اجماع و قیاس کی حجیت
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 88: وحی کے بعد اجماع و قیاس کی ضرورت کیوں ہے؟
جواب: اسلام تا قیامت اربوں کھربوں مسلمانوں کا مذہب رہے گا، حادثات اور جدید مسائل غیر محدود ہوں گے، قرآن و حدیث کی آیات و نصوص بہرحال محدود ہیں تو ضرورت ہے کہ اجماع و قیاس کے دو اصولوں کے تحت وہ اسلام کی روشنی عام کریں کہ جس مسئلہ پر زمانہ کے سب علماء و صلحاء متفق ہو جائیں وہ واجب العمل قرار پائے اور جو نیا مسئلہ ہو تو اس کی نظیر قرآن و حدیث میں تلاش کر کے اس کا حکمِ حرمت و حلت اس پر بھی لگا دیا جائے، جب علتِ مشترکہ مل جائے۔
سوال نمبر 89: قیاس و اجماع کی اہمیت پر قرآنی آیت پیش کریں۔
جواب: 1: وَمَنۡ يُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُ الۡهُدٰى وَ يَتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصۡلِهٖ جَهَنَّمَ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا ۞
(سورۃ النساء: آیت 115)
ترجمہ: اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسولﷺ کی مخالفت کرے، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کر دیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
یہاں مخالفتِ رسول اللہﷺ پر ہی جہنم کی وعید نہیں بلکہ مؤمنین کی راہ سے جدا راہ چلنا بھی باعثِ جہنم ہے اس کو ہم اجماعِ امت سے تعبیر کر کے مخالفت کو خطرناک قرار دیتے ہیں۔
2: وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ
(سورۃ النساء: آیت 83)
ترجمہ: اور اگر یہ اس (خبر) کو رسول اللہﷺ کے پاس یا اصحاب اختیار کے پاس لے جاتے تو ان میں سے جو لوگ اس کی کھوج نکالنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت معلوم کرلیتے۔
صاحبانِ امر سے مراد یہاں اہلِ اجتہاد، حکام و فقہاء مراد ہیں نئی بات کو ان تک پہنچانا تاکہ وہ اس کا حل قرآن و سنت سے استنباط کر سکیں ضروری قرار دیا گیا ہے، اسی کا اصطلاحی نام قیاس ہے، ان دو اصولوں کی مزید اہمیت و تشریح تحفہ امامیہ سوال صفحہ 13 کے تحت پڑھیں۔