ابوطالب کے ایمان و کفر کی تحقیق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابوطالب کے ایمان و کفر کی تحقیق

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 4

یہ ایک کھلی تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت ابوطالب نے نہ کلمہ توحید و رسالت پڑھا، نہ اتباعِ پیمبرﷺ میں اپنی قوم کی بت پرستی کی تردید کی نہ ان سے علیحدہ ہوئے، نہ کافروں نے ان کو اپنے مذہب کا مخالف اور مسلمان سمجھ کر تکلیف و ایذاء پہنچائی جیسے انھوں نے آپ کے صاحبزادے سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو ہجرت پر مجبور کر دیا تھا تو وہ اصحابِ کہف جیسے کیسے ہوئے۔ یہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے جو شیعوں کے امام کو ہی زیب دیتا ہے۔

سوال نمبر 166: ایسی روایت بتائیں جو یہ ثابت کرے کہ فلاں وقت حضرت ابو طالب نے عقیدہ توحید کی مخالفت کی۔

جواب: موافقت بھی نہیں کی تبھی تو آپ کا نام عبدِ مناف بت کے نام پر تھا اور بیٹے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی، سنی و شیعہ کی متفقہ قدیم ترین کتاب سیرت ابنِ ہشام میں ہے: 

اہلِ علم کا بیان ہے کہ رسولِ خداﷺ‏ نماز کے وقت مکہ کی گھاٹیوں میں چلے جاتے، حضرت علیؓ ابن ابی طالب جبکہ دس سال کے لڑکے تھے، اپنے باپ، سب چچوں اور باقی قوم سے چھپ کر آپ کے ساتھ ہو جاتے اور نمازیں پڑھتے، شام کو واپس آتے ایک عرصہ تک جتنا اللہ نے چاہا ایسا کرتے رہے ایک دن ابو طالب کو ان کے نماز پڑھنے کا پتہ چل گیا تو رسولِ خداﷺ‏ سے پوچھا کہ یہ کون سا دین ہے جس کا پابند میں تم کو دیکھ رہا ہوں توحضور اقدسﷺ‏ نے فرمایا: اے چچا یہی اللہ کا، اللہ کے فرشتوں کا، اللہ کے پیغمبروں کا اور ہمارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے۔ او کما قال صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ نے یہی دین دے کر بندوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، اے چچا جن لوگوں کی خیر خواہی کر کے میں ان کو ہدایت کی طرف بلاؤں اور وہ میری بات مانیں اور میری امداد کریں ان سب سے زیادہ اس دین کو ماننے کے آپ حق دار ہیں۔ تو ابو طالب نے کہا: 

اى ابن اخی إنى لا استطيع انی افارق دین آباءی و ما كانوا عليه 

ترجمہ: اے بھتیجے میں اپنے باپ دادے کا دین اور جس چیز (بت پرستی) پر وہ تھے اسے چھوڑ نہیں سکتا۔ 

لیکن میری موجودگی میں آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچ پائے گی۔ (سیرت ابنِ ہشام: جلد، 1 صفحہ، 264 ذکر اسلام علیؓ مطبوعہ بیروت 1355ھ)

اگر ابو طالب مخالفِ توحید نہ ہوتے تو حضرت علی المرتضیٰؓ کو آپ سے چھپنے کی کیا ضرورت تھی؟ پھر آپ نے صاف طور پر اس توحید و رسالت اور ایمان کو اپنے بیٹے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی طرح قبول کیوں نہ کر لیا اور اپنے باپ دادے کے مذہب پر کاربند رہنے کا اصرار کیوں کیا، صرف سربراہِ خاندان کی حیثیت سے اتنی حمایت ظاہر کی کہ میری زندگی میں آپﷺ کو تکلیف نہ پہنچے گی، ایسی حمایت کتنے شریف غیر مسلم آج بھی اپنے مسلم رشتہ داروں کی کرتے رہتے ہیں جو ان کے ایمان و اسلام کی دلیل نہیں ہو سکتی۔

سوال نمبر 167: ایسا واقعہ بتائیں کہ ابوطالب نے غیر اللہ معبودوں کی حمایت و تعریف کی ہو؟ 

جواب: آباء و اجداد کی مذکورہ بالا تصریح جواب کافی ہے کیونکہ بت پرست آباء و اجداد کے مذہب پر اصرار، رسولِ خداﷺ‏ کی توحید و ہدایت کے بالمقابل غیراللہ کی حمایت و تعریف ہی ہے۔

سوال نمبر 168: کیا شعب ابی طالب میں ابو طالب نے غیر خداؤں کی عبادت کی؟

جواب: اس کے متعلق کتبِ سیرت میں صراحت ہے:” ابوطالب نے مجبور ہو کر مع خاندان کے شعب ابی طالب میں پناہ لی۔ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب مؤمن اور کافر سب نے آپ کا ساتھ دیا۔ مسلمانوں نے دین کی وجہ سے اور کافروں نے خاندانی اور نسبی تعلق کی وجہ سے بنو ہاشم میں سے صرف ابو لہب قریش کا شریک رہا۔ 

(سیرت المصطفیٰ: جلد، 1 صفحہ، 200 ابنِ سعد: جلد، 1 صفحہ، 139 ابنِ ہشام: جلد، 1 صفحہ، 122 طبع قدیم) 

 پتہ چلا کہ خاندانی لحاظ سے یہ شرکتِ شعب مؤید ایمان نہیں ہے، پھر غیر اللہ کی عبادت کے لیے یہ ضروری نہ تھا کہ بت ہر وقت پاس یا سامنے ہوں ان سے غائبانہ استعانت بھی شرک ہے۔ یہ کافر لوگ شعب میں بھی یقیناً اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوں گے اور حضورﷺ کے پیچھے ان کے نمازیں پڑھنے کا تو کوئی ثبوت نہیں تو فیصلہ اصل بنیاد پر ہو گا کہ کافر اپنے مذہب پر رہے۔ خواہ بت پرستی کا ذکر نہ ملے اور مسلمان اپنے مذہب پر رہے۔

سوال نمبر 169: حضور اکرمﷺ غیر اللہ کا ذبیجہ نہ کھاتے تھے۔ ابوطالب کے دستر خوان پر کھانا کھاتے تھے معلوم ہوا کہ ابوطالب مشرک نہ تھے۔

جواب: ابو طالب کے دستر خوان پر ہمیشہ کھانا مسلم نہیں۔ تاریخ میں ہے کہ جناب عبدالمطلب نے آپﷺ کو اپنے بڑے مال دار صاحبزادے زبیر کے سپرد کیا ان کے ہاں آپﷺ کی پرورش ہوئی جو معاہدہ حلف الفضول (جب حضورﷺ کی عمر 23 برس تھی۔) میں شریک تھے۔ پھر آپ مستقل صاحبِ روزگار اور تاجر بن گئے اور اپنا کھاتے تھے۔ علاوہ ازیں غیر اللہ کا ذبیحہ ان کے تھانوں اور مخصوص میلوں، عرسوں پر بٹتا تھا۔ حضور اقدسﷺ نے واقعی ایسا گوشت اور تبرک کبھی نہ کھایا، گھر کا تیار شدہ کھانا ایسا نہ ہوتا تھا یا وہ بازار سے خریدا جاتا یا گھر میں بنامِ خدا ذبح کر کے تیار کیا جاتا تھا اور یہ تو معلوم ہے کہ اس وقت بھی مشرک ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیتے تھے اور تکبیر پڑھ کر ذبح کرتے تھے تو اس کا کھانا حلال تھا۔ مشرک کے ذبیحہ کی حرمت بسم اللہ اللہ اکبر پڑھنے کے باوجود۔ وہ خالص اسلامی مسئلہ ہے جو بعد میں اسلام نے پیش کیا۔ اس کا اطلاق عہدِ جاہلیت کے عام ذبیحوں پر نہیں کیا جائے گا۔ جیسے شریعتِ ابراہیمی کے مطابق نکاح جائز تھے گھروں میں ذبیحے بھی درست تھے۔ 

نوٹ: ہم نے بادل نخواستہ ان دس سوالوں کے جواب میں حضرت ابو طالب کے متعلق شیعہ غلو کی نفی کی ورنہ ہمیں آپ کی ذات سے بغض و کدورت نہیں بلکہ ہم دعویٰ نبوت کے بعد ان کی کفار کے مقابل حضور اکرمﷺ کی حمایت اور طرف داری کا پورا احترام کرتے ہیں اور لفظ حضرت، جناب وغیرہ کے ساتھ ان کا با ادب ذکر کرتے ہیں مگر ان کا اسلام قبول نہ کرنا ایک تاریخی حقیقت ہے اور اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے۔

حافظ تور پشتی لکھتے ہیں کہ ابو طالب کا کفر حد تواتر کو پہنچ چکا ہے۔

صفحہ 2 از 4