مطاعن بر عصمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) - ردِ رافضیت…

مطاعن بر عصمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 4

حالانکہ اہلِ سنت کے ہاں منی نکلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ان باتوں کو جو فقہی مسائل بتانے کے لیے محدثین نے اپنے اپنے مقام پر ذکر کی ہیں۔ نشانہ طعن بنانے والا یا اپنی بیویوں کے ساتھ جائز معاملات کو بے حیائی کے انداز میں اچھالنے والا کیا پاکیزہ ذہن والا اور لعنت سے محروم ہو سکتا ہے؟

سوال نمبر 143: کیا حضور اکرمﷺ دستر خوان پر بی بی (سیدہ) عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے منہ والی ہڈی چوستے اور اسی جگہ سے پانی پیتے جہاں سے بی بیؓ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے پیا ہوتا، جب کہ وہ حالتِ حیض میں ہوتیں؟ کیا یہ باتیں اخلاقی ضابطہ کے خلاف نہیں؟ 

جواب: حائضہ بی بی (سیدہ عائشہ صدیقہؓ) کا منہ ہاتھ پاک ہوتے ہیں۔ ہڈی کو دانت لگانے اور پانی پینے سے ہڈی اور پیالہ ناپاک نہیں ہو جاتا۔ یہی مسئلہ سمجھانے کے لیے حدیث بیان کی گئی ہے اگر مسئلے کا بیان ضابطۂ اخلاق کے خلاف ہے تو کیا فعلِ پیغمبرﷺ، جو بالاتفاق جائز ہی تھا، کا مذاق اڑانا صریح بے ایمانی نہیں ہے؟

سوال نمبر 144: نمازِ تہجد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا حضور اکرمﷺ کی سمت لیٹا ہونا؟

جواب: یہی بات سوال 118، 119 میں تھی مفصل جواب دیکھ لیجئے۔

سوال نمبر 145: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور اکرمﷺ کے کپڑے سے منی کھرچ ڈالتیں تو آپﷺ نماز پڑھتے؟

جواب: گاڑھی خشک منی، ناک کی آلائش کی طرح، جب کپڑے سے کھرچ دی گئی تو ناپاکی کے سب اجزاء دور ہو جانے سے کپڑا پاک ہو گیا اور نماز پڑھنا درست ہوا، شیعہ مسئلہ بھی یہی ہے؟ پس اگر کپڑے وغیرہ سے خون کو دور کر کے پاک کیا جائے، لیکن خون کا رنگ یا بُو باقی رہ جائے تو وہ کپڑا پاک ہے۔ 

(توضیح المسائل: صفحہ، 24)

سوال نمبر 146، 147: حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو غسل کا مسئلہ بی بی (حضرت) عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے غسل کر کے بتایا، زبان سے کیوں نہ بتایا؟ اس نے کسی مرد سے کیوں نہ پوچھا؟ 

جواب: یہ حضرت ابوسلمہؓ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھانجے ہیں اور مسئلہ پوچھنے میں حضرت عائشہ صدیقہؓ کے رضاعی بھائی حضرت عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بڑے برتن میں پانی منگوایا، پردہ لٹکایا اور سر پر پانی ڈال کر غسل کیا۔

(بخاری، مسلم: کتاب الغسل)

 اپنے محرم اگر خالہ یا بہن سے مسئلہ غسل پوچھ لیں تو یہ کوئی عیب نہیں، اگر وہ باپردہ غسل کریں اور پھر بتائیں تو کیا اعتراض کی بات ہے؟ 

لیکن شیعہ سائل تو بے حیا ہو کر غسل و طہارت میں ایسے مطاعن کرنے سے اپنی زبان و دل کو ناپاک کر رہا ہے، حدیث میں لفظ حجاب ہے اس کا ترجمہ باریک سا پردہ کرنا ایک سائل کی بدباطنی نہیں ہے؟

سوال نمبر 148: حضرت عائشہؓ کے بستر پر حضور اکرمﷺ کو وحی آتی باقی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے روحُ الامین علیہ السلام کو کیا عداوت تھی؟

جواب: خدا سے پوچھیئے کہ اس وقت حضرت جبریلِ امین علیہ السلام کو کیوں بھیجتا تھا اور حضرت جبریلِ امین علیہ السلام سے لڑائی کیجیئے کہ وہ شیعہ کی دشمن اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بستر میں لیٹے ہوئے رسول کریمﷺ پر کیوں وحی اتارتا تھا؟ 

آخر یہودیوں کو حضرت جبریل علیہ السلام سے بنصِ قرآن دشمنی ہے تو ابنِ سباء یہودی کی اولاد کو کیوں نہ ہو؟ 

شیعہ کی اعلام خصال صدوق: صفحہ، 316 میں ہے اکثر علماء اسلام کہتے ہیں کہ تشیع کی بنیاد اور غلو آمیزی ابنِ سبا نے کی ہے۔

سوال نمبر 149: حضور اکرمﷺ‏ کے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ خاص مُحبانہ معاملات کو بے حیائی سے موضوعِ سُخن بنا کر، محمد شاہ رنگیلا کو بھی شرمانے والا، مشتاق ننگ و عار رافضی مکّار اس سوال میں پھر گزری ہوئی سب باتوں کا اعادہ کرتا ہے اور نئی بات یہ بتاتا ہے کہ ایک برتن سے حضور انورﷺ بیوی کے ساتھ کیوں نہاتے تھے؟ اور بیوی کی چادر باندھ کر نماز کیوں پڑھ لیتے تھے؟ ایسے بے حیا خر دماغوں کے متعلق خدا نے ہم کو یہ تعلیم دی ہے: وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا

(سورة الفرقان: آیت 63) (جوابِ جاہلاں خاموشی)

سوال نمبر 150: کیا یہ التفات کسی اور زوجہ کے لیے بھی تھے؟

جواب: زوجہ کی حیثیت سے ہر بیوی کے ساتھ ایسے التفات ہو سکتے ہیں اور کسی کے لیے زیادہ بھی۔ مگر حلت و حرمت یا پاکی پلیدی کے مسائل معلوم کرنے کی غرض کے علاوہ ما و شما کو ان مخصوص باتوں کی تلاش یا ننگی شہرت کی بھی ضرورت ہے؟ کیا آپ نے اپنے ماں باپ کے ان جنسی معاملات میں بھی تجسس کر کے ٹوہ لگائی اور حلالی بیٹا ہونے کا حق ادا کیا؟ اگر نہیں تو کیا اس مذموم مقصد کے لیے آپ کو حضرت رسولِ خداﷺ اور اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی ملیں؟ کیا اس سے بھی بڑھ کر اخبث اور کمینہ ترین کوئی انسان ہو گا؟ کیا اللہ تعالیٰ یہ زجر و استفہام تم جیسے منافقوں کے لیے نہیں ہے: 

قُلۡ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوۡلِهٖ كُنۡتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُوۡنَ 

(سورۃ التوبة: آیت 65)

ترجمہ: کہو کہ: کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ دل لگی کر رہے تھے؟ 

اگر ہم اسی نگاہِ خیانت سے کتبِ شیعہ میں ائمہ اور ان کی بیویوں کے واقعات تلاش کریں تو اس سے زیادہ ملیں گے اور حضرت رسولِ خداﷺ کے اپنے محارم کے ساتھ بھی مثلاً یہ روایت کہ: جب تک جناب سیدہ (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو پیار نہ کر لیتے نہ سوتے تھے اور اپنا روئے مبارک سینہ سیدہ فاطمہؓ پر رکھتے۔ الخ 

(جلا العیون: جلد، 1 صفحہ، 156) 

لیکن شیعوں کی سی کمینگی سے خدا نے ہم کو مبرا کیا ہے۔ 

 لیکن زمردم نیایدسگی


صفحہ 4 از 4