Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی

  علی محمد الصلابی

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصتی میں شریک تھی، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دروازہ کے پاس آئے اور فرمایا: اے ام ایمن میرے بھائی کو بلاؤ، انھو ں نے کہا: وہ آپﷺ کے بھائی ہیں، جب کہ آپﷺ ان کی شادی کر رہے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں اے ام ایمن۔ وہ کہتی ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر پانی چھڑکا اور ان کے حق میں دعا کی، پھر فرمایا: فاطمہ کو بلاؤ، وہ کہتی ہیں کہ وہ شرم سے لڑکھڑاتی ہوئی آئیں، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم خاموش ہو جاؤ، میں نے تمھاری شادی اپنے اہل بیت میں سے سب سے زیادہ محبوب شخص سے کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر پانی چھڑکا، ان کے حق میں دعا کی، وہ کہتی ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے، اپنے سامنے ایک ہیولے کو دیکھا، فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میں، آپﷺ نے فرمایا: تم اسماء ہو؟ میں نے کہا: ہاں، آپﷺ نے فرمایا: اسماء بنت عمیس ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت افزائی کے لیے ان کی بچی کی رخصتی میں آئی ہو؟ میں نے کہا ہاں۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں دعا کی۔

(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 955 رقم: 342۔ اس کی سند صحیح ہے۔)

اس واقعہ میں اعلیٰ معاشرتی قدروں میں سے جو چیز نمایاں ہے وہ مختلف معاشرتی امور میں معاشرہ کے لوگوں کا باہمی تعاون ہے۔