اسلام میں معیار فضیلت تقویٰ ہے نسب و نسبت نہیں
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 85: جب اسلام میں معیارِ فضیلت تقویٰ ہے، رشتہ داری نہیں تو صرف صحابیت معیار کیسے؟
جواب: مقامِ شکر ہے کہ ایک حق بات تو آپ نے تسلیم کر لی واقعی اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَتۡقٰكُمۡ کا معیار قرآنی بلند رُتبی کا معیار ہے، مگر سنیے رشتہ دار پیغمبرﷺ ہونا کوئی اپنا کسب و عمل نہیں ہے جس پر ثواب اور فضیلت مرتب ہو۔ ہاں اگر اسلام ہو تو اس عمل کے توسط سے رشتہ داری باعثِ تکریم ہے ورنہ ہرگز نہیں۔
اور صحابیت ایک اعلیٰ عمل کا نام ہے کہ جو مسلمان پیغمبرِ وقت کی زیارت کر کے اسلام قبول کر لے، سابقہ مذہب اور سب برادری سے بائیکاٹ کی قربانی دے اور تاحیات اسی پر وہ قائم رہے تو بڑے اعلیٰ درجے کا مسلمان ہے، بعد والے بڑے ولی، غوث و قطب اس کی گردِ راہ کو نہیں پہنچ سکتے تو عمل و تقویٰ کا بعد از انبیاء علیہم السلام صحابیت بڑا معیار ہے جو خود اپنا عمل و کسب ہے اور خدا کی طرف سے رہبری اور توفیق اس پر مستزاد ہے، اس لیے ہم برملا کہتے ہیں صحابیت وہ معیارِ فضیلت ہے اور مقامِ تقویٰ ہے جو دوسرے غیر کسبی فضائل کے لیے معیار ہے مثلاً عہدِ نبوت کا رشتہ دارِ پیغمبر اگر صحابی نہیں ہے تو اس کی کچھ بھی عزت نہیں ہے۔ صحابیت اور اسلام آوری نے ہی رشتہ داری میں شرف و فضیلت کا حُسن پیدا کیا۔
سوال نمبر 86، 87: جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اعمال کی ذمہ دار ہیں تو تمام اصحاب کرام رضی اللہ عنہم مغفور و جنتی کیسے ہوئے؟
جواب: اصحابِ رسولﷺ بھی اعمال کے ذمہ دار ہیں اور اعمال ہی کی بدولت ان سب کو اللہ نے مغفور و جنتی قرار دیا ہے جگہ جگہ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کے بعد رضا و جنت کا ذکر ہے، ہجرت و نصرت کے بعد فرمایا:
اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا لَهُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ وَ مَغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ۞ (سورۃ انفال: آیت 4)
ترجمہ: یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں، مغفرت ہے اور باعزت رزق ہے۔
فتح مکہ سے پہلے اور اس کے بعد مسلمان ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اعمال و درجہ کا ذکر کر کے فرمایا: وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى (سورۃ الحدید: آیت 10)
ترجمہ: یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے۔
صحیحین میں جن لوگوں کا حوض سے دھکیلا جانا اور دوزخ کی طرف جانا مرقوم ہے وہ مسلمانوں کی اصطلاح کے مطابق صحابی نہ ہوں گے، کیونکہ انہوں نے آپﷺ کی آخری دنوں میں زیارت تو کی تھی مگر اسلامی تعلیم و تربیت سے ابھی راسخ نہ ہوئے تھے کہ وفاتِ نبویﷺ کا حادثہ در پیش آیا وہ سنبھل نہ سکے اور مسلمیہ کذاب وغیرہ کی سازش سے فتنہ ارتداد کا شکار ہو گئے تو مرتدوں کو ہم صحابی و واجب الاحترام نہیں کہتے۔ (گویا ان کو بعض روایات میں باعتبار ما کان کے اصحاب و اصیحاب سے آپ نے تعبیر فرمایا۔)
یہ توجہیہ تب ہے کہ بزعمِ شیعہ عہدِ نبوی کے کلمہ گو مراد ہوں، ورنہ ہمارے نزدیک قیامت تک ہونے والے وہ امتی مسلمان ہیں جو وضو کرنے سے چمک دار اعضاء تو رکھتے ہوں گے کہ آپﷺ ان کو پہچان لیں گے مگر انہوں نے ایسی بدعتیں اور نئے مذاہب ایجاد کیے ہوں گے کہ حوضِ کوثر و شفاعت سے محروم ہو کر دوزخ میں پھینکے جائیں گے، (تحفہ اثناء عشریہ) یہ اطلاق ایسا ہے جیسے اصحابِ ابی حنیفہ و اصحابِ شافعی کے بعد فقہاء کو کہا جاتا ہے۔