Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مطاعن بر عصمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 112: اہلِ سنت کے نزدیک خود سرورِ کائناتﷺ‏ بھی معصوم نہ تھے؟ 

جواب: بکواس ہے، آسمان کا تھوکا منہ پر آتا ہے۔ خود شیعہ سب سے بڑے گناہ نفاق اور دھوکہ بازی کا الزام حضور اکرمﷺ پر لگاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (جلاء العیون: صفحہ، 34 اور حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 706) کہ حضور اقدسﷺ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو جہاد کی مہم پر بھیجتے وقت جہاد کی ترغیب و تاکید تو خوب کر رہے تھے اور لوگوں کو نکالنے میں مبالغہ کرتے تھے مگر اپنا مقصد ان کو جنگ پر بھیجنا نہ تھا بلکہ صرف یہ تھا کہ مدینہ ان منافقوں سے خالی ہو جائے تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بلا نزاع خلیفہ بنا لوں۔ مگر یہ آخری تمنا اور بڑی کوشش بری طرح ناکام ہو گئی۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہی خلیفہ بن گئے اور حضور اقدسﷺ‏ اسی صدمہ سے رخصت ہوئے۔ (معاذ اللہ)

سوال نمبر 113: مذہبِ سنیہ کے مطابق معاذ اللہ حضورﷺ اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے بے انصافی کرتے تھے، بخاری پیج 10

جواب: ہم نے بخاری عربی پیج 10 چھان مارا، پکا پتہ نہ چلا کہ یہ مبہم و مجہول اعتراض کس حدیث پر ہے شاید باب الھبہ کی یہ حدیث ہو: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، حضور اکرمﷺ جب سفر پر جاتے تو بیویوں میں قرعہ اندازی کرتے جس کے نام کا قرعہ نکل آتا اسے ساتھ لےجاتے اور ہر بیوی کے رات اور دن بھی تقسیم کر رکھے تھے سوائے سیدہ سودہ بنتِ زمعہ رضی اللہ عنہا کے، کہ انہوں نے اپنے دن رات کی باری حضرت عائشہؓ کو بخش دی تھی اس سے رسول اقدسﷺ کو خوش کرنا مقصود تھا۔ (صحیح بخاری: جلد، 1 صفحہ، 353)

اگر اس حدیث پر اعتراض ہے تو کوئی اعتراض نہیں کیونکہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے بخوشی حضورﷺ کی رضا کے لیے اپنی باری حضرت عائشہ صدیقہؓ کو بخش دی تھی اگر کسی اور حدیث سے بے انصافی کا بہتان تراشا ہے تو یہ حدیث اس کی تردید میں کافی ہے۔

سوال نمبر 114: آپ کی کتبِ صحاح میں رسول اللہﷺ کی شان میں گستاخیاں ہیں؟ 

جواب: بہتانِ محض ہے، منشاء اعتراض میاں بیوی کے معاملات میں ناجائز دخل دینا ہے۔

سوال نمبر 115: حضور اکرمﷺ پر الزام ہے کہ نعوذ باللہ آپﷺ‏ دورانِ حیض مباشرت کرتے تھے؟ 

جواب: یہ بد فہمی ہے عربی میں لفظ مباشرت جماع کے لیے نہیں بولا جاتا۔ جیسے اردو میں مباشرت جماع کے ہم معنیٰ ہے۔ یباشر بشرہ سے بنا ہے۔ یعنی بدن کا بدن سے بلا پردہ ملانا، تو مسئلہ یہ ہے کہ حالتِ حیض میں ناف تا زانو آگا پیچھا نہ دیکھنا جائز ہے، نہ بدن سے چھونا، ہاتھ لگانا وغیرہ۔ مگر باقی بدن سے بدن ملانا یا دیکھنا ہاتھ لگانا درست ہے۔ اُم المؤمنین رضی اللہ عنہا نے یہ مسئلہ بتایا ہے اور شیعہ معترض نے پرویزیوں کی طرح حدیث میں کیڑے نکالے ہیں۔ حالانکہ حدیث میں صاف مذکور ہے: و كان يامرنى فاتزر ترجمہ: مجھے حکم دیتے تھے تو میں چادر کس کر باندھ لیتی پھر آپ مجھ سے (معانقہ کر کے) بدن ملاتے۔ ہمیں تو جواب لکھنے میں بھی حیا دامن گیر ہے مگر بےحیا شیعہ سائل حرمِ نبوی کی نہاں خانہ زندگی کو تاکتا جھانکتا اور ملعون حرکت کر رہا ہے۔

سوال نمبر 116: بخاری صفحہ 34 پر ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں خوشبو لگاتے اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا دورہ فرماتے تھے کیا یہ بے حرمتی اور خلافِ قرآن نہیں؟ 

جواب: جب حیاء نہ رہے تو جھوٹ اور بددیانتی عادت بن جاتی ہے، بخاری: جلد، 1 صفحہ، 41 پر حدیث یوں ہے: 

كنت اطيب رسول الله صلى الله علیه وسلم فيطوف على نساءه ثم يصبح محرما ينضح طيبا

ترجمہ: میں حضور اکرمﷺ‏ کو خوشبو لگاتی تھی آپﷺ‏ بیویوں کا دورہ کرتے پھر صبح کو احرام باندھتے تو خوشبو مہکتی ہوتی۔

یہ خوشبو و طواف برنساء احرام باندھنے سے قبل ہے جس میں بے حرمتی اور قرآن کی خلاف ورزی ہرگز نہیں، احرام کے بعد پہلی خوشبو کا اثر رہ بھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ یہی مسئلہ مائی صاحبہ (سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا) نے اپنے بھائی سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہ کو سمجھایا۔

سوال نمبر 117: حالتِ حیض میں ازواج مطہراتؓ سے کنگھی لگواتے تھے، کیا یہ گستاخی نہیں؟

جواب: حائضہ کے ہاتھ حسی نجاست سے تو پلید نہیں ہوتے کہ کنگھی لگانا بھی ممنوع ہو۔

سوال نمبر 118: حضور اقدسﷺ‏ کسی کے پیر پر سجدہ فرماتے تھے، کیا یہ جائز ہے؟ 

جواب: رش اور جگہ کی تنگی کی صورت میں کسی کی پشت پر بھی سجدہ جائز ہے، بالا واقعہ تہجد کی نماز کا ہے کہ مکان اور حجرہ تو کافی تنگ تھا اور چراغ بھی نہ ہوتا تھا تو سوئے ہوئے افراد خانہ میں سے کسی کے پاؤں کے ساتھ سر کبھی لگا ہو گا، جسے بدطینت شیعہ نے پاؤں پر سجدہ بنا ڈالا ورنہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ کی سمت میرے پاؤں ہوتے تھے جب آپﷺ‏ سجدہ کرتے تو مجھے انگلی سے دباتے، میں پاؤں کھینچ لیتی، جب آپﷺ‏ کھڑے ہو جاتے تو پاؤں دراز کر دیتی تھی، فرماتی ہیں گھروں میں ان دنوں چراغ نہ جلتے تھے۔ (صحیح بخاری: جلد، 1 صفحہ، 56 عربی) مکان کی تنگی اور اندھیرے ایسی صورتِ حال پیش آنے پر اعتراض خبثِ باطنی کی دلیل ہے۔

سوال نمبر 119: صحیحین میں ہے ایک بی بی (سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) آپﷺ کے سامنے جنازہ کی مانند پڑی رہتی تھیں؟

 جواب: وہ بالا واقعہ ہے کہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے حضور اکرمﷺ ایسی جگہ مصلیٰ بچھاتے جہاں سامنے بیویؓ (حضرت عائشہ صدیقہؓ) سوئی ہوتی تھی، تہجد خوانوں کو گھروں میں اب بھی ایسی صورت در پیش آتی ہے کہ سامنے سونے والے کی چارپائی ہے اس پر اعتراض کیوں؟ اگر یہ خیال ہو کہ اُم المؤمنینؓ کو حالتِ نماز میں اٹھ جانا چاہیے تھا تو وضاحت یہ ہے کہ آپﷺ‏ بسا اوقات ساری رات، اکثر رات، آدھی رات جاگ کر نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ مقامِ نبوت و عبدیت تھا تو مائی صاحبہ (سیدہ عائشہ صدیقہؓ) ساری رات کیسے جاگتی اور بیٹھی رہتیں؟ تو یہ ان پر تنگی ہوتی، اللہ تنگی کو پسند نہیں فرماتا۔

سوال نمبر 120: صحیح مسلم میں ہے کہ ایک صحابیؓ کو غسل کا مسئلہ بتاتے وقت بی بی (سیدہ) عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کا مخصوص عمل کر کے دکھلایا کیا ایسی نازیبا حرکت نبی کریمﷺ خلقِ عظیم سے متوقع ہے؟ 

جواب: پاک پیغمبرﷺ پر بہتان تراشوں پر بارہ اماموں کی لعنت ہو، یہ تو راجپال ہندو سے بھی بکواس بازی میں بڑھ گیا، حدیث شریف میں تو یہ لفظ ہیں کہ حضور اقدسﷺ نے ایک بیوی کی طرف ذہنی اشارہ کر کے فرمایا کہ ہم نے ایسا کام کیا تو غسل کیا۔(فعلنا ها مع هذا) کیا اس کا ترجمہ یہ ہے کہ خلوت کا مخصوص عمل کر کے دکھلایا۔ (معاذ اللہ)

سوال نمبر 121: بخاری کے مطابق حضور اکرمﷺ کو چھینٹوں سے بچنے کی پرواہ نہ تھی۔ کیوں؟ 

جواب: یہ مجہول اور گمراہ کن سوال ہے۔ تبھی تو خائن سائل الفاظ نقل نہیں کرتا، کیا اپنے پیشاب کی چھینٹوں سے حضور اکرمﷺ نہ بچتے تھے؟ یہ بہتان ہے، ایسی کوئی حدیث نہیں ہے۔ بلکہ آپﷺ نے قبر میں عذاب پانے والے دو شخصوں کے متعلق فرمایا: ایک پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچتا تھا، دوسرا چغلی کھاتا تھا۔ کیا آپﷺ نے ایک دفعہ عذر اور مجبوری سے ایک ڈھیر پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا تھا؟ تو اس میں اپنے اوپر چھینٹے پڑنے کا کوئی ذکر نہیں۔ کیا ایک بچے نے آپﷺ پر پیشاب کر دیا؟ تو آپﷺ نے اسے پانی سے دھو لیا، ایک شیر خوار بچے نے گود میں پیشاب کر دیا ہے۔ تو آپﷺ نے پانی سے تر کر دیا مستقل دھویا نہیں۔ 

اس باب کی جتنی حدیثیں طاعن کو چبھ سکتی ہیں ہم نے سب نقل کر دی ہیں۔ کسی میں بھی یہ مضمون نہیں ہے کہ رسول اللہﷺ کو (معاذ اللہ) پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کی پرواہ نہ تھی۔ (فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِيْن)

سوال نمبر 122: آپ کے مذہب میں شارع علیہ الصلوۃ والسلام پاکیزہ نہیں، گناہ گار ہیں؟

 جواب: جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔

سوال نمبر 123: شبلی نعمانیؒ نے حضور اکرمﷺ کی زندگی دو حصوں میں تقسیم کی ہے، نبوی، غیر نبوی۔ ہمیں کس کسوٹی سے معلوم ہو گا کہ یہ فعلِ رسولﷺ‏ بحیثیتِ نبی ہے یا بحیثیتِ غیر نبی؟

جواب: حضور اقدسﷺ‏ ہمہ وقت نبی ہیں، نبوت آپﷺ سے کسی لمحہ جدا نہیں ہوتی، لہٰذا جو کام آپﷺ کرتے ہیں اس میں آپﷺ معصوم ہیں اور خدا کی مرضی کے مطابق کرتے ہیں۔ البتہ آپﷺ‏ کے روزمرّہ کے اعمال دو قسم کے ہیں: یا تو قرآن پاک اور وحیِ خفی سنانے، تشریح کرنے اور ان پر عمل کرنے سے متعلق ہیں، یہ شعبہ تبلیغ سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌

(سورۃ الحشر: آیت 7)

ترجمہ: اور رسول تمہیں جو کچھ دیں، وہ لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔ 

اور اَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ کے تحت ان کی اتباع واجب و فرض ہے، انکار کرنے والا مسلمان ہی نہیں رہتا۔ کچھ باتیں وہ ہیں جو دنیا کے احوال، تجربہ یا عادات سے وابستہ ہیں، جیسے مدینہ طیبہ میں تشریف آوری پر آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ کھجوروں کی پیوند کاری نہ کیا کرو، خدا نے جو پھل دینا ہے اس کے بغیر بھی دے دے گا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس سال پیوند نہ لگایا تو فصل تھوڑا ہوا اور معیشت پر اثر پڑا، تب آپﷺ نے فرمایا:

اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ، اِذَا اَمَرْتُكُمْ بِشَىْءٍ مِّنْ اَمْرِ دِيْنِكُمْ فَخُذُوْهُ، وَاِذَا اَمَرْتُكُمْ بِشَىْءٍ مِّنْ رَاْيِىْ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ (صحیح مسلم، مشکوٰة: صفحہ، 28)

ترجمہ: میں ایک انسان ہوں، جب تمہیں دین کی کوئی بات کہوں تو اسے پکڑ لو اور جب اپنی رائے سے (دنیاوی) بات کہوں تو میں ایک انسان ہی ہوں۔ (بھول چوک ممکن ہے)

علیٰ ہٰذا القیاس آپﷺ نے بعض پھلوں اور سبزیوں کو زیادہ پسند فرمایا، بعض کو کم پسند کیا، کبھی ننگی چارپائی اور چٹائی پر لیٹے، کبھی بستر پر، اسی طرح بعض جانوروں پر سواری فرمائی۔ یہ عادات و مزاج سے وابستہ اُمور بھی سنت اور برحق ہیں، ان میں عیب نکالنا خطرہ ایمان ہے، مگر ان کی اتباع مسلمانوں پر فرض یا واجب نہیں ہے بلکہ مستحب یا سنتِ مؤکدہ ہے۔ علامہ شبلی رحمۃ اللہ نے یہی مسئلہ بتایا ہے جسے بات کا بتنگڑ بنایا گیا۔ موقع و محل اور قول و ذوق خود بتا دے گا کہ یہ دینی امر واجب ہے یا بحیثیتِ نیک انسان ایک دنیاوی غیر واجب عمل ہے۔

سوال نمبر 124 تا 126: یہ بھی اسی تشریح سے حل ہو گئے کہ عادی امور دنیوی میں اتباع فرض یا واجب نہیں۔ تو ان کے نہ کرنے سے انکارِ نبوت بھی نہیں اور مخالفتِ رسولﷺ بھی نہیں۔ البتہ ان امور میں عیب نکالنا کفر یا زندقہ ہو گا۔ اب اگر بعد از نمازِ ظہر حضور اکرمﷺ نے آرام فرمایا اور کسی مسلمان نے اس وقت آرام نہ کیا اور کام میں لگا رہا تو اس پر یہ ظالمانہ فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا کہ اس نے نبی کریمﷺ کی سنتِ آرام ترک کر کے نبوت کا انکار کر دیا۔ (معاذ اللہ تعالیٰ)

سوال نمبر 127: سنی مذہب کا رسول خاطی و گنہگار ہے؟

جواب: ہرگز نہیں! گناہ کا الزام بہتانِ محض ہے۔ ہاں، کسی دنیوی بات میں بھول چوک غیر اختیاری اور جدا چیز ہے۔

سوال نمبر 128: فرمائیے! آپ کے خیال میں حضورﷺ سہواً گناہ کرتے تھے یا قصداً؟

 جواب: گناہ قصد و ارادہ سے ہوتا ہے اور نبی اکرمﷺ اس سے معصوم ہیں۔ سہو بات گناہ نہیں۔

سوال نمبر 129: نسیانِ رسول وحی کے بارے میں تسلیم کیا جائے تو کتاب اللہ پر اعتماد نہ رہا۔

جواب: قرآن اور وحی کی تعلیم و تبلیغ میں ہم نسیان کے قائل نہیں، باقی باتوں میں احیاناً امکانِ عقلی ہے مگر وہ سنی شیعہ کا متفقہ مسئلہ ہے۔ ملاحظہ ہو۔ ہم سنی کیوں ہیں؟ (صفحہ، 27 صفحہ، 29 صفحہ، 163 صفحہ، 164 بحوالہ فروع کافی وغیره) دراصل تعلیمِ امت کے لیے تکوینی طور پر خدا نے آپﷺ‏ کو بھلایا۔

سوال نمبر 130: کیا سیدنا ابو ھریرہؓ حافظہ میں حضور اقدسﷺ سے بڑھ گئے تھے کہ کوئی بات نہ بھول سکے؟

جواب: آپﷺ سے دعا کرانے کے بعد بطورِ کرامت واقعی یہ کیفیت ہو گئی تھی کہ کوئی حدیث سن کر نہ بھولی مگر باقی باتوں سے ان کے نسیان کی نفی نہیں، حضور اکرمﷺ کا وحی بھولنا ناممکن ہے، صرف تبلیغ کردہ کوئی آیت، کسی فکر و پریشانی سے ذہن سے اوجھل ہو جائے اور دوسرے سے سن کر فورا ذہن میں آ جائے تو روایت میں یہی مراد ہے۔

سوال نمبر 131: قرآن میں ہے کہ شیطان کا قابو اللہ کے خاص بندوں پر نہ ہو گا، حالانکہ صحیحین میں ہے کہ حضور اکرمﷺ پر شیطان نے قبضہ پا لیا؟

جواب: یہ بہتانِ محض ہے۔ حدیث میں یہ ہے کہ: ہر بنی آدم کے ساتھ ایک شیطان لگا ہوا ہے، میرے ساتھ بھی ہے، مگر وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اللہ نے مجھے اس پر قابو دیا ہے فَأَمْكَنَنِی اللّٰهُ مِنْهُ۔ دشمنِ رسول رافضی نے اس کا ترجمہ الٹا دیا۔

سوال نمبر 132، 133: بخاری میں ہے کہ حضورﷺ نے ظہر کی پانچ رکعتیں اور چار کے بجائے دو رکعتیں پڑھائیں؟

جواب: سہواً ایسا ہوا جو عیب نہیں۔ اس کی تصریح ہے، (جیسا کہ فروع کافی: جلد، 1 صفحہ، 356 اور الاستبصار: جلد، 1 باب السہو)۔

سوال نمبر 134: حضرت موسیٰ و حضرت آدم (علیہما السلام) کی ملاقات کہاں ہوئی؟ جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو جنت سے نکلوانے کا الزام دیا۔

جواب: بروایتِ سیدنا ابو ہریرہؓ یہ مسلم میں بھی ہے، شارحین کہتے ہیں کہ یہ عالم الغیب میں روحانی ملاقات تھی عِنْدَ رَبِّھِمَا۔ اس کی تائید کرتا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جسمانی (مثالی) ہوئی ہو کہ اللہ نے دونوں کو زندہ کیا ہو یا حضرت آدم علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں زندہ کیا ہو اور خطیرة القدس میں ملاقات ہوئی ہو جیسے شبِ معراج میں ملاقاتیں ثابت ہیں۔ (مرقاة ملا علی قاریؒ) اور یہ برزخی جسمانی حیات کے خلاف نہیں۔

سوال نمبر 135، 136: کیا آپ حضورﷺ کو سحر زدہ مانتے ہیں؟ کیا آپﷺ‏ کی کیفیت یہ ہو گئی تھی کہ خیال آتا وہ کوئی کام کر رہے ہیں حالانکہ وہ کام نہیں کرتے ہوتے؟

جواب: سحر بھی اسبابِ عادیہ میں سے ہے، جیسے آگ جلاتی ہے، گرمی، سردی کا آپﷺ پر اثر ہوتا تھا، اسی طرح یہودیوں کے سحر کا بھی اثر ہوا مگر صرف اسی قدر کہ بعض عادی باتوں میں نسیان ہوتا تھا، لیکن امورِ وحی و تبلیغِ احکام اور دینی مشاغل میں ایسا کوئی اثر نہ تھا روایت میں یہ صراحت ہے، اگر آپ کو اہلِ سنت کی حدیث پر اعتراض ہے تو قرآن پاک کی معوذتین پر غور کیجئے کہ ان میں جن چیزوں کے شر سے پناہ مانگنے کی دعا سکھائی گئی ہے وہ یہی حسد کی بناء پر پر سحر کا ٹونہ تھا جو گرہیں پھونک پھونک کر یہودی عورتوں نے کیا تھا۔ 

وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِى الۡعُقَدِ ۞

(سورۃ الفلق: آیت 4)

ترجمہ: اور ان جانوں کے شر سے جو (گنڈے کی) گرہوں میں پھونک مارتی ہیں۔

سوال نمبر 137: آنحضورﷺ غسل فرمانے کے بعد اپنی بی بیؓ سیدہ عائشہ صدیقہؓ) سے لپٹ کر کیوں گرم ہوتے تھے؟ (ترمذی)

جواب: صرف یہ مسئلہ امت کو بتایا گیا کہ بعد از غسل بھی لحاف میں ہونا، لپٹنا درست ہے۔ سائل کا دماغ کتنا خراب ہے کہ بیوی کے ساتھ ان جائز باتوں کو نشانہ طعن بنا کر اپنے دینی ماں باپ کی سبکی کر رہا ہے۔ (معاذ اللہ)

سوال نمبر 138: بی بی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسولِ خداﷺ‏ کو اذیت دینے میں کوشاں رہیں۔ (بخاری) کیا فتویٰ ہے؟

جواب: ایسا کوئی لفظ حدیث شریف میں نہیں ہے۔ یہ بہتان ہے۔ بالفرض بیوی کی کسی بات سے خاوند کو رنج و تکلیف پہنچے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ قصد و عمد کے ساتھ ہو جو باعثِ اعتراض ہوتا ہے بالفرض ایسا کچھ ہو تو یہ میاں بیوی کے معاملات ہیں خاوند کا حق ہے کہ جھڑکے، مارے یا علیحدہ کرے، کسی دوسرے کو ان کے معاملات میں ٹانگ اڑانے اور چہ میگوئیاں کرنے کا کیا حق ہے؟ اگر خاوند نے ایسی کوئی بات نہ کی بلکہ بدستور اس بیویؓ سے تا عمر بہترین سلوک کیا، سب سے زیادہ اسی سے محبت کی۔ وقتِ وفات اس کے منہ کا چبایا ہوا مسواک استعمال کیا۔ اسی کی گود میں رفیقِ اعلیٰ سے وصال فرمایا اس کے حجرہ کو آپﷺ کا دائمی مسکن اور گنبدِ خضریٰ بننے کا شرف حاصل ہوا۔ کیا ایسی محبوب زوجہؓ پیغمبرﷺ اور ماں پر آوازے کسنے والا مومن بیٹا ہے؟ اور کیا وہ رسولِ خداﷺ‏ کو تکلیف دے کر دنیا و آخرت کا ملعون ابدی نہ بن گیا؟

سوال نمبر 139: حضرت رسولِ خداﷺ‏ گلاس کے اسی مقام سے پانی پیتے تھے جہاں ایک بی بیؓ (سیدہ عائشہ صدیقہؓ) نے پیا ہوتا، (مسلم) اس حدیث کو نقل کرنے کا کیا جواز ہے؟

جواب: تاکہ معلوم ہو جائے کہ بی بیؓ (حضرت عائشہ صدیقہؓ) کا جھوٹا اور لعابِ دہن پاک ہے۔ خاوند پی سکتا ہے اور رسول اللہﷺ‏ تو ایک بی بیؓ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) سے یہ اظہارِ محبت یا اس کی تکریم اس لیے کرتے تھے تاکہ اس جوڑے کے دشمن شیعہ حسد و ماتم سے دم گھٹ کر مر جائیں۔

سوال نمبر 140: صحیح بخاری میں ہے کہ اُم المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا و سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا جھگڑا حضور اکرمﷺ کے سامنے ہوتا تھا؟

جواب: یہ حدیث تلاش کے باوجود عربی نسخہ سے نہیں ملی۔ دو سوکن بیویوں میں بتقاضائے بشریت اگر ایسی کبھی نوک جھوک ہو گئی تو رسول اللہﷺ‏ کو مؤاخذہ کا حق ہے نہ کہ ایک فاسق رافضی کو؟ اس طعن سے ہم نے نتیجہ نکالا ہے کہ اپنی محبوب بیویوں کی اس لغزش کو رسولِ خداﷺ نے تو معاف کر دیا مگر آپ کے اہلِ خانہ کے متعلق طعن و اعتراض کرنے والے شیعہ ایمان سے محروم ہو گئے۔

سوال نمبر 141: حضور اکرمﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو لہو و لعب یعنی ناچ گانا دکھایا، جو منع ہے؟

جواب: مسجدِ نبویﷺ میں اپنے حکم سے جنگ و جہاد کی تربیت اور مشق حبشیوں سے کروائی، خود دیکھی اور پسِ پردہ مائ صاحبہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کو بھی دکھائی، اسے ناچ گانے سے تعبیر کر کے طعن تراشنے والا ملحد ہی ہے۔ مزید تفصیل ہم سنی کیوں ہیں؟ صفحہ، 25 پر دیکھیں۔

سوال نمبر 142: حالتِ روزہ میں حضور انورﷺ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا منہ و زبان چومتے تھے، کیوں؟

جواب: حالتِ روزہ میں بوس و کنار درست ہے جب تک جماع کا خطرہ نہ ہو ورنہ مکروہ یا حرام ہے، اور یہی فعلِ پیغمبرﷺ دلیل ہے، زبان چوسنے سے مراد یہ ہے کہ لعابِ دہن نہیں چوستے (نگلتے) تھے جو روزہ توڑ دیتی ہے۔ فقہ جعفریہ فرماتی ہے: جو روزہ دار منی نکالنے کے ارادے کے بغیر بیوی کو پیار کرے یا لپٹے چمٹے اور اسے بھروسہ ہو کہ منی نہ نکلے گی تو اس کا روزہ صحیح ہے اگرچہ اتفاقاً منی نکل آئے۔

(توضیح المسائل: صفحہ، 173)

حالانکہ اہلِ سنت کے ہاں منی نکلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ان باتوں کو جو فقہی مسائل بتانے کے لیے محدثین نے اپنے اپنے مقام پر ذکر کی ہیں۔ نشانہ طعن بنانے والا یا اپنی بیویوں کے ساتھ جائز معاملات کو بے حیائی کے انداز میں اچھالنے والا کیا پاکیزہ ذہن والا اور لعنت سے محروم ہو سکتا ہے؟

سوال نمبر 143: کیا حضور اکرمﷺ دستر خوان پر بی بی (سیدہ) عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے منہ والی ہڈی چوستے اور اسی جگہ سے پانی پیتے جہاں سے بی بیؓ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے پیا ہوتا، جب کہ وہ حالتِ حیض میں ہوتیں؟ کیا یہ باتیں اخلاقی ضابطہ کے خلاف نہیں؟ 

جواب: حائضہ بی بی (سیدہ عائشہ صدیقہؓ) کا منہ ہاتھ پاک ہوتے ہیں۔ ہڈی کو دانت لگانے اور پانی پینے سے ہڈی اور پیالہ ناپاک نہیں ہو جاتا۔ یہی مسئلہ سمجھانے کے لیے حدیث بیان کی گئی ہے اگر مسئلے کا بیان ضابطۂ اخلاق کے خلاف ہے تو کیا فعلِ پیغمبرﷺ، جو بالاتفاق جائز ہی تھا، کا مذاق اڑانا صریح بے ایمانی نہیں ہے؟

سوال نمبر 144: نمازِ تہجد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا حضور اکرمﷺ کی سمت لیٹا ہونا؟

جواب: یہی بات سوال 118، 119 میں تھی مفصل جواب دیکھ لیجئے۔

سوال نمبر 145: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور اکرمﷺ کے کپڑے سے منی کھرچ ڈالتیں تو آپﷺ نماز پڑھتے؟

جواب: گاڑھی خشک منی، ناک کی آلائش کی طرح، جب کپڑے سے کھرچ دی گئی تو ناپاکی کے سب اجزاء دور ہو جانے سے کپڑا پاک ہو گیا اور نماز پڑھنا درست ہوا، شیعہ مسئلہ بھی یہی ہے؟ پس اگر کپڑے وغیرہ سے خون کو دور کر کے پاک کیا جائے، لیکن خون کا رنگ یا بُو باقی رہ جائے تو وہ کپڑا پاک ہے۔ 

(توضیح المسائل: صفحہ، 24)

سوال نمبر 146، 147: حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو غسل کا مسئلہ بی بی (حضرت) عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے غسل کر کے بتایا، زبان سے کیوں نہ بتایا؟ اس نے کسی مرد سے کیوں نہ پوچھا؟ 

جواب: یہ حضرت ابوسلمہؓ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھانجے ہیں اور مسئلہ پوچھنے میں حضرت عائشہ صدیقہؓ کے رضاعی بھائی حضرت عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بڑے برتن میں پانی منگوایا، پردہ لٹکایا اور سر پر پانی ڈال کر غسل کیا۔

(بخاری، مسلم: کتاب الغسل)

 اپنے محرم اگر خالہ یا بہن سے مسئلہ غسل پوچھ لیں تو یہ کوئی عیب نہیں، اگر وہ باپردہ غسل کریں اور پھر بتائیں تو کیا اعتراض کی بات ہے؟ 

لیکن شیعہ سائل تو بے حیا ہو کر غسل و طہارت میں ایسے مطاعن کرنے سے اپنی زبان و دل کو ناپاک کر رہا ہے، حدیث میں لفظ حجاب ہے اس کا ترجمہ باریک سا پردہ کرنا ایک سائل کی بدباطنی نہیں ہے؟

سوال نمبر 148: حضرت عائشہؓ کے بستر پر حضور اکرمﷺ کو وحی آتی باقی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے روحُ الامین علیہ السلام کو کیا عداوت تھی؟

جواب: خدا سے پوچھیئے کہ اس وقت حضرت جبریلِ امین علیہ السلام کو کیوں بھیجتا تھا اور حضرت جبریلِ امین علیہ السلام سے لڑائی کیجیئے کہ وہ شیعہ کی دشمن اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بستر میں لیٹے ہوئے رسول کریمﷺ پر کیوں وحی اتارتا تھا؟ 

آخر یہودیوں کو حضرت جبریل علیہ السلام سے بنصِ قرآن دشمنی ہے تو ابنِ سباء یہودی کی اولاد کو کیوں نہ ہو؟ 

شیعہ کی اعلام خصال صدوق: صفحہ، 316 میں ہے اکثر علماء اسلام کہتے ہیں کہ تشیع کی بنیاد اور غلو آمیزی ابنِ سبا نے کی ہے۔

سوال نمبر 149: حضور اکرمﷺ‏ کے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ خاص مُحبانہ معاملات کو بے حیائی سے موضوعِ سُخن بنا کر، محمد شاہ رنگیلا کو بھی شرمانے والا، مشتاق ننگ و عار رافضی مکّار اس سوال میں پھر گزری ہوئی سب باتوں کا اعادہ کرتا ہے اور نئی بات یہ بتاتا ہے کہ ایک برتن سے حضور انورﷺ بیوی کے ساتھ کیوں نہاتے تھے؟ اور بیوی کی چادر باندھ کر نماز کیوں پڑھ لیتے تھے؟ ایسے بے حیا خر دماغوں کے متعلق خدا نے ہم کو یہ تعلیم دی ہے: وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا

(سورة الفرقان: آیت 63) (جوابِ جاہلاں خاموشی)

سوال نمبر 150: کیا یہ التفات کسی اور زوجہ کے لیے بھی تھے؟

جواب: زوجہ کی حیثیت سے ہر بیوی کے ساتھ ایسے التفات ہو سکتے ہیں اور کسی کے لیے زیادہ بھی۔ مگر حلت و حرمت یا پاکی پلیدی کے مسائل معلوم کرنے کی غرض کے علاوہ ما و شما کو ان مخصوص باتوں کی تلاش یا ننگی شہرت کی بھی ضرورت ہے؟ کیا آپ نے اپنے ماں باپ کے ان جنسی معاملات میں بھی تجسس کر کے ٹوہ لگائی اور حلالی بیٹا ہونے کا حق ادا کیا؟ اگر نہیں تو کیا اس مذموم مقصد کے لیے آپ کو حضرت رسولِ خداﷺ اور اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی ملیں؟ کیا اس سے بھی بڑھ کر اخبث اور کمینہ ترین کوئی انسان ہو گا؟ کیا اللہ تعالیٰ یہ زجر و استفہام تم جیسے منافقوں کے لیے نہیں ہے: 

قُلۡ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوۡلِهٖ كُنۡتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُوۡنَ 

(سورۃ التوبة: آیت 65)

ترجمہ: کہو کہ: کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ دل لگی کر رہے تھے؟ 

اگر ہم اسی نگاہِ خیانت سے کتبِ شیعہ میں ائمہ اور ان کی بیویوں کے واقعات تلاش کریں تو اس سے زیادہ ملیں گے اور حضرت رسولِ خداﷺ کے اپنے محارم کے ساتھ بھی مثلاً یہ روایت کہ: جب تک جناب سیدہ (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو پیار نہ کر لیتے نہ سوتے تھے اور اپنا روئے مبارک سینہ سیدہ فاطمہؓ پر رکھتے۔ الخ 

(جلا العیون: جلد، 1 صفحہ، 156) 

لیکن شیعوں کی سی کمینگی سے خدا نے ہم کو مبرا کیا ہے۔ 

 لیکن زمردم نیایدسگی