مطاعن بر عصمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) - ردِ رافضیت…

مطاعن بر عصمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 4

جواب: یہ بہتانِ محض ہے۔ حدیث میں یہ ہے کہ: ہر بنی آدم کے ساتھ ایک شیطان لگا ہوا ہے، میرے ساتھ بھی ہے، مگر وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اللہ نے مجھے اس پر قابو دیا ہے فَأَمْكَنَنِی اللّٰهُ مِنْهُ۔ دشمنِ رسول رافضی نے اس کا ترجمہ الٹا دیا۔

سوال نمبر 132، 133: بخاری میں ہے کہ حضورﷺ نے ظہر کی پانچ رکعتیں اور چار کے بجائے دو رکعتیں پڑھائیں؟

جواب: سہواً ایسا ہوا جو عیب نہیں۔ اس کی تصریح ہے، (جیسا کہ فروع کافی: جلد، 1 صفحہ، 356 اور الاستبصار: جلد، 1 باب السہو)۔

سوال نمبر 134: حضرت موسیٰ و حضرت آدم (علیہما السلام) کی ملاقات کہاں ہوئی؟ جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو جنت سے نکلوانے کا الزام دیا۔

جواب: بروایتِ سیدنا ابو ہریرہؓ یہ مسلم میں بھی ہے، شارحین کہتے ہیں کہ یہ عالم الغیب میں روحانی ملاقات تھی عِنْدَ رَبِّھِمَا۔ اس کی تائید کرتا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جسمانی (مثالی) ہوئی ہو کہ اللہ نے دونوں کو زندہ کیا ہو یا حضرت آدم علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں زندہ کیا ہو اور خطیرة القدس میں ملاقات ہوئی ہو جیسے شبِ معراج میں ملاقاتیں ثابت ہیں۔ (مرقاة ملا علی قاریؒ) اور یہ برزخی جسمانی حیات کے خلاف نہیں۔

سوال نمبر 135، 136: کیا آپ حضورﷺ کو سحر زدہ مانتے ہیں؟ کیا آپﷺ‏ کی کیفیت یہ ہو گئی تھی کہ خیال آتا وہ کوئی کام کر رہے ہیں حالانکہ وہ کام نہیں کرتے ہوتے؟

جواب: سحر بھی اسبابِ عادیہ میں سے ہے، جیسے آگ جلاتی ہے، گرمی، سردی کا آپﷺ پر اثر ہوتا تھا، اسی طرح یہودیوں کے سحر کا بھی اثر ہوا مگر صرف اسی قدر کہ بعض عادی باتوں میں نسیان ہوتا تھا، لیکن امورِ وحی و تبلیغِ احکام اور دینی مشاغل میں ایسا کوئی اثر نہ تھا روایت میں یہ صراحت ہے، اگر آپ کو اہلِ سنت کی حدیث پر اعتراض ہے تو قرآن پاک کی معوذتین پر غور کیجئے کہ ان میں جن چیزوں کے شر سے پناہ مانگنے کی دعا سکھائی گئی ہے وہ یہی حسد کی بناء پر پر سحر کا ٹونہ تھا جو گرہیں پھونک پھونک کر یہودی عورتوں نے کیا تھا۔ 

وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِى الۡعُقَدِ ۞

(سورۃ الفلق: آیت 4)

ترجمہ: اور ان جانوں کے شر سے جو (گنڈے کی) گرہوں میں پھونک مارتی ہیں۔

سوال نمبر 137: آنحضورﷺ غسل فرمانے کے بعد اپنی بی بیؓ سیدہ عائشہ صدیقہؓ) سے لپٹ کر کیوں گرم ہوتے تھے؟ (ترمذی)

جواب: صرف یہ مسئلہ امت کو بتایا گیا کہ بعد از غسل بھی لحاف میں ہونا، لپٹنا درست ہے۔ سائل کا دماغ کتنا خراب ہے کہ بیوی کے ساتھ ان جائز باتوں کو نشانہ طعن بنا کر اپنے دینی ماں باپ کی سبکی کر رہا ہے۔ (معاذ اللہ)

سوال نمبر 138: بی بی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسولِ خداﷺ‏ کو اذیت دینے میں کوشاں رہیں۔ (بخاری) کیا فتویٰ ہے؟

جواب: ایسا کوئی لفظ حدیث شریف میں نہیں ہے۔ یہ بہتان ہے۔ بالفرض بیوی کی کسی بات سے خاوند کو رنج و تکلیف پہنچے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ قصد و عمد کے ساتھ ہو جو باعثِ اعتراض ہوتا ہے بالفرض ایسا کچھ ہو تو یہ میاں بیوی کے معاملات ہیں خاوند کا حق ہے کہ جھڑکے، مارے یا علیحدہ کرے، کسی دوسرے کو ان کے معاملات میں ٹانگ اڑانے اور چہ میگوئیاں کرنے کا کیا حق ہے؟ اگر خاوند نے ایسی کوئی بات نہ کی بلکہ بدستور اس بیویؓ سے تا عمر بہترین سلوک کیا، سب سے زیادہ اسی سے محبت کی۔ وقتِ وفات اس کے منہ کا چبایا ہوا مسواک استعمال کیا۔ اسی کی گود میں رفیقِ اعلیٰ سے وصال فرمایا اس کے حجرہ کو آپﷺ کا دائمی مسکن اور گنبدِ خضریٰ بننے کا شرف حاصل ہوا۔ کیا ایسی محبوب زوجہؓ پیغمبرﷺ اور ماں پر آوازے کسنے والا مومن بیٹا ہے؟ اور کیا وہ رسولِ خداﷺ‏ کو تکلیف دے کر دنیا و آخرت کا ملعون ابدی نہ بن گیا؟

سوال نمبر 139: حضرت رسولِ خداﷺ‏ گلاس کے اسی مقام سے پانی پیتے تھے جہاں ایک بی بیؓ (سیدہ عائشہ صدیقہؓ) نے پیا ہوتا، (مسلم) اس حدیث کو نقل کرنے کا کیا جواز ہے؟

جواب: تاکہ معلوم ہو جائے کہ بی بیؓ (حضرت عائشہ صدیقہؓ) کا جھوٹا اور لعابِ دہن پاک ہے۔ خاوند پی سکتا ہے اور رسول اللہﷺ‏ تو ایک بی بیؓ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) سے یہ اظہارِ محبت یا اس کی تکریم اس لیے کرتے تھے تاکہ اس جوڑے کے دشمن شیعہ حسد و ماتم سے دم گھٹ کر مر جائیں۔

سوال نمبر 140: صحیح بخاری میں ہے کہ اُم المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا و سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا جھگڑا حضور اکرمﷺ کے سامنے ہوتا تھا؟

جواب: یہ حدیث تلاش کے باوجود عربی نسخہ سے نہیں ملی۔ دو سوکن بیویوں میں بتقاضائے بشریت اگر ایسی کبھی نوک جھوک ہو گئی تو رسول اللہﷺ‏ کو مؤاخذہ کا حق ہے نہ کہ ایک فاسق رافضی کو؟ اس طعن سے ہم نے نتیجہ نکالا ہے کہ اپنی محبوب بیویوں کی اس لغزش کو رسولِ خداﷺ نے تو معاف کر دیا مگر آپ کے اہلِ خانہ کے متعلق طعن و اعتراض کرنے والے شیعہ ایمان سے محروم ہو گئے۔

سوال نمبر 141: حضور اکرمﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو لہو و لعب یعنی ناچ گانا دکھایا، جو منع ہے؟

جواب: مسجدِ نبویﷺ میں اپنے حکم سے جنگ و جہاد کی تربیت اور مشق حبشیوں سے کروائی، خود دیکھی اور پسِ پردہ مائ صاحبہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کو بھی دکھائی، اسے ناچ گانے سے تعبیر کر کے طعن تراشنے والا ملحد ہی ہے۔ مزید تفصیل ہم سنی کیوں ہیں؟ صفحہ، 25 پر دیکھیں۔

سوال نمبر 142: حالتِ روزہ میں حضور انورﷺ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا منہ و زبان چومتے تھے، کیوں؟

جواب: حالتِ روزہ میں بوس و کنار درست ہے جب تک جماع کا خطرہ نہ ہو ورنہ مکروہ یا حرام ہے، اور یہی فعلِ پیغمبرﷺ دلیل ہے، زبان چوسنے سے مراد یہ ہے کہ لعابِ دہن نہیں چوستے (نگلتے) تھے جو روزہ توڑ دیتی ہے۔ فقہ جعفریہ فرماتی ہے: جو روزہ دار منی نکالنے کے ارادے کے بغیر بیوی کو پیار کرے یا لپٹے چمٹے اور اسے بھروسہ ہو کہ منی نہ نکلے گی تو اس کا روزہ صحیح ہے اگرچہ اتفاقاً منی نکل آئے۔

(توضیح المسائل: صفحہ، 173)

صفحہ 3 از 4