شق صدر کا معجزہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شق صدر کا معجزہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 2

اگر یہ روایات معتبر ہیں تو آپﷺ‏ والدین کے لیے شفیع بن گئے اگر معتبر نہیں تو آپﷺ اپنی امت کے گنہگاروں کے لیے شفیع المذنبین ہیں۔ ایسے افراد کے لیے نہیں جن کا اسلام و ایمان ثابت نہ ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے لیے سفارش و استغفار سے روک دیا ہے۔

 مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۤ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ وَ لَوۡ كَانُوۡۤا اُولِىۡ قُرۡبٰى ( سورۃ التوبة: آیت 113) 

ترجمہ: حضرت نبیﷺ اور ایمان والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے استغفار کریں اگرچہ وہ ان کے سگے ہوں۔

علماء مفسرین اس آیت کا نزول بھی حضرت ابوطالب وغیرہ کے حق میں کہتے ہیں۔

سوال نمبر 159: اگر عبدالمطلب مشرک تھے تو خدا نے ابرہہ کے خلاف ان کی مدد کیوں کی؟ 

جواب: بت پرستی کے باوجود قریش کا خصوصاً حضرت عبدالمطلب وغیرہ سرداروں کا خدا کی ذات پر اعتقاد مضبوط تھا، وہ خدا کو اپنا خالق، مالک، رازق، مدبر الامر اور ( اپنے بناوٹی) سب خداؤں کا مالک و سردار مانتے تھے اور خدا سے دعائیں مانگتے تھے۔ خصوصاً دریائی سفر میں دَعَوُا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ (سورۃ يونس: آیت 22) ”خدا کی پکار“ ان کا خاص نعرہ تھا شیعہ کی طرح ”یا علی مدد“ کا نعرہ نہ لگاتے تھے اور خدا اسی دعا و پکار کی وجہ سے ان کے مصائب ٹالتا تھا۔ جیسے ارشاد ہے: 

قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّىۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ‌ (سورۃ الفرقان: آیت 77) ترجمہ: اگر تم خدا کو نہ پکارا کرتے تو وہ تمہاری کچھ پرواہ نہ کرتا۔ (تمہیں جلدی ہلاک کر دیتا مگر اب جرم تکذیب کی وجہ سے عنقریب تم کو تباہ کرے گا۔) تو یہ غیبی امداد کعبۃ اللہ کی حفاظت اور خدا سے دعا مانگنے کی وجہ سے تھی، جو اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ سردارانِ قریش بت پرستی اور شرک سے پاک تھے۔ نیز ابابیلوں سے ہاتھیوں کی تباہی حضورﷺ کی بعثت اور نشرِ اسلام کے لیے بطور ارہاص تھی۔

سوال نمبر 160: ابو طالب کے جنازہ پر ان کے لیے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جزاك اللہ خیراً کہا تو مؤمن ثابت ہوئے؟

جواب: ابو طالب کی وفات سنہ 10 نبوت میں ہوئی، جنازہ چند سال بعد مدینہ میں چالو ہوا، اس لیے یہ کلمات خادم چچا جان کے لیے ہدیہ تشکر اور احسان شناسی کے آئینہ دار ہیں ایمان کی شہادت نہیں ہیں۔ بہتر بدلہ آپﷺ کی دعا سے یوں ملے گا کہ کلمہ نہ پڑھنے کی پاداش میں سب سے ہلکا عذاب آنجناب کو ہو گا، چنانچہ صحاحِ اہلِ سنت میں ہے کہ: حضور اکرمﷺ نے فرمایا سب دوزخ والوں سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہو گا کہ آگ کے دو جوتے پہنے گا جن سے اس کا دماغ کھولتا رہے گا۔ ( معاذ اللہ)

(مسلم: جلد، 1 صفحہ، 115)

دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی اے رسول اللہﷺ! ابو طالب آپ کے نگہبان اور مددگار تھے آپ کے لیے لوگوں پر خفا ہوتے تھے تو کیا اس کا فائدہ اس کو ہو گا تو آپﷺ نے فرمایا ہاں میں نے اسے دوزخ میں غوطے کھاتے دیکھا تو اسے ٹخنوں تک آگ سے نکال لایا۔ (ایضاً)

(یعنی میری خدمات کی وجہ سے اسے یہ ہلکا ترین عذاب ہو گا۔ ورنہ انکارِ کلمہ کی وجہ دوزخ میں غوطے کھاتا۔)

سوال نمبر 161: بخاری آپﷺ کے آباء و اجداد کو جہنمی کہتے ہیں، سیوطی خصائصِ کبریٰ میں مرفوعاً سفارش کی روایت کرتے ہیں، جواب دیجئے دونوں میں سے سچا کون ہے؟ 

جواب: ہم بتا چکے ہیں کہ اس نازک مسئلہ میں حتمی فیصلہ دینے سے ہم خاموش ہیں، شیعہ کے امام اوّل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ امام بخاری رحمۃ اللہ کے ساتھ ہیں جواب دیجئے کہ آپ نے حضرت علیؓ کا دامن کیوں چھوڑ دیا، وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ مانگتے وقت حضورﷺ صادق و مصدق سے فرماتے ہیں:

وان الله هدانی بك وعلى يديك واستنقذنی مما كان عليه آباءی واعمامی من الحيرة والشرک 

ترجمہ: اور اللہ نے مجھے آپﷺ کے ذریعے آپﷺ کے ہاتھوں پر (اسلام و ایمان) کی ہدایت دی۔ اور اس گمراہی اور شرک سے چھڑا لیا جس پر میرے باپ دادے اور چچے تھے۔

(کشف الغمہ لارد بیلی شیعی: جلد، 1 صفحہ، 480 جلاء العيون: صفحہ، 115 منتہى الآمال وغيرہ)


صفحہ 2 از 2