Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شق صدر کا معجزہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 156: جبریل علیہ السلام نے آپ کے مذہب میں حضور اقدسﷺ‏ کا اپریشن کیا جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نہ ہوا؟ 

جواب: جب یہ بھی آپﷺ کی خصوصیات میں سے ہے اور ملا باقر علی مجلسی جیسے شیعہ کے خاتم المحدثین بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ بچپن میں حضور اکرمﷺ کے رضاعی بھائیوں (پسرانِ حلیمہ رضی اللہ عنہا) کا بیان ہے کہ دو شخصوں (جو فرشتے تھے) نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا، پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے۔ ایک نے آپﷺ کو لٹایا، دوسرے نے پیٹ پھاڑ کر آپﷺ‏ کا دل وغیرہ نکالا اور اسے دھو کر کوئی نورانی چیز بھر دی اور پیٹ سی کر چلے گئے۔ محمدﷺ‏ سہمے ہوئے واپس آئے۔ (حیات القلوب: جلد، 3 صفحہ، 77) 

اور یہ کوئی عیب نہیں، سب سے افضل ہستی کے لیے سب سے افضل کھانا ڈالنے کے لیے اعلیٰ ترین برتن کو مزید احتیاط سے دھویا جاتا ہے۔

اور عقلی وجہ یہ ہے کہ آپﷺ کا وجودِ مسعود بھی نوعِ بشر سے تھا جو عناصرِ اربعہ سے مرکب تھا۔ قلبِ مبارک کو مہبط ملائکہ اور روحانیت و لطافت کا منبع و مرکز بنانے کے لیے حکمتِ الہٰی نے یہ چاہا کہ اس عمل سے آپ کے سینہ مبارک کو مجلیّٰ اور مصفیّٰ کیا جائے، چنانچہ بچپن کے شقِّ صدر میں بچگانہ لہو و لعب کے خیالات سے آپﷺ‏ کو پاک کیا گیا، پھر جوانی کے شقِّ صدر میں ایسے جذبات کی تطیر کی گئی اور علم و عرفت بھر دیا گیا۔ پھر معراج کے موقع پر حکمت و نور سے آپﷺ کے قلبِ مبارک کو یوں بھرا گیا کہ عالم علوی اور مصدرِ تجلیات سے مناسبت پیدا ہو گئی۔ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ اس مرتبہ و مقام تک نہیں پہنچے ان کے ساتھ ایسا نہ کیا گیا۔

سوال نمبر 157: كنت نبيا و آدم بين الماء والطين ترجمہ: میں نبی تھا جب حضرت آدم علیہ السلام گارے مٹی کی حالت میں تھے۔ کے ہوتے ہوئے آپ چالیس سال بعد کیوں آپﷺ کو نبی مانتے ہیں؟ 

جواب: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میری روح پیدا فرمائی اور حضرت آدم علیہ السلام میں نفخ روح سے پہلے میں عند اللہ نبی تھا۔ جیسے ترمذی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے رسول اللہﷺ‏ آپ کے لیے نبوت کب ثابت ہوئی؟ تو آپﷺ نے فرمایا: کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کی روح بدن میں نہ پڑی تھی اور دوسری روایت میں ہے کہ میں اس وقت سے ہی اللہ کے ہاں خاتم النبین لکھا ہوا تھا۔

(مشکوٰۃ: صفحہ 513 باب فضائل سید المرسلینﷺ‏) ہاں دنیا میں بالفعل نبوت کا چارج آپﷺ کو چالیس سال بعد ملا اور تبلیغ و تعلیم کی ذمہ داری اس وقت آپﷺ پر ڈالی گئی۔ قرآن شریف اسی کو بعثتِ نبوت کے عنوان سے تعبیر کرتا ہے، چند آیات ملاحظہ ہوں:

1: لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ (سورۃ آل عمران: آیت 164)

ترجمہ: بے شک اللہ نے مومنوں پر احسان کیا جب کہ ایک رسول ان ہی میں سے مبعوث کر دیا جو ان پر خدا کی آیتیں پڑھتا ہے اور ان کو (ظاہراً و باطناً) پاک کرتا ہے۔

2: قُلْ لَّوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوۡتُهٗ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَدۡرٰٮكُمۡ بِهٖ ‌فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِيۡكُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِهٖ (سورۃ یونس: آیت 16)

ترجمہ: تم یہ کہہ دو کہ اگر اللہ چاہتا تو میں یہ نہ تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ خدا تم کو اس کی اطلاع دیتا، آخر اس سے پہلے میں نے ایک عمر تم ہی میں گزاری۔

3: مَا كُنۡتَ تَدۡرِىۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ وَلٰـكِنۡ جَعَلۡنٰهُ نُوۡرًا نَّهۡدِىۡ بِهٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا‌ (سورۃ الشوری: آیت 52)

ترجمہ: (جس کے پہلے) تمﷺ یہ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور نہ یہ کہ (تعلیم) ایمان کیا چیز ہے لیکن ہم نے اس کو ایک نور قرار دیا جس سے ہم ہدایت کرتے ہیں جن کو چاہتے ہیں۔  

4: وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰى ۞

(سورۃ الضحی: آیت 7) 

ترجمہ: اور تم کو بھٹکتا ہوا (یہ شیعہ ترجمہ غلط ہے۔ ضال سے مراد تعلیمات سے نا واقف ہے جو آیت بالا 3 کا بیان ہے۔) پایا اور منزل مقصود تک پہنچایا۔

(تراجم مقبول) 

حاصل کلام یہ ہے کہ آپﷺ چالیس سال بالعمل نبوت سے مبعوث ہوئے اور پہلے صرف عنداللہ نبی تھے۔

سوال نمبر 158: جب آپ کی صحیحین حضورﷺ کے والدین کو ناقابلِ مغفرت کہتی ہیں تو حضورﷺ کو ”شفیع المذنبین“ کس منہ سے کہہ سکتے ہیں؟

جواب: ہمارے ہاں کسی گروہ یا طبقہ کو مؤمن یا کافر قرآن و حدیث کی تصریحات کی وجہ سے کہا جاتا ہے محض رشتہ داری یا غیر رشتہ داری ایمان و کفر کی بنیاد نہیں ہے اور عقلِ سلیم بھی یہی چاہتی ہے اور خدا نے بار بار اپنی شان یوں بیان فرمائی ہے: يُخۡرِجُ الۡحَىَّ مِنَ الۡمَيِّتِ وَمُخۡرِجُ الۡمَيِّتِ مِنَ الۡحَىِّ

‌(سورۃ الأنعام: آیت 95)

ترجمہ: کہ اللہ زندہ (مومن) کو مردہ (کافر) سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے۔ کنعان بن حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ بن آزر کی مثالیں خود قرآن میں مذکور ہیں۔ حضور اکرمﷺ کے آباء و اجداد کے ایمان وغیرہ کے متعلق قرآن تو خاموش ہے روایات میں تعارض ہے اس لیے ہم اہلِ سنت اور علماء دیوبند تو خاموشی کو بہتر جانتے ہیں اور نہ اس کی ہم سے پوچھ گچھ ہو گی، اگر بخاری و مسلم جیسے علماء محدثین نفی ایمان کے قائل ہیں، تو وہ مذکورہ کلیئہ قرآنی کے مخالف نہیں، اور اگر علامہ سیوطی رحمۃ اللہ جیسے علماء متقدمین بھی ایمانِ والدین کے یوں قائل نہ تھے کہ وہ اپنے دور میں مسلمان و مؤمن تھے مگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزہ کے تحت ان کا قبروں سے اٹھنا اور کلمہ شہادتین پڑھ کر مؤمن و قابلِ مغفرت بن جانا تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ شیعہ کے خاتم المحدثین ملا باقر مجلسی حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 35 پر رقم طراز ہیں:

سنی و شیعہ کی احادیث میں آیا ہے کہ ایک رات حضرت رسولﷺ اپنے والد بزرگوار عبداللہ کی قبر کے پاس آئے دو رکعت نماز پڑھی پھر باپ کو آواز دی اچانک قبر کھل گئی، حضرت عبداللہ قبر میں بیٹھے ہوئے پڑھنے لگے اشہد ان لا اله الا اللهُ انک نبی الله وَرَسُوله پھر والدہ ماجدہ نے بھی ایسی ہی گواہی دی۔

اگر یہ روایات معتبر ہیں تو آپﷺ‏ والدین کے لیے شفیع بن گئے اگر معتبر نہیں تو آپﷺ اپنی امت کے گنہگاروں کے لیے شفیع المذنبین ہیں۔ ایسے افراد کے لیے نہیں جن کا اسلام و ایمان ثابت نہ ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے لیے سفارش و استغفار سے روک دیا ہے۔

 مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۤ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ وَ لَوۡ كَانُوۡۤا اُولِىۡ قُرۡبٰى ( سورۃ التوبة: آیت 113) 

ترجمہ: حضرت نبیﷺ اور ایمان والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے استغفار کریں اگرچہ وہ ان کے سگے ہوں۔

علماء مفسرین اس آیت کا نزول بھی حضرت ابوطالب وغیرہ کے حق میں کہتے ہیں۔

سوال نمبر 159: اگر عبدالمطلب مشرک تھے تو خدا نے ابرہہ کے خلاف ان کی مدد کیوں کی؟ 

جواب: بت پرستی کے باوجود قریش کا خصوصاً حضرت عبدالمطلب وغیرہ سرداروں کا خدا کی ذات پر اعتقاد مضبوط تھا، وہ خدا کو اپنا خالق، مالک، رازق، مدبر الامر اور ( اپنے بناوٹی) سب خداؤں کا مالک و سردار مانتے تھے اور خدا سے دعائیں مانگتے تھے۔ خصوصاً دریائی سفر میں دَعَوُا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ (سورۃ يونس: آیت 22) ”خدا کی پکار“ ان کا خاص نعرہ تھا شیعہ کی طرح ”یا علی مدد“ کا نعرہ نہ لگاتے تھے اور خدا اسی دعا و پکار کی وجہ سے ان کے مصائب ٹالتا تھا۔ جیسے ارشاد ہے: 

قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّىۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ‌ (سورۃ الفرقان: آیت 77) ترجمہ: اگر تم خدا کو نہ پکارا کرتے تو وہ تمہاری کچھ پرواہ نہ کرتا۔ (تمہیں جلدی ہلاک کر دیتا مگر اب جرم تکذیب کی وجہ سے عنقریب تم کو تباہ کرے گا۔) تو یہ غیبی امداد کعبۃ اللہ کی حفاظت اور خدا سے دعا مانگنے کی وجہ سے تھی، جو اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ سردارانِ قریش بت پرستی اور شرک سے پاک تھے۔ نیز ابابیلوں سے ہاتھیوں کی تباہی حضورﷺ کی بعثت اور نشرِ اسلام کے لیے بطور ارہاص تھی۔

سوال نمبر 160: ابو طالب کے جنازہ پر ان کے لیے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جزاك اللہ خیراً کہا تو مؤمن ثابت ہوئے؟

جواب: ابو طالب کی وفات سنہ 10 نبوت میں ہوئی، جنازہ چند سال بعد مدینہ میں چالو ہوا، اس لیے یہ کلمات خادم چچا جان کے لیے ہدیہ تشکر اور احسان شناسی کے آئینہ دار ہیں ایمان کی شہادت نہیں ہیں۔ بہتر بدلہ آپﷺ کی دعا سے یوں ملے گا کہ کلمہ نہ پڑھنے کی پاداش میں سب سے ہلکا عذاب آنجناب کو ہو گا، چنانچہ صحاحِ اہلِ سنت میں ہے کہ: حضور اکرمﷺ نے فرمایا سب دوزخ والوں سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہو گا کہ آگ کے دو جوتے پہنے گا جن سے اس کا دماغ کھولتا رہے گا۔ ( معاذ اللہ)

(مسلم: جلد، 1 صفحہ، 115)

دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی اے رسول اللہﷺ! ابو طالب آپ کے نگہبان اور مددگار تھے آپ کے لیے لوگوں پر خفا ہوتے تھے تو کیا اس کا فائدہ اس کو ہو گا تو آپﷺ نے فرمایا ہاں میں نے اسے دوزخ میں غوطے کھاتے دیکھا تو اسے ٹخنوں تک آگ سے نکال لایا۔ (ایضاً)

(یعنی میری خدمات کی وجہ سے اسے یہ ہلکا ترین عذاب ہو گا۔ ورنہ انکارِ کلمہ کی وجہ دوزخ میں غوطے کھاتا۔)

سوال نمبر 161: بخاری آپﷺ کے آباء و اجداد کو جہنمی کہتے ہیں، سیوطی خصائصِ کبریٰ میں مرفوعاً سفارش کی روایت کرتے ہیں، جواب دیجئے دونوں میں سے سچا کون ہے؟ 

جواب: ہم بتا چکے ہیں کہ اس نازک مسئلہ میں حتمی فیصلہ دینے سے ہم خاموش ہیں، شیعہ کے امام اوّل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ امام بخاری رحمۃ اللہ کے ساتھ ہیں جواب دیجئے کہ آپ نے حضرت علیؓ کا دامن کیوں چھوڑ دیا، وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ مانگتے وقت حضورﷺ صادق و مصدق سے فرماتے ہیں:

وان الله هدانی بك وعلى يديك واستنقذنی مما كان عليه آباءی واعمامی من الحيرة والشرک 

ترجمہ: اور اللہ نے مجھے آپﷺ کے ذریعے آپﷺ کے ہاتھوں پر (اسلام و ایمان) کی ہدایت دی۔ اور اس گمراہی اور شرک سے چھڑا لیا جس پر میرے باپ دادے اور چچے تھے۔

(کشف الغمہ لارد بیلی شیعی: جلد، 1 صفحہ، 480 جلاء العيون: صفحہ، 115 منتہى الآمال وغيرہ)