ابوطالب کے ایمان و کفر کی تحقیق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابوطالب کے ایمان و کفر کی تحقیق

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 4

سوال نمبر 162: حضورﷺ کا خطبہ نکاح ابو 

طالب نے پڑھا۔ اس سے الفاظ کفر دکھائیں؟ 

جواب: سیرت ابنِ ہشام عربی میں ہمیں وہ خطبہ نہیں ملا۔ ہاں روض الانف سہیلی: جلد، 1 صفحہ، 122 سے بحوالہ سیرت المصطفیٰ: جلد، 1 صفحہ، 93 سے خطبہ نکاح کے اتنے لفظ ملے ہیں:

اما بعد فان محمدا ممن لا يوازن به فتى من قريش الا رجح به شرفا و نبلا و فضلا و عقلا وان كان فی المال قل فانه ظل زائل و عارية مسترجعة وله فی خديجة بنت خويلد رغبة ولها فيه مثل ذلك

ترجمہ: محمدﷺ وہ ہیں کہ قریش میں سے جو جوان بھی شرف اور رفعت اور فضیلت اور عقل میں آپﷺ کے ساتھ تولا جائے تو آپ ہی بھاری رہیں گے۔ مال میں اگرچہ آپ کم ہیں لیکن مال ایک زائل ہونے والا سایہ ہے اور واپس کی جانے والی مانگی ہوئی چیز ہے یہ خدیجہ بنتِ خویلہ کو چاہتے ہیں اور وہ ان کو چاہتی ہے۔ 

اس خطبہ میں نہ لا الہ الا اللہ کا اقرار ہے نہ حضرت محمدﷺ بن عبداللہ کو رسول و نبی کہا گیا ہے جو مدارِ ایمان ہے تو محض خطبہ پڑھنے سے حضرت ابوطالب کو مؤمن نہ کہا جائے گا ہاں اس وقت کفر کی بھی صراحت نہیں ہے کیونکہ آپ نے توحید و رسالت کی ابھی دعوت بھی نہیں دی تھی تو وہ کس چیز کا انکار کر کے کافر کہلاتے جیسے پندرہ سال بعد بعثت کے وقت کلمہ توحید و رسالت کا انکار کرنے کی وجہ سے بشمول ابوطالب کئی قریش کافر بنتے گئے۔ اس توجہیہ سے حضور اکرمﷺ کے والدین سے بھی ہم کفر کی نفی کرتے ہیں۔

سوال نمبر 163: صحرا میں ابوطالب کو حضورﷺ نے پانی پلایا اور حضورﷺ سے بیماری میں ابو طالب نے دعا کرائی، صحت پائی۔ (ابنِ سعد، اصابہ، خصائصِ کبریٰ: جلد، 1 صفحہ، 185) کیا یہ مقام حق الیقین نہیں ہے؟ 

جواب: سب قریش حضورﷺ کو امین، صادق، نیک، بزرگ اور مستجاب الدعوات خدا کا بندہ جانتے تھے اگر ابو طالب نے کلمہ پڑھے بغیر آپﷺ سے دعا کرائی اور چشمہ پھوٹنے کا معجزہ دیکھا تو اپنی قوم سے انوکھا کام نہیں کیا۔ اس سے حق الیقین کیا نفس ایمان بھی ثابت نہیں ہوتا۔ اگر دولتِ ایمان حاصل ہوتی تو طلب کے باوجود اپنی بیٹی اُمِ ہانی کا رشتہ حضور اقدسﷺ سے کرتے ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی سخت کافر سے نہ کرتے۔ (اصابہ و ابنِ سعد) نیز گھر کا ماحول مومنانہ ہوتا۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ آپ کے بیٹے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جو آپ کی ناداری کی وجہ سے حضرت عباسؓ اور حضور علیہ الصلوة والسلام کی پرورش میں تھے دولتِ ایمان سے مشرف ہوئے اور اپنے زیرِ کفالت طالب اور عقیل کافر رہے۔ طالب بدر میں مقتول ہوا۔ عقیل قید ہوا، سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ فتح مکہ پر مسلمان ہوئے۔

جب آغازِ اسلام میں مکے والوں پر تکذیب کی وجہ سے قحط سالی کا عذاب آیا جس کا ذکر پارہ 14 ع 21 میں ہے تو سب کفار آپﷺ سے دعائیں کرانے آتے تھے اسی طرح فتح مکہ سے پہلے حضرت ابو سفیانؓ معاہدہ کی تحریر کرانے آیا تھا تو قحط زدہ قوم کے لیے دعا کرانے کی حضور اکرمﷺ سے درخواست کی تھی۔

سوال نمبر 164: ابو طالب نے شعب کی قید سے خلاصی پا کر یہ دعا کی تھی اللهم انصرنا على من ظلمنا و قطع رحمنا واستحل ما يحرم علينا، کیا منکرِ خدا ایسی دعا مانگتا ہے؟

جواب: ہم بحوالہ قرآن پارہ 19 سورۃ فرقان آخری آیت و سورۃ لقمان وغیرہ بتا چکے ہیں کہ سب کفار قریش خدا کو مانتے اور اس سے دعائیں کرتے تھے تو مشرک و کافر منکرِ خدا نہیں ہوتا ہاں خدا کا شریک بناتا اور شریعت و رسالت کا انکار کرتا ہے۔

سوال نمبر 165: کوئی ایسی روایت بتائیں جس میں ابوطالب کی بت پرستی کا ذکر ہو؟ 

جواب: اصول کافی میں سیدنا جعفر صادق رحمۃ اللہ سے منقول ہے کہ ابو طالب کی مثال اصحابِ کہف کی سی ہے۔ جو ایمان کو اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے اور عملاً شرک کا اظہار کیا کرتے تھے۔ جس کے عوض خدا نے ان کو دوہرا اجر عطا فرمایا تھا۔

(ترجمہ مقبول شیعہ: صفحہ، 469 پارہ، 20 زیرِ آیت اِنَّكَ لَا تَهۡدِىۡ ۔الآیۃ) 

سیدنا صادق رحمۃ اللہ کی اس سچی خبر سے پتہ چلا کہ آنجناب عملاً شرک کا ارتکاب کرتے تھے اور یہی قریش کا مروجہ بت پرستی والا مذہب تھا۔ بت پرستی کے سوا شرک عملی کی اور کوئی صورت ہو تو شیعہ ہی بتائیں۔ اس میں اصحابِ کہف کی مثال بالکل بے ربط اور غلط ہے۔ کیونک وہ ظاہراً اور باطناً مؤحد تھے۔ خدا فرماتا ہے: اِنَّهُمۡ فِتۡيَةٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّهِمۡ وَزِدۡنٰهُمۡ هُدًى‌ ۞ وَّرَبَطۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۫ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلٰهًا‌ لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا‏ ۞ هٰٓؤُلَاۤءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً‌ لَوۡ لَا يَاۡتُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ بِسُلۡطٰنٍۢ بَيِّنٍ‌ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ۞ وَاِذِ اعۡتَزَلۡتُمُوۡهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاۡوٗۤا اِلَى الۡكَهۡفِ 

(سورۃ الكهف: آیت 13، 16)

ترجمہ: بے شک وہ ایسے جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا تھا جب کہ وہ کھڑے ہو گئے اور انھوں نے یہ کہہ دیا کہ ہمارا پروردگار تو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ہم ہرگز اس کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے۔ (اگر ایسا کریں) تو اس صورت میں گویا ہم نے بہت ہی ناسزا بات کہی۔ ہماری قوم نے تو اس کے سوا بہت سے خدا بنا لیے ہیں۔ پھر ان خداؤں کے متعلق کوئی دلیل کیوں نہیں پیش کرتے پس اس سے زیادہ ظالم کون ہو گا جو اللہ پر بہتان باندھے اور اب جب کہ تم ان سے الگ ہو چکے ہو اور جن چیزوں کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں ان کو چھوڑ چکے ہو تو کسی غار میں چل رہو۔ الخ (القرآن پارہ 15 سورۃ کہف رکوع 2 ترجمہ مقبول شیعہ: صفحہ، 352)

صفحہ 1 از 4