مطاعن بر عصمت الانبیاء علیہم السلام
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 90 تا 93: آپ کیوں کہتے ہیں نبی سے گناہ ممکن ہے؟
جواب: ہم ایسا نہیں کہتے بلکہ خدا نے انبیاء کرام علیہم السلام کا سانچہ اور نمونہ بلا عیب و نقص درست بنایا اس کے تمام مقررہ ہادی انبیاء و رسل علیہم السلام با کمال اور گناہوں سے پاک دامن تھے، ہم ان سے بالفعل گناہ ناممکن مانتے ہیں چونکہ وہ محترم انسان تھے تو تمام انسانی تقاضے اور خواہشات ان میں تھیں پھر انہوں نے خلاف پر قدرت ہوتے ہوئے بھی کسی تقاضا و خواہش کو خدا کی مرضی کے خلاف استعمال نہ کیا تو یہ بڑا کمال اور درجہ ہوا تو فرشتوں کا معصوم از گناہ ہونا اتنا کمال نہیں کہ ان کی فطرت میں ایسا تقاضا یا قدرت ہے ہی نہیں، جتنا حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا ہے بلکہ امت کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیاء عظام رحمہم اللہ بھی تقاضا کے باوجود گناہ سے بچ کر بڑا درجہ رکھتے ہیں لیکن ہم ان کو محفوظ مانتے ہیں معصوم نہیں۔
سوال 94 تا 96: کیا اجماع و قیاس سے نبی بن سکتا ہے؟
جواب: نہیں، خود اپنے کہنے سے بھی نہیں بن جاتا۔ اسے اللہ تعالیٰ بغیر کسب اور مطالبہ کے بنا دیتا ہے۔
اَللّٰهُ يَصۡطَفِىۡ مِنَ الۡمَلٰئِكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ۔
سوال نمبر 97 تا 100: عقیدہ سنیہ میں نبی عام بشر کی مانند ہوتا ہے، دور سے سنتا نہیں تو نماز میں اَيُّهَا النَّبِىُّ سے ندا کیوں؟ کیا یہ رسمی صیغہ ہے یا مشرکانہ حرکت ہے؟
جواب: کئی باتوں میں عام بشر کی مانند نہیں بھی ہوتا، معجزات، خدا سے ہم کلامی، عصمت وغیرہ خصوصیات بھی رکھتا ہے لفظوں کے لحاظ سے تو تشہد حکایت ما سبق ہے کہ شبِ معراج میں آپﷺ نے دربارِ الہٰی میں التحیات کا نذرانہ پیش کیا، جواب میں خدا نے السلام عليك ايها النبی کا تحفہ دیا، اب بعینہٖ یہ الفاظ ہم پڑھتے ہیں، جیسے قرآن کے ہزاروں ایسے خطاب والے کلمات ہم تلاوت میں پڑھتے ہیں، ان کے حاضر ناظر ہونے کا تصور نہیں ہوتا، یہاں بھی نہ ہونا چاہیے۔ البتہ معناً یہ ہمارا انشاء سلام ہے کہ ہم سلام کی نیت کر رہے ہیں، حدیثِ نبوی کے مطابق لا تعداد فرشتے زمین میں گھوم پھر رہے ہیں وہ ہمارا سلام لے کر حضورﷺ تک پہنچا دیتے ہیں۔ تو نہ رسمی صیغہ ہے نہ دور سے حاضر ناظر و سمیع مان کر مشرکانہ حرکت ہے ریا کاری، فرقہ وارانہ نمائش کے تحت نہیں بلکہ غلبہ تعشق کے ساتھ یا روضہ اقدس پر حاضری کے وقت بصیغہ نداء درود و سلام پڑھنا جائز ہے۔ مگر اذان کے وقت اور حاضر و ناظر کے عقیدہ سے ممنوع ہے جس کا رواج اب پڑ چکا ہے۔ نماز میں درود و سلام سنت ہے، عمداً چھوڑنا گناہ ہے۔ احیاناً چھوڑنے سے نماز ہو جاتی ہے۔