنی چلی آ رہی تھی، اسلام بھی اسے ختم نہ کر سکا، عہدِ عثمان رضی اللہ عنہ میں حسد سے وہ مزید ابھری حضرت علی المرتضیٰؓ کی سیدنا امیرِ معاویہؓ سے جنگ اسی بناء پر ہوئی اور اب حضرت حسینؓ نے یزید سے جنگ اسی لیے کی کہ بنو ہاشم کی بنو امیہ سے وہ سیاسی و مذہبی حق واپس مل جائے جو خلافتِ اوّل سے غصب ہو چکا تھا، ایک شیعہ شاعر کہتا ہے:
فرزندِ سیدہ فاطمہؓ کا ہے کربلا ٹھکانہ
قبضہ کیا فدک پر یاروں نے غاصبانہ
سیدنا علیؓ کے حق پر چھاپہ حضرت عمرؓ نے مارا
اتنی سی بات کا ہے کرب و بلا فسانہ
بعض شیعہ روایات اس کی یوں تائید کرتی ہیں کہ بیعت کے مطالبہ پر حضرت حسینؓ نے حاکمِ مدینہ سیدنا ولید رضی اللہ عنہ سے کہا:
حضرت گفت پس تاخیر کن تا صبح و مارائے خود را بیتیم و تورائے خود را بینی و بایک دیگر مناظرہ کینم ہریک از ماوا وکہ بخلاف سزاوار ترباشد دیگرے با و بیعت نماید۔ (جلاء العیون: صفحہ٬ 349 و منتہی الآمال: جلد٬ 1 صفحہ، 298)
ترجمہ: تو صبح تک بیعت ملتوی کر دے ہم بھی غور کریں اور تو بھی غور کر لے اور ہم ایک دوسرے سے مناظرہ کریں کہ ہم خلافت کے زیادہ حق دار ہیں یا وہ (یزید) زیادہ حق دار ہے جو بھی ہو گا، دوسرا اس کے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔
مکالمہ ولید حاکمِ مدینہ و سیدنا حسین رضی اللہ عنہ
80 اہلِ سنت کے اصول پر سیدنا حسینؓ کی مظلومیت بحال ہے کیونکہ جب آپ رضی اللہ عنہ نے تین باعزت شرطوں میں ایک واپسی کی یا یزید کے پاس خود جا کر تصفیہ کرنے کی شرط رکھی مگر پھر بھی کوفیوں نے جنگ چھیڑ کر آپؓ کو تلوار اٹھانے پر مجبور کیا تو مظلومیت سے شہادت پائی بنا بریں حضور اکرمﷺ نے ان کی مظلومیت کی پشن گوئی فرمائی۔
سوال نمبر 81: خاکِ کربلا میں روزِ عاشورہ آج بھی خون گردش کرتا ہے؟
جواب: یہ شیعی خطابت ہے، حقیقت اور واقعہ سے اسے کوئی تعلق نہیں۔ ہزاروں شہداء مظلوم انبیاء کرام علیہم السلام سمیت ہوئے کسی کی جائے شہادت میں خون گردش کرانے کی اللہ نے سنت قائم نہیں کی تو اب اللہ اپنی سنت کو کیسے تبدیل کر کے خاکِ کربلا میں گردش کراتا ہے، دراصل ایسی جعلی خطابت سے شیعہ مذہب چل رہا ہے، ورنہ خاکِ کربلا کی جو ٹکیہ (سجدہ گاہ) ہر شیعہ لیے پھرتا ہے۔ اس میں بھی خون کسی نے دیکھا؟ یا وہ جعلی مٹی کا بت ہے؟ گردشِ خون کوئی سنت اللہ نہیں۔
سوال نمبر 82: کیا کسی امام نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اس قربانی کو اجتہادی غلطی تصور کیا؟
جواب: عمل اور حقیقت کے لحاظ سے تو کچھ بات ایسی ہے کیونکہ حادثہ کربلا کے بعد یزید چند سال اور زندہ رہا پھر بعد میں دیگر خلفاء بنو امیہ اور بنو عباس گزرتے رہے شیعہ سب کو ظالم غیر عادل کہتے ہیں، آٹھ ائمہ اہلِ بیتؒ تو ان کے دور میں گزرے، اگر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی واقعی ایسی ہوتی جیسی شیعہ باور کراتے ہیں تو وہ بھی اس سنت پر ضرور عمل کرتے یا کم از کم دوسروں کو نمائندہ بنا کر ان کی بالواسطہ مدد کرتے مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ نے بروایت (روضہ کافی: صفحہ٬ 235) یزید کی مجبورانہ غلامی کو ترجیح دی، سیاسی پاور سے مختار ثقفی اٹھا تو حضرت سجاد رحمۃ اللہ نے اسے بد نیت اور ظالم و منافق بتا کر بائیکاٹ کیا، حضرت زید رحمۃ اللہ اٹھے اور شہید ہوئے تو حضرت باقرؒ نے ان پر جرح کی، نفس زکیہ وغیرہ جو علوی ہاشمی حکومتِ وقت کے خلاف اٹھے، شیعہ کے کسی امام نے ان کی تائید نہ کی، کیا یہ سب کچھ اس بات کا اعلان نہیں ہے کہ حضرت حسینؓ نے حکومتِ وقت کے خلاف جو کچھ کیا وہ شیعہ ائمہ کے خیال میں نادرست اور ناقابلِ اتباع بات تھی۔ شہادتِ سیدنا حسینؓ کے بعد کوفی شیعوں نے پھر سیدنا زین العابدینؒ سے بیعت کرنا چاہی تو آپ نے فرمایا ہرگز نہیں، ہرگز نہیں، اے غدارو اور مکارو ہم پھر تمہارا دھوکہ نہ کھائیں گے، اور تمہارے جھوٹوں پر یقین نہ کریں گے، تم چاہتے ہو کہ میرے ساتھ بھی وہی کرو جو میرے باپ دادا کے ساتھ کیا ہے، اس خدا کی قسم جو آسمانوں کا محافظ ہے میں تمہاری گفتار پر ہرگز اعتماد نہ کروں گا۔ الخ
(جلاءالعیون: صفحہ، 427 طبع فارسی ایران)
یہاں حضرت سجادؒ نے دبی زبان میں یہ بات کہ دی کہ میرے والد نے تمہاری پُر مکر و فریب باتوں پر اعتماد کر کے غلطی کی اور مصائب جھیلے، میں یہ غلطی ہرگز کرنے والا نہیں۔
63ھ میں جب یزید کے خلاف تحریک گرم تھی اس دوران سیدنا منذر بن زبیرؓ نے حضرت عبداللہ بن حنظلہؓ اور سیدنا عبداللہ بن مطیع سے کہا تم کو چاہیے کہ سیدنا علی بن الحسینؒ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کرو، چنانچہ یہ سب مل کر سیدنا علی بن حسینؒ کے پاس گئے انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ:
میرے باپ اور دادا دونوں نے خلافت کے حصول کی کوشش میں اپنی جانیں گنوائیں میں اب ہرگز ایسے خطرناک کام کی جرأت نہیں کر سکتا میں اپنے آپ کو قتل کروانا پسند نہیں کرتا یہ کہہ کر مدینہ سے باہر ایک موضع میں چلے گئے۔
(تاریخِ اسلام نجیب آبادی: جلد، 2 صفحہ، 85)
سوال نمبر 83، 84: کسی شخص کا معتمد دوست اگر بعد وفات اس کی اولاد کو جائیداد سے محروم کر دے کیا وہ وفا دار ہو گا یا بے وفا اور قابلِ مذمت ہو گا؟
جواب: ایک فرضی کلیہ ہے کہ رسولِ خداﷺ کے بااعتماد دوستوں نے نہ آپﷺ سے بے وفائی کی نہ آپﷺ کی اولادؓ سے، نہ آپﷺ کی جائیداد ہڑپ کی نہ اولاد کو تکلیف پہنچائی، یہ سب دشمنانِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا حسد ہے اور خود ساختہ قصے ہیں جن سے وہ بد گوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مشن چلا رہے ہیں۔