Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام معصوم ہیں

  مولانا مہرمحمد میانوالی

 سوال نمبر 101: شیعہ تمام انبیاء علیہم السلام کو معصوم کہتے ہیں آپ کو کیوں اختلاف ہے؟

جواب: ہم شیعوں سے بڑھ کر انبیاء علیہم السلام کو معصوم اور پاک باز کہتے ہیں یہ ناجائز بہتان ہے۔

سوال نمبر 102: آپ کے ہاں حضرت آدم علیہ السلام کا گناہ جنت پر ہوا یا زمین پر؟ 

جواب: یہ بھی بہتان ہے حضرت آدم علیہ السلام نے کوئی گناہ نہیں کیا، کیونکہ گناہ کے لیے نیت و عمد شرط ہے، البتہ بنصِ قرآنی آپ علیہ السلام جنت میں ایک پھل بھول کر کھا بیٹھے تو اللہ نے زمین پر بھیج دیا ہاں شیعہ کے ہاں حضرت آدم علیہ السلام ڈبل کافر ہو گئے، (معاذ اللہ) کہ حرص و حسد جیسے اصولِ کفر کا ارتکاب کیا، جب کہ شیطان نے صرف تکبر کا اصولِ کفر اپنایا تھا۔ ملاحظہ ہو (اصول کافی: جلد، 2 صفحہ، 289)

سوال نمبر 103: کیا حضرت نوح علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے کافر ہونے کا علم تھا؟

جواب: علم تو تھا مگر مسلمان رحمتِ خداوندی سے مایوس نہیں ہوتا، آخر وقت تک امید رہی کہ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے دے اور اسے کشتی میں سوار ہونے کو بھی کہا، جب وہ نہ مانا اور غرق ہو گیا تو اس تصور سے دعا مانگی کہ یہ میرے گھر کا فرد ہے۔ گھر والوں کو بچانے کا آپ نے وعدہ کیا ہے بچا لیجئے مگر اللہ نے منع فرما دیا کہ یہ بدعمل و بد اعتقاد تھا۔ تیرے اہلِ بیت سے نہیں، معلوم ہوا کہ شرفِ اہلِ بیت ایمان اور عملِ صالح سے ملتا ہے۔ بیوی اور بیٹے میں جب یہ خوبی نہ تھی تو اہلِ بیت سے خارج کیے گئے اور غیروں کو ایمان و عمل کی وجہ سے کشتی میں بٹھا کر آپ کے اہلِ بیت بنا دیا گیا۔ کاش شیعہ بھی اہلِ بیت کے قرآنی مفہوم کو مانتے؟ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کر لیتے۔

سوال نمبر 104: صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین جھوٹ بولے۔ 

جواب: یہاں کذب کے عام عرفی معنیٰ مراد نہیں ہیں بلکہ خطاء و تجاوز کے معنیٰ ہیں۔ جیسے ارشاد ہے:  

مَا كَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰى ۞

(سورۃ النجم: آیت 11)

ترجمہ: جو کچھ انہوں نے دیکھا، دل نے اس میں کوئی غلطی نہیں کی۔ اور یہ صورۃً سامع کے ذہن کے لحاظ سے خلاف واقعہ بات تھی فی نفسہٖ سچ ہی تھا، کیونکہ بڑے بت کی شان و شوکت اور چودھراہٹ نے آپ کو آمادہ کیا کہ بت خانہ توڑا جائے تو نسبت ادھر کر دی۔ قوم کی بت پرستی دیکھ کر واقعی دل و دماغ سے پریشان اور ذہنی مریض تھے۔ اپنی بیوی حضرت سارہ واقعی اسلامی اور چچا زاد بہن تھیں، تو یہ باتیں حقیقتاً جھوٹ نہ تھیں۔

ہاں شیعہ عقیدہ میں یہ صراحتاً جھوٹ تھا، جیسے سیدنا باقر رحمۃ اللہ نے تقیہ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: 

کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود کو بیمار کہا حالانکہ بیمار نہ تھے، حضرت یوسف علیہ السلام نے بھائیوں کو چور کہا حالانکہ وہ چور نہ تھے۔ 

(اصول کافی، باب التقیہ: جلد، 2 صفحہ، 220)

سوال نمبر 105: اگر گریہ و بکاء منافی صبر ہے تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے ایسا کیوں کیا؟

جواب: آواز سے بکاء اور رونا بین کرنا، ماتم کرنا، ہاتھوں سے پیٹنا، سیاہ لباس پہننا، ہائے فلاں، ہائے فلاں کرنا، منافی صبر ہے جو شیعوں کے خاص اعمال ہیں، صرف آنکھوں سے رونا، آنسو بہانا اور دل میں غمناک رہنا منافی صبر نہیں ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے دوسرے کام کیے پہلے منافی صبر کام ہرگز نہیں کیے۔

سوال نمبر 106: زلیخا کی جانب قصد کرنے پر آپ حضرت یوسف علیہ اسلام کو گناہ گار کیوں کہتے ہیں؟

جواب: ہم ہرگز ایسا نہیں کہتے، یہ قصد وَھَمَّ مشروط ہے یعنی اپنے رب کی برہان و نبوت یا باپ کی زیارت، نہ دیکھتے تو قصد کر لیتے، جب برہان دیکھ لی تو قصد بھی نہ کیا، یہ صحیح ترین تفسیر ہے۔ وَهَمَّ بِهَا‌ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّاٰ بُرۡهَانَ رَبِّهٖ‌ کی۔ (سورۃ یوسف: آیت 24)

سوال نمبر 107: آپ کے ہاں حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری گناہوں کا نتیجہ تھی؟

جواب: غلط بہتان ہے یہ آزمائش تھی جس کا سبب یہ ہوا کہ شیطان نے ایک مرتبہ کہا: حضرت ایوب علیہ السلام اس لیے عابد و شاکر ہے کہ وہ مالدار اور آسودہ ہے۔ اللہ نے فرمایا میں اگر یہ نعمتیں چھین بھی لوں تب بھی صابر و شاکر رہے گا، چنانچہ یہی ہوا وہ صابر ہی نکلے، اِنَّا وَجَدۡنٰهُ صَابِرًا‌ نِعۡمَ الۡعَبۡدُ‌

(سورۃ ص: آیت 44)

ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندے تھے۔ حاشیہ ترجمہ مقبول صفحہ، 546 پر بھی یہی بات لکھی ہے۔

سوال نمبر 109: آپ کے مذہب میں سب انبیاء کرام اولوالعزم گناہ گار ہیں جیسے حدیثِ شفاعت میں ان کا اقرار ہے؟

جواب: اللہ کے مقامِ ہیبت و جلال کے سامنے کسرِ نفسی کے طور پر اپنی لغزشوں کا ذکر فرمائیں گے جیسے خود قرآن نے ان کی دعائیں ذکر کی ہیں۔

1: قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا (سورۃ الأعراف: آیت، 23)

ترجمہ: دونوں بول اٹھے کہ: اے ہمارے پروردگار! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں۔ دعائے حضرت آدم علیہ السلام۔ 

2: وَاِلَّا تَغۡفِرۡلِىۡ وَتَرْحَمۡنِىۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ (سورۃ هود: آیت 47)

ترجمہ: اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائی اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہو جاؤں گا جو برباد ہو گئے ہیں۔ دعائے حضرت نوح علیہ السلام۔

3: رَبَّنَا اغۡفِرۡلِىۡ وَلِوَالِدَىَّ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ (سورۃ ابراهيم: آیت 41)

ترجمہ: میری بھی مغفرت فرمائیے میرے والدین کی بھی، اور ان سب کی بھی جو ایمان رکھتے ہیں۔ دعائے حضرت ابراہیم علیہ السلام۔

 4: رَبِّ اِنِّىۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِىۡ فَاغۡفِرۡلِىۡ (سورۃ القصص: آیت 16)

ترجمہ: میرے پروردگار! میں نے اپنی جان پر ظلم کر لیا، آپ مجھے معاف فرما دیجیے۔ دعائے حضرت موسیٰ علیہ السلام 

5۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لغزش تو نہ ہوئی مگر اللہ تعالیٰ کے شریک بنائے گئے، دربارِ الہٰی میں آنے سے گھبرائیں گے کیونکہ خدا یہ پوچھے گا:

وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِىۡ وَاُمِّىَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌

(سورۃ المائدۃ: آیت 116)

ترجمہ: اور (اس وقت کا بھی ذکر سنو) جب اللہ کہے گا کہ: اے عیسیٰ ابنِ مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ دو معبود بناؤ؟ 

اب معترض بخاری کے بجائے قرآن پر بھی اعتراض کریں کہ کیوں انبیاء کرام علیہم السلام اپنی طرف ظلم کی نسبت کر کے معافی مانگ رہے ہیں؟ دراصل یہ لغزشیں نہ گناہ ہیں نہ قرآن و حدیث کے الفاظ سے ایسا استدلال درست ہے۔ جذبۂ خشیت اور تقویٰ سے معافی مانگنا ہی کاملین کی شان ہے۔ 

اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ ۞

(سورۃ المؤمنون: آیت 57)

ترجمہ: (اہلِ ایمان اپنے رب کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بھی یہی کیفیت تھی جن پر شیعہ معترض ہیں۔)

سوال نمبر 110: بخاری میں ہے ایک نبی نے چیونٹیوں کا گھر جلا دیا، فرمائیے کیوں؟ 

جواب: حدیث ہٰذا میں یہ لفظ بھی ہیں: فلدغته نملۃ کہ چیونٹی نے آپ کو کاٹا تو موذی جانور کا جلانا اب بھی جائز ہے۔ جب امام نووی رحمۃ اللہ وغیرہ شارحینِ حدیث نے لکھا ہے کہ ان کی شریعت میں چیونٹیوں وغیرہ ہوام کو قتل کرنا درست تھا کیونکہ اللہ نے عتاب نہیں کیا۔ ہماری شریعت میں حیوان کو جلانا درست نہیں۔

سوال نمبر 111: آپ کے مذہب میں خدا کے معصوم ہادی دیگراں را نصیحت خود میاں فضیحت کا مصداق ہیں۔

جواب: بہتان محض ہے، ہمارے عقیدہ میں انبیاء کرام علیہم السلام گناہوں سے معصوم، زاہد، قانع، امین، خلیقِ معزز اور تاثیرِ ہدایت رکھنے والے ہوتے ہیں۔ بغض کی کالی عینک لگا کر دیکھنے سے شیعہ کو معاذ اللہ انبیاء کرام علیہم السلام بھی کالے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ یہ طعن خود ان پر ہوتا ہے کہ اور انبیاء کرام علیہم السلام کا تو کہنا ہی کیا، خاتم الرسل، امام الانبیاءﷺ‏ کے بارے میں ان کا مذہب یہ ہے: کہ نبوت کے زور پر ایک بڑی جائیداد جمع کی اور اپنی بیٹی کو ہبہ کر دی، اپنی نو بیوگان کے لیے کچھ نہ کیا، اپنے تخت پر بزعمِ خود داماد کو بٹھایا مگر اس میں مکمل ناکامی ہوئی، لیکن اصل کام تبلیغ و ہدایت تو آپﷺ سے کچھ ہو ہی نہ سکا حتیٰ کہ ہاتھ کی پانچ انگلیوں کے برابر آدمی بھی مومن و ہدایت یافتہ نہ بنا سکے۔ (معاذ اللہ) 

آج ہر شیعہ باغِ فدک اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایمان کشی پر ہر مسلمان سے لڑتا ہے۔ (فیا للعجب) اور خمینی جیسا سفاک عدل و انصاف کے نفاذ میں حضور اکرمﷺ کو ناکام کہتا ہے۔ معاذ اللہ۔ (پیغام بر ولادت مہدی)