خلیفہ نامزد نہ کرنے کی حکمت
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 151: کیا رسولِ خداﷺ نے رحلت سے قبل اپنا خلیفہ و وصی کسی کو مقرر کیا یا نہیں؟
جواب: اشارات اور انفارمیشن لائن کے تحت کیا، مثلاً یہ فرمان: میں چاہتا ہوں کہ کسی کو خلیفہ مقرر کر جاؤں تاکہ اور کوئی تمنا نہ کر سکے۔ لیکن (ضرورت نہیں سمجھتا کیونکہ) اللہ اور مؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کو نہیں بنائیں گے۔
(بخاری: جلد، 2 صفحہ، 856)
پھر اسی لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنے مصلیٰ کا خلیفہ، وصی اور وارث بنا دیا۔ تاکہ لوگ خلافتِ کبریٰ پر اس عمل سے استدلال کریں۔ عام تلقین یہ کی کہ میرے بعد اب سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی پیروی کرنا۔ (ترمذی) ایک خاتون کے سوال کے جواب میں کہا: اگر تو مسئلہ پوچھنے آئے اور مجھے نہ پائے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھنا۔ (بخاری و مسلم)
مگر صراحۃً نامزدگی اور تقرری نہیں کی۔ تاکہ عوام کا حقِ انتخاب ختم نہ ہو جائے۔ جو وَاَمۡرُهُمۡ شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ
(سورۃ الشورى: آیت 38)
ترجمہ: اور ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ تحت خدا نے تاقیامت ان کو دیا ہے۔
یہاں سے اس مشہورِ عام اعتراض و مغالطہ کا بھی رد ہو جاتا ہے جو کہ ومہ شیعہ کرتے رہتے ہیں کہ رسولِ خداﷺ جب عارضی طور پر کچھ دن کے لیے کسی مہم پر مدینہ سے جاتے تو اپنا نائب و جانشین بنا جاتے۔ جب سب سے بڑے سفرِ آخرت پر گئے تو کسی کو خلیفہ کیوں نہ بنایا؟ تو جواب یہ ہے کہ عارضی غیر موجودگی میں واپسی یقینی تھی تو خلیفہ حضور اکرمﷺ کے سامنے جواب دہ تھا، آپﷺ اس سے مواخذہ کر سکتے تھے، رحلت کے بعد جب آپﷺ کی واپسی اور مواخذہ کرنے کا احتمال نہ رہا تو قوی امکان تھا کہ خلیفہ ڈکٹیٹر بن جائے اور خود کو کسی کے سامنے جواب دہ اور ذمہ دار نہ سمجھے اور کہتا رہے کہ میں تو رسول اللہﷺ کا بنایا ہوا ہوں، تمہارا منتخب یا نمائندہ نہیں تم مجھ سے باز پرس کا کیا حق رکھتے ہو؟ تو اس تصور سے سیاسی و اجتماعی معاملات درہم برہم ہو جاتے، اسی لیے صراحۃً نامزدگی و تقرری (اس کی ایک حکمت یہ ہے کہ خدا نے ان کو خلیفہ بنانا چاہا تو ناموں کے بجائے آیتِ استخلاف و تمکین میں علامات و صفات بتا کر وعدہ خلافت فرمایا اور ان کا انتخاب کرا کر پورا کیا تو نامزدگی کا کام اقتضاء النفس سے لیا۔) نہ کی تاکہ عوام (مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم) مزاج شناسانِ رسولﷺ اپنے میں سے سب سے افضل کو منتخب کریں اور باز پرس کر سکیں اور وہ بھی اپنے آپ کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھے، جیسے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پہلی تقریرِ خلافت میں فرمایا:
لوگو! میں تمہارا حاکم بنایا گیا ہوں (ابھی تک اپنے خیال میں) تم سے بہتر نہیں ہوں اگر سیدھا چلوں تو تعاون کرو، اگر غلطی کروں تو مجھے درست راہ پر لگا دو۔
سوال نمبر 152: اگر کیا تو کسے اور اگر نہیں کیا تو غلطی کی یا ٹھیک کیا؟
جواب: نصِ خفی اور اپنے عملِ ترغیبی سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امام و جانشین مقرر کیا اور صراحۃً تقرری نہ کر کے غلطی نہیں کی۔ ٹھیک کیا، کیونکہ عوام کو قرآنی حقِ شورائی استعمال کرنے کا موقع دیا۔
سوال نمبر 153: سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے جو کچھ ہوا وہ برا ہوا یا اچھا؟
جواب: اچھا ہی ہوا حضرت رسولِ خداﷺ کی تعلیم و رغبت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایک اچھائی پر عمل کیا جو قصداً آپﷺ ان کے کرنے کے لیے چھوڑ گئے تھے اور یہ خلافِ شرع کام نہ تھا۔
سوال نمبر 154: بی بی (سیدہ) عائشہ صدیقہؓ کے قول کے مطابق جن دس آیات کو بکری کھا گئی وہ کیا تھیں؟
جواب: ابنِ ماجہ کی یہ روایت محدثین موضوع بتاتے ہیں اور ایسی 30 روایتیں ابنِ ماجہ میں موضوع و جعلی ہیں۔ تبھی تو صحاحِ ستہ میں سے اس کا درجہ سب سے کم ہے۔ اکثر کے لحاظ سے صحیح کہلاتی ہے۔
بالفرض بکری کھا گئی تو حفاظ کے سینوں سے تو نہ مٹ گئی تھیں۔ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوۡنَ کا وعدہ خداوندی اس کی حفاظت کر رہا تھا، پھر موجودہ قرآن کی وہ آیات جو بھی ہوں۔ ہمیں جاننا کیا ضروری ہے؟ دو گتوں کے درمیان محفوظ کتاب پر ہمارا ایمان ہونا چاہیے۔ کسی روایت کی آڑ میں شک پیدا کرنا کفر ہی ہے۔