مطاعن بر عصمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) - ردِ رافضیت…

مطاعن بر عصمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 4

سوال نمبر 112: اہلِ سنت کے نزدیک خود سرورِ کائناتﷺ‏ بھی معصوم نہ تھے؟ 

جواب: بکواس ہے، آسمان کا تھوکا منہ پر آتا ہے۔ خود شیعہ سب سے بڑے گناہ نفاق اور دھوکہ بازی کا الزام حضور اکرمﷺ پر لگاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (جلاء العیون: صفحہ، 34 اور حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 706) کہ حضور اقدسﷺ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو جہاد کی مہم پر بھیجتے وقت جہاد کی ترغیب و تاکید تو خوب کر رہے تھے اور لوگوں کو نکالنے میں مبالغہ کرتے تھے مگر اپنا مقصد ان کو جنگ پر بھیجنا نہ تھا بلکہ صرف یہ تھا کہ مدینہ ان منافقوں سے خالی ہو جائے تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بلا نزاع خلیفہ بنا لوں۔ مگر یہ آخری تمنا اور بڑی کوشش بری طرح ناکام ہو گئی۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہی خلیفہ بن گئے اور حضور اقدسﷺ‏ اسی صدمہ سے رخصت ہوئے۔ (معاذ اللہ)

سوال نمبر 113: مذہبِ سنیہ کے مطابق معاذ اللہ حضورﷺ اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے بے انصافی کرتے تھے، بخاری پیج 10

جواب: ہم نے بخاری عربی پیج 10 چھان مارا، پکا پتہ نہ چلا کہ یہ مبہم و مجہول اعتراض کس حدیث پر ہے شاید باب الھبہ کی یہ حدیث ہو: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، حضور اکرمﷺ جب سفر پر جاتے تو بیویوں میں قرعہ اندازی کرتے جس کے نام کا قرعہ نکل آتا اسے ساتھ لےجاتے اور ہر بیوی کے رات اور دن بھی تقسیم کر رکھے تھے سوائے سیدہ سودہ بنتِ زمعہ رضی اللہ عنہا کے، کہ انہوں نے اپنے دن رات کی باری حضرت عائشہؓ کو بخش دی تھی اس سے رسول اقدسﷺ کو خوش کرنا مقصود تھا۔ (صحیح بخاری: جلد، 1 صفحہ، 353)

اگر اس حدیث پر اعتراض ہے تو کوئی اعتراض نہیں کیونکہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے بخوشی حضورﷺ کی رضا کے لیے اپنی باری حضرت عائشہ صدیقہؓ کو بخش دی تھی اگر کسی اور حدیث سے بے انصافی کا بہتان تراشا ہے تو یہ حدیث اس کی تردید میں کافی ہے۔

سوال نمبر 114: آپ کی کتبِ صحاح میں رسول اللہﷺ کی شان میں گستاخیاں ہیں؟ 

جواب: بہتانِ محض ہے، منشاء اعتراض میاں بیوی کے معاملات میں ناجائز دخل دینا ہے۔

سوال نمبر 115: حضور اکرمﷺ پر الزام ہے کہ نعوذ باللہ آپﷺ‏ دورانِ حیض مباشرت کرتے تھے؟ 

جواب: یہ بد فہمی ہے عربی میں لفظ مباشرت جماع کے لیے نہیں بولا جاتا۔ جیسے اردو میں مباشرت جماع کے ہم معنیٰ ہے۔ یباشر بشرہ سے بنا ہے۔ یعنی بدن کا بدن سے بلا پردہ ملانا، تو مسئلہ یہ ہے کہ حالتِ حیض میں ناف تا زانو آگا پیچھا نہ دیکھنا جائز ہے، نہ بدن سے چھونا، ہاتھ لگانا وغیرہ۔ مگر باقی بدن سے بدن ملانا یا دیکھنا ہاتھ لگانا درست ہے۔ اُم المؤمنین رضی اللہ عنہا نے یہ مسئلہ بتایا ہے اور شیعہ معترض نے پرویزیوں کی طرح حدیث میں کیڑے نکالے ہیں۔ حالانکہ حدیث میں صاف مذکور ہے: و كان يامرنى فاتزر ترجمہ: مجھے حکم دیتے تھے تو میں چادر کس کر باندھ لیتی پھر آپ مجھ سے (معانقہ کر کے) بدن ملاتے۔ ہمیں تو جواب لکھنے میں بھی حیا دامن گیر ہے مگر بےحیا شیعہ سائل حرمِ نبوی کی نہاں خانہ زندگی کو تاکتا جھانکتا اور ملعون حرکت کر رہا ہے۔

سوال نمبر 116: بخاری صفحہ 34 پر ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں خوشبو لگاتے اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا دورہ فرماتے تھے کیا یہ بے حرمتی اور خلافِ قرآن نہیں؟ 

جواب: جب حیاء نہ رہے تو جھوٹ اور بددیانتی عادت بن جاتی ہے، بخاری: جلد، 1 صفحہ، 41 پر حدیث یوں ہے: 

كنت اطيب رسول الله صلى الله علیه وسلم فيطوف على نساءه ثم يصبح محرما ينضح طيبا

ترجمہ: میں حضور اکرمﷺ‏ کو خوشبو لگاتی تھی آپﷺ‏ بیویوں کا دورہ کرتے پھر صبح کو احرام باندھتے تو خوشبو مہکتی ہوتی۔

یہ خوشبو و طواف برنساء احرام باندھنے سے قبل ہے جس میں بے حرمتی اور قرآن کی خلاف ورزی ہرگز نہیں، احرام کے بعد پہلی خوشبو کا اثر رہ بھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ یہی مسئلہ مائی صاحبہ (سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا) نے اپنے بھائی سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہ کو سمجھایا۔

سوال نمبر 117: حالتِ حیض میں ازواج مطہراتؓ سے کنگھی لگواتے تھے، کیا یہ گستاخی نہیں؟

جواب: حائضہ کے ہاتھ حسی نجاست سے تو پلید نہیں ہوتے کہ کنگھی لگانا بھی ممنوع ہو۔

سوال نمبر 118: حضور اقدسﷺ‏ کسی کے پیر پر سجدہ فرماتے تھے، کیا یہ جائز ہے؟ 

جواب: رش اور جگہ کی تنگی کی صورت میں کسی کی پشت پر بھی سجدہ جائز ہے، بالا واقعہ تہجد کی نماز کا ہے کہ مکان اور حجرہ تو کافی تنگ تھا اور چراغ بھی نہ ہوتا تھا تو سوئے ہوئے افراد خانہ میں سے کسی کے پاؤں کے ساتھ سر کبھی لگا ہو گا، جسے بدطینت شیعہ نے پاؤں پر سجدہ بنا ڈالا ورنہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ کی سمت میرے پاؤں ہوتے تھے جب آپﷺ‏ سجدہ کرتے تو مجھے انگلی سے دباتے، میں پاؤں کھینچ لیتی، جب آپﷺ‏ کھڑے ہو جاتے تو پاؤں دراز کر دیتی تھی، فرماتی ہیں گھروں میں ان دنوں چراغ نہ جلتے تھے۔ (صحیح بخاری: جلد، 1 صفحہ، 56 عربی) مکان کی تنگی اور اندھیرے ایسی صورتِ حال پیش آنے پر اعتراض خبثِ باطنی کی دلیل ہے۔

سوال نمبر 119: صحیحین میں ہے ایک بی بی (سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) آپﷺ کے سامنے جنازہ کی مانند پڑی رہتی تھیں؟

 جواب: وہ بالا واقعہ ہے کہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے حضور اکرمﷺ ایسی جگہ مصلیٰ بچھاتے جہاں سامنے بیویؓ (حضرت عائشہ صدیقہؓ) سوئی ہوتی تھی، تہجد خوانوں کو گھروں میں اب بھی ایسی صورت در پیش آتی ہے کہ سامنے سونے والے کی چارپائی ہے اس پر اعتراض کیوں؟ اگر یہ خیال ہو کہ اُم المؤمنینؓ کو حالتِ نماز میں اٹھ جانا چاہیے تھا تو وضاحت یہ ہے کہ آپﷺ‏ بسا اوقات ساری رات، اکثر رات، آدھی رات جاگ کر نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ مقامِ نبوت و عبدیت تھا تو مائی صاحبہ (سیدہ عائشہ صدیقہؓ) ساری رات کیسے جاگتی اور بیٹھی رہتیں؟ تو یہ ان پر تنگی ہوتی، اللہ تنگی کو پسند نہیں فرماتا۔

سوال نمبر 120: صحیح مسلم میں ہے کہ ایک صحابیؓ کو غسل کا مسئلہ بتاتے وقت بی بی (سیدہ) عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کا مخصوص عمل کر کے دکھلایا کیا ایسی نازیبا حرکت نبی کریمﷺ خلقِ عظیم سے متوقع ہے؟ 

صفحہ 1 از 4