فضائل رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 155: آپ کے بقول 40 سال میں حضورﷺ کو نبوت ملی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بچپن میں نبوت کا دعویٰ کیا، تو عیسائی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو افضل کہیں تو آپ کیا جواب دیں گے؟
جواب: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا روح اللہ ہونا، ابنِ مریم علیہ السلام ہونا، گہوارے میں ہم کلام ہونا اور بچپن میں نبی ہونا اور اب زندہ آسمانوں پر ہونا جیسی خصوصیات آپ کو جناب امام الانبیا سرورِ کونینﷺ سے افضل ثابت نہیں کر سکتیں کیونکہ یہ جزوی مخصوص کمالات ہیں آنحضورﷺ کے کلی اور ان سے کئی گنا کمالات و خصائص ہیں جو تمام انبیاء سے فضیلت پر قطعی دلیل ہیں۔
(1) آپﷺ خاتم النبین ہیں۔
(2) امام الانبیاء ہیں۔
(3) صاحب المعراج و قاب قوسین ہیں۔
(4) کثیر الہدایت ہیں، لاکھوں افراد مذہب اہلِ سنت کے مطابق آپﷺ کے ہاتھ پر مؤمن و ہادی ہوئے اور نبوت کا یہی بڑا کمال ہے۔ جس کے شیعہ منکر ہیں۔
(5) آپﷺ کی کتاب قرآن تا قیامت محفوظ و قابلِ عمل رہے گی۔ شیعہ اس کے بھی منکر ہیں۔ (6) آپﷺ کے معجزات بعد از وفات بھی قائم و جاری ہیں۔
(7) آپﷺ شفاعتِ کبریٰ اور مقامِ محمود کے مالک ہیں۔
(8) آپﷺ کی سنت اور مذہب زندگی کے ہر شعبہ میں ہادی و راہنما ہے۔
(9) ظاہری و باطنی دشمنوں پر غالب رہے۔
(10) سب زمین آپ کے لیے مسجد بنا دی گئی۔
(11) آپﷺ کی امت خیر الامم ہے۔ (12) لواء الحمد آپﷺ کے ہاتھ میں ہو گا۔
ان خصائصِ نبویہ کے شیعہ یا منکر ہیں یا ان میں خیالی اماموں کو معاذاللہ شریک کرتے ہیں۔