Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ان سے متعلق آپﷺ کی غیرت

  علی محمد الصلابی

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو مدینہ میں سب سے آخری کام سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا ہوتا، اور جب سفر سے واپس ہوتے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہؓ کے پاس جاتے۔

(مسند احمد: جلد 5 صفحہ 275۔ الدوحۃ النبویۃ: صفحہ 56)

ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ سے واپس آتے یا سفر کرتے تو ابتداء مسجد سے کرتے، اس میں دو رکعت نماز ادا کرتے، پھر سیدہ فاطمہؓ کے پاس آتے، پھر اپنی بیویوں کے پاس آتے۔

(الاستیعاب: جلد 4 صفحہ 376۔ اس کی سند میں ابوفروہ رہاوی ضعیف راوی ہیں)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں: اٹھنے بیٹھنے سے متعلق وقار و تمکنت میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ مشابہ تھیں، جب وہ آپﷺ کے پاس جاتیں، آپﷺ کھڑے ہوتے، انھیں بوسہ دیتے، اور اپنی جگہ پر بٹھاتے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس جاتے تو وہ کھڑی ہوتیں، آپﷺ کو بوسہ دیتیں، اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔

(صحیح مسلم: رقم: 3450۔ صحیح سنن ابی داود: رقم: 5217 )

ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدہ فاطمہؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کو بوسہ دیتیں۔ 

(سنن ابی داؤد: رقم: 5217۔ صحیح سنن ابی داؤد: للالبانی: جلد 3 صفحہ 979)

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے اہل بیت میں سے میرے نزدیک محبوب ترین فاطمہ ہیں۔‘‘

(مسند الطیالسی: جلد 2 صفحہ 25۔ حدیث حسن صحیح ہے۔)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنی چاہی تو آپﷺ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

فاطمۃ بضعۃ منی فمن أغضبہا أغضبنی

’’فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جو اسے ناراض کرے گا وہ مجھے ناراض کرے گا۔‘‘

(صحیح البخاری: رقم: 4173)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے متعلق حدیث کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا ہے یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ دونوں کے مابین محبت تھی، معاملہ ویسا نہیں تھا جیسا کہ خود غرض دعویٰ کرتے ہیں۔

(أسمی المطالب فی سیرۃ امیر المومنین علی بن ابی طالب: جلد 1 صفحہ 136)

مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھو ں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کہتے ہوئے سنا: بنو ہاشم بن مغیرہ کے مجھ سے اس بات کی اجازت طلب کرنے پر کہ وہ اپنی بچی کی شادی علی بن ابی طالب سے کردیں، میں نے تین بار کہا کہ میں اجازت نہیں دے سکتا، علی بن ابوطالب چاہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بچی سے شادی کرسکتے ہیں، بلاشبہ میری بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ 

(صحیح البخاری: رقم: 5230)

امام ترمذی رحمہ اللہ نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کا تذکرہ کیا، یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپﷺ نے فرمایا:

إِنَّمَا فَاطِمَۃُ بِضْعَۃٌ مِِّنِّیْ یُؤْذِیْنِيْ مَا آذَاہَا وَیُتْعِبُنِیْ مَا أَتْعَبَہَا۔

(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 756، رقم: 1327 اس کی سند صحیح ہے)

’’فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، اس کی تکلیف میری تکلیف ہے، اس کی پریشانی میری پریشانی ہے۔‘‘

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب سے متعلق حاکم کی روایت کردہ یہ حدیث ہے کہ بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک عورتوں میں سے محبوب ترین سیدہ  فاطمہ رضی اللہ عنہا اور مردوں میں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔

(المستدرک: کتاب معرفۃ: جلد 3 صفحہ 155 اس کی سند صحیح ہے۔)

یہ حدیث صحیح بخاری میں وارد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی حدیث کے معارض نہیں ہے، اس میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، لوگوں میں سے کون آپ کے نزدیک محبوب ترین ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: عائشہ، پوچھا گیا مردوں میں سے؟ آپ نے فرمایا: ان کے والد۔ 

(صحیح البخاری: رقم: 4358)

اس حدیث کا بظاہر مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آپﷺ کی خاندان کی عورتوں میں سے محبوب ترین سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور مردوں میں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ اسی سلسلے میں ابن العربی اس حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’لوگوں میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ترین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، ازواج مطہراتؓ میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، خاندان کی عورتوں میں سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور مردوں میں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، اس ترتیب سے حدیثوں کے مابین تعارض ختم ہو کر تطبیق ہوجاتی ہے۔‘‘

 (عارضۃ الاحوذی: جلد 13 صفحہ 247، 248۔ العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 137)